Tanseer On Wheels

Tanseer On Wheels Bike tour YouTube blogger

خدا سلامت رکھے آپ کو دوستوں بہت شکریہ پہلی ملاقات تھی مگر بہت خوبصورت تھی I love ❤️  iraq 🇮🇶
18/12/2024

خدا سلامت رکھے آپ کو دوستوں بہت شکریہ پہلی ملاقات تھی مگر بہت خوبصورت تھی I love ❤️ iraq 🇮🇶

عراقی دوست اور کھانے کا بہت شکریہ انشاءاللہ جلد آپ سے دوبارہ ملاقات ہوگئی
18/12/2024

عراقی دوست اور کھانے کا بہت شکریہ انشاءاللہ جلد آپ سے دوبارہ ملاقات ہوگئی

امیر علی ایران زوار بمقام کربلا yavarizadeh
12/12/2024

امیر علی ایران زوار بمقام کربلا yavarizadeh

موکب امام الحسن ع کے خادم بھائی مرتضٰی العرقی اور ان کی ٹیم کے ساتھ گروپ فوٹو بھائی کی طرف سے تبرک قہوہ پیش کیا گیا
10/12/2024

موکب امام الحسن ع کے خادم بھائی مرتضٰی العرقی اور ان کی ٹیم کے ساتھ گروپ فوٹو بھائی کی طرف سے تبرک قہوہ پیش کیا گیا

Moon 🌙              .ultraphotography
02/07/2023

Moon 🌙 .ultraphotography

01/06/2023

اپنے سمارٹ فون سے لی گئی فوٹوگرافی کی مہارتیں تبصرے کے سیکشن میں پوسٹ کریں۔

بوئنگ فلائٹ R366 (جدہ براستہ کراچی)🖋️ : مسلم انصاری دراصل کبھی کبھار میں خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہوں بچپن...
26/05/2023

بوئنگ فلائٹ R366 (جدہ براستہ کراچی)
🖋️ : مسلم انصاری

دراصل کبھی کبھار میں خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہوں
بچپنے میں میری بہن کو ذرہ ذرہ سی باتوں پر خود کو مارنے کی عادت تھی ایک بار جب میرے والدین دوسرے کمرے میں تھے تب میری بہن نے خود کو مارا
آواز تیز تھی سو انہیں لگا میں مار رہا ہوں
انہوں نے آکر مجھے مارا اور میں نے آگے سے کوئی توجیح پیش نہیں کی
اسی طرح ایک اور بار بھی ہوا تھا
جب میں آفس سے نکلا اور ایک تیز رفتار مہنگی گاڑی سے میری بائک جا لگی تو اس نے مجھے مارا
پھر کچھ اور لوگ بھی اس کے ساتھ شامل ہوگئے
کچھ لوگوں نے بائک توڑ دی اور کچھ نے مجھے اس زور سے تھپڑ مارے کہ میرا پیشاب نکل گیا
حوالدار نے اس گاڑی والے اثرورسوخ سے بھرے انسان کی بات پر مجھے تھانے میں منتقل کردیا
یوں میں کبھی کبھار خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہوں!

بات مکمل کرنے کے بعد اس نے بوسیدہ لوہے کے ٹکڑے پر بیٹھی بوڑھی عورت کو دیکھا
بوڑھی عورت نے لمبا سانس لیا اور چاک کی جانب کھنچی ہوئی قمیض ٹھیک کرتے ہوئے لیٹ گئی

مجھے لگتا ہے دھوپ بہت تیز ہے آج !

ہاں !
اس نے کھلے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

میں نے تمہیں کبھی نہیں بتایا کہ میری دو بیٹیاں تھیں
دونوں کی عمروں کے بیچ دو سال کا فرق تھا
البتہ یہ بچے ہم میاں بیوی نے خاندان کو وارث دینے کی نیت سے جنمے وگرنہ ہمارے بیچ کبھی زیادہ نہیں بنی
میری ماں کا مزاج میری بیگم سے یکسر مختلف تھا
بعد میں اس نے بھی اپنا رویہ مکمل بدل لیا
میں دو عورتوں کے بیچ ایک کھنچی ہوئی بات بن کر رہ گیا
میں نے کچھ سال یہ سب سہا
جب میں اس سب سے تھک گیا تب مجھے اپنے آفس کی ایک کولیگ سے محبت ہوگئی

تم اس وقت کتنے سال کے تھے؟
بوڑھی عورت نے لیٹے لیٹے پوچھا

شاید 29 یا 30 سال!
اس نے بتایا

دراصل 22 سال میں مجھے ٹی بی ہوا پھر عمر کے چوبیسویں سال کینسر کی تشخص ہوئی مگر میں بچ گیا البتہ 27 سال کا ہوتے ہوتے میرے سر کے بہت سارے بال گر چکے تھے اسی لئے میں حیران ہونکہ وہ لڑکی مجھ میں ایسا کیا دیکھتی تھی جس کی بناء پر اس نے مجھ سے شادی کا ارادہ ظاہر کیا
جب میں نے اسے بتایا کہ میری دو بیٹیاں ہیں تب اس نے کہا : تم مجھ سے دوسری شادی بھی تو کر سکتے ہو
اسی لئے میں نے اس کی بات پر اپنے دل کو منالیا تھا

تم نے اس سے شادی کی؟
بوڑھی عورت نے واپس بیٹھ کر ریگستانی ریت مٹھی میں بھرتے ہوئے پوچھا

شاید ہو بھی جاتی!
مگر ایک دن اس لڑکی سے بات چیت کے دوران میری آنکھ لگنے پر وہ سارے میسجز میری بیگم نے پڑھ لئے
میں اگلے ہی دن جان گیا تھا مگر رہے سہے معاملات بھی بگڑ گئے اس نے میرے ساتھ کھانا پینا اٹھنا بیٹھنا چھوڑ دیا
اپنی زیادہ تر باتوں میں وہ مجھے دبے دبے طعنے دیتی
کبھی سوتے میں میرا ہاتھ اس کے جسم کو چھو لیتا تو وہ اٹھ کر جگہ بدل لیتی
مجھے لگتا تھا میری چوری ہی نہیں پکڑی گئی میں ناپاک بھی ہوگیا ہوں
ویسے وہ دن بہت زیادہ مشکل تھے

وہ ہنسا

بوڑھی عورت بھی ہنسنے لگ گئی

پھر؟؟

پھر کیا؟ وہی!! میں نے یہاں بھی خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا
اسی بیچ میرا دل حرم جانے کا کیا
میں نے سوچا کعبے کا غلاف پکڑ کر بات چیت کرنے کا یہی ٹھیک وقت ہے مگر راستے میں ہی یہ حادثہ پیش آگیا!

(دونوں چپ ہوگئے)

اچھا ایک بات بتاؤ جب جہاز کریش ہورہا تھا تو تم نے مجھے چیخنے اور رونے سے کیوں روکا تھا؟
بوڑھی عورت نے پوچھا

دراصل جب کراچی ائیرپورٹ پر میں لاؤنج میں بیٹھا ہوا تھا میں سوچ رہا تھا کہ میرے ساتھ کی سیٹ پر کوئی ایسا انسان بیٹھے جس سے میں یہ ساری بات کہ سکوں
جہاں میں رہتا تھا وہاں میری بات سننے اور سمجھنے کے لئے کوئی نہیں تھا اسی وجہ سے میرے اندر کا بوجھ بہت بڑھ گیا
پھر جب میں جہاز میں داخل ہوا تو آپ وہاں پہلے سے بیٹھی ہوئی تھیں مجھے لگا ایک بوڑھی عورت سے یہ سب کہنا جوان انسان کے مقابلے میں آسان کام ہے
مگر پھر کچھ ہی دیر بعد فلائٹ کیپٹن نے اعلان کردیا کہ ہم دونوں انجن کھو چکے ہیں اور ہم 80000 فٹ کی بلندی سے نیچے کی طرف آئے تھے
آپ کو کچھ یاد نہیں؟؟

ہاں مجھے یاد ہے کیپٹن نے کہا تھا کہ میں معذرت خواہ ہوں مگر ہم کوشش کریں گے کہ ابوظہبی کے حدود سے ام لیلہ اور بلجعان کے ریگستان تک پہنچ سکیں اس سے شہری آبادی محفوظ رہے گی!

بوڑھی عورت نے مسکراتے ہوئے کہا

جب جہاز کریش ہورہا تھا آپ کے ذھن میں کیا تھا؟
اس نے پوچھا

پہلے پہل تو دل بہت گھبرا گیا
پھر تم نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا "پلیز کچھ دیر کے لئے چپ ہوجاؤ پھر سب ٹھیک ہوجائے گا" مجھے غصہ آیا مگر میں حیران تھی کہ تم اتنے پرسکون کیوں ہو
اور پتہ ہے انجن کی خرابی کی آواز بالکل گرائنڈر کی آواز جیسی تھی مجھے میری ماں کا چرخہ بھی یاد آگیا تھا!!
بوڑھی بتاتے ہوئے مسکرائی

گھر یاد آتا ہے؟

ہاں کبھی کبھار ۔۔۔۔۔۔ بس کبھی کبھار ہی!!
بوڑھی عورت نے کہا

کیپٹن مصدق اللہ کبھی باہر نہیں آتا
لڑکے نے مایوس ہوتے ہوئے کہا

وہ آج تک افسردہ ہے حالانکہ اس کی کوئی غلطی نہیں تھی جہاز میں سوار 138 لوگوں کی موت ایسے ہی لکھی تھی
کیپٹن اور کر بھی کیا سکتا تھا سوائے یہ کہ شہری آبادی بچاتا اور وہ اس میں کامیاب ہوگیا!

(دونوں پھر سے چپ ہوگئے)

اچھا میں اب جاتا ہوں
لڑکا اٹھا اور بلجعان کی سرحدی ریگستانی ریت کے اندر چلا گیا

کل آؤگے؟
بوڑھی عورت نے ریت کے ٹیلے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا

نہیں ۔۔۔۔۔ کچھ وقت تک نہیں
میرے دل پر بہت بوجھ تھا
آپ کو یہ سب بتاکر میں کافی ہلکا محسوس کررہا ہوں اب کچھ دن میں آرام کرونگا!
لڑکا ریت کے اندر سے بولا

بوڑھی عورت نے کچھ نہیں کہا
وہ بھی اٹھی اور جہاز کے بوسیدہ لوہے کے نیچے دبے ہوئے ڈھانچے میں روپوش ہوگئی!!

(متروک کہانیاں)

مری کی پراسرار کہانی copiedرات کے دو بج رہے تھے دس محرم ختم ہوچکا تھا  لوگ چھٹیاں ختم ہونے کی وجہ سے اپنے اپنے شہروں کی ...
24/05/2023

مری کی پراسرار کہانی copied

رات کے دو بج رہے تھے دس محرم ختم ہوچکا تھا لوگ چھٹیاں ختم ہونے کی وجہ سے اپنے اپنے شہروں کی طرف رخ کر رہے تھے۔ مال روڈ پر کچھ لوگ چہل قدمی کر رہے تھے۔ میرے ساتھ میرا دوست Danish Naseem تھا باقی ساتھی گھر جاکر سوچکے تھے۔ مجھے اپنا ڈراوُنی ناول مکمل کرنے کے لئے کچھ ذاتی تجربات سے گزرنا تھا تانکہ میں حقیقی کہانیوں کا ایک مجموعہ لکھ سکوں۔

میرے دوست دانش یہاں کے ایک ایک علاقے سے واقف تھے میں نے انہیں اس بات کا پہلے ہی بتا دیا تھا، وہاں کے ایک مقامی شخص سے ہم نےپہلے ہی معلوم کرلیا تھا کہ یہاں پراسرار جگہ کہاں ہیں ?? اس نے ہمیں کچھ دور پہاڑیوں کے بیچ ایک گاوُں کا بتایا کہ یہاں سے اکثر لوگوں کو عجیب و غریب تجربات سے گزرتے سنا ہے۔ چنانچہ رات ہوتے ہی ہم اُس طرف نکل گئے۔ سنسان سڑک ، اندھیری سرد رات، گھنے درخت، دور دور تک سناٹا۔ ہم پیدل چلے جارہے تھے کبھی کبھی کوئی گاڑی سڑک سے گزر جاتی۔ ہم قریب ایک گھنٹے تک مسلسل چلتے رہے۔

ایک سڑک سے ہم گزر ہی رہے تھے کہ اچانک ہمیں کسی بچے کی رونے کی آواز آئی۔ہم تھوڑی دیر کے لئے رک کر ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھنے لگے ۔ رونے کی آواز قریب ایک درخت کے پیچھے سے آرہی تھی۔ ہم آہستہ آہستہ درخت کے قریب گئے تو دیکھا ایک چھوٹی بچی جسکی عمر قریب نو سال ہوگی اپنے دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپائے روئے جارہی تھی۔ میں نے پوچھا بیٹا کیا ہوا ? کیوں رو رہی ہو? اور اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو ?
بچی نے جواب دیا انکل میں کھو گئی ہوں میری امی میرا انتظار کررہی ہونگی۔ ہم نے پوچھا آپکی امی کہاں ہیں تو کہنے لگی آگے ہونگی ۔ ہم نے اس بچی کو اپنے ساتھ لے لیا تھوڑا آگے چل کر وہ ایک پہاڑی سے اتڑنے لگی انکل یہاں سے نیچے میرا گاوُں ہے وہیں ہونگی امی ہم بھی اسکے ساتھ نیچے اتڑ گئے۔ نیچے اتڑتے ہی بچی امی امی چلاتے ایک طرف تیزی سے بھاگی ۔ سامنے ہم سے کچھ فاصلے پر ایک عورت کھڑی تھی جسکے بال کھلے تھے اس نے سیاہ رنگ کا لباس زیب تن کیا ہوا تھا ۔ بچی جا کر اس عورت سے لپٹ گئی اور ہماری طرف اشارہ کرنے لگی۔ اس سے پہلے کہ ہم اس سے کہتے کہ اپنی بچی کا خیال کریں اتنی رات گئے اکیلے رورہی تھی اچانک وہ دونوں ماں بیٹی ہماری نظروں سے غائب ہوگئے۔

ایسے دونوں کو غائب ہوتے دیکھ ہمارے ہوش اڑ گئے ، سرد رات میں ہمارے ماتھے سے پسینہ نکل رہا تھا ۔ خوف کے مارے ہمارے پاوُں وہیں منجمد ہوگئے۔ ہم حیرت سے اس جگہ کو تکتے رہے کہ آخر یہ ہوا کیا ? جب ہم اپنے حواس میں پوری طرح واپس آئے تو تیزی سے گھر کی طرف بھاگے۔ اگلے دن مقامی لوگوں سے اسکا تذکرہ کیا تو معلوم ہوا رات یہاں ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔

احسن لاکھانی

28/04/2023

Doabianwala Beautiful Village in PUNJAB | Drone Video with Relaxation Music

شٹاپو  پنجاب ميں لڑکيوں ميں کھيلا جاتا ہے۔ یہ کھیل توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے اس کھیل میں کئی لڑکیاں حصہ ...
16/04/2023

شٹاپو پنجاب ميں لڑکيوں ميں کھيلا جاتا ہے۔ یہ کھیل توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے اس کھیل میں کئی لڑکیاں حصہ لے سکتی ہیں۔ لڑکياں چاک سےزمين پر خانے بناتي ہيں اورايک کچي مٹي کي گول کنکري ليکر اسے زمين پر کھينچے گئے کھانوں کے اندر پھينکتي ہيں اور ايک پاؤں پرچل کر کنکري کو اٹھاتي اورخانوں کو پھلانگتي ہيں۔

Address

Faisalabad
Faisalabad
3800

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tanseer On Wheels posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Tanseer On Wheels:

Share