05/08/2024
آرٹیکل 370 اور 35-A کیا تھا؟؟
برصغیر کی تقسیم کے فوراً بعد کشمیر کی خودمختاری کو برقرار رکھنے کے لیے آرٹیکل 370 کو بھارت کے آئین میں رکھا گیا جس کو بعد ازاں انڈین اسمبلی کی جانب سے 26 نومبر 1949 کو منظور کر لیا گیا. آرٹیکل 370 آئینی طور پر جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تسلیم کرتا تھا اور ریاست کو دفاع، خارجہ پالیسی، مالیات اور اطلاعات کے علاوہ باقی تمام امور میں قانون سازی اور فیصلہ سازی کا مکمل اختیار دیتا تھا.آرٹیکل 370 کے تحت ریاست اپنا آئین بھی وضع کر سکتی تھی اور اپنی شناخت کے لئے الگ پرچم بھی رکھ سکتی تھی. اس کے علاوہ یہ آرٹیکل بھارت واسیوں کو کشمیر میں زمین خریدنے اور ڈومیسائل حاصل کرنے کی راہ میں بھی ایک رکاوٹ تھا.
بعد ازاں 1954 میں آرٹیکل 35-A کو ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے انڈین آئین کا حصہ بنا دیا گیا. یہ آرٹیکل جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کو یہ اختیار دیتا تھا کہ آرٹیکل 370 میں ذکر کی گئی "permanent citizenship" کی تشریح کر سکے یہی وجہ ہے کہ اس آرٹیکل کو "Permanent residents law" بھی کہا جاتا تھا. اس کے علاوہ آرٹیکل 35-A کشمیریوں کے علاوہ دیگر شہریوں کو ریاست میں زمین خریدنے، مستقل رہائش اور لوکل ملازمت کے حصول میں ایک مستقل رکاوٹ تھا. یہ آرٹیکل اس بات کی بھی تشریح کرتا تھا کہ اگر کوئی عورت کسی غیر ریاستی باشندے سے شادی کرتی ہے تو اسے property right سے بری سمجھا جائے گا.
5 اگست 2019 تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا جب ہندوستان کی کھوکھلی جمہوریت اور ہندوتوا کا بھیانک چہرہ پوری دنیا کے سامنے آیا مودی حکومت نے ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کیا اور پھر اسی دن ایک "Reorganization bill" پاس کیا گیا جس کے ذریعے ریاست کو دو انتظامی حصوں میں تقسیم کر دیا گیا (جموں و کشمیر اور لداخ) جن کو براہ راست دہلی سے کنٹرول کیا جانے لگا.
5 اگست 2019 سے پہلے اور بعد والے کشمیر میں کیا فرق ہے جانیے..
5 اگست سے پہلے : کشمیر کی ایک خصوصی حیثیت تھی جس کا انتظام دفاع، مالیات اور خارجہ امور کے علاوہ ریاست کے اپنے ہاتھ میں تھا
5 اگست کے بعد : کشمیر کے تمام معاملات کو چلانے کے لیے ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا جس کا کنٹرول مرکز یعنی دہلی کے ہاتھ میں ہے
5 اگست سے پہلے : کشمیر کے باشندوں کی دوہری شہریت تھی ایک بھارت اور دوسری کشمیر کی
5 اگست کے بعد : کشمیریوں کی صرف ایک شہریت ہے "بھارتی".
5 اگست سے پہلے : ریاست کو اپنا آئین تشکیل دینے کی اجازت تھی
5 اگست کے بعد : کشمیر کو بھارتی آئین کے علاوہ کسی آئین کی اجازت نہیں.
5 اگست سے پہلے : بھارتی شہری ریاست میں نہ مستقل رہائش اختیار کر سکتے تھے اور نہ پراپرٹی خرید سکتے تھے
5 اگست کے بعد : بھارتی شہری مستقل رہائش بھی اختیار کر سکتے ہیں اور پراپرٹی بھی خرید سکتے ہیں.
5 اگست سے پہلے : جموں و کشمیر ریاست کا اپنی خصوصی حیثیت اور شناخت کے لیے اپنا پرچم موجود تھا
5 اگست کے بعد : ریاست کے الگ تشخص کو ختم کرتے ہوئے جبراً بھارتی پرچم کو کشمیریوں کا واحد پرچم قرار دیا گیا.،
،،آرٹیکل379،،
کشمیر 5 اگست
جواہنٹ سیکٹری حلقہ پانچ پاکستان تحریک انصاف آذاد کشمیر۔