13/04/2025
لوکی کا خ*ل: ایک بھولی بسری راویت
کئی دہائیاں قبل، ہمارے علاقے میں لوکی کے خشک خ*ل کو ایک مفید برتن کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ خ*ل بیج، مصالحے اور مختلف قسم کے پاوڈر رکھنے کے کام آتا تھا۔ یہ قدرتی اور ماحول دوست طریقہ صدیوں سے چلا آ رہا تھا۔ مگر جیسے ہی پولی تھین کی بوتلیں اور پلاسٹک کے دیگر برتن مارکیٹ میں آئے، یہ روایت آہستہ آہستہ دم توڑ گئی، اور لوکی کے خ*ل کا استعمال تقریباً ختم ہو گیا۔
گزشتہ سال جب میں اپنے علاقے میں تھا، تو میں نے لوکی کی کاشت کے لیے بیج حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کی، مگر افسوس کہ پورے علاقے میں ایک بھی بیج دستیاب نہ تھا۔ ہماری بہت سی دیگر روایات کی طرح، یہ سادہ اور ماحول دوست برتن بھی وقت کی گرد میں کھو گیا، اور ہم نے اس کی جگہ مضرِ صحت پلاسٹک کی بوتلوں کو دے دی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں پرتگال میں لوکی نہ صرف کثرت سے کاشت کی جاتی ہے بلکہ اسے غذائی استعمال کے ساتھ ساتھ دیگر تخلیقی مقاصد کے لیے بھی بروئے کار لایا جاتا ہے۔ یہاں کے لوگ لوکی کے خشک خ*ل سے پرندوں کے گھونسلے بناتے ہیں، سجاوٹی اشیاء تیار کرتے ہیں اور اسے مختلف فنی کاموں میں استعمال کرتے ہیں۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ ایک وہ چیز جسے ہم نے ترک کر دیا، وہ یہاں نئی زندگی پا چکی ہے۔
گورڑ، (Gourd) گھیا، لوکی یا کدو کا خشک خ*ل صدیوں سے مختلف کاموں کے لیے استعمال ہوتا ارہا ہے۔ اسے پانی رکھنے کے لیے صراحی، دودھ یا دہی کے برتن، کٹورے، اور گلاس کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ موسیقی میں ستار، رباب، سرود، اور سرنگی جیسے روایتی سازوں میں اس کے خ*ل کو آواز کی گونج بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ افریقی اور جنوبی ایشیائی موسیقی میں اسے ڈھول، شیخے اور دیگر آلات میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں، اس کے خ*ل پر نقش و نگار بنا کر سجاوٹی اشیاء جیسے چراغ دان، لٹکنے والے لیمپ وغیرہ بنائے جاتے ہیں۔ اسی طرح اسے بیج یا خشک مسالے رکھنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں، جبکہ پرندوں کے گھونسلے بنانے کے لیے بھی یہ ایک قدرتی اور ماحول دوست انتخاب ہے۔
ایک بنجارا
13 اپریل 2025