Adeel Rajput

Adeel Rajput Like and share

10/10/2020
27/05/2018

خاندان اور خون کی پہچان۔۔۔۔ ضرور پڑھیں

سلطان محمود غزنوی نے اک بار دربار لگایا . دربار میں ہزاروں افراد شریک تھے جن میں اولیاء قطب اور ابدال بھی تھے سلطان محمود نے سب کو مخاطب کر کے کہا کوئی شخص مجھے حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت کرا سکتا ہے..
سب خاموش رہے دربار میں بیٹھا اک غریب دیہاتی کھڑا ہوا اور کہا میں زیارت کرا سکتا ہوں .سلطان نے شرط پوچھی تو عرض کرنے لگا 6 ماہ دریا کے کنارے چلہ کاٹنا ہو گا لیکن میں اک غریب آدمی ہوں میرے گھر کا خرچا آپ کو اٹھانا ہو گا ........

سلطان نے شرط منظور کر لی اس شخص کو چلہ کے لیے بھج دیا گیا اور گھر کا خرچہ بادشاہ کے ذمے ہو گیا.....
6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان نے اس شخص کو دربار میں حاضر کیا اور پوچھا تو دیہاتی کہنے لگا حضور کچھ وظائف الٹے ہو گئے ہیں لہٰذا 6 ماہ مزید لگیں گے ....
مزید 6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان محمود نے پھر دربار لگایا اور دربار میں ہزاروں افراد شریک تھے......... اس شخص کو دربار میں حاضر کیا گیا اور بادشاہ نے پوچھا میرے کام کا کیا ہوا....
یہ بات سن کے دیہاتی کہنے لگا بادشاہ سلامت کہاں میں گنہگار اور کہاں خضر علیہ السلام میں نے آپ سے جھوٹ بولا .... میرے گھر کا خرچا پورا نہیں ہو رہا تھا بچے بھوک سے مر رہے تھے اس لیے ایسا کرنے پر مجبور ہوا.....

سلطان محمود غزنوی نے اپنے اک وزیر کو کھڑا کیا اور پوچھا اس شخص کی سزا کیا ہے . وزیر نے کہا سر اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ جھوٹ بولا ھے۔ لہٰذا اس کا گلا کاٹ دیا جائے . دربار میں اک نورانی چہرے والے بزرگ تشریف فرما تھے کہنے لگے بادشاہ سلامت اس وزیر نے بالکل ٹھیک کہا .....

بادشاہ نے دوسرے وزیر سے پوچھا آپ بتاو اس نے کہا سر اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ فراڈ کیا ہے اس کا گلا نہ کاٹا جائے بلکہ اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے تاکہ یہ ذلیل ہو کہ مرے اسے مرنے میں کچھ وقت تو لگے دربار میں بیٹھے اسی نورانی چہرے والے بزرگ نے کہا بادشاہ سلامت یہ وزیر بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ..........

سلطان محمود غزنوی نے اپنے پیارے غلام ایاز محمود سے پوچھا آپ کیا کہتے ہو ایاز نے کہا بادشاہ سلامت آپ کی بادشاہی سے اک سال اک غریب کے بچے پلتے رہے آپ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں آیی .اور نہ ہی اس کے جھوٹ سے آپ کی شان میں کوئی فرق پڑا اگر میری بات مانو تو اسے معاف کر دو ........اگر اسے قتل کر دیا تو اس کے بچے بھوک سے مر جائیں گے .....ایاز کی یہ بات سن کر محفل میں بیٹھا وہی نورانی چہرے والا بابا کہنے لگا .... ایاز بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ......

سلطان محمود غزنوی نے اس بابا کو بلایا اور پوچھا آپ نے ہر وزیر کے فیصلے کو درست کہا اس کی وجہ مجھے سمجھائی جائے...
بابا کہنے لگا بادشاہ سلامت پہلے نمبر پر جس وزیر نے کہا اس کا گلا کاٹا جائے وہ قوم کا قصائی ہے اور قصائی کا کام ہے گلے کاٹنا اس نے اپنا خاندانی رنگ دکھایا غلطی اس کی نہیں آپ کی ہے کہ آپ نے اک قصائی کو وزیر بنا لیا........

دوسرا جس نے کہا اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے اُس وزیر کا والد بادشاہوں کے کتے نہلایا کرتا تھا کتوں سے شکار کھیلتا تھا اس کا کام ہی کتوں کا شکار ہے تو اس نے اپنے خاندان کا تعارف کرایا آپ کی غلطی یے کہ ایسے شخص کو وزارت دی جہاں ایسے لوگ وزیرہوں وہاں لوگوں نے بھوک سے ھی مرنا ہے ..

اور تیسرا ایاز نے جو فیصلہ کیا تو سلطان محمود سنو ایاز سیّد زادہ ہے سیّد کی شان یہ ہے کہ سیّد اپنا سارا خاندان کربلا میں ذبح کرا دیتا یے مگر بدلا لینے کا کبھی نہیں سوچتا .....سلطان محمود اپنی کرسی سے کھڑا ہو جاتا ہے اور ایاز کو مخاطب کر کہ کہتا ہے ایاز تم نے آج تک مجھے کیوں نہیں بتایا کہ تم سیّد ہو......

ایاز کہتا ہے آج تک کسی کو اس بات کا علم نہ تھا کہ ایاز سیّد ہے لیکن آج بابا جی نے میرا راز کھولا آج میں بھی راز کھول دیتا ہوں سنو اے بادشاہ سلامت اور درباریو یہ بابا کوئی عام ہستی نہیں یہی حضرت خضر علیہ السلام ہیں......

خیبر پختونخواہ کے ضلع ہری پور شہر کی بنیاد 1821ء میں سکھ جنرل ہری سنگھ نلوہ نے فوجی نقطہ نظر سے رکھی۔ ہری پور شہر میں ای...
25/05/2018

خیبر پختونخواہ کے ضلع ہری پور شہر کی بنیاد 1821ء میں سکھ جنرل ہری سنگھ نلوہ نے فوجی نقطہ نظر سے رکھی۔ ہری پور شہر میں ایک قلعہ تعمیر کیا گیا جس کا نام Harkishan Garh Fort تھا .جو موجودہ فورٹ روڈ پر واقع تھا اور پاکستان کے معرض وجود ہونے کے بعد بہت عرصے تک اس کی باقیات موجود تھیں لیکن بعد میں نئی تعمیرات کے باعث یہ قلعہ منہدم ہوتا گیا اور اس کی جگہ نئی تعمیرات نے لے لیں. اس قلعے کی دیواریں 4 میٹر چوڑی اور16 میٹر اونچی تھیں۔ قلعہ میں داخل ہونے کے لئے چار دروازے تھے۔ قلعہ ہزارہ میں سکھ فوج کی ایک اہم عمارت تھی جس کی دیواریں کچھ عرصے تک غیر معمولی طور پر کھڑے تھے یہ قلعہ تقریبا 70 کنال کے علاقے میں پھیلا ہوا تھا .4 سال بعد ہری سنگھ نلوہ نے کشمیر اور ہزارہ کو ملا کر ایک ساتھ ملحق کر دیا. اور ہری سنگھ نے سکھ فوج کی حفاظت کے لئے اس قلعے میں ایک خندق کھودی جس کی گہرائی 20 فٹ تھی دو گز کی لکڑی کے دروازوں کے ساتھ چار موٹی اور سولہ گز اعلی کڑھائی جو کہ پتھروں کی دیواروں پر کی گئی جو کہ سکھ حکومت کی حکمرانی کی اور ان کی کارگردگی کی بہترین مثال ہے اس قلعے کی تعمیر اور ڈھانچے کا مقصد علاقے میں سکھوں کی فتح کو برقرار رکھنے اور اسے مزید وسعت دے کر اپنے جنگی بیس کے طور پر استعمال کرنا تھا.
ہر کشن گڑھ کو 1849 سے 1853 تک انگریزوں نے بھی اپنے راج میں ہیڈ کواٹر کے طور پر استعمال کیا اور اس کے بعد جیمز ایبٹ نے اپنا ہیڈ کواٹر ایبٹ آباد منتقل کر دیا.
ہری پور کا نام رنجيت سنگھ کےايک سِکھ جرنيل ہری سنگھ نلوہ کے نام پر رکھا گيا۔ ہری پور تحصيل کو يکم جولائی، 1992ء ميں ضلع کا درجہ دے کر ضلع ايبٹ آباد سے علیحدہ کر دياگيا۔
یہ شہر اسلام آباد سے 65 کلومیٹر اور ایبٹ آباد سے 35 کلومیٹر دور واقع ہے۔ اس ضلع کو جغرافيائی محلِ وقوع کے لحاظ سے کليدی حيثيّت حاصل ہے۔ کيونکہ يہ ضلع ہزارہ ڈویژن اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے مابين ايک پھاٹک کا درجہ رکھتا ہے۔
اپنے منفرد محل وقوع کی وجہ سے ہری پور کی حدود آٹھ مختلف اضلاع سے ملتی ہیں ،جن کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ہری پورکی مشرقی اور شمال مشرقی سرحد ضلع ایبٹ آباد سے ملتی ہے۔شمال میں یہ ضلع مانسہرہ اور شمال مغرب میں ہری پور کا ناڑا امازئی اور بیٹ گلی کا علاقہ تورغر اور بونیر سے ملتا ہے۔ہری پور کی مغربی سرحد میں ضلع صوابی واقع ہے۔مغرب اور جنوب مغرب میں پنجاب کے دو اضلاع اٹک اور راولپنڈی جبکہ جنوب مشرق میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد واقعہ ہے۔
ہری پور موسم کے لحاظ سے گرم بارانی معتدل خطے میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ یہاں سب سے ذیادہ گرم مہینہ جون کا ہوتا ہے، جس میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی بڑھ جاتا ہے،اس کے بعد جولائی ،اگست میں مون سون کی وجہ سے بہت زیادہ بارشیں ہوتیں ہیں جس سے گرمی کا زور تو ٹوٹ جاتا ہے مگر حبس بہت بڑھ جاتی ہے۔ نومبر کے مہینے میں سب سے کم بارش ہوتی ہے اور پورا ماہ عموماً خشک سردی میں گزرتا ہے ۔سردی کے موسم میں جنوری سب سے سرد ہوتا ہے، جب بعض دنوں میں درجہ حرارت نقظہ انجماد سے بھی گر جاتا ہے۔مارچ ،اپریل اور ستمبر،اکتوبر کے مہینوں میں موسم معتدل رہتا ہے ۔
ضلع ہری پور کوغازی اور ہری پور دو تحصیلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔اب خان پور کو بھی تحصیل کا درجہ دینے کی کوشش ہو رہی ہے.صوبائی اسمبلی کیلئے ضلع چار صوبائی حلقوں میں تقسیم ہے۔جو کہ بالترتیب پی کے 49،پی کے 50، پی کے 51 اور پی کے 52 کے نام سے منسوب ہیں۔قومی اسمبلی کیلئے پورے ضلع صرف ایک حلقے تک محدور ہے جو کہ این اے 19 کہلاتا ہے۔ 2002ء میں منعقدہ بلدیاتی انتخابات میں ضلع ہری پور کو 45 یونین کونسلوں میں تقسیم کیا گیا ۔جن میں سے 37 ہری پور جبکہ صرف 8 تحصیل غازی میں شامل ہیں۔
صنعتی لحاظ سے ہری پور صوبہ خیبر پختونخواہ ميں بڑ ا ضلع ہے بڑے بڑے صنعتی يونٹ جيسے ٹيلی فون فيکٹری، ہزارہ فرٹيلائزر، پاک چائنا فرٹيلائزر، تربيلا کاٹن ملز اور کئی اُونی کارخانے قائم ہيں۔ علاوہ ازيں حطار انڈسٹریل اسٹیٹ ميں کئی چھوٹے بڑے کارخانے لگائے گئے ہيں۔ ان صنعتوں کی وجہ سے يہ ضلع ملکی سطح پر معاشی ترقی ميں ايک اہم کردار ادا کر رہاہے۔
ہری پور جغرافیائی لحاظ سے انتہائی متنوع ضلع ہے۔یہاں پر زرخیز میدانی علاقوں کے ساتھ،بلندوبالا پہاڑ بھی موجود ہیں۔ایک طرف میدانی علاقے کھیتوں کے باغات سے لیس ہیں تو دوسری طرف یہاں کے پہاڑ جنگلوں ،ندی نالوں اور آبشاروں سے آباد ہیں۔اس لئے یہاں حیوانات اور نباتات کی بہت سی نسلیں موجود ہیں۔
ہری پور کا زیادہ تر زرعی رقبہ بارانی ہے ،جہاں سال میں دو بار ربیع اور خریف کی فصلیں بوئی اور کاٹی جاتی ہیں۔ان فصلوں میں گندم، مکئی ،باجرہ اور سرسوں شامل ہیں۔انکے علاوہ سرائے صالح کے مقام پر دوڑ ندی سے اور خانپور ڈیم سے نکالی گئی نہروں پر مشتمل علاقوں میں سبزیاں بھی کاشت کی جاتی ہیں۔یہاں پر عام کاشت کی جانے والی سبزیوں میں مٹر، ٹماٹر،آلو،پیاز، کھیرے،بینگن،کدو، لہسن، ادرک، کریلا،ٹیندا، پیٹھا اور پالک شامل ہیں۔یہ ضلع بھر اورخاص کر سبزی نہ صرف پشاور بلکہ اسلام آباد اور صوبہ پنجاب کو بھی مہياکرتا ہے۔
ہری پور میں پھلوں کے باغات بہ کثرت موجود ہیں ۔ جن میں لوکاٹ، امرود، مالٹا اور لیچی جیسے پھل پیدا ہوتے ہیں۔خاص کر لوکاٹ کی پیداوار کے حوالے سے ہری پور بہت مشہور ہے۔اس کے علاوہ خانپور میں پیدا ہونے والا بلڈ مالٹا اپنے ذائقے میں ثانی نہیں رکھتا۔ان باغات میں بلڈ مالٹا اور شکری مالٹا حاصل کیا جاتا ہے۔
پشاور سے اسلام آباد موٹر وے اور غازی بروتھا بند پراجيکٹ کے قيام سے ضلع کی سماجی اور معاشی ترقی مزيد يقينی ہونے کا امکان ہے۔
تحصیلوں کی تعداد2: ہری پور اور غازی اور خان پور ممکنہ طور پر تیسری ہوسکتی ہے.
ہری پور ضلع کا کُل رقبہ1725 مربع کلوميٹر ہے۔
یہاں فی مربع کلومیٹر 581 افراد آباد ہيں
سال 2017 کی مردم شماری کے مطابق ضلع کی آبادی 1003031 ہے
دیہی آبادی کا بڑا ذریعہ معاش زراعت ہے۔
کُل قابِل کاشت رقبہ 77370 ہيکٹرزہے
دنيابھر ميں مٹی کا بنا ہوا سب سے بڑا بند تربیلا بند اسی ضلع ميں دریائے سندھ پر تعمير کيا گيا ہے۔ اس کے علاوہ بھی ہری پور بھر میں چھوٹے بڑے ڈیموں کا جال بچھا ہوا ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔
خان پور ڈیم
تربیلہ ڈیم
خیرباڑا ڈیم
کاہل ڈیم
بھُٹڑی ڈیم
منگ ڈیم
گدوالیاں ڈیم لنک سری کوٹ ابھی زیر تعمیر ہے.
نوٹ ( صوبائی حکومت خیبر پختونخواہ کے سرکاری اعلامیہ کے مطابق خان پور کو تحصیل کا درجہ دے دیا گیا ہے جس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے. جس کے مطابق تحصیل خان پور 2 پولیس اسٹیشن' 9 وارڈوں اور 15 پٹوار خانہ پر مشتمل ہو گا)
https://www.google.com.sa/amp/s/www.pakistanpoint.com/amp/en/pakistan/news/kp-govt-issues-new-notification-of-tehsil-kha-183028.html?espv=1
تحصیل ہری پور کے 37 اور تحصیل غازی کے 8 یونین کونسل ہیں خانپور کو اب تحصیل کا درجہ ملا ہے جیسے ہی اس کے یونین کونسل کی پوری تفصیل آے گی آپ کو اس کی معلومات اپ ڈیٹ کر کے مل جائیں گی.
توفکیاں ( تحصیل خان پور کا یونین کونسل )
خان پور تحصیل کا درجہ مل گیا.
حطار ( تحصیل خان پور کا یونین کونسل)
نجف پور ( تحصیل خان پور کا یونین کونسل)
مسلم آباد ( تحصیل خان پور کا یونین کونسل)
بری کوٹ ( تحصیل خان پور کا یونین کونسل)
جبری، ( تحصیل خان پور کا یونین کونسل)
بانڈی شیرخان
باگڑہ
کھلیاں بالا
ریحانہ (ہری پور)
شاہ مقصود
سرائے صالح
علی خان
پندک
درویش (ہری پور)
سکندر پور
مانکرائے
پنڈ ہاشم خان
سرائے نعمت خان
جٹی پنڈ
کھلا بٹ
تربیلہ
ڈھینڈہ
بکہ (ہری پور)
پنیاں
ڈنگی
کوٹ نجیب اللہ
سریہ (ہری پور)
پنڈ کمال خان
بڑیلہ (ہری پور)
بیڑ (ہری پور)
کلنجر
لدڑمنگ
ناڑا امازئی ( تحصیل غازی کا یونین کونسل)
بیٹ گلی ( تحصیل غازی کا یونین کونسل)
کنڈی( تحصیل غازی کا یونین کونسل)
غازی، خیبر پختونخواہ
قاضی پور( تحصیل غازی کا یونین کونسل)
خیر باڑا ( تحصیل غازی کا یونین کونسل)
کوٹیہڑہ( تحصیل غازی کا یونین کونسل)
سری کوٹ( تحصیل غازی کا یونین کونسل)
Adeel Ahmad

04/04/2018

نا واسطہ تها کسی شعر سے، نا شاعری سے تها آشنا

تیری یاد نے، تیرے درد نے، مجهے شعر کہنا سکها دیا

👈تو جن کے سہارے_____لیے پھرتا ھے👉                           صاحب 💪👈وه ھمیں دیکھ کر راستہ بدل لیتے ھیں👉
03/04/2018

👈تو جن کے سہارے_____لیے پھرتا ھے👉 صاحب 💪👈وه ھمیں دیکھ کر راستہ بدل لیتے ھیں👉

New Pic
21/03/2018

New Pic

Address

Haripur
Hattar

Telephone

+923125900694

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adeel Rajput posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category