Bargo Bala Gilgit

Bargo Bala Gilgit Bargo Bala is a scenic rural area near Gilgit city in Gilgit-Baltistan, surrounded by high mountains and green valleys.

The region consists of four small towns connected by a close-knit community and a traditional lifestyle.

16/06/2026

ہر سال محرم آتا ہے مگر کیا ہم نے واقعی محرم سے کچھ سیکھا؟

سوچنے کا مقام ہے:
• اس محرم نے میری زندگی میں کونسی تبدیلی پیدا کی؟
• امام حسینؑ کا پیغام قیام، عزم، اور حق پر استقامت — میں نے کس حد تک اپنے کردار کا حصہ بنایا؟
• کیا میں نے حق و انصاف کے لیے آواز بلند کی، یا خاموشی کو ہی محفوظ راستہ سمجھ لیا؟
• کیا میں نے ظلم، ناانصافی اور منافقت کے سامنے واضح اور بے خوف مؤقف اختیار کیا؟

کیا آپ نے کبھی اُس عالمِ دین سے، سوال کیا آپ منبر پر سنتے ہے ؟
• آج کے دور کے ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف آپ نے عملاً کیا کیا؟
• کربلا کا پیغام محض ایک تاریخی واقعہ ہے، یا ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کا نقشۂ عمل؟

منبر صرف واقعات بیان کرنے کی جگہ نہیں یہ حق و باطل کے درمیان لکیر کھینچنے کا مقام ہے۔ جو آواز لوگوں میں ظلم کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ پیدا نہ کر سکے، وہ آواز اپنے منصب اور ذمہ داری پر سنجیدگی سے نظرِثانی کی محتاج ہے۔

دوسروں کو محرم کا درس دینے سے پہلے، محرم کی روح کو خود اپنے اندر زندہ کیجیے۔ امام حسینؑ کی تعلیمات کو زبان سے نہیں، فکر، کردار اور عمل سے ثابت کیجیے۔

محرم حق کے لیے قیام، ظلم کے سامنے سر نہ جھکانے، اور سچائی پر زندگی بسر کرنے کا اعلان ہے۔
یزیدیت ہمیشہ تخت پر نہیں بیٹھتی کبھی یہ سوچ کی شکل میں، کبھی خاموشی کی صورت میں، اور کبھی منبر کی بے اثری میں بھی موجود رہتی ہے۔ہر اس یزدیت کے خلاف کھڑا ہونا حسینیت ہے ۔

15/06/2026

گلگت کے عوام! تھوڑی سی غیرت اور شعور کشمیریوں سے سیکھو۔

دیکھو وہ کس طرح اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، کس طرح اپنے ووٹ کے حق کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں، کس طرح اپنے منتخب نمائندوں کے انتخاب اور عوامی نمائندگی کے لیے مسلسل کوشش کر رہے ہیں، اور کس طرح اپنے مطالبات کو دنیا کے سامنے رکھ رہے ہیں۔

جبکہ ہم آج بھی نعروں، ذاتی وابستگیوں، فضول بحثوں اور بے مقصد سیاست میں الجھے ہوئے ہیں۔ ہم نے اپنے اصل مسائل، اپنے حقوق، اپنی زمین، اپنے وسائل اور اپنے مستقبل پر بات کرنا چھوڑ دیا ہے-

15/06/2026

قانون سازی کس طرح ہوتی ہے؟

بلدیاتی الیکشنز میں تمہارا نمائندہ منتخب ہوتا ہے۔ تمہارے ڈسٹرکٹ وائز الیکشن ہوتے ہیں، اور یہی سارے نمائندے مل کر فیصلے کرتے ہیں اور قانون سازی کے عمل میں حصہ لیتے ہیں۔

لیکن 2006 سے لے کر 2025 تک بلدیاتی الیکشن ہی نہیں ہوئے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ یہ قانون کس نے بنایا؟ اور یہ لوگ کون تھے جنہوں نے عوام کے خلاف، عوام کے مفادات کے برعکس قانون سازی کی؟

ایسے ہی قانون بنتے جائیں گے اور آپ لوگ ایسے ہی برداشت کرتے جائیں گے۔ تمہاری زمینیں لوٹی جائیں گی، تمہارے گھر لوٹے جائیں گے، تمہاری عزتیں پامال ہوں گی، اور ان کو کسی چیز سے کوئی مطلب نہیں ہوگا۔

وہ تمہیں جتنا ہو سکے اتنا ذلیل کریں گے، تمہیں عقل و شعور سے دور رکھیں گے، تمہیں جاہل بنا کر رکھیں گے، اور تم سے تمہارا سب کچھ چھین کر، بیچ کر، خود یہاں سے نکل جائیں گے۔

یہی ان کی تاریخ رہی ہے۔ یہ پاکستان کے عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہیں، نہ ہی یہ پاکستانی عوام کے لیے کچھ کرتے ہیں۔ یہ اپنے مفادات اور اپنے پیٹ کے لیے کام کرتے ہیں، اور جب ان کا مقصد پورا ہو جاتا ہے تو یہ پاکستان چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔

اور تم لوگ بے شعوری اور لاعلمی میں اپنا سب کچھ لٹاتے رہتے ہو۔

شرم کرو، سوچو، غور کرو، اور اپنے حق کے لیے لڑو۔

وفاقی بجٹ 2026-27 پر ایک نظر ڈالیں۔ دفاع کے لیے 3000 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ اعلیٰ تعلیم، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی...
14/06/2026

وفاقی بجٹ 2026-27 پر ایک نظر ڈالیں۔ دفاع کے لیے 3000 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ اعلیٰ تعلیم، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر سماجی شعبوں کے لیے اس سے کہیں کم رقم رکھی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات کے مسائل سنگین ہیں، کیا ہماری ترجیحات درست ہیں؟

75 سال سے دفاعی اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں، لیکن عوام آج بھی دہشت گردی، بدامنی، غربت اور بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پوچھے کہ اس کے ٹیکس کا پیسہ کہاں خرچ ہو رہا ہے اور اس کے نتائج کیا ہیں۔

آئین شہریوں کو تعلیم، صحت، تحفظ اور بہتر زندگی کے مواقع فراہم کرنے کی ذمہ داری ریاست پر عائد کرتا ہے۔ اگر ان شعبوں کو مسلسل نظرانداز کیا جائے تو سوال اٹھانا عوام کا حق ہے۔ ایک باشعور قوم وہی ہوتی ہے جو شخصیات نہیں بلکہ پالیسیوں اور ترجیحات کا احتساب کرتی ہے۔

علاقے کی ترقی کے لیے زبیر کو ووٹ دیں، اور جن حضرات کے ذاتی مفادات وابستہ ہیں وہ الگ سے رابطہ کریں۔ یقیناً ان کے ضمیر کی ...
13/06/2026

علاقے کی ترقی کے لیے زبیر کو ووٹ دیں، اور جن حضرات کے ذاتی مفادات وابستہ ہیں وہ الگ سے رابطہ کریں۔ یقیناً ان کے ضمیر کی قیمت مقرر ہوگی۔ جو لوگ عوامی مفاد کو چند ہزار روپے اور ذاتی فوائد کے عوض یچتے ہیں۔
“باقی رہی بات علاقے کی ترقی کی، تو روڈ، اسکول، پانی اور انفراسٹرکچر کے نام پر جو کچھ بھی ہوگاصرف نام کا ہوگا کام کچھ نہیں ہوگا ، اسے ہی ترقی سمجھ لیا جائے گا۔ کوئی یہ سوال نہ اٹھائے کہ ترقی کہاں ہوئی، کتنی ہوئی اور کس معیار کی ہوئی۔ بس یہ کافی ہے کہ کہا جائے: ‘روڈ تو دی ہے، کام تو کیا ہے۔
آڈٹ، شفافیت اور حساب کتاب جیسے غیر ضروری سوالات سے گریز کیا جائے۔ ہمارا منشور یہی ہے کہ ووٹ دیں اور ہمیں ایک بار پھر اپنی خدمت کا موقع دیں!

میری کارکردگی کیا رہی، میں نے عوامی مسائل کے حل کے لیے کتنی جدوجہد کی، اور میرے دعووں کی حقیقت کیا ہے، یہ سب غیر ضروری سوالات ہیں۔ آپ کا کام صرف ووٹ دینا ہے، باقی حساب کتاب اور جوابدہی کی فکر نہ کریں!

حیرت ہوتی ہے کہ ہم کس قدر آسانی سے سیاست کو ذاتی دشمنی اور رشتہ داریوں کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ کوئی جیت جائے تو جشن، کوئی...
08/06/2026

حیرت ہوتی ہے کہ ہم کس قدر آسانی سے سیاست کو ذاتی دشمنی اور رشتہ داریوں کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ کوئی جیت جائے تو جشن، کوئی ہار جائے تو طعنے اور مذاق۔ لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا کہ اس سب سے عام آدمی کو کیا ملا؟

اگر واقعی تمہارے ووٹ کی اتنی اہمیت ہوتی، اگر واقعی فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہوتا، تو آج شاید ہمارے آئینی حقوق تسلیم ہو چکے ہوتے۔ آج بھی ہم بنیادی حقوق، نمائندگی، بجلی، پانی، تعلیم، صحت اور روزگار جیسے مسائل کے حل کے منتظر نہ ہوتے۔

ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھانے کے بجائے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرو۔ سوال یہ نہیں کہ کون جیتا اور کون ہارا، سوال یہ ہے کہ عوام کے مسائل کب حل ہوں گے؟

اگر ہم اپنے آئینی حقوق، بجلی کے بحران، پانی کی قلت، خراب انفراسٹرکچر، بے روزگاری اور تعلیم و صحت کے مسائل پر اسی جوش و جذبے کے ساتھ آواز بلند کرتے، تو شاید آج ہمارے علاقے کی صورتحال مختلف ہوتی۔

یاد رکھیں، سرکاری خزانہ کسی فرد، خاندان یا جماعت کی جاگیر نہیں ہوتا۔ یہ عوام کے وسائل اور ٹیکس سے چلتا ہے، اور اس پر عوام کا حق ہے۔ اس لیے شخصیت پرستی اور اندھی حمایت کے بجائے کارکردگی کا حساب مانگیں۔

علاقے کی ترقی نعروں سے نہیں، شعور سے آتی ہے۔

اپنے حقوق کی بات کرو، شخصیات کی نہیں۔
عوام کے مسائل پر آواز اٹھاؤ، ایک دوسرے پر نہیں۔

01/06/2026

وفاقی پارٹیاں، جنہوں نے گلگت پر ظلم و ستم کی انتہا کی ہے، اور اسٹیبلشمنٹ نے عوام کو اس قدر بےوقوف بنایا ہے آپس میں لڑاتے ہوئے ۔ مذہبی لیڈرز جنہیں علاقے کی سمجھ ہی نہیں، بس پروٹوکول کے مزے لیتے ہیں، اور عوام الگ سے سوئی ہوئی ہے۔

شرم آنی چاہیے! اور کتنا بےحس رہو گے؟ تمہارا حق، تمہاری غیرت، انہی سیاسی پارٹیوں نے بیچ کھائی ہے، پھر بھی انہی کے نعرے لگتے ہیں۔

کیا پاکستان میں کبھی شفاف اور صاف الیکشن ہوئے ہے؟ جسے لانا ہوتا ہے، اسے عوام پر ظلم و زیادتی کرکے مسلط کیا جاتا ہے۔ کب تک برداشت کرو گے؟ کب تک بےوقوف بنتے رہو گے؟ آخر کب تک؟

اس قدر مہنگائی ہے کہ عام انسان کا جینا مشکل ہو گیا ہے۔ پاکستان کو ان چوروں، لٹیروں اور غداروں نے کھا لیا ہے۔ آخر کب تک ایسے ہی رہو گے؟
تمھارے ووٹ کی عزت نہیں اور حق کے لیے آواز اٹھانے کی بجائے تم نعرے لگتے افسوس ۔

29/05/2026

“سوچ سمجھ کر اتحاد کے ساتھ رہو، کیونکہ یہ لوگ ہمیشہ ہمیں تقسیم کرتے آئے ہیں اور اپنی عیش و عشرت کے لیے ہمیں استعمال کرتے آئے ہیں۔

11/05/2026

فیصلہ عوام کا!
الیکشن 2026 سے پہلے بارگو پائن کی عوام کس کے ساتھ؟*
مسائل کیا ہیں؟ کمنٹ میں بتائیں 👇*

Address

Bargo Bala
Gilgit
15100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bargo Bala Gilgit posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Bargo Bala Gilgit:

Share