Zain naqvi

Zain naqvi نقوی البخاری اولاد مخدوم اعظم اوچ شیر شاہ

اور ہمارے دوست حسن سدپارہ کی لاش مل گئی K2  کی بلند برفوں سے ۔۔۔۔ 😭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم چلے آو پہاڑوں کی ...
06/08/2024

اور ہمارے دوست حسن سدپارہ کی لاش
مل گئی K2 کی بلند برفوں سے ۔۔۔۔ 😭
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم چلے آو پہاڑوں کی قسم

اور ہمارے پیارے دوست ، ہم سب کے گم شدہ دوست ، حسن سدپارہ شگری کی گم شدہ لاش ڈیڑھ برس بعد ، کے ٹو K2 کی بلندی سے ذرا پہلے " بُوٹل نِک " کی برفوں میں دفن شدہ مل گئی ۔

یاد ہے جب گزشتہ برس کی سردیوں میں حسن سدپارہ نے K2 سر کیا اور بوٹل نک کے قریب کہیں اس کا پاؤں پھسلا ، رسا ٹوٹ گیا ، سانس اکھڑ گیا یا شاید برفانی تودہ پاؤں کے نیچے ٹوٹ گیا ۔۔۔ حسن سدپارہ ، گرا اور پھر ہزار تلاش کے باوجود نہ زندہ ملا ، نہ جسدِ خاکی اُس کا ملا ۔ بہت ڈھونڈا ، یقیناً وہ بُوٹل نیک کی نرم برفوں میں جا کر تھکا ہارا سو گیا ٫ پھر اُٹھ نہ سکا ، نہ ملنے کے لئے ، کہیں گُم ہو گیا ۔۔۔ !

حسن سدپارہ کے ساتھ کیا ہوا تھا ۔۔۔ ؟
وہی ہوا جو بدقسمت " کوہ نوردوں " کے ساتھ ہوا کرتا ہے ، جب پہاڑ اور پہاڑوں پر رہنے والی حسین و جمیل پریاں ، ان پر عاشق ہو جاتی ہیں تو وہ بد نیت پریاں ان کی روحوں کو اپنے پاس رکھ کے ان کے بدن نرم برفوں میں دبا دیا کرتی ہیں ۔۔۔
حسن سدپارہ شگری اکثر یہی کہانی راتوں میں کہانی بنا کر اپنے دوستوں کو سنایا کرتا تھا ۔۔۔
میں نے از راہ تفنن طبع پوچھا ۔۔۔
حسن سدپارہ بھائی ۔۔۔ اونچے پہاڑوں کی پریوں سے بچ کے رہنا ۔۔۔ یہ جس کوہ نورد پر عاشق ہو جاتی ہیں ، ان کو اغواء کر کے ان کے ساتھ دادِ عیش لیتی ہیں ۔ پھر ان کا خون پی کر نئے شکار کی تلاش میں نکل جاتی ہیں ۔ تم یارا ، ان منحوس پریوں کے دامِ عشق میں مت پھنسنا ۔۔۔ !
حسن سدپارہ نے میرا سوال سن کر ایک زور دار قہقہہ لگایا ۔۔۔
آغا یارم ۔۔۔۔ میں اتنا باؤلا بھی نہیں کہ خون جما دینے والی برفوں میں اُن کوہ کاف کی پریوں سے عشق لڑاؤں ۔۔۔ پھر یکدم سنجیدہ ہو کر ، خواب ناک آواز میں بولا ۔۔۔
جس دن اونچے پہاڑوں کی برفیلی چوٹی پر کوئی پری ، حسن سدپارہ پر عاشق ہو کر مَر مٹی تو اس زمین پر واپسی پیدل ، اپنے پاوؤں پر نہیں ہوگی ۔۔۔ پھر جب کبھی میں ملوں گا ، اور اگر ملا تو ، اپنے قدموں پر نہیں ، رسیوں میں جکڑ اور باندھ کر ، خوب کھینچ کھانچ کر اپنی زمین میں دفن ہونے کے لئے لایا جاؤں گا ۔۔۔ باقی اللّٰہ مالک ہے ، علی علی ہے ۔۔۔ !
یہ کہہ کر حسن سدپارہ خاموش ہو گیا ۔۔۔
ہم سب بھی خاموش ہو گئے ۔
جلتی ہوئی آگ کا الاؤ روشن چھوڑ کر اپنے اپنے گھر چل دیئے ۔ ہم سب کو شاید حسن سدپارہ کی یہ ادا اور بات اچھی نہیں لگی تھی ۔

پھر گزشتہ سے پیوستہ سال کی سردیاں آئیں ۔ معلوم ہوا کہ حسن سدپارہ ایک ٹیم کے ساتھ سردیوں میں کے ٹو سر کرنے کو چل پڑا ۔
کے ٹو سر ہوگیا ۔ واپسی کا سفر شروع ہوا ۔ ایسے قاتل پہاڑوں سے سنا ہے کہ نیچے اترنا ، چڑھائی کی نسبت آسان ہوتا ہے ۔ مگر وہ جونہی ذرا نیچے اترا ، تو ایک مقام آتا ہے ، جس کو کوہ نوردوں کی زبان میں " بُوٹل نِک " کہتے ہیں ۔ ایک تنگ اور جان لیوا راستہ ۔۔۔ کہتے ہیں ، راستے کے اس حصے سے گذرتے ہوۓ ، چاہے چڑھائی ہو یا اُترائی ، ایک دفعہ تو کوہ نورد کی جان پر بن جاتی ہے ۔ سانس آکسیجن کی کمی سے اتھل پتھل ہو جاتا ہے ۔ بعض کوہ نوردوں کو خون کی قے بھی ، پھپھڑا پھٹ جانے کے سبب ہونے لگتی ہے ۔ غرض حالت خراب سے بھی خراب ہو جانے لگتی ہے ۔ اس لئے اس حصے کو کوہ نورد آہستہ آہستہ چل کے طے کرتے ہیں ۔ ایک دوسرے کے قریب قریب رہتے ہیں ۔ ایک دوسرے پر کڑی نظر رکھتے ہیں ۔
حسن سدپارہ نے نیا ورلڈ ریکارڈ بنانے کا ارادہ کر رکھا تھا ۔۔۔ وہ یہ کہ وہ سردیوں میں بغیر آکسیجن سلنڈر کے ، کے ٹو کو سر کرے گا ۔ اس نے کے ٹو سر کر لیا ، واپس آ رہا تھا ۔ پتہ نہیں کیا ہوا ۔ ساتھی کوہ نوردوں نے اسے گرتے دیکھا ۔ کچھ پتہ نہ چلا کہ رسی ٹوٹی ، رسی سے ہک نکل گیا ، برف میں گڑا کیل پھسل کے نکل گیا ۔ اللہ جانے کوئی پری حسن سدپارہ پر عاشق ہو گئی ، کسی رقیب دیو ناتھ نے دھکا دے دیا ۔ کیا ہوا ۔۔۔ کچھ نہ پتہ چلا ۔۔۔
بس برف کا چھپکا اڑا ۔۔۔ برفانی ہوا تیز ہوئی ، موسم جو پہلے ہی خراب تھا ، اور خراب ہوا ۔ حسن سدپارہ نظروں سے پلک جھپکتے میں اوجھل ہوا ، برف باری اور تیز ہو گئی ۔ ہواؤں کی رفتار تیز تر ہو گئی ۔ صرف اور صرف شوں شوں ، شاں شاں کی آوازیں سنائی دیتی تھیں ۔ نا گرنے کا پتہ چلا اور نا ہی پیارے حسن سدپارہ کے رنگین لباس کی کوئی جھلک ملی ۔ برف کے تازہ طوفان نے سفید ماحول کو سیاہی مائل گہرا سُرمئی کر دیا ۔ کسی کو نہ کچھ دکھائی دیتا تھا اور نہ سُجھائی دیتا تھا ۔ ٹارچوں کی روشنی مدہم سے بھی مدہم ہو گئی ۔۔۔
حسن سدپارہ شگری کو کسی پری کی عاشقانہ نظر کھا چکی تھی ۔۔۔ !
حسن سدپارہ کی لاش ابھی جولائی 2024 ء کو اس کے گھر کے دو جوانوں نے تلاش کی اور مل گئی ۔
بتایا گیا ، وہ چِت ساکت پڑا تھا ۔۔۔ پتھر سا ۔۔۔ برف سے منجمد ڈلا سا ۔۔۔ چہرہ پہلے نظر آیا ۔۔۔ ایسا لگتا تھا ، گہری ، پُرسکون نیند سویا پڑا ہے ۔ چہرے پر کوئی کرب اور دکھ یا اذیت کے آثار دیکھنے کو نہیں ملے ۔۔ عجیب آدمی تھا وہ حسن سدپارہ ۔۔۔ خدا اپنے اور محمد و آل محمد کے جوار رحمت میں اسے اونچا مقام عطاء فرمائے ۔

چوبیس گھنٹے لگے ، حسن سدپارہ کے جسدِ خاکی سے کے ٹو کی جمی ہوئی برف ہٹانے میں ۔ دونوں نوجوانوں ، جن میں ایک حسن سدپارہ کا بھتیجا اور دوسرا حسن سدپارہ کا بھائی تھا ۔۔۔ دونوں کسی وقفے کے بغیر حسن سدپارہ کو برف سے نکالنے میں جُتے رہے ۔۔۔ چوبیس گھنٹے کی مشقت کے بعد وہ حسن سدپارہ کے جسدِ خاکی کو برف کی قبر اور مدفن گاہ سے نکالنے میں کامیاب ہوۓ ۔ رسوں سے باندھا ۔۔۔ اور آرام آرام سے اس کی ڈیڈ باڈی کو ، اپنی جانیں خطرے میں غیر معمولی خطرناک ناواقف راستے سے نیچے اتارتے لاۓ ۔۔۔ اتنے میں کے ٹو سر کر کے آنے والی ٹیم کے چند کوہ نورد موقع پر پہنچ گئے ۔ جب ان کو معلوم ہوا کہ یہ ڈیڈ باڈی دنیا کے مشہور ترین کوہ نورد حسن سدپارہ کی ہے تو وہ دل پکڑ کر بیٹھ گئے ۔ جب ہوش بحال ہوۓ تو بیس کیمپ تک سگے بھائیوں کی طرح مدد کرتے آۓ ۔۔۔

شکر ہے حسن سدپارہ کا جسد خاکی مل گیا ۔۔۔ اللہ پاک اسے اپنے خاص جوارِ رحمت میں جگہ اور سکون عطاء فرمائے ۔۔۔۔ آمین ثم آمین 🌹

آغا سلمان باقر
سفرنامہ نگار ۔۔۔ 5 اگست 2024ء لاہور

06/08/2024

بزرگ ذاکرین کے انداز میں اپنا لکھا ہوا قیامت خیز نوحہ 🥺
*میڈے پتر بھیرا تاں مارے گئے* 😭💔
پرانہ اور روحانیت والا انداز ، الامان مصائب ، ہر آنکھ پر نم ، یادگار پرسہ
سید الزاکرین ، شاعر العمران
جناب قبلہ ذاکر سید محمد عباس تائب بخاری

05/08/2024
01/08/2024
01/08/2024

اللھمہ عجل ولیک ف*ج
آج بھی سادات اتنی ہی مظلوم ہے امت کے ظلم ہیں کہ قبروں پر سایہ تک برداشت نہیں جنت البقیع ہو یا شام

قوم "عاد : قوم عاد ایک ایسی قوم تھی جوبڑے طاقتور تھے 40 ہاتھ جتنا قد800 سے 900 سال کی عمر نہ بوڑھے ھوتےنہ بیمار ھوتے نہ ...
29/07/2024

قوم "عاد :
قوم عاد ایک ایسی قوم تھی جو
بڑے طاقتور تھے
40 ہاتھ جتنا قد
800 سے 900 سال کی عمر
نہ بوڑھے ھوتے
نہ بیمار ھوتے
نہ دانت ٹوٹتے
نہ نظر کمزور ھوتی
جوان تندرست و توانا رہتے
بس انھیں صرف موت آتی تھی
اور کچھ نہیں ھوتا تھا
صرف موت آتی تھی
ان کی طرف اللہ تعالی نے حضرت ھود علیہ السلام کو بھیجا
انھوں نے ایک اللہ کی دعوت دی
اللہ کی پکڑ سے ڈرایا
مگر وہ بولے
اے ھود ! ہمارے خداوں نے تیری عقل خراب کر دی ھے
جا جا اپنے نفل پڑھ
ہمیں نہ ڈرا
ہمیں نہ ٹوک
تیرے کہنے پر کیا ہم اپنے باپ دادا کا چال چلن چھوڑ دیں گے
عقل خراب ھوگئی تیری
جا جا اپنا کام کر
آیا بڑا نیک چلن کا حاجی نمازی
تیرے کہنے پر چلیں تو ہم تو بھوکے مر جائیں
انھوں نے شرک ظلم اور گناھوں کے طوفان سے اللہ کو للکارا
تکبر اور غرور میں بد مست بولے
،
،
فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُ‌وا فِي الْأَرْ‌ضِ بِغَيْرِ‌ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ۖ أَوَلَمْ يَرَ‌وْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً ۖ وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ ﴿١٥﴾
اب قوم عاد نے تو بےوجہ زمین میں سرکشی شروع کردی اور کہنے لگے ہم سے زور آور کون ہے) کیا انہیں یہ نظر نہ آیا کہ جس نے اسے پیدا کیا وہ ان سے (بہت ہی) زیادہ زور آور ہے، (۲) وہ (آخر تک) ہماری آیتوں کا (۳) انکار ہی کرتے رہے۔
کوئی ھے ہم سے ذیادہ طاقتور تو لاو ناں ؟
ہمیں کس سے ڈراتے ھو ؟
اللہ نے قحط بھیجا
بھوک لگی
سارا غلہ کھاگئے
مال مویشی کھا گئے
حرام پر اگئے
چوھے بلی کتے کھاگئے
سانپ کھاگئے
درخت گرا کر اسکے پتے کھا گئے
بھوک نہ مٹی
نہ بارش ھوئی نہ قطرہ گرا نہ غلہ اگا
پھر تنگ آکر اپنا ایک وفد بیت اللہ بھیجا
ان کا دستور تھا جب مصیبت آتی تو اوپر والے کو پکار اٹھتے
جب دور ھوجاتی تو اپنے بتوں کو پوجنے لگتے
بیت اللہ وفد گیا اور کہا کہ ہمارے لئے اللہ سے دعا کرو کہ بارش برسائے
اللہ نے3 بادل پیش کئے
کالا
سفید
سرخ
اللہ نے فرمایا ان میں سے ایک کا انتخاب کرو
انھوں نے آپس میں مشورہ کیا
کہ سرخ میں تو ھوا ھوتی ھے
سفید خالی ھوتا ھے
کالے میں پانی ھوتا ھے
کالا مانگو
اللہ تعالی نے کہا واپس پہنچو بادل بھیجتا ھوں
وہ خوشی خوشی واپس آئے
سب لوگ ایک میدان میں جمع ھوئے
بادل آیا
وہ ناچنے لگے کہ اب بارش ھوگی
قحط مٹے گا
کھانے کو ملے گا
کیا پتا تھا
کہ وہ بارش نہیں اللہ کا عذاب ھے
جو تم ھود سے کہتے تھے کہ
لے آ ! جس سے ہم کو ڈراتا ھے
اس بادل مین ایسی تند و تیز ھوا تھی کہ
جس نے ان کو اٹھا مارا ان کے گھر اڑا دئیے
60 ہاتھ کے قد اور لوگ تنکوں کی طرح اڑ رہے تھے
ھوا ان کے سروں کو ٹکراتی تھی اتنی زور سے ٹکراتی کہ ان کے بھیجے نکل نکل کر منہ پر لٹک گئے
بعض لوگ بھاگ کر غار میں گھس گئے کہ یہاں تو ھوا نہیں آ سکتی
مگر میرے رب کا حکم ھو کر رہتا ھے
ھوا غار میں بگولے کی طرح داخل ھوتی اور انکو باہر اٹھا کر پھینک دیتی
اللہ نے فرمایا
فھل تری من باقیہ
کیا کوئی باقی بچا ھے ؟
اللہ تعالی نے ان کو ہلاک کر کے دکھایا کہ جب تم اللہ کی اس کے رسول کی نافرمانی کروگے
اللہ تم پر ایسی جگہ سے عذاب بھیجے گا جہاں سے گمان بھی نہ ھوگا
جو گناہ قوم عاد نے کیا
کیا وہ ہم نہیں کر رہے
کیا ہم اللہ کی حدوں کا پار نہیں کر گئے
کیا ہم نے اللہ کو اپنی نافرمانی سے نہیں للکارا ھوا ھے
توبہ کرو
اللہ سے ڈرو
قرآن پڑھو
جن گناھوں کو ہم معمولی سمجھتے ہیں اللہ نے ان گناھوں پر پوری پوری قومیں زمین بوس کر دی ہیں ۔

27/07/2024

نوحہ
آ گئی ہے شام دی رت بابا بیمار ہاں کڑیاں پائی ویندا
کلام حسین گوہر
سوز ادائیگی
عظیم عزادار حاجی اقبال مرحوم ڈیرہ غازی خان

ہنری فورڈ ایک امریکی صنعتکار تھے جنہوں نے اپنی کمپنی میں ایک عہدے کے لیے دو لوگوں کا انتخاب کیا جو ایک ہی یونیورسٹی سے ا...
27/07/2024

ہنری فورڈ ایک امریکی صنعتکار تھے جنہوں نے اپنی کمپنی میں ایک عہدے کے لیے دو لوگوں کا انتخاب کیا جو ایک ہی یونیورسٹی سے اور ایک ہی میدان میں تعلیم یافتہ تھے۔ انہیں ایک ریستوران میں رات کے کھانے پر مدعو کیا گیا۔ کھانے کے بعد، فورڈ نے ایک شخص سے کہا: "آپ کو اس عہدے پر تعینات کر دیا گیا ہے۔" جبکہ دوسرے شخص سے کہا: "معذرت، آپ ہماری ٹیم میں شامل نہیں ہو سکتے۔"

مسترد کیے گئے نوجوان نے ہمت جمع کر کے پوچھا: "مسٹر فورڈ، کیا میں آپ سے ایک سوال پوچھ سکتا ہوں؟"

فورڈ نے کہا: "ضرور۔"

نوجوان نے کہا: "ہم نے انجینئرنگ، گاڑیوں یا یونیورسٹی کے بارے میں بات نہیں کی۔ ہم نے صرف عمومی باتیں کیں۔ پھر آپ نے میرے دوست کو کیوں ملازمت دی اور مجھے کیوں نہیں؟"

فورڈ نے کہا: "دو وجوہات کی بنا پر:

پہلی: آپ کے دوست نے گوشت کا ٹکڑا چکھا اور پھر اس پر نمک ڈالا، جبکہ آپ نے اسے چکھے بغیر ہی نمک ڈال دیا۔ مجھے وہ لوگ پسند ہیں جو چیزوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کرنے سے پہلے ان کا تجربہ کرتے ہیں۔

دوسری: آپ کے دوست نے ویٹرز کے ساتھ شائستہ رویہ اختیار کیا، وہ انہیں شکریہ اور معذرت کہتا رہا، جبکہ آپ کے لیے وہ بالکل نظر نہیں آئے۔ آپ صرف میرے ساتھ شائستہ تھے!

ایک عظیم قائد جو اپنے کام میں اثر چھوڑنا چاہتا ہے، اسے سب کے ساتھ انسانیت کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔

چھوٹے چھوٹے اعمال سے بڑے بڑے نتائج متوقع ہوتے ہیں۔ ہماری زندگی عبرتوں سے بھری ہوئی ہے۔

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zain naqvi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category