Tanseer Awan

Tanseer Awan نام اور پہچان بھلے ہی چھوٹی ہو
مگر خود کی ہونی چاہیے👉

کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک چھوٹی سی غلطی آپ کی ساری گندم کو خراب کر سکتی ہے؟نئی گندم ڈالنے سے پہلے ٹنکی کو اچھی طرح صاف کرن...
15/04/2026

کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک چھوٹی سی غلطی آپ کی ساری گندم کو خراب کر سکتی ہے؟
نئی گندم ڈالنے سے پہلے ٹنکی کو اچھی طرح صاف کرنا اور دھوپ لگوانا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ پرانے دانوں میں موجود کیڑوں کے انڈے نئی گندم کو بھی تیزی سے خراب کر دیتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی گندم سال بھر محفوظ، صاف اور کیڑوں سے پاک رہے تو اس آسان عادت کو آج ہی اپنائیں۔ تھوڑی سی محنت آپ کو بڑے نقصان سے بچا سکتی ہے اور گھر کا راشن محفوظ رہتا ہے۔

یہ وہ لمحہ ہے جہاں قہقہوں کے پیچھے چھپا ہوا دکھ بے نقاب ہو جاتا ہے۔جس اداکار نے برسوں کروڑوں چہروں پر مسکراہٹیں بکھیریں،...
22/02/2026

یہ وہ لمحہ ہے جہاں قہقہوں کے پیچھے چھپا ہوا دکھ بے نقاب ہو جاتا ہے۔
جس اداکار نے برسوں کروڑوں چہروں پر مسکراہٹیں بکھیریں، جس کے ایک ڈائیلاگ پر سینما ہال گونج اٹھتے تھے، وہی راجپال یادو آج تہاڑ جیل کے دروازے پر اکیلا کھڑا تھا۔ نہ کیمرے، نہ تالیوں کی آواز، نہ کوئی دوست… صرف خاموشی، اور ایک ٹوٹا ہوا دل۔
یہ مقدمہ ۲۰۱۰ سے چل رہا ہے جب راجپال یادو نے اپنی فلم "اٹا پٹا لپتا" کی پروڈکشن کے لیے ایم/ایس مرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ سے تقریباً ۵ کروڑ روپے کا قرض لیا تھا۔ فلم کی ناکامی کی وجہ سے ادائیگی نہ ہو سکی اور چیک باؤنس ہو گئے، جس سے قرض بڑھ کر تقریباً ۹ کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ اپریل ۲۰۱۸ میں ایک مجسٹریٹ کورٹ نے راجپال یادو اور ان کی اہلیہ کو چیک باؤنس کے متعدد کیسز میں مجرم قرار دیا اور چھ ماہ کی سزا سنائی۔ ۵ فروری ۲۰۲۶ کو دہلی ہائی کورٹ نے ان کی توسیع کی آخری درخواست مسترد کر دی اور فوری طور پر سرنڈر کرنے کا حکم دیا۔
عدالت میں جاتے ہوئے اس کے الفاظ دل چیر دینے والے تھے:
“میرے پاس اب کچھ نہیں بچا، نہ پیسے، نہ کوئی راستہ، نہ کوئی ایسا جس سے مدد مانگ سکوں۔”
یہ صرف چیک باؤنس کا مقدمہ نہیں تھا، یہ ایک انسان کی ہار تھی۔ وہ انسان جو کبھی ہنسی کا استعارہ تھا، آج خود اپنے آنسو چھپا رہا تھا۔ شہرت، دولت اور کامیابی—سب عارضی ثابت ہوئیں، جب زندگی نے اصل امتحان لیا۔
تہاڑ جیل میں قدم رکھتے ہوئے وہ اس دنیا سے بہت دور جا چکا تھا جہاں لوگ اس پر ہنستے تھے۔ آج وہ خود تنہائی، بے بسی اور مایوسی کے اندھیروں میں تھا۔
یہ منظر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ شہرت کے پردے کے پیچھے بھی انسان ہی ہوتا ہے—کمزور، ٹوٹنے والا، اور درد سہنے والا۔

زندگی کبھی کبھی سب کچھ چھین لیتی ہے: نام، رتبہ، دوست، اور سہارا۔
اور پھر انسان صرف اپنے ضمیر اور اپنے دکھ کے ساتھ رہ جاتا ہے۔
یہ کہانی ہمیں ہنسی کے پیچھے چھپے آنسوؤں کو پہچاننے کا سبق دیتی ہے—کیونکہ ہر چمکتی زندگی کے پیچھے ایک خاموش جنگ بھی لڑی جا رہی ہوتی ہے۔

05/02/2026

شناختی کارڈ اور ذاتی معلومات (NADRA)

8000: شناختی کارڈ کی تصدیق (CNIC Verification)
668: نام پر رجسٹرڈ سموں کی تعداد جاننا
8300: ووٹ کی معلومات اور پولنگ اسٹیشن
8001: فیملی شجرہ کی تصدیق (Family Tree)
8008: شناختی کارڈ کی ایکسپائری ڈیٹ چیک کرنا
8005: قریبی نادرا سینٹر کا پتہ معلوم کرنا

گاڑی کی تصدیق (Excise / Vehicle Verification)

8149: پنجاب گاڑی کی رجسٹریشن چیک کریں
8521: اسلام آباد گاڑی کی رجسٹریشن

ڈراہوینگ لاسنس کی تصدیق ( Driving Licence Verification)

8147: پنجاب ڈرائیونگ لائسنس کی تصدیق
6040: سندھ ڈرائیونگ لائسنس کی تصدیق

پاسپورٹ کی تصدیق ( Passport Verification)

9988: پاسپورٹ بننے کی صورتحال (Passport Status)

مالی امداد اور صحت (Govt Schemes)

8171: بے نظیر انکم سپورٹ / احساس پروگرام میں اہلیت
8500: صحت کارڈ کی اہلیت اور ہسپتال کی معلومات
8123: مفت راشن پروگرام میں رجسٹریشن
8900: وزیراعظم یوتھ لون پروگرام کی اہلیت

موبائل اور انٹرنیٹ (PTA)

8484: موبائل فون کی پی ٹی اے (PTA) سے تصدیق
* #06 #: اپنے موبائل کا IMEI نمبر معلوم کرنا
667: سم کس کے نام پر ہے؟ (سم سے 'MNP' لکھ کر بھیجیں)

ہنگامی حالات اور شکایات (Emergency)

15: پولیس مدد (Police Help)
1122: ایمبولینس اور فائر بریگیڈ
130: موٹروے پولیس ہیلپ لائن
1991: سائبر کرائم (آن لائن فراڈ) کی شکایت (FIA)
1033: اینٹی کرپشن ہیلپ لائن

31/01/2026
ہائے میری سیاہ رات !عربی حکایت ہے کہ ایک دیہاتی شخص (بدو) نے اپنی چچازاد سے شادی کی اور اللہ نے اسے یکے بعد دیگرے نو بیٹ...
25/01/2026

ہائے میری سیاہ رات !
عربی حکایت ہے کہ ایک دیہاتی شخص (بدو) نے اپنی چچازاد سے شادی کی اور اللہ نے اسے یکے بعد دیگرے نو بیٹے عطا کیے۔ قبیلے میں اس کی شان بلند ہو گئی، کیونکہ اس زمانے میں بیٹے طاقت، عزت اور فخر کی علامت سمجھے جاتے تھے۔
مگر جب دسویں بار اس کی بیوی نے ایک بیٹی کو جنم دیا، تو گویا اس پر بجلی گر گئی۔ بجائے شکر کے، اس کے چہرے پر غصے اور ناگواری کے آثار پھیل گئے۔ وہ آسمان کی طرف دیکھ کر چیخ اٹھا:
"یا لیلی الأسود! یا لیلی الأسود!"
(ہائے میری سیاہ رات، اے میرے بدنصیب دن!)
اس نے اپنی بے چاری بیوی سے منہ موڑ لیا اور اس ننھی کلی کو اپنی لیے منحوس سمجھ بیٹھا۔ اس کی نگاہ میں بیٹی جرم بن گئی اور اس کی ماں مجرم۔ بیٹی کے وجود کو گویا اپنے لیے عار سمجھا۔
وقت گزرتا گیا۔ مہ و سال کی گردش جاری رہی۔ بیٹے جوان ہوئے، شادیاں ہوئیں، ان کے نئے خیمے آباد ہوئے اور پھر ایک دن وہ باپ، جو کبھی قبیلے کا فخر سمجھا جاتا تھا، اندھا ہو گیا۔ آنکھوں کی روشنی جاتی رہی، طاقت کا غرور مٹ گیا اور وہ بوڑھا اپنے خیمے میں تنہا رہ گیا۔
نو بیٹے، جن پر اس نے ناز کیا تھا، اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہو گئے۔ کسی نے پلٹ کر نہ دیکھا، نہ اس کے دکھ کا مداوا کیا۔ وہ سب جو کبھی اس کی طاقت تھے، اس کی کمزوری بن گئے۔
مگر وہ بیٹی، وہی جسے اس نے "لیلی الأسود" (سیاہ رات) کہا تھا، جب یہ خبر سنی کہ اس کا باپ نابینا ہو گیا ہے، دل تھام کر دوڑ پڑی۔ اس نے نہ شکایت کی، نہ ماضی کو یاد کیا، بس خاموشی سے باپ کے خیمے میں داخل ہوئی۔
اس نے اس بوڑھے، کمزور جسم کو نہلایا، خیمہ صاف کیا، کھانا پکایا، پانی رکھا۔ اس کے ہاتھوں کی نرمی، اُس کی سانسوں کی خوشبو، اس کی خدمت کا خلوص، سب کچھ اس باپ کے دل میں ایک اجنبی سی راحت پیدا کر گیا۔
کھانا کھلانے کے بعد جب اس نے دوا دینے کے لیے باپ کا ہاتھ تھاما، تو اس نے اس کی کلائی کو تھام کر لرزتی آواز میں پوچھا:
"بتاؤ اے بیٹی، تُو کون ہے؟ تُو کون ہے، جس نے میرے اندھیرے میں یہ روشنی بھر دی ہے؟"
اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اس نے رندھی ہوئی آواز میں کہا:
"میں ہوں، تمہاری لیلی الأسود، تمہاری سیاہ رات!"
یہ سننا تھا کہ اس بوڑھے کی آنکھوں سے بھی آنسو بہہ نکلے۔ وہ زار و قطار رو پڑا۔ اس کے دل پر ندامت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ اس نے بیٹی کے ہاتھ تھام کر کہا:
"بیٹی! مجھے معاف کر دو... کاش میری ساری راتیں سیاہ ہوتیں اور ان کی سیاہی تمہارے نور جیسی ہوتی!"
پھر اس نے اپنے دل کی آگ کو اِن اشعار میں ڈھالا، جو مشہور ہوگئے:
ليت الليالي كلها سود
دام الهناء بسود الليالي
لو الزمان بعمري يعود
لأحبها أول وتالي
ما غيرها يبرني ويعود
ينشد عن سواتي وحالي
تسعة رجالٍ كلهم جحود
تباعدوا عن سؤالي
ما غير ريح المسك والعود
إبنتي بكل يومٍ قبالي
ترجمہ:
کاش تمام راتیں سیاہ ہوتیں
اگر خوشی ان سیاہ راتوں میں ہی چھپی ہے
اگر وقت واپس آ جائے
تو میں اسے (بیٹی کو) سب سے پہلے اور سب سے آخر تک چاہوں
میرے زخموں کا مرہم کوئی نہیں
سوائے اُس کے جو میرا حال پوچھتی ہے
نو بیٹے، سب سرکش، سب بے وفا
کسی نے میری خیر نہ پوچھی
مگر ایک ہے جو ہر دن میرے سامنے آتی ہے
جس کی خوشبو کستوری اور عود کی طرح میرے خیمے کو مہکاتی ہے۔
یہ ہے اس بدوی باپ کی کہانی، جس نے بیٹی کی قدر دیر سے سمجھی، مگر جب سمجھی تو اپنی دنیا اور اندھی آنکھوں دونوں میں روشنی بھر لی۔
بیٹیاں عار نہیں ہوتیں، رحمت ہوتی ہیں۔ وہی دلوں کے زخموں پر مرہم رکھتی ہیں، وہی بوڑھوں کی تنہائیوں کو جنت بنا دیتی ہیں۔
اور اگر آپ نے یہ قصہ مکمل پڑھ لیا ہے تو درود بھیجیں اپنے نبی رحمت ﷺ پر جنہوں نے فرمایا تھا:
"من عال جاريتين حتى تبلغا جاء يوم القيامة أنا وهو كهاتين." (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2631)
(جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ جوان ہو گئیں، قیامت کے دن وہ میرے ساتھ یوں ہو گا اور آپ ﷺ نے اپنی دو انگلیاں ملا دیں۔)
اللهم صل وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه اجمعين۔
(بحوالہ: روزنامہ عکاظ، سعودی عرب)

Tanseer Awan

قوم عاد کی شان اور اُن کی طاقت کا نظارہیہ تصویر قوم عاد کی ایک سیڑھی کی ہے، جو سعودی عرب کے مشہور صحرائے الربع الخالی می...
24/01/2026

قوم عاد کی شان اور اُن کی طاقت کا نظارہ
یہ تصویر قوم عاد کی ایک سیڑھی کی ہے، جو سعودی عرب کے مشہور صحرائے الربع الخالی میں موجود ہے۔ اس تصویر سے ہم اُس دور اور موجودہ دور کے انسانوں کے قد و قامت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ غور کریں: کھڑے افراد کے سر سے بھی سیڑھی کا ایک سٹیپ بلند ہے!
قوم عاد وہ لوگ تھے جنہیں حضرت ہود علیہ السلام کی قوم کہا جاتا ہے۔ ان کی طاقت اور قد و قامت کا ذکر قرآن مجید میں بھی آیا ہے:
{فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ۖ أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ }
(سورة حم سجدہ، 15)
ترجمہ:
"جو عاد تھے وہ زمین میں ناحق غرور کرنے لگے اور کہنے لگے، ‘ہم سے بڑھ کر طاقتور کون ہے؟’ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ، جس نے انہیں پیدا کیا، وہ ان سے کہیں زیادہ طاقتور ہے؟ اور وہ ہماری آیات سے انکار کرتے رہے۔"
یہ منظر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان چاہے کتنا بھی مضبوط یا بڑا کیوں نہ ہو، غرور کی کوئی قیمت نہیں۔
Tanseer Awan

ایک آدمی کی بیوی چالیس سال کی عمر میں انتقال کر گئی۔ جب اس کے دوستوں اور رشتہ داروں نے اسے دوبارہ شادی کرنے کا مشورہ دیا...
21/01/2026

ایک آدمی کی بیوی چالیس سال کی عمر میں انتقال کر گئی۔ جب اس کے دوستوں اور رشتہ داروں نے اسے دوبارہ شادی کرنے کا مشورہ دیا، تو اس نے جواب دیا کہ اس کی بیوی کا سب سے بڑا تحفہ یہ ہے کہ اس نے اسے ایک بیٹا دیا، اور وہ اپنی زندگی اسی بیٹے کے ساتھ گزارے گا۔

جیسے ہی بیٹا بڑا ہوا، اس نے اپنے تمام کاروبار کی ذمہ داریاں بیٹے کے سپرد کر دیں۔ وہ اکثر اپنے دفتر میں یا کسی دوست کے دفتر میں وقت گزارنے لگا۔

بیٹے کی شادی کے بعد، وہ آدمی زیادہ تنہا محسوس کرنے لگا۔ اس نے گھر کا مکمل انتظام اپنی بہو کے سپرد کر دیا۔

بیٹے کی شادی کے ایک سال بعد، وہ دوپہر کا کھانا کھا رہا تھا جب بیٹا دفتر سے آیا۔ وہ ہاتھ دھو کر کھانے کے لیے تیار ہو رہا تھا۔ بیٹے نے سنا کہ والد نے کھانے کے بعد دہی مانگی، تو بیوی نے جواب دیا کہ آج گھر میں دہی نہیں ہے۔
کھانا کھانے کے بعد، والد باہر چہل قدمی کے لیے نکل گیا۔ کچھ دیر بعد، بیٹا اپنی بیوی کے ساتھ کھانے بیٹھ گیا۔ کھانے کے برتن میں دہی موجود تھا، مگر بیٹے نے بغیر کسی ردعمل کے کھانا کھایا اور پھر دفتر چلا گیا۔
حیرت انگیز خبر
کچھ دنوں بعد، بیٹے نے اپنے والد سے کہا، "آج آپ کو عدالت جانا ہے اور آپ کی شادی ہو رہی ہے!" والد نے حیرت سے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور کہا، "بیٹا! مجھے اب شادی کی ضرورت نہیں، اور میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔ تمہیں بھی ماں کی ضرورت نہیں، تو پھر میری دوبارہ شادی کیوں؟"

بیٹے نے جواب دیا، "بابا، میں آپ کے لیے اپنی ماں کو واپس نہیں لا رہا، نہ ہی اپنی بیوی کے لیے ایک ساس۔ میں صرف آپ کے لیے دہی کا انتظام کر رہا ہوں! کل سے میں آپ کی بہو کے ساتھ کرائے کے گھر میں رہوں گا اور آپ کے دفتر میں ایک ملازم کی حیثیت سے کام کروں گا، تاکہ آپ کی بہو دہی کی قیمت جان سکے۔"

یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ والدین ہمارے لیے اے ٹی ایم کارڈز نہیں بلکہ اصل میں ہمارے دلوں کی دولت ہیں۔ وہ ہماری مرضی پر نہیں بلکہ ہم ان کی خدمت اور احترام کے ذریعے اپنی زندگی گزار سکتے ہیں۔ دنیا کے تمام والدین کو زندہ باد! ہر گھر میں ایسے مثالی رویے اپنائے جانے چاہیے۔

ایک عورت نے ایک بزرگ ریڑی والے سے پوچھا:" انڈے کتنے روپے درجن ہیں؟"بوڑھے نے ادب سے جواب دیا:"بی بی، تیس روپے فی انڈہ۔"عو...
21/01/2026

ایک عورت نے ایک بزرگ ریڑی والے سے پوچھا:
" انڈے کتنے روپے درجن ہیں؟"
بوڑھے نے ادب سے جواب دیا:
"بی بی، تیس روپے فی انڈہ۔"
عورت بولی:
"میں چھ انڈے 150 روپے میں لوں گی، ورنہ چلی جاؤں گی۔"
بوڑھا آدمی نرمی سے مسکرایا:
"بی بی، جیسے آپ چاہیں ویسے لے لیں۔ میرے لیے تو یہ اچھی شروعات ہے۔ آج ابھی تک ایک بھی انڈہ نہیں بِکا، اور مجھے اسی سے گزارا کرنا ہے۔"
عورت اپنے خیال میں بہترین سودے پر خوش ہو کر وہاں سے چلی گئی۔
کچھ دیر بعد وہ اپنی لگژری کار میں بیٹھ کر ایک مہنگے ریسٹورنٹ پہنچی، جہاں اپنی دوست کے ساتھ کھانا کھایا۔ دونوں نے بے جھجھک آرڈر کیا، کھانے کو مشکل سے ہاتھ بھی لگایا، اور جب 4500 روپے کا بل آیا تو 5000 ادا کر کے مالک سے کہا کہ باقی رکھ لو، یہ ٹِپ ہے۔

ریسٹورنٹ کے لیے یہ سخاوت عام بات ہوگی،
لیکن انڈے بیچنے والے کے لیے یہ ایک خاموش ناانصافی تھی۔

ہم کیوں اکثر کمزور اور محتاج لوگوں کے سامنے اپنی طاقت دکھانے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں؟

اور کیوں سخاوت وہاں دکھاتے ہیں جہاں اس کی اصل ضرورت نہیں ہوتی؟

میں نے کہیں ایک باپ کی کہانی پڑھی تھی جو ہمیشہ غریب فروشوں سے چیزیں لیتے وقت قیمت سے زیادہ ادا کرتا تھا۔
اس کے بچوں نے اس سے پوچھا کہ اباجان آپ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟
اس نے کہا:
"یہ خیرات ہے، مگر عزت کے پردے میں لپٹی ہوئی۔"

انگریزی ادب سے ماخوذ

اگر آپ یہاں تک پڑھ چکے ہیں تو امید ہے یہ چھوٹا سا پیغامِ رحمت آپ کے سوچنے کا رخ موڑ چکی ہوگی۔۔
جزاکم اللہ خیرا
゚viralシfypシ゚viralシalシ




یہ وہ لمحہ ہــــــےجب ایک عورت اپنے شوہر کی نسل کو بڑھانے کے لیئــــــے اپنی جان تک کی پرواہ نہیں کرتی...اسے نہیں معلوم ...
20/01/2026

یہ وہ لمحہ ہــــــے
جب ایک عورت اپنے شوہر کی نسل کو
بڑھانے کے لیئــــــے اپنی جان تک کی پرواہ نہیں کرتی...
اسے نہیں معلوم کے آپریشن تھیٹر سے یہ زندہ واپس آئــــے گی یا نہیں
پر پھر بھی وہ اپنی جان پر پہ کھیل کر
اولاد کی خوشی دیتی ہـــــے۔
آئیں دعا کریں ماؤں کے لیے کہ اللّٰہ تعالیٰ تمام خواتین کو صحت مند لمبی زندگی عطاء فرمائے اور انکو ہر خوشی ملے,اولاد کا سکھ نصیب ہو...
جو بے اولاد ہیں
رب العالمین پیارے آقاﷺ جان کے صدقے اولاد کی نعمت نصیب فرمائے...
آمین ثم آمین 💕
Tanseer Awan

جب باپ نے موت چنی اور بیٹی نے زندگی پائیکتوبر 1917 کی ایک سرد اور خوفناک رات تھی۔ بحرِ اوقیانوس میں ایک مسافر جہاز، جو ا...
17/01/2026

جب باپ نے موت چنی اور بیٹی نے زندگی
پائی

کتوبر 1917 کی ایک سرد اور خوفناک رات تھی۔ بحرِ اوقیانوس میں ایک مسافر جہاز، جو اٹلی سے تارکینِ وطن کو نیویارک لے جا رہا تھا، اچانک ایک شدید طوفان کی لپیٹ میں آ گیا۔ جہاز میں سوار ایک اٹھائیس سالہ بڑھئی انتونیو روسو اپنی پانچ سالہ بیٹی ماریا کے ساتھ امریکہ جا رہا تھا۔ دو سال قبل ماریا کی ماں زچگی کے دوران وفات پا چکی تھی، اور انتونیو اپنی بیٹی کو غربت سے بچانے، بہتر مستقبل دینے اور ایک نئی زندگی شروع کرنے کے لیے امریکہ لے جا رہا تھا۔
رات کے دو بجے طوفان نے شدت اختیار کر لی۔ خوفناک موجیں جہاز کے عرشے سے ٹکرا رہی تھیں۔ پانی نچلے حصوں میں بھرنے لگا جہاں تیسرے درجے کے مسافر ٹھہرے ہوئے تھے۔ چیخ و پکار، بھگدڑ، دھکم پیل… ہر طرف قیامت کا منظر تھا۔ انتونیو نے ماریا کو بانہوں میں اٹھایا اور سیڑھیوں کی طرف دوڑا مگر پانی پہلے ہی کمر تک پہنچ چکا تھا۔ جہاز ایک طرف جھکنے لگا تھا۔ لوگ ایک دوسرے کو روندتے ہوئے اوپر پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔
انتونیو نے ماریا کو پانی سے اوپر اٹھائے رکھا، مگر ہجوم بہت زیادہ تھا، پانی بہت تیز اور وقت بہت کم۔ وہ جان گیا کہ وہ لائف بوٹس تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ جہاز ڈوب رہا تھا۔ چند منٹ باقی تھے۔
اچانک انتونیو کی نظر ایک ٹوٹے ہوئے کیبن کے روشن دان (پورٹ ہول) پر پڑی، جو طوفان میں ٹوٹ چکا تھا۔ سوراخ اتنا بڑا تھا کہ صرف ایک بچہ نکل سکتا تھا۔ انتونیو نے ماریا کو مضبوطی سے پکڑا، اس کے آنسو پونچھے اور پھر اپنی ننھی سی جان کو اس ٹوٹے ہوئے روشن دان سے برف جیسے ٹھنڈے سمندر میں دھکیل دیا۔
ماریا چیخ اٹھی۔
انتونیو پکارا: "تیرو ماریا! روشنی کی طرف تیرو! جہاز آ رہے ہیں! تیرو!"
دور ریسکیو کشتیوں کی سرچ لائٹس پانی کو چھان رہی تھیں۔ ماریا کے پاس زندہ بچنے کا ایک موقع تھا۔ مگر انتونیو کے پاس نہیں۔ وہ خود اس سوراخ سے نہیں نکل سکتا تھا۔ اس نے اپنی بیٹی کو زندگی دی اور خود موت کو قبول کر لیا۔
سات منٹ بعد جہاز سمندر میں غرق ہو گیا۔ انتونیو روسو ان 117 مسافروں کے ساتھ ڈوب گیا جو لائف بوٹس تک نہ پہنچ سکے۔ اس کی لاش کبھی نہ ملی۔
پینتالیس منٹ بعد ایک کشتی نے ماریا کو پانی سے نکالا۔ وہ شدید ہائپوتھرمیا اور نیم بے ہوشی کی حالت میں تھی، مگر زندہ تھی۔ اسے کمبل میں لپیٹ کر ہسپتال جہاز پر منتقل کیا گیا۔
ماریا اکیلی تھی۔ پانچ سال کی یتیم بچی۔ اجنبی ملک۔ اجنبی زبان۔ اور دل میں ایک زخم جو زندگی بھر نہ بھر سکا۔
اسے اپنے باپ کے آخری الفاظ یاد تھے: "روشنی کی طرف تیرو۔"
ماریا کو نیویارک کے ایک یتیم خانے میں رکھا گیا۔ برسوں تک وہ یہ سوچتی رہی کہ اس کے والد شاید زندہ ہوں گے اور ایک دن اسے لینے آئیں گے۔ مگر وہ کبھی نہ آئے، کیونکہ وہ بحرِ اوقیانوس کی گہرائیوں میں سو چکے تھے۔
ماریا 2004 میں بانوے برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئی۔ اس نے ستاسی برس اس رات کی یاد میں گزارے جب اس کے والد نے اسے زندگی کے لیے سمندر میں دھکیل دیا تھا۔
1995 میں، تراسی برس کی عمر میں، ایک صحافی نے اس کا انٹرویو کیا۔ ماریا روتے ہوئے بولی:
"میں پانچ سال کی تھی۔ جہاز ڈوب رہا تھا۔ میرے باپ نے مجھے سمندر میں پھینک دیا۔ میں ڈر گئی تھی۔ مجھے لگا وہ مجھے مار رہا ہے۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ مجھے بچا رہا ہے۔ میں پانی میں گری، ڈوبی، پھر اوپر آئی اور چیخی۔ میں نے جہاز کی طرف دیکھا۔ میں نے روشن دان میں اپنے باپ کا چہرہ دیکھا۔ وہ مجھے کہہ رہا تھا: تیرو ماریا! روشنی کی طرف تیرو! میں تیرتی رہی۔ میں نہیں تیرنا چاہتی تھی۔ میں اپنے باپ کے پاس جانا چاہتی تھی۔ مگر میں تیرتی رہی کیونکہ اس نے کہا تھا۔"
"میں پچیس سال تک یہ سمجھتی رہی کہ میرے باپ نے مجھے چھوڑ دیا۔ پھر ایک محقق نے مسافروں کی فہرست دیکھی۔ مجھے بتایا گیا کہ انتونیو روسو جہاز کے ساتھ ڈوب گیا تھا۔ وہ مجھے چھوڑ کر نہیں گیا تھا۔ اس نے مجھے بچایا تھا۔ اس نے مجھے زندگی کی طرف پھینکا تھا، اور خود موت کو گلے لگا لیا تھا۔"
ماریا نے روتے ہوئے کہا
"آج میری چار اولاد ہیں، نو پوتے پوتیاں، اور چھ پڑپوتے پڑپوتیاں۔ اکتیس زندگیاں صرف اس لیے موجود ہیں کیونکہ میرے باپ نے مجھے 1917 میں ایک روشن دان سے سمندر میں پھینک دیا تھا۔ وہ مر گیا تاکہ میں جی سکوں۔"
"میں ہر رات آنکھ بند کرتی ہوں تو اس کا چہرہ دیکھتی ہوں۔ میں آج بھی سنتی ہوں: 'روشنی کی طرف تیرو۔' میں اٹھہتر سال سے روشنی کی طرف تیر رہی ہوں۔ مجھے امید ہے میں نے اسے فخر دیا ہوگا۔ مجھے امید ہے جب میں مروں گی تو وہ مجھے ملے گا، اور میں کہوں گی شکریہ بابا… شکریہ مجھے زندگی دینے کے لیے۔"
"تی آمو، بابا… میں تم سے ہمیشہ محبت کرتی رہی ہوں۔"
یہ کہانی صرف ایک حادثہ نہیں۔ یہ قربانی ہے۔ یہ باپ کی محبت ہے۔ یہ زندگی کی قیمت ہے۔
کبھی کبھی ہمیں بچانے کے لیے کوئی ہمیں اندھیرے میں دھکیل دیتا ہے… تاکہ ہم روشنی تک پہنچ سکیں۔

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tanseer Awan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Tanseer Awan:

Share