07/10/2026
عالمی یومِ سیاحت 2026
ملتان تا بیل بتھر۔۔۔۔کوہِ سلیمان کی بلندیوں میں ایک یادگار موٹر بائیک داستان!
کچھ سفر منزل تک پہنچنے کے لیے نہیں کیے جاتے، کچھ سفر انسان کو اپنے اندر کے مسافر سے ملانے کے لیے ہوتے ہیں۔
عالمی یومِ سیاحت 2026 کے موقع پر جنوبی پنجاب کے معروف سیاحتی کلب وسیب ایکسپلورر کے زیرِ اہتمام ملتان سے کوہِ سلیمان کی بلند و بالا چوٹی بیل بتھر ٹاپ تک دو روزہ موٹر بائیک ٹور بھی ایسا ہی ایک سفر تھا جس میں 60 سے زائد موٹر سائیکل سواروں نے صرف پہاڑوں میں بائیک نہیں دوڑائی بلکہ سیاحت، بھائی چارے، محفوظ رائیڈنگ، انسانی ہمدردی اور وسیب کی خوبصورتی کا ایک واضح پیغام بھی اپنے ساتھ لے کر سفر کیا۔
اس مہم کا انعقاد وسیب ایکسپلورر کے بانی ڈاکٹر سید مزمل حسین نے کیا۔ بائیک ریلی کا مقصد کوہِ سلیمان کے قدرتی حسن کو سیاحوں سے متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ اس خطے میں سیاحت کے فروغ، بائیکرز کے درمیان بھائی چارے اور محفوظ موٹر بائیکنگ کے شعور کو اجاگر کرنا تھا۔
ابتدائی طور پر یہ رائیڈ 26 اور 27 ستمبر کو ہونا تھی مگر سینئر بائیکر آصف رضا صاحب کی اچانک وفات کے باعث اسے ایک ہفتے کے لیے مؤخر کر دیا گیا۔ یوں 3 اور 4 اکتوبر کو یہ سفر طے ہوا۔
ملتان، مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان، لیہ، کوٹ ادو، جلالپور پیروالا، جتوئی، خانیوال، بہاولپور، تونسہ اور پنجاب کے دیگر کئی علاقوں سے آنے والے 60 سے زائد بائیکرز کے لیے ہیڈ تونسہ بیراج کو مرکزی میٹ اپ پوائنٹ مقرر کیا گیا۔
3 اکتوبر کو دن 12 بجے میں اپنے بائیکر دوست عمر بھائی کے ساتھ ان کی سوزوکی بائیک پر ملتان سے روانہ ہوا تو ہیڈ محمد والا کے قریب مزید چھ بائیکرز ہمارے ساتھ شامل ہوئے اور یوں آٹھ موٹر بائیکس کا ایک مختصر قافلہ سیفٹی کے اصولوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے تونسہ بیراج کی طرف بڑھنے لگا۔
تونسہ بیراج سے تقریباً 10 کلومیٹر شمال میں واقع قدیم بستی دائرہ دین پناہ میں صوفی بزرگ سید عبدالوھاب بخاریؒ کا ساڑھے چار سو سال پرانا مزار موجود ہے۔ تاریخی، ثقافتی اور روحانی اہمیت رکھنے والے اس مقام پر حاضری دی، مغلیہ فنِ تعمیر کو دیکھا، عکسبندی اور دعا کے بعد دوبارہ سفر شروع کیا۔
کچھ ہی دیر بعد ہم تونسہ بیراج پہنچ چکے تھے جہاں دیگر شہروں سے بائیکرز کی آمد کا سلسلہ جاری تھا۔
سینئر بائیکر محمد اشرف صاحب نے چائے سے ساتھیوں کی تواضع کی۔ سہ پہر تقریباً ساڑھے تین بجے ڈاکٹر سید مزمل حسین کی قیادت میں مرکزی قافلہ بھی ہیڈ تونسہ بیراج پہنچ گیا۔ ماحول میں سفر کا جوش نمایاں تھا۔ بہاولپور سے آنے والے انٹرنیشنل بائیکر ڈی ایم جمیل صاحب نے بائیکرز پر گل پاشی کی۔
شام چار بجے 50 سے زائد بائیکس ایک ترتیب میں کھڑی تھیں۔
“کوہِ سلیمان زندہ باد!”
“پاکستان پائندہ باد!”
کے نعروں کے ساتھ یہ خوبصورت قافلہ تونسہ بیراج سے پہاڑوں کی طرف روانہ ہوا۔
چوکی والا پر تونسہ اور ڈیرہ غازی خان سے آنے والے مزید بائیکرز قافلے میں شامل ہوئے اور یوں ڈاکٹر سید مزمل حسین کی قیادت میں یہ قافلہ بارتھی کی طرف بڑھنے لگا۔
کچھ ہی دیر میں شہری راستے پیچھے رہ گئے اور عظیم کوہِ سلیمان کا آغاز ہو گیا۔
شام اتر رہی تھی اور پہاڑ اپنے رنگ بدل رہے تھے۔ بارتھی کے راستے میں ایک قدرتی جھیل، بارشی پانی کی قدیم گزرگاہیں، مختلف رنگوں میں بکھرے پہاڑ اور دلکش لینڈ اسکیپ جیسے اس موٹر بائیک قافلے کے استقبال کے لیے بچھے ہوئے تھے۔ بائیکرز کبھی پہاڑوں کو دیکھتے، کبھی بادلوں کو اور کبھی موٹر سائیکل روک کر کیمرے نکال لیتے۔
بالآخر مغرب کے بعد ہم سنگھڑ ندی پر تعمیر شدہ شہباز قلندر برج پہنچے۔ یہاں ایک یادگار گروپ فوٹو کے بعد میزبان ڈاکٹر منصور بلوچ کے ہمراہ بارتھی میں ایک ڈیرے پر پہنچے جہاں بائیکرز لیے کھانے کا انتظام تھا۔
دن بھر کی گرمی اور طویل سفر کے بعد علاقے کی مشہور ڈش ثوبت سامنے آئی تو تھکن جیسے کہیں پیچھے رہ گئی۔
یہ اس دور افتادہ وادی میں اتنے بڑے سیاحتی قافلے کی ایک منفرد آمد تھی۔ بارتھی کے قبائلی ماحول میں 60 سے زائد موٹر سائیکلوں، مختلف علاقوں سے آئے ہوئے سیاحوں اور سفر کے جوش نے ایک الگ ہی منظر پیدا کر دیا تھا۔
کھانے کے بعد سیاحتی قافلہ ریسکیو 1122 کمیونٹی آفس بارتھی پہنچا جہاں بائیکس کے لیے وسیع پارکنگ اور سیاحوں کے لیے رہائش و کیمپنگ کا بہترین انتظام کیا گیا تھا۔ ریسکیو اہلکاروں کی مہمان نوازی اور عوامی خدمت کا جذبہ سیاحوں کے لئے متاثر کن تھا۔
اور پھر آئی وہ رات جسے شاید شہری زندگی میں رہنے والے لوگ ترس کر دیکھتے ہیں۔
کھلا آسمان، خاموش پہاڑ، ٹھنڈی ہوا اور ستاروں سے بھرا آسمان۔
شہری علاقوں میں جو ستارے اب روشنیوں کے ہجوم میں گم ہو چکے ہیں، بارتھی میں وہ پوری آب و تاب سے ہمارے سامنے تھے۔ چائے کے کپ ہاتھوں میں تھے، کیمرے آسمان کی طرف اٹھے ہوئے تھے اور اگلے دن کے بڑے ایڈونچر کی بے چینی دلوں میں تھی۔
4 اکتوبر کی صبح بارتھی میں معمول سے بہت پہلے بیدار ہوئے، فجر کی نماز کے بعد ڈاکٹر سید مزمل حسین اور چند دیگر سیاح بارتھی ویو پوائنٹ کی طرف نکل پڑے۔ راستے میں تیتر اور بٹیر کی آوازیں خاموش پہاڑوں میں گونج رہی تھیں۔ ویو پوائنٹ پر طلوعِ آفتاب کے مسحور کن مناظر کیمروں میں محفوظ کرنے کے بعد واپس کیمپ پہنچے۔
پراٹھا، انڈہ اور چائے کے ناشتے کے بعد ریسکیو 1122 کے گراؤنڈ میں ایک مختصر تقریب ہوئی۔ سیاحوں میں اعزازی اسناد تقسیم کی گئیں جبکہ ریسکیو اہلکاروں کو بہترین مہمان نوازی پر شیلڈز اور اسناد پیش کی گئیں۔
یہاں سیاحتی برادری نے ریسکیو 1122 کی عوامی خدمت اور محفوظ معاشرے کے قیام کے لیے خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
صبح نو بجے کے بعد قافلہ اپنے اصل امتحان کے لیے تیار تھا۔ گروپ فوٹو، ضروری ہدایات اور سیفٹی بریفنگ کے بعد ڈاکٹر سید مزمل حسین کی قیادت میں بیل بتھر ٹاپ کی طرف سفر شروع ہوا۔
بارتھی کو الوداع کہتے ہوئے 60 سے زائد بائیکس کا یہ قافلہ قبائلی آبادیوں میں جہاں جہاں سے گزرتا، ایک ہی پیغام ساتھ لے کر جاتا:
پُرامن پاکستان — خوبصورت کوہِ سلیمان
ایک قبائلی مقام ٹھیکر کے بعد قافلے کا سامنا برساتی ندی سوڑا ڈاٹ سے ہوا۔ قریب ہی سوڑا ڈیم کی تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث راستہ انتہائی دشوار ہو چکا تھا۔ اب اس سیاحتی قافلے کو سڑک کی بجائے ندی کے اندر سے گزرنا تھا۔
تقریباً چار سے پانچ کلومیٹر کا یہ آف روڈ سفر کسی عام موٹر بائیک رائیڈ کا حصہ نہیں ہوتا۔ پتھریلا راستہ، پانی، پہاڑی چڑھائیاں، ریتلی سطح، دور دور تک انسانی آبادی کا نام و نشان نہیں اور درمیان میں مختلف صلاحیتوں اور تجربے کے حامل بائیکرز کا ایک بڑا قافلہ۔
یہاں اصل طاقت موٹر سائیکل نہیں بلکہ ساتھی تھا۔
ایک دو بائیکس فنی خرابی کا شکار ہوئیں تو قافلے کے ساتھی رک گئے۔ کسی نے دھکا لگایا، کسی نے بائیک سنبھالی، کسی نے مرمت میں ہاتھ بٹایا۔ سالارِ قافلہ ڈاکٹر سید مزمل حسین بھی بائیکرز کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کے ساتھ موجود رہے۔
یہ وہ لمحات تھے جہاں بائیکنگ ایک شوق سے بڑھ کر بھائی چارے کا عملی نمونہ بن گئی۔
سوڑا ڈاٹ کے دشوار گزار راستے کے بعد قافلہ بیل بتھر کی طرف جانے والے راستے پر پہنچا۔
شدید تھکن، مشکل راستوں اور قافلے کے پھیل جانے کے باعث بائیکرز مختلف چھوٹے گروپس میں تقسیم ہوئے۔
اب ہر گروپ اپنے حوصلے، تجربے اور راستے کی سمجھ کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا، برساتی نالے پھر سامنے تھے، چڑھائی مسلسل تیز ہو رہی تھی، موٹر سائیکلیں پتھروں پر اچھل رہی تھیں اور پہاڑ جیسے ہر موڑ پر پوچھ رہا تھا:
“اب بھی آگے جاؤ گے؟”
اور جواب تھا:
“ہاں!”
آخرکار دوپہر تقریباً ایک بجے بیشتر بائیکرز بیل بتھر ٹاپ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔
سطح سمندر سے تقریباً 7600 فٹ بلند بتائی جانے والی یہ چوٹی اس پورے سفر کی اصل منزل تھی۔ سرسبز وادیوں، بلند و بالا پہاڑوں، نایاب پرندوں اور دور تک پھیلے قدرتی مناظر نے کئی گھنٹوں کی تھکن کو لمحوں میں بھلا دیا۔
وہاں پہنچ کر ایسا محسوس ہوا جیسے ہم نے صرف ایک چوٹی کو عبور نہیں کیا بلکہ اپنی ہمت کی ایک نئی بلندی پر پہنچے ہیں۔
کیمروں نے مناظر محفوظ کیے، قہقہے گونجے اور کچھ دیر کے لیے سب نے اس خاموش وادی کو اپنی آنکھوں میں اتارا۔
دوپہر دو بجے سے پہلے قافلے کے مختلف گروپس نے بیل بتھر سے اگلی منزل مٹ چانڈیہ کی طرف واپسی شروع کردی۔
قافلہ سالار ابھی خراب بائیکس اور ساتھیوں کی مدد میں راستے میں تھے جبکہ مختلف گروپس اپنے اپنے راستوں پر روانہ ہو چکے تھے۔
بیل بتھر کی چڑھائی اگر امتحان تھی تو واپسی کی اترائی بھی کسی مہم جوئی سے کم نہیں تھی۔
برساتی نالے، پتھریلے راستے، واٹر کراسنگ، ریتلی گزرگاہیں اور ناہموار ٹریک۔
راستے سے ناواقفیت اور انسانی آبادی کی کمی کے باوجود ہر گروپ نے سفر جاری رکھا۔
تقریباً تین گھنٹے کی دشوار گزار مسافت کے بعد جب مٹ چانڈیہ کی خوبصورت وادی سامنے آئی تو یوں محسوس ہوا جیسے پہاڑوں نے تھکے ہوئے مسافروں کو اپنی بانہوں میں لے لیا ہو۔
کھجور کے باغات اور وادی کے خوبصورت مناظر نے ساری تھکن لمحوں میں اتار دی۔
مٹ چانڈیہ سے رحیم کوٹھی اور پھر رونگھن کا سفر نسبتاً آسان تھا۔ یہی وہ خطہ ہے جہاں سے کوہِ سلیمان کی دوسری بلند چوٹیوں، مبارکی اور یکبائی کی سمت راستے نکلتے ہیں۔
رونگھن کے قریب شاہانی قبیلے کے سردار حبیب اللّہ بلوچ صاحب نے بائیکرز کو چائے کی دعوت دی۔
وقت کم تھا، جسم تھکا ہوا تھا اور ابھی طویل سفر باقی تھا مگر بلوچ مہمان نوازی کو کیسے ٹھکرایا جاتا؟
ہم ان کی دعوت قبول کرکے ان کی بستی پہنچے۔
چائے کے ساتھ گفتگو ہوئی، سفر کے قصے ہوئے اور تھکن کچھ اور کم ہوگئی۔
سردار حبیب اللّہ بلوچ وسیب ایکسپلورر کے معاون اور ہمسفر ساتھیوں میں شامل ہیں اور خود بھی ایک بہترین سیاح اور مہم جو ہیں۔ وہ اس سے پہلے بیل بتھر ٹاپ پیدل سر کر چکے ہیں اور وسیب ایکسپلورر کی سیاحتی سرگرمیوں میں بھی باقاعدگی سے شریک رہتے ہیں۔
رخصت ہونے سے پہلے رونگھن چیک پوسٹ پر ایک اور گروپ فوٹو بنائی گئی۔
پھر بائیکس دوبارہ اسٹارٹ ہوئیں۔
رونگھن سے سخی سرور تک پہنچتے ہوئے کوہِ سلیمان کی وادیوں پر شام اتر رہی تھی۔
سورج پہاڑوں کے پیچھے چھپ رہا تھا اور آسمان کے رنگ بدل رہے تھے۔
دو دن کے سفر میں شاید یہ آخری بڑا منظر تھا، مگر آنکھیں اب بھی اسے چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھیں۔ سخی سرور پہنچتے ہی مختلف گروپس اپنے اپنے راستوں پر روانہ ہونے لگے۔
ہم چار افراد کا گروپ مختصر قیام کے بعد ڈیرہ غازی خان کی طرف روانہ ہوا جہاں ہمارے ایک دوست احمد عمران بھائی نے رات کے کھانے کا انتظام کر رکھا تھا۔ ڈیرہ غازی خان میں کھانے اور چائے کے بعد رات تقریباً دس بجے ملتان کی طرف واپسی شروع ہوئی۔
غازی گھاٹ پل کراس کرنے کے کچھ ہی دیر بعد ہماری ٹیم کی ایک CD 70 بائیک پنکچر ہوگئی۔
دن بھر کے شدید آف روڈ ایڈونچر کے بعد ہائی وے کا یہ چھوٹا سا پنکچر بھی جیسے سفر کا آخری وقفہ بن گیا۔ ٹائر میں نئی ٹیوب ڈلوائی، کچھ دیر سستانے کا موقع ملا اور پھر سفر دوبارہ شروع ہوا۔
اسی دوران معلوم ہوا کہ ڈاکٹر سید مزمل حسین بھی اپنی ٹیم کے ہمراہ بیل بتھر ٹاپ سر کرنے کے بعد سخی سرور پہنچ چکے ہیں اور کچھ دیر بعد ملتان کے لیے روانہ ہوں گے۔
دل کو اطمینان ہوا کہ قافلے کا ہر ساتھی اپنی اپنی منزل کی طرف محفوظ سفر میں ہے۔
ہم رات 12 بجے کے بعد ملتان پہنچے اور رات گئے 60 سے زائد بائیکرز پر مشتمل یہ عظیم قافلہ، پنجاب کے مختلف شہروں سے آنے والے اپنے تمام ساتھیوں سمیت بخیر و عافیت اپنے گھروں کو واپس لوٹ چکا تھا۔
گھر لوٹ کر محسوس ہوا کہ ہم صرف دو دن گزار کر نہیں آئے بلکہ ہم اپنے ساتھ پہاڑوں کی خاموشی، وادیوں کی خوشبو، قبائلی مہمان نوازی، ساتھیوں کا خلوص، مشکل راستوں کا حوصلہ اور بے شمار تصویروں میں قید یادیں لے کر واپس آئے ہیں۔
اس سفر نے ہمیں سکھایا کہ سیاحت صرف خوبصورت مقامات دیکھنے کا نام نہیں۔
سیاحت لوگوں کو قریب لانے کا نام ہے۔
یہ بھائی چارہ ہے۔
یہ ایک دوسرے کی بائیک دھکیلنے کا نام ہے۔
یہ مشکل راستے میں اپنے ساتھی کا انتظار کرنے کا نام ہے۔
یہ اجنبی وادی میں ملنے والی ایک کپ چائے کا نام ہے۔
یہ مقامی لوگوں کے دل میں اپنے لیے جگہ بنانے کا نام ہے۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ بیل بتھر کا یہ سفر ختم ہو کر بھی ختم نہیں ہوا۔
آج بھی آنکھیں بند کریں تو کہیں سوڑا ڈاٹ کے پتھروں میں سے گزرتی بائیک کی آواز سنائی دیتی ہے، کہیں بارتھی میں گزری رات کے ستارے دکھائی دیتے ہیں، کہیں بیل بتھر کی بلندی سے پھیلی وادی نظر آتی ہے اور کہیں رونگھن کی ایک کپ چائے میں بلوچ مہمان نوازی کی مٹھاس محسوس ہوتی ہے۔
کوہِ سلیمان کے پہاڑ پیچھے رہ گئے،
مگر ان پہاڑوں میں گزارے ہوئے وہ دو دن ہماری یادوں میں ہمیشہ بلند رہیں گے۔
پھر لوٹا ہے خورشیدِ جہاں تاب سفر سے
پھر نورِ سحر دست و گریباں ہے سحر سے
Wasaib Explorer Cross Route CRC (Motorcycle Travelers Club of Pakistan)