10/05/2026
میرا_سوداگر_میرا_دلدار
۔season 2
قسط نمبر 4
رائٹر_ایمن_رضا
"خالہ یو آر دا بیسٹ"
ماہرہ جوش سے کہتی ہوئی پھر عفاف کے گلے لگی دی۔ بدلے میں عفاف نے چٹاچٹ اسکے سرخ پھولے ہوئے گالوں کو چوما تھا جو کہ جوش کے مارے اور سرخ ہو گئے تھے۔۔۔۔
پتہ نہیں کیوں مگر یارم کو یہ منظر ایک آنکھ نہ بھایا تھا۔
اس کے دل میں چبھن ہوئی تھی اس منظر کو دیکھ کر۔ مگر وجہ اسے خود بھی سمجھ نہیں آئی تھی۔۔۔
وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ احساس کوئی اور نہیں بلکہ جلن کا ہے۔ اپنی ماں کو کسی اور کے اوپر پیار نشہ لٹاتے دیکھ اس کے دل میں چبھن ہوئی تھی۔۔۔۔
وہ جانا چاہ رہا تھا وہاں سے مگر اس کے قدم اٹھنے سے انکاری تھے۔۔
وہ آنکھوں میں عجیب سا احساس لئے عفاف اور ماہرہ کو دیکھ رہا تھا اور تب تک دیکھتا رہا جب تک عفاف ماہرہ کو لے کر وہاں سے چلی نہ گئی۔۔
گاڑی کے بیک مرر سے یارم کو اپنی طرف تکتا پاکر عفاف حیرت کا شکار ہوئی تھی۔۔۔
مگر اس کی آنکھوں میں جو تاثر تھا وہ دیکھ کر عفاف کو اس سے بھی زیادہ حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا۔۔
مگر یہ جھٹکا خوشی کا تھا بہت جلد اپنا بیٹا واپس پا لینے کا۔۔
کیونکہ اس جلن کے تاثر سے عفاف کو ایک امید ملی تھی کہ اس کا بیٹا اب بھی اسے واپس مل سکتا ہے۔۔۔
اور اس سوچ نے اس کا موڈ خوشگوار کر دیا تھا۔۔۔
*******
"آخر کون ہے یہ سٹون لیڈی اس نے دو سالوں میں اتنی ترقی کیسے کر لی کہ میرے مقابل آ پہنچی۔۔۔
جس کے برابر آنے سے بڑے بڑے بزنس ٹائیکون کا گھبراتے ہیں وہاں یہ ایک عورت ان سب مردوں پر بھاری پڑ رہی ہے"۔۔۔۔
آخر میں نے یہ سب نظرانداز کیسے کر دیا۔۔۔
سردار ادھر ادھر غصے سے اپنے کمرے میں ٹہلتے ہوئے اس عورت کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔۔
جس نے اس کے ہاتھوں سے جیت چھین لی تھی۔۔۔
اس سے یہ بات ہضم ہی نہیں ہو رہی تھی۔۔۔
پانچ منٹ بعد کریم دروازہ کھٹکھٹاتا وہ اندر آیا اور ہاتھ باندھ کر اس کے سامنے کھڑا ہو گیا۔۔۔
اپنے باس کو غصے سے اپنی طرف بڑھتے دیکھ اس کی ٹانگیں کانپنے لگی تھیں۔۔۔
" دو منٹ ہے تمہارے پاس بولنا شروع کرو اگر تمہاری باتوں میں ایک بھی بات میرے مطلب کی نہ ہوئی تو اپنے انجام کے ذمہ دار تم خود ہو گے"
سردار نے سرد لہجے میں کہا تو کریم کسی رٹو طوطے کی طرح بولنا شروع ہوا۔۔۔۔
" سر جانچ پڑتال کرنے کے بعد بھی کوئی نہیں جان پایا کہ یہ سٹون لیڈی کون ہے۔۔۔
چاہے نیوز پیپر ہو یا میڈیا کوئی بھی اس کے اصل نام سے واقف نہیں ہے۔۔۔
اس نے کسی بھی جگہ غلطی سے بھی اپنا اصل نام شو نہیں کروایا۔۔۔
مگر آپ کے کہے کے مطابق کسی بھی طرح اس کے کسی بندے کو ڈھونڈ کر۔۔۔
اس تک آپ کا پیغام پہنچا دیا گیا ہے کہ وہ آپ کے برابر آنے کی کوشش نہ کرے اور آگ سے نہ کھیلے"
" بہت خوب"
اس نے سنجیدگی سے ہنکارا بھرا...
"مگر سر"
کریم نے ہکلاتے ہوئے کہا..
" بولو کیا کہنا چاہتے ہو"
سردار نے اس کو جواز تلاشتے دیکھ کر کہا۔۔۔
" انہوں نے آپ کے پیغام کا جواب بھی بھجوایا ہے"
" میں سننا چاہتا ہوں ذرا مجھے بھی تو بتاؤ اس نے کیا کہا ہے"
سردار نے طنزیہ لہجے میں کہا...
"" انہوں نے کہا ہے کہ آگ سے کھیلنا میرا پسندیدہ اور پرانا مشغلہ ہے۔۔۔
تو پھر ڈرنا کیسا, اور وہ آپ کے راستے میں نہیں آرہیں بلکہ آپ ان کی منزل کے درمیان رکاوٹ بن کر کھڑے ہیں اور وہ آپ کو آپ کا مقام بتانے کا کل اچھے سے ارادہ رکھتی ہیں"
کریم نے حرف با حرف عفاف کا پیغام سردار تک پہنچا دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
مگر سردار کے چہرے کو غصے سے سرخ ہوتے دیکھ۔۔
اس نے اپنی جان بخشی کی دعا کی تھی۔۔
" نکل جاؤ یہاں سے"
اس نے ٹیبل کی تمام چیزیں زمین بوس کرتے زور سے چلا کر کہا...
تو وہ دم دبا کر بھاگا تھا ۔۔۔
"لڑکی تم نے اپنے لیے خود موت کو دعوت دیی ہے "
سردار نے ایک ایک لفظ چباتے ہوئے کہا۔۔۔
اس بات سے انجان کہ کل جب اس کا سامنا اس لڑکی سے ہوگا تو اس کی کیفیت کیسی ہوگی۔۔۔۔۔
****
یارم جب سے اسکول سے آیا تھا تب سے وہ ماہرہ اور عفاف کی ملاقات کو سوچ سوچ کر پریشان ہو رہا تھا۔۔۔
اس کے ذہن سے وہ منظر ہی نہیں نکل رہا تھا۔۔۔
جیسے عفاف ماہرہ کو پیار کر رہی تھی کیا اس سے بھی وہ ویسے ہی پیار کرتی ہوں گی اس کے دل میں سے آواز آئی۔۔۔
مگر دماغ میں نے فوراً نفی کی تھی۔۔۔
اس کی دادی نے اس کے ذہن میں اتنا زہر بھر دیا تھا کہ وہ چاہ کر بھی عفاف کے بارے میں کچھ اچھا نہیں سوچ پا رہا تھا۔۔۔۔
مگر خون کی کشش اسے بار بار عفاف کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر رہی تھی۔۔۔
جسے وہ سوچنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔
مگر جب دل کے ساتھ ساتھ روحیں بھی ملی ہوں تو دماغ لاکھ چاہے پھر بھی وہ دو دلوں کو دور نہیں کر سکتا۔۔۔
خاص کار جب بات ماں اور اولاد کی ہو۔۔۔
وہ کل عفاف سے بات کرنے کا سوچ چکا تھا وہ جانتا تھا کہ وہ ماہرہ کو لینے ضرور آئے گی۔۔۔ لیکن کل جو وہ عفاف کو کہنے والا تھا اس سے عفاف کو کتنا دکھ پہنچنے والا تھا۔۔
یہ وہ نہیں جانتا تھا۔۔۔
******
آج سردار کے ڈریم پروجیکٹ کی ڈیل سائن ہونے والی تھی اس لئے آج وہ کافی خوشگوار موڈ میں تھا۔۔۔
جیسے ہی کلائنٹس آئے ذیشان اور عالیان نے مل کر کافی اچھی طرح پریزنٹیشن دی تھی۔۔۔
جو کہ کلائنٹس کو پسند بھی آئی تھی۔۔۔
ان کے چہرے بتا رہے تھے کہ انہیں سردار کی کمپنی کی تیاری بہت پسند آئی تھی۔۔۔
جیسے ہی پروجیکٹر آف ہوا سردار نے ان کی رائے لی تھی۔۔۔
" آپ کیا کہتے ہیں مسٹر جارج کیسا لگا آپ کو ہمارا آئیڈیا"
" بہت اچھا بے شک یہ آئیڈیا لاجواب ہے"
انہوں نے خوش اخلاقی سے انگریزی میں کہا۔۔۔
"تو ہم یہ ڈیل فائنل سمجھیں" سردار نے پر اعتماد لہجے میں کہا تو کلائنٹس نے ایک دوسرے کو دیکھا...
"کیا ہوا کوئی پرابلم ہے"
سردار نے اچھنبے پوچھا۔۔۔
" مسٹر سردار بے شک آپ کا پروجیکٹ بہت عمدہ ہے۔۔۔
مگر آپ کی کمپنی میں آنے سے پہلے ہم پرل کمپنی گئے تھے۔۔۔ اس نے عفاف کی کمپنی کا حوالہ دیا۔۔
جسے سن کر سردار کی ماتھے پر سلوٹیں پڑی تھیں اور ان کی پریزنٹیشن آپ سے بھی کئی گنا اچھی تھی اس لیے ہم نے یہ پروجیکٹ ان کے نام کیا ہے۔۔۔
سردار کو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔۔
کیا اس نے اپنا ڈریم پروجیکٹ کھو دیا تھا۔۔۔
جس پر اس نے اتنے سال محنت کی تھی وہ کل کی لڑکی اسے چھین کر کیسے لے جا سکتی تھی۔۔۔
آخر کیسے۔۔
غصے کے مارے اس کی رگیں پھولنے لگی تھیں اور چہرہ سرخ پڑ چکا تھا۔۔۔
شہریار اور ذیشان ایک دوسرے کو پریشانی سے دیکھنے لگے تھے۔۔۔
" اور وہ کچھ ہی دیر میں آتی ہوں گی آپ بھی ان سے مل لینا وہ دیکھیں آگئی وہ ۔۔۔
جارج نے پیچھے اشارہ کرتے ہوئے کہا تو سب اس کی طرف پلٹے تھے سوائے سردار کے۔۔۔
"ہیلو ایوری ون میں نے سوچا میرے تک پہنچنے میں میرا دشمن جتنی سر توڑ کوششیں اور محنت کر رہا ہے۔۔۔
آخر آج اس کے پاس جا کر اسے اس کی کاوشوں کا صلہ دیا جائے اپنی صورت میں۔۔۔
کیوں کہ سٹون لیڈی کسی کا ادھار نہیں رکھتی۔۔۔
خاص کر سودے بازی میں ۔۔۔کیوں سوداگر صاحب او سوری منہ سے پھسل گیا۔۔۔
میرا مطلب ہے سردار صاحب صحیح کہا نا میں نے"
عفاف نے شروع میں جان بوجھ کر اور آخر میں انجان بنتے طنزیہ لہجے میں سردار کو کہا۔۔۔
تو وہاں کھڑے چار شخص ایسے تھے جنکی سانس رکی تھی۔۔۔
بزنس حال میں ہیل کی ٹک ٹک ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔۔۔
اس صنفِ نازک کی ماسک ہٹانے کی دیر تھی پھر جس کا چہرہ سامنے آیا تھا۔۔۔
اسے وہ لوگ سپنے میں بھی نہیں سوچ سکتے تھے۔۔۔
اور سردار وہ تو سوداگر لقب پر جیسے پتھر کا ہو گیا تھا گویا اب کبھی سانس نہیں لے پائے گا۔۔۔
******