Usama's Rail Diary

Usama's Rail Diary "Your hub for all things Pakistan Railway! � Explore history, stories, and updates. All aboard for an unforgettable journey! � "
(1)

07/08/2026

6 ڈاؤن گرین لائن ایکسپریس کی لاہور آمد 🚆

06/08/2026

لاہور کینٹ ریلوے اسٹیشن (LRC) برطانوی دور میں اس وقت تعمیر کیا گیا جب لاہور کینٹ (Cantonment) ایک فوجی چھاؤنی کے طور پر ترقی کر رہا تھا۔ اس اسٹیشن کا بنیادی مقصد فوجی نقل و حرکت، سامان کی ترسیل اور کینٹ کے رہائشیوں کو ریلوے سہولت فراہم کرنا تھا۔ یہ اسٹیشن کراچی–پشاور مین لائن (ML-1) پر واقع ہے اور پاکستان ریلوے کے اہم اسٹیشنوں میں شمار ہوتا ہے۔
ابتدائی دور میں لاہور شہر کا مرکزی ریلوے اسٹیشن لاہور جنکشن تھا، جبکہ لاہور کینٹ اسٹیشن نے فوجی اور شہری دونوں مقاصد کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہاں مسافر ٹرینوں کی آمدورفت میں اضافہ ہوا اور یہ لاہور کا دوسرا بڑا ریلوے اسٹیشن بن گیا۔

05/08/2026

مہران ریلوے برج (Mehran Railway Bridge) سندھ میں دریائے سندھ پر حیدرآباد اور کوٹری کے درمیان واقع ہے۔
اہم معلومات:
یہ پل 1980 کی دہائی میں تعمیر کیا گیا تاکہ ریلوے ٹریفک کا دباؤ کم کیا جا سکے۔
یہ صرف ریلوے ٹریفک کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی پرانا کوٹری برج موجود ہے، جو سڑک اور ریلوے دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

دونوں پل دریائے سندھ کو عبور کرتے ہیں اور پاکستان ریلوے کے شمالی اور جنوبی نیٹ ورک کو آپس میں ملاتے ہیں۔

04/08/2026

میٹنگ ریلوے اسٹیشن سندھ کے ضلع ٹھٹھہ میں کراچی–پشاور مین لائن (ML-1) پر واقع ہے۔ یہ اسٹیشن برطانوی دور میں اس وقت قائم کیا گیا جب کراچی سے کوٹری تک ریلوے لائن بچھائی گئی، جس کا افتتاح 1861ء میں ہوا۔ اسی تاریخی ریلوے لائن پر میٹنگ اسٹیشن بھی وجود میں آیا اور آج تک پاکستان ریلویز کا حصہ ہے۔

03/08/2026

جھمپیر (ضلع ٹھٹھہ، سندھ) پاکستان میں ونڈ انرجی (ہوا سے بجلی) پیدا کرنے کا سب سے بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں سینکڑوں ونڈ ٹربائنز نصب ہیں جو تیز ہواؤں کی مدد سے بجلی پیدا کرتی ہیں۔
اہم معلومات:
جھمپیر اور غارو کے درمیان واقع ونڈ کوریڈور تقریباً 180 کلومیٹر طویل اور 60 کلومیٹر چوڑا علاقہ ہے، جو ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے لیے نہایت موزوں سمجھا جاتا ہے۔
یہاں مختلف مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کے متعدد ونڈ فارم قائم ہیں۔
ہر ونڈ ٹربائن عموماً 2 سے 5 میگاواٹ تک بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ پورے علاقے سے مجموعی طور پر سیکڑوں میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل کی جاتی ہے۔
ٹربائن کے تین بڑے پر (Blades) ہوا سے گھومتے ہیں، جس سے جنریٹر چلتا ہے اور بجلی پیدا ہوتی ہے۔
یہ بجلی پیدا کرنے کا ماحول دوست طریقہ ہے کیونکہ اس میں ایندھن نہیں جلایا جاتا اور فضائی آلودگی بھی بہت کم ہوتی ہے۔
اگر آپ کراچی سے حیدرآباد یا ریل کے ذریعے اس راستے سے گزریں، تو جھمپیر کے قریب دور دور تک یہ سفید ونڈ ٹربائنز آسانی سے نظر آتی ہیں اور پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی کی ایک نمایاں مثال ہیں۔

02/08/2026

بارش کی بوندیں اور پٹریوں پر دوڑتی ٹرین... قدرت اور سفر کا حسین امتزاج۔ 🌧️🚆

رحمان بابا ایکسپریس جو کہ کراچی سے پشاور براستہ فیصل اباد وزیر اباد راولپنڈی ایک نان سٹاپ ٹرین کی حیثیت سے شروع کی گئی ت...
01/08/2026

رحمان بابا ایکسپریس جو کہ کراچی سے پشاور براستہ فیصل اباد وزیر اباد راولپنڈی ایک نان سٹاپ ٹرین کی حیثیت سے شروع کی گئی تھی اج اس کا حال عوام ایکسپریس جیسا ہو چکا ہے۔

یہ ریل گاڑی شروع کرنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ لوگ کراچی سے پشاور کم وقت میں پہنچ سکیں کیونکہ عوام ایکسپریس اور خیبر میل تقریباً 35-40 گھنٹے لگا دیتی ہیں۔

لیکن وقت کے ساتھ ساتھ رحمان بابا ایکسپریس بھی خیبر میل اور عوام ایکسپریس کی کیٹگری میں شمار ہونے لگ گئی۔ سمجھ سے باہر ہے کہ ایک نان سٹاپ ٹرین کو ہر چھوٹے سٹیشن پر سٹاپ دینے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔

01/08/2026

قراقرم ایکسپریس (41 اپ) کراچی کینٹ سے لاہور کے لیے روانہ ہوتے ہوئے۔
پاکستان ریلویز کی پریمیئم ٹرینوں میں شمار ہونے والی قراقرم ایکسپریس آج بھی ہزاروں مسافروں کی پسند ہے، مگر افسوس کہ گزشتہ کچھ عرصے سے اس کے ریک (کوچز) کی حالت مسلسل خراب ہوتی جا رہی ہے۔ ایک ایسی نمایاں ٹرین کے لیے جدید اور معیاری ریک کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ مسافروں کو وہی معیارِ سفر دوبارہ مل سکے جس کی یہ ٹرین ہمیشہ سے پہچان رہی ہے۔
**پاکستان ریلویز کی پریمیئم ٹرین قراقرم ایکسپریس کو فوری طور پر نیا اور جدید ریک فراہم کیا جائے تاکہ اس کا معیار اور وقار برقرار رہ سکے۔

BAHANA YA HAQEEQAT????پاکستان ریلویز کا اس نوٹس میں کہنا ہے کہ مہنجوداڑو پیسنجر ٹرین نقصان میں چل رہی تھی اتنا نقصان کہ ...
31/07/2026

BAHANA YA HAQEEQAT????

پاکستان ریلویز کا اس نوٹس میں کہنا ہے کہ مہنجوداڑو پیسنجر ٹرین نقصان میں چل رہی تھی اتنا نقصان کہ وہ تیل کے پیسے بھی پورے نہیں کر پا رہی تھی جس کا حساب کتاب انہوں نے نیچے دیے گئی تصویر میں دیا ہے۔

بہت سے پیجز پر دکھا ہم نے اس تصویر کو لیکن کسی نے اس بات کو بتانا گوارا نہیں کیا کہ کس طرح یہ گاڑی 8-9 کوچز پر مشتعمل ہوا کرتی تھی اور وقت کی پابندی بھی کرتی تھی اور کس طرح وقت کے ساتھ ساتھ اس گاڑی کو محض 3-4 کوچز پر محیط کر دیا گیا اور گاڑی بھی تین سے چار گھنٹہ روزانہ کی بنیاد پر لیٹ ہوا کرتی تھی۔

پھر مزید یہ کہ نہ تو لوگوں نے ٹکٹ خریدنی اور نہ ہی ٹکٹ چیک کرنے ٹکٹ کا مطالبہ کرنا۔ پھر مزید یہ کہ ریلوے نے اس ٹرین کے روٹ پر خاص توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے روڈ ٹرانسپورٹ لوگوں کو زیادہ فائدے میں لگنے لگی کیونکہ وہ وقت کم لگا رہی تھی۔

اور بھی بہت باتیں ہیں لیکن انہی باتوں سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ نیچے دی گئی ہوئی تصویر صرف ایک بہانہ ہے کیوں کہ ایک طرف 3000-4000 لیٹر ڈیزل کھانے والا انجن صرف تین ڈبوں کو لے کر جب چلتا ہے تو وہ اپنے پورے تن بدن کا بھی زور لگا لے کبھی بھی منافع میں نہیں جا سکتی۔ اگے اپ سب لوگ بہتر جانتے ہیں۔




31/07/2026

کراچی کینٹ اسٹیشن کا خوبصورت منظر! 🚆

پاکستان ایکسپریس پلیٹ فارم نمبر 2 سے اپنی منزل کی جانب روانہ ہو رہی ہے، جبکہ قراقرم ایکسپریس پلیٹ فارم نمبر 1 پر روانگی کے لیے تیار کھڑی ہے۔

Address

Hyderabad Sindh
Hyderabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Usama's Rail Diary posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Usama's Rail Diary:

Shortcuts

Share