26/05/2026
یہ خبر دو الگ الگ خبروں کے آپس میں خلط ملط (mix) ہونے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ **بھارتی پنجاب** کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے 11 ارب روپے کا کوئی پاور پلانٹ نہیں خریدا، بلکہ یہ دونوں واقعات کچھ یوں ہیں:
# # # 1۔ بھارتی پنجاب کا تھرمل پاور پلانٹ (اصل قیمت: 1,080 کروڑ بھارتی روپے)
بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے جنوری 2024 میں ایک نجی تھرمل پاور پلانٹ (**گوئندوال صاحب تھرمل پاور پلانٹ**) ضرور خریدا تھا، لیکن اس کی کل قیمت **1,080 کروڑ بھارتی روپے** (تقریباً 10.8 ارب بھارتی روپے) تھی۔
* اسے خرید کر سرکاری تحویل میں لیا گیا اور اس کا نام بدل کر **سری گرو امر داس جی تھرمل پاور پلانٹ** رکھا گیا۔
* تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا تھا کہ کسی ریاستی حکومت نے کوئی پرائیویٹ پاور پلانٹ خریدا ہو۔
# # # 2۔ 11 ارب روپے کا تنازع (پاکستانی پنجاب کا طیارہ)
جہاں تک **11 ارب روپے** کی رقم کا تعلق ہے، تو یہ معاملہ بھارتی پنجاب کا نہیں بلکہ **پاکستانی پنجاب** کا ہے۔ فروری 2026 میں پاکستانی پنجاب کی حکومت (وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف) کی جانب سے صوبے کے استعمال کے لیے تقریباً **11 ارب پاکستانی روپے** (38 سے 42 ملین ڈالر) کی لاگت سے ایک لگژری گلف اسٹریم (Gulfstream) طیارہ خریدنے کی منظوری دی گئی تھی، جس پر میڈیا اور اپوزیشن کی طرف سے کافی تنقید بھی کی گئی۔
> **خلاصہ:** بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے پاور پلانٹ 11 ارب میں نہیں بلکہ تقریباً 10.8 ارب بھارتی روپے (1,080 کروڑ) میں خریدا تھا، جبکہ 11 ارب روپے کا چرچا پاکستانی پنجاب میں سرکاری طیارے کی خریداری کی وجہ سے شہ سرخیوں میں رہا۔