25/04/2026
گلگت بلتستان کے انتخابات ہمیشہ سے امید اور مایوسی کے درمیان جھولتے رہے ہیں۔ یہاں کے عوام نے بارہا ووٹ کے ذریعے اپنی آواز بلند کرنے کی کوشش کی، مگر حقیقت یہ ہے کہ آج تک ان کے بنیادی حقوق مکمل طور پر تسلیم نہیں کیے گئے۔ آئینی حیثیت کا مسئلہ ہو یا وسائل پر اختیار، گلگت بلتستان کے لوگ اب بھی ایک غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں۔
ہر الیکشن میں بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں—ترقی، خودمختاری، اور خوشحالی کے وعدے—but جیسے ہی اقتدار حاصل ہوتا ہے، یہ وعدے عملی اقدامات میں تبدیل نہیں ہو پاتے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ماضی کی حکومتوں سے لے کر موجودہ قیادت تک، کسی نے بھی ایسا مؤثر کردار ادا نہیں کیا جو اس خطے کے دیرینہ مسائل کو حل کر سکے۔
یہاں کے عوام نے قربانیاں بھی دیں، صبر بھی کیا، اور ہر بار نئے چہروں پر اعتماد بھی کیا، مگر بدلے میں انہیں صرف یقین دہانیاں ملیں۔ نہ مکمل آئینی حقوق، نہ بااختیار اسمبلی، اور نہ ہی وسائل پر حقیقی کنٹرول—یہ سب اب بھی ایک خواب کی مانند ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ صرف نعروں اور وعدوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کیے جائیں۔ گلگت بلتستان کے لوگوں کو وہ مقام دیا جائے جس کے وہ حق دار ہیں، اور قیادت ایسے افراد کے ہاتھ میں ہو جو واقعی عوام کے مسائل کو سمجھتے ہوں اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ ہوں۔ ورنہ ہر نیا الیکشن صرف ایک اور ادھوری کہانی بن کر رہ جائے گا۔
Khan Naji
Jalal Shah
Muhammad Shadumkhail
Salman
Hamza Khan