Zareen Abbasi

Zareen Abbasi تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے
سینہ کس کا ہے مری جان جگر کس کا ہے ..

یہ سکول تحصیل راولاکوٹ حلقہ 5 یونین کونسل دھار بنگوئیں  کا بواہز مڈل سکول ہے۔۔ یہاں پر گزشتہ کہیں سالوں سے اساتذہ کرام ک...
24/08/2024

یہ سکول تحصیل راولاکوٹ حلقہ 5 یونین کونسل دھار بنگوئیں کا بواہز مڈل سکول ہے۔۔ یہاں پر گزشتہ کہیں سالوں سے اساتذہ کرام کی کمی کا شکار رہا کبھی ریاضی کا ٹیچر کبھی عربی کا اسی طرح مسلہ چلتا رہا بہت بار محکمے کے پاس بھی گے سکول کے حالات سے اگاہ کیا اور حکم وقت کو بھی ساری صورت حال سے وقت فوقتا اگاہ کرتے رہے مگر سواے طفل تسلی سے آج تک کسی نے عملدرامد نہیں کروایا
اس وقت اس مڈل سکول میں ٹوٹل 4 ٹیچر ہیں ان چار میں سے بھی ایک صاحب بھی اپنا اثر و رسوخ سے اپنا تبادلہ کروا رہے ہیں تو کوئی بتاۓ باقی تین ٹیچر مڈل سکول چلا سکیں گے کبھی بھی نہیں اس لیے اعوام علاقہ کی متعلقہ محکمہ سے درخواست ہے اسکا نوٹس لیں اور فلفور اساتذہ کی تعداد پوری کریں کوئی ٹیچر اپنا تبادلہ کرواتا ہے تو محکمہ تعلیم کو چاہئے کہ وہ اسکا متبادل ٹیچر دیں۔
اگر اسی طرح سسٹم کو چلانے کی کوشش کی تو پھر ہمیں مجبورا اپنی نسلوں کے مستقبل کیلے پروٹیسٹ کی صورت میں باہر نکلنا پڑے گا خواہ وہ مین روڑ کا بلاک کرنا ہو یا پھر اور اعوام علاقہ اپنا لاعمل بناہیں گےپھر کوئی ادارہ ہمیں روک نہیں سکے گا۔

منجانب اعوام علاقہ دھار بنگوہیں۔

https://maps.app.goo.gl/QNsNLc3hkQf21YBV7?g_st=aw

14/08/2024

مجھے ملک پاکستان سے محبت ہے لیکن ان لوگوں سے نفرت ہے جو پاکستانیوں اور کشمیریوں کے حقوق سلب کر رہے ہیں اور ان کے درمیان نفرت پیدا کر رہے ہیں.

05/08/2024

آرٹیکل 370 اور 35-A کیا تھا؟؟
برصغیر کی تقسیم کے فوراً بعد کشمیر کی خودمختاری کو برقرار رکھنے کے لیے آرٹیکل 370 کو بھارت کے آئین میں رکھا گیا جس کو بعد ازاں انڈین اسمبلی کی جانب سے 26 نومبر 1949 کو منظور کر لیا گیا. آرٹیکل 370 آئینی طور پر جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تسلیم کرتا تھا اور ریاست کو دفاع، خارجہ پالیسی، مالیات اور اطلاعات کے علاوہ باقی تمام امور میں قانون سازی اور فیصلہ سازی کا مکمل اختیار دیتا تھا.آرٹیکل 370 کے تحت ریاست اپنا آئین بھی وضع کر سکتی تھی اور اپنی شناخت کے لئے الگ پرچم بھی رکھ سکتی تھی. اس کے علاوہ یہ آرٹیکل بھارت واسیوں کو کشمیر میں زمین خریدنے اور ڈومیسائل حاصل کرنے کی راہ میں بھی ایک رکاوٹ تھا.
بعد ازاں 1954 میں آرٹیکل 35-A کو ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے انڈین آئین کا حصہ بنا دیا گیا. یہ آرٹیکل جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کو یہ اختیار دیتا تھا کہ آرٹیکل 370 میں ذکر کی گئی "permanent citizenship" کی تشریح کر سکے یہی وجہ ہے کہ اس آرٹیکل کو "Permanent residents law" بھی کہا جاتا تھا. اس کے علاوہ آرٹیکل 35-A کشمیریوں کے علاوہ دیگر شہریوں کو ریاست میں زمین خریدنے، مستقل رہائش اور لوکل ملازمت کے حصول میں ایک مستقل رکاوٹ تھا. یہ آرٹیکل اس بات کی بھی تشریح کرتا تھا کہ اگر کوئی عورت کسی غیر ریاستی باشندے سے شادی کرتی ہے تو اسے property right سے بری سمجھا جائے گا.
5 اگست 2019 تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا جب ہندوستان کی کھوکھلی جمہوریت اور ہندوتوا کا بھیانک چہرہ پوری دنیا کے سامنے آیا مودی حکومت نے ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کیا اور پھر اسی دن ایک "Reorganization bill" پاس کیا گیا جس کے ذریعے ریاست کو دو انتظامی حصوں میں تقسیم کر دیا گیا (جموں و کشمیر اور لداخ) جن کو براہ راست دہلی سے کنٹرول کیا جانے لگا.
5 اگست 2019 سے پہلے اور بعد والے کشمیر میں کیا فرق ہے جانیے..
5 اگست سے پہلے : کشمیر کی ایک خصوصی حیثیت تھی جس کا انتظام دفاع، مالیات اور خارجہ امور کے علاوہ ریاست کے اپنے ہاتھ میں تھا
5 اگست کے بعد : کشمیر کے تمام معاملات کو چلانے کے لیے ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا جس کا کنٹرول مرکز یعنی دہلی کے ہاتھ میں ہے
5 اگست سے پہلے : کشمیر کے باشندوں کی دوہری شہریت تھی ایک بھارت اور دوسری کشمیر کی
5 اگست کے بعد : کشمیریوں کی صرف ایک شہریت ہے "بھارتی".
5 اگست سے پہلے : ریاست کو اپنا آئین تشکیل دینے کی اجازت تھی
5 اگست کے بعد : کشمیر کو بھارتی آئین کے علاوہ کسی آئین کی اجازت نہیں.
5 اگست سے پہلے : بھارتی شہری ریاست میں نہ مستقل رہائش اختیار کر سکتے تھے اور نہ پراپرٹی خرید سکتے تھے
5 اگست کے بعد : بھارتی شہری مستقل رہائش بھی اختیار کر سکتے ہیں اور پراپرٹی بھی خرید سکتے ہیں.
5 اگست سے پہلے : جموں و کشمیر ریاست کا اپنی خصوصی حیثیت اور شناخت کے لیے اپنا پرچم موجود تھا
5 اگست کے بعد : ریاست کے الگ تشخص کو ختم کرتے ہوئے جبراً بھارتی پرچم کو کشمیریوں کا واحد پرچم قرار دیا گیا.،
،،آرٹیکل379،،
کشمیر 5 اگست
جواہنٹ سیکٹری حلقہ پانچ پاکستان تحریک انصاف آذاد کشمیر۔

09/05/2024

برباد ھوں وہ غدار جنوں نے 9 مئی2023 کو ملک کا نقصان کیا۔

05/03/2024

شہباز گیا__
کاکڑ آیا__
کاکڑ گیا__
شہباز آیا__ اور اس چینج میں خرچہ 70 ارب کا ہو گیا😑🤗

21/10/2023

Wellcom

16/09/2022

Address

3
Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zareen Abbasi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Zareen Abbasi:

Share