21/10/2026
قرآنِ پاک ہمیں یاد دلاتا ہے:
فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ
ترجمہ: پس یتیم پر سختی نہ کرو۔
(سورۃ الضحیٰ، آیت 9)
میرا پیارا ملتان میں 15 سالہ یتیم بچے وسیم عباس کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ اس افسوسناک واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے اور قانون کے مطابق کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔
بچوں کا تحفظ، سلامتی اور ان کے حقوق کی پاسداری حکومتِ پنجاب کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔
میرا پیارا گمشدہ بچوں کو ان کے خاندانوں سے ملانے اور ان کی بحفاظت گھروں کو واپسی یقینی بنانے کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کا چائلڈ سیفٹی سینٹر اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے کہ کوئی بھی لاوارث یا گمشدہ بچہ کسی نجی این جی او یا ادارے کے پاس غیر ضروری طور پر نہ رہے، بلکہ ہر ممکن کوشش کے ذریعے اسے اس کے خاندان سے ملایا جائے۔
یتیم، لاوارث اور نظرانداز کیے جانے والے بچوں کی دیکھ بھال، حفاظت اور فلاح و بہبود ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ایسے بچوں کو سرکاری اداروں میں مناسب نگہداشت، تحفظ اور سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں تاکہ ان کی عزتِ نفس، سلامتی اور بہتر مستقبل کو یقینی بنایا جا سکے۔
وسیم عباس کو انصاف دلانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ایک یتیم بچے کے ساتھ ہونے والا ظلم اور اس کا قتل محض ایک خاندان کا المیہ نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کا امتحان ہے۔ اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات، متعلقہ یتیم خانے کے کردار کی چھان بین اور ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی ناگزیر ہے۔
کوئی بچہ بے سہارا نہیں ہونا چاہیے، کوئی بچہ نظرانداز نہیں ہونا چاہیے، اور بچوں پر ہونے والا کسی بھی قسم کا ظلم ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ان شاء اللہ، ہم بچوں کے تحفظ، ان کے حقوق کی پاسداری اور گمشدہ بچوں کو ان کے خاندانوں سے ملانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ وسیم عباس کو انصاف دلانا ہماری ذمہ داری ہے، اور ہم اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے پُرعزم ہیں۔