14/08/2026
عالمزیب محسود کے چھوٹے بھائی آفتاب عالم کو کل پولیس اور بغیر وردی والے صرف اس لئے اٹھا کر لے گئے تھے کہ آفتاب نے یوم آزادی منانے کے حوالے سے ویڈیو بنائی تھی کہ ھم آزاد نہیں تو کیسے آزادی منائیں۔ اب پولیس اور ادارے بار بار آفتاب عالم کے اکاؤنٹ سے اسکی ویڈیوز اپلوڈ کر رہے ہیں کہ اس نے معافی مانگ لی ہے، اس کا سافٹ وئیر اپڈیٹ ہوگیا ہے ۔ اس پر مطمعین ہو رہے ہیں۔
تالبان کے بندوقوں کے سائے تلے کرنل میجر فوجی ، سب معافی کی ویڈیوز بناتے ہیں۔ ھمیں بھی پکڑ کر زور زبردستی کوئی بھی بیان دلوایا جا سکتا ہے۔ ھمارے پاس کوئی بندوق نہیں، الفاظ کی جنگ نظریے کی جنگ ہے ، اسکو سافٹ وئیر اپڈیٹ نہیں کہتے بلکہ اسکو زور زبردستی دیا جانے والا بیان کہا جاتا ہے۔ جو مجھ سمیت ہر بندہ دے دیگا۔ اور یہ حکمت عملی ہوتی ہے جو ہر انسان کو کرنی چاہئے اور کی ہے ۔
اگر آفتاب عالم یا ھم آزاد ہوتے تو آپکو اسکو اٹھانے کی نوبت پیش نہ آتی زور زبردستی ویڈیو بناکر آزادی او رپاکستان کے نعرے نہ لگوانے پڑتے ۔ ھم تمھاری زہریلی پالیسیوں کی وجہ سے دیار غیر میں نہ بستے ۔ تم خود ریٹائرڈ ہوکر اس اپنی جنت سے نہ بھاگتے اور یہاں ان ممالک میں فارم ھاوسیز و بڑے بڑے جزیرے نہ لیتے ۔ آج آفتاب تو رہا ہو گیا ہے لیکن وہ ظمیر کا قیدی رہیگا، اسکا موبائل ابھی تک اداروں کے پاس ہے۔ جو خود کو مطمعین کر رہے ہیں آفتاب کے اکاؤنٹ سے پوسٹ کرکے ۔!