26/05/2023
بوئنگ فلائٹ R366 (جدہ براستہ کراچی)
🖋️ : مسلم انصاری
دراصل کبھی کبھار میں خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہوں
بچپنے میں میری بہن کو ذرہ ذرہ سی باتوں پر خود کو مارنے کی عادت تھی ایک بار جب میرے والدین دوسرے کمرے میں تھے تب میری بہن نے خود کو مارا
آواز تیز تھی سو انہیں لگا میں مار رہا ہوں
انہوں نے آکر مجھے مارا اور میں نے آگے سے کوئی توجیح پیش نہیں کی
اسی طرح ایک اور بار بھی ہوا تھا
جب میں آفس سے نکلا اور ایک تیز رفتار مہنگی گاڑی سے میری بائک جا لگی تو اس نے مجھے مارا
پھر کچھ اور لوگ بھی اس کے ساتھ شامل ہوگئے
کچھ لوگوں نے بائک توڑ دی اور کچھ نے مجھے اس زور سے تھپڑ مارے کہ میرا پیشاب نکل گیا
حوالدار نے اس گاڑی والے اثرورسوخ سے بھرے انسان کی بات پر مجھے تھانے میں منتقل کردیا
یوں میں کبھی کبھار خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہوں!
بات مکمل کرنے کے بعد اس نے بوسیدہ لوہے کے ٹکڑے پر بیٹھی بوڑھی عورت کو دیکھا
بوڑھی عورت نے لمبا سانس لیا اور چاک کی جانب کھنچی ہوئی قمیض ٹھیک کرتے ہوئے لیٹ گئی
مجھے لگتا ہے دھوپ بہت تیز ہے آج !
ہاں !
اس نے کھلے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
میں نے تمہیں کبھی نہیں بتایا کہ میری دو بیٹیاں تھیں
دونوں کی عمروں کے بیچ دو سال کا فرق تھا
البتہ یہ بچے ہم میاں بیوی نے خاندان کو وارث دینے کی نیت سے جنمے وگرنہ ہمارے بیچ کبھی زیادہ نہیں بنی
میری ماں کا مزاج میری بیگم سے یکسر مختلف تھا
بعد میں اس نے بھی اپنا رویہ مکمل بدل لیا
میں دو عورتوں کے بیچ ایک کھنچی ہوئی بات بن کر رہ گیا
میں نے کچھ سال یہ سب سہا
جب میں اس سب سے تھک گیا تب مجھے اپنے آفس کی ایک کولیگ سے محبت ہوگئی
تم اس وقت کتنے سال کے تھے؟
بوڑھی عورت نے لیٹے لیٹے پوچھا
شاید 29 یا 30 سال!
اس نے بتایا
دراصل 22 سال میں مجھے ٹی بی ہوا پھر عمر کے چوبیسویں سال کینسر کی تشخص ہوئی مگر میں بچ گیا البتہ 27 سال کا ہوتے ہوتے میرے سر کے بہت سارے بال گر چکے تھے اسی لئے میں حیران ہونکہ وہ لڑکی مجھ میں ایسا کیا دیکھتی تھی جس کی بناء پر اس نے مجھ سے شادی کا ارادہ ظاہر کیا
جب میں نے اسے بتایا کہ میری دو بیٹیاں ہیں تب اس نے کہا : تم مجھ سے دوسری شادی بھی تو کر سکتے ہو
اسی لئے میں نے اس کی بات پر اپنے دل کو منالیا تھا
تم نے اس سے شادی کی؟
بوڑھی عورت نے واپس بیٹھ کر ریگستانی ریت مٹھی میں بھرتے ہوئے پوچھا
شاید ہو بھی جاتی!
مگر ایک دن اس لڑکی سے بات چیت کے دوران میری آنکھ لگنے پر وہ سارے میسجز میری بیگم نے پڑھ لئے
میں اگلے ہی دن جان گیا تھا مگر رہے سہے معاملات بھی بگڑ گئے اس نے میرے ساتھ کھانا پینا اٹھنا بیٹھنا چھوڑ دیا
اپنی زیادہ تر باتوں میں وہ مجھے دبے دبے طعنے دیتی
کبھی سوتے میں میرا ہاتھ اس کے جسم کو چھو لیتا تو وہ اٹھ کر جگہ بدل لیتی
مجھے لگتا تھا میری چوری ہی نہیں پکڑی گئی میں ناپاک بھی ہوگیا ہوں
ویسے وہ دن بہت زیادہ مشکل تھے
وہ ہنسا
بوڑھی عورت بھی ہنسنے لگ گئی
پھر؟؟
پھر کیا؟ وہی!! میں نے یہاں بھی خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا
اسی بیچ میرا دل حرم جانے کا کیا
میں نے سوچا کعبے کا غلاف پکڑ کر بات چیت کرنے کا یہی ٹھیک وقت ہے مگر راستے میں ہی یہ حادثہ پیش آگیا!
(دونوں چپ ہوگئے)
اچھا ایک بات بتاؤ جب جہاز کریش ہورہا تھا تو تم نے مجھے چیخنے اور رونے سے کیوں روکا تھا؟
بوڑھی عورت نے پوچھا
دراصل جب کراچی ائیرپورٹ پر میں لاؤنج میں بیٹھا ہوا تھا میں سوچ رہا تھا کہ میرے ساتھ کی سیٹ پر کوئی ایسا انسان بیٹھے جس سے میں یہ ساری بات کہ سکوں
جہاں میں رہتا تھا وہاں میری بات سننے اور سمجھنے کے لئے کوئی نہیں تھا اسی وجہ سے میرے اندر کا بوجھ بہت بڑھ گیا
پھر جب میں جہاز میں داخل ہوا تو آپ وہاں پہلے سے بیٹھی ہوئی تھیں مجھے لگا ایک بوڑھی عورت سے یہ سب کہنا جوان انسان کے مقابلے میں آسان کام ہے
مگر پھر کچھ ہی دیر بعد فلائٹ کیپٹن نے اعلان کردیا کہ ہم دونوں انجن کھو چکے ہیں اور ہم 80000 فٹ کی بلندی سے نیچے کی طرف آئے تھے
آپ کو کچھ یاد نہیں؟؟
ہاں مجھے یاد ہے کیپٹن نے کہا تھا کہ میں معذرت خواہ ہوں مگر ہم کوشش کریں گے کہ ابوظہبی کے حدود سے ام لیلہ اور بلجعان کے ریگستان تک پہنچ سکیں اس سے شہری آبادی محفوظ رہے گی!
بوڑھی عورت نے مسکراتے ہوئے کہا
جب جہاز کریش ہورہا تھا آپ کے ذھن میں کیا تھا؟
اس نے پوچھا
پہلے پہل تو دل بہت گھبرا گیا
پھر تم نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا "پلیز کچھ دیر کے لئے چپ ہوجاؤ پھر سب ٹھیک ہوجائے گا" مجھے غصہ آیا مگر میں حیران تھی کہ تم اتنے پرسکون کیوں ہو
اور پتہ ہے انجن کی خرابی کی آواز بالکل گرائنڈر کی آواز جیسی تھی مجھے میری ماں کا چرخہ بھی یاد آگیا تھا!!
بوڑھی بتاتے ہوئے مسکرائی
گھر یاد آتا ہے؟
ہاں کبھی کبھار ۔۔۔۔۔۔ بس کبھی کبھار ہی!!
بوڑھی عورت نے کہا
کیپٹن مصدق اللہ کبھی باہر نہیں آتا
لڑکے نے مایوس ہوتے ہوئے کہا
وہ آج تک افسردہ ہے حالانکہ اس کی کوئی غلطی نہیں تھی جہاز میں سوار 138 لوگوں کی موت ایسے ہی لکھی تھی
کیپٹن اور کر بھی کیا سکتا تھا سوائے یہ کہ شہری آبادی بچاتا اور وہ اس میں کامیاب ہوگیا!
(دونوں پھر سے چپ ہوگئے)
اچھا میں اب جاتا ہوں
لڑکا اٹھا اور بلجعان کی سرحدی ریگستانی ریت کے اندر چلا گیا
کل آؤگے؟
بوڑھی عورت نے ریت کے ٹیلے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
نہیں ۔۔۔۔۔ کچھ وقت تک نہیں
میرے دل پر بہت بوجھ تھا
آپ کو یہ سب بتاکر میں کافی ہلکا محسوس کررہا ہوں اب کچھ دن میں آرام کرونگا!
لڑکا ریت کے اندر سے بولا
بوڑھی عورت نے کچھ نہیں کہا
وہ بھی اٹھی اور جہاز کے بوسیدہ لوہے کے نیچے دبے ہوئے ڈھانچے میں روپوش ہوگئی!!
(متروک کہانیاں)