16/06/2026
ہر سال محرم آتا ہے مگر کیا ہم نے واقعی محرم سے کچھ سیکھا؟
سوچنے کا مقام ہے:
• اس محرم نے میری زندگی میں کونسی تبدیلی پیدا کی؟
• امام حسینؑ کا پیغام قیام، عزم، اور حق پر استقامت — میں نے کس حد تک اپنے کردار کا حصہ بنایا؟
• کیا میں نے حق و انصاف کے لیے آواز بلند کی، یا خاموشی کو ہی محفوظ راستہ سمجھ لیا؟
• کیا میں نے ظلم، ناانصافی اور منافقت کے سامنے واضح اور بے خوف مؤقف اختیار کیا؟
کیا آپ نے کبھی اُس عالمِ دین سے، سوال کیا آپ منبر پر سنتے ہے ؟
• آج کے دور کے ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف آپ نے عملاً کیا کیا؟
• کربلا کا پیغام محض ایک تاریخی واقعہ ہے، یا ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کا نقشۂ عمل؟
منبر صرف واقعات بیان کرنے کی جگہ نہیں یہ حق و باطل کے درمیان لکیر کھینچنے کا مقام ہے۔ جو آواز لوگوں میں ظلم کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ پیدا نہ کر سکے، وہ آواز اپنے منصب اور ذمہ داری پر سنجیدگی سے نظرِثانی کی محتاج ہے۔
دوسروں کو محرم کا درس دینے سے پہلے، محرم کی روح کو خود اپنے اندر زندہ کیجیے۔ امام حسینؑ کی تعلیمات کو زبان سے نہیں، فکر، کردار اور عمل سے ثابت کیجیے۔
محرم حق کے لیے قیام، ظلم کے سامنے سر نہ جھکانے، اور سچائی پر زندگی بسر کرنے کا اعلان ہے۔
یزیدیت ہمیشہ تخت پر نہیں بیٹھتی کبھی یہ سوچ کی شکل میں، کبھی خاموشی کی صورت میں، اور کبھی منبر کی بے اثری میں بھی موجود رہتی ہے۔ہر اس یزدیت کے خلاف کھڑا ہونا حسینیت ہے ۔