12/06/2020
”” موبائیل ایپلیکیشنز فری کیوں ہیں ؟ ““
سوال: کیا کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ سوشل نیٹ ورک کی سائٹس، آپ کو اپنی خدمات مفت میں کیوں دیتی ہیں؟
آپ سے یہ سوال پوچھنے والے کا نام ڈاکٹر عمر عبدالکافی ہے، آپ 66 سالہ مشہور و معروف مصری عالم دین اور مبلغ اسلام ہیں۔ پوری دنیا میں عام طور پر اور عرب دنیا میں خاص طور پر اپنی ایک پہچان رکھتے ہیں۔ قرآنی معجزات پر بیان تو خیر آپ کی شناخت ہے ہی، کئی کتابوں کے مصنف کے علاوہ کئی ٹی وی پروگرام (الوعد الحق، هذا ديننا ، صفوة الصفوة)آپ کی وجہ سے مشہور ہیں۔ آپ اپنے مندرجہ بالا سوال کا جواب یوں دیتے ہیں:
جب آپ کو کسی سامان کی قیمت نا دینا پڑے تو جان لیجیئے گا کہ سامان وہ نہیں جو آپ کو مل رہا ہے، بلکہ سامان آپ ہیں جسے خریدا جا رہا ہے۔ اس معاملے کو سمجھیئے، توجہ دیجیئے اور خوب غور کیجیئے۔ مثال:
موبائیل ٹیلی فون اس دنیا میں اٹھائی جانے والی ہلکی ترین چیز ہو سکتی ہے مگرہو سکتا ہے آخرت میں یہ اٹھائی جانے والی سب سے بھاری اور سخت چیز ہو۔ پس کچھ اور نا کیجیئے صرف اس کا استعمال ہی اچھا کرنا شروع کر دیجیئے۔
گوگل، فیس بک، ٹویٹر، واٹساپ اور اسی قبیل کے دیگر پروگرام ایسے گہرے سمندر ہیں جن میں بڑے بڑے قد آور لوگوں کے اخلاق گر کر ڈوب گئے۔ اور جن کے اخلاق ڈوبے وہ صرف نوجوان ہی نہیں، کچھ اچھی خاصی عمروں والے بھی تھے۔
اس سمندر کی موجیں لوگوں کی زندگی سے حیاء کو اپنے ساتھ بہا کر لے گئیں۔ اس سمندر میں بہت سی مخلوق ہلاک ہوئی ہے۔
اگر تجھے اس ہلاکت سے بچنا ہے تو بہت احتیاط کرنا ہوگی۔ ان چیزوں کے درمیان میں شہد کی مکھی کی طرح رہنا ہوگا، اگر رُکنا تو اچھے اچھے صفحات پر، جن سے پہلے تجھے فائدہ ملے اور بعد میں تیرے توسط سے دوسروں کو۔
ان چیزوں میں مکھی کی طرح نا بن کے رہنا، جو ہر اچھی اور بری چیز پر ٹھہرتی ہے۔ ایک جگہ کی بیماریاں دوسری جگہ ایسے لیجاتی ہے کہ کسی کو پتہ بھی نہیں چلتا۔
انٹرنیٹ بہت بڑا بازار ہے، یہاں کوئی بھی اپنا سامان مفت بانٹنے کیلیئے نہیں بیٹھا ہوا۔ ہر کوئی اپنے مال کے بدلے میں آپ سے کوئی چیز لے رہا ہے۔
ان میں سے کچھ تو اپنے مال کے بدلے میں آپ کا اخلاق خراب کرنا چاہتے ہیں۔
کچھ اپنے مال کے بدلے میں آپ کے دل میں شک و شبہ کا بیج ڈالنا چاہتے ہیں۔
انٹرنیٹ پر کچھ بھی خریدنے سے پہلے پڑتال کر لیجیئے گا کہ بدلے میں آپ سے کیا لیا جا رہا ہے۔