24/08/2026
ڈی جی اینٹی کرپشن گلگت بلتستان میر وقار پر سنگین الزامات، اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ
گلگت بلتستان میں ڈی جی اینٹی کرپشن میر وقار کے حوالے سے ایک انتہائی سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق میر وقار کے بھائی گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات میں امیدوار تھے، جبکہ ان کے کزن مختار میر، جو محکمہ خوراک میں سی ایس او (سول سپلائی آفیسر) کے فرائض انجام دے رہے ہیں، نے مبینہ طور پر میر وقار کے بھائی کو ووٹ دینے کے بجائے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار حافظ حفیظ الرحمن کو ووٹ دیا۔
الزام ہے کہ اسی سیاسی اختلاف کی بنیاد پر میر وقار نے اپنے انتظامی اثر و رسوخ کا مبینہ طور پر استعمال کرتے ہوئے مختار میر کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کروائے۔
مزید سنگین الزام یہ ہے کہ مختار میر کے بیٹے پر جٹیال کے علاقے میں فائرنگ کی گئی، جس کے معاملے میں میر وقار کے خلاف مبینہ طور پر ایف آئی آر درج ہے۔
چند روز قبل جٹیال پبلک چوک کے قریب مختار میر کے بھائی، جو ایک تعلیمی ادارے کے پرنسپل ہیں، پر بھی مبینہ طور پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کے حوالے سے بھی جٹیال تھانے میں میر وقار کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے کہ ایک اعلیٰ انتظامی عہدے پر فائز شخص پر اپنے ہی خاندان کے افراد کو سیاسی اختلاف یا ووٹ نہ دینے کی بنیاد پر مبینہ طور پر نشانہ بنانے کے الزامات عائد ہو رہے ہیں۔
عوامی حلقوں کی جانب سے اعلیٰ حکام سے مطالبہ ہے کہ دونوں مقدمات کی شفاف، غیرجانبدارانہ اور فوری تحقیقات کی جائیں۔ اگر کوئی شخص قانون کو اپنے ذاتی یا سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرتا پایا جائے تو اس کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔
گلگت بلتستان کے عوام پہلے ہی فائرنگ اور خوف و ہراس کے بڑھتے ہوئے واقعات سے پریشان ہیں۔ ایسے میں کسی بھی بااثر یا اعلیٰ عہدے پر فائز شخص کا قانون اپنے ہاتھ میں لینا، اگر ثابت ہو، تو عوام کے لیے انتہائی خطرناک مثال قائم کر سکتا ہے۔
قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے — عہدہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔
اعلیٰ حکام سے اپیل ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔