Cherish Riders Tribe

Call Directions

Cherish Riders Tribe This page is promoting trend to Bike Riding with your family & life partner and search for non forma

عالمی یومِ سیاحت 2026ملتان تا بیل بتھر۔۔۔۔کوہِ سلیمان کی بلندیوں میں ایک یادگار موٹر بائیک داستان!کچھ سفر منزل تک پہنچنے...
07/10/2026

عالمی یومِ سیاحت 2026
ملتان تا بیل بتھر۔۔۔۔کوہِ سلیمان کی بلندیوں میں ایک یادگار موٹر بائیک داستان!
کچھ سفر منزل تک پہنچنے کے لیے نہیں کیے جاتے، کچھ سفر انسان کو اپنے اندر کے مسافر سے ملانے کے لیے ہوتے ہیں۔
عالمی یومِ سیاحت 2026 کے موقع پر جنوبی پنجاب کے معروف سیاحتی کلب وسیب ایکسپلورر کے زیرِ اہتمام ملتان سے کوہِ سلیمان کی بلند و بالا چوٹی بیل بتھر ٹاپ تک دو روزہ موٹر بائیک ٹور بھی ایسا ہی ایک سفر تھا جس میں 60 سے زائد موٹر سائیکل سواروں نے صرف پہاڑوں میں بائیک نہیں دوڑائی بلکہ سیاحت، بھائی چارے، محفوظ رائیڈنگ، انسانی ہمدردی اور وسیب کی خوبصورتی کا ایک واضح پیغام بھی اپنے ساتھ لے کر سفر کیا۔
اس مہم کا انعقاد وسیب ایکسپلورر کے بانی ڈاکٹر سید مزمل حسین نے کیا۔ بائیک ریلی کا مقصد کوہِ سلیمان کے قدرتی حسن کو سیاحوں سے متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ اس خطے میں سیاحت کے فروغ، بائیکرز کے درمیان بھائی چارے اور محفوظ موٹر بائیکنگ کے شعور کو اجاگر کرنا تھا۔
ابتدائی طور پر یہ رائیڈ 26 اور 27 ستمبر کو ہونا تھی مگر سینئر بائیکر آصف رضا صاحب کی اچانک وفات کے باعث اسے ایک ہفتے کے لیے مؤخر کر دیا گیا۔ یوں 3 اور 4 اکتوبر کو یہ سفر طے ہوا۔
ملتان، مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان، لیہ، کوٹ ادو، جلالپور پیروالا، جتوئی، خانیوال، بہاولپور، تونسہ اور پنجاب کے دیگر کئی علاقوں سے آنے والے 60 سے زائد بائیکرز کے لیے ہیڈ تونسہ بیراج کو مرکزی میٹ اپ پوائنٹ مقرر کیا گیا۔
3 اکتوبر کو دن 12 بجے میں اپنے بائیکر دوست عمر بھائی کے ساتھ ان کی سوزوکی بائیک پر ملتان سے روانہ ہوا تو ہیڈ محمد والا کے قریب مزید چھ بائیکرز ہمارے ساتھ شامل ہوئے اور یوں آٹھ موٹر بائیکس کا ایک مختصر قافلہ سیفٹی کے اصولوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے تونسہ بیراج کی طرف بڑھنے لگا۔
تونسہ بیراج سے تقریباً 10 کلومیٹر شمال میں واقع قدیم بستی دائرہ دین پناہ میں صوفی بزرگ سید عبدالوھاب بخاریؒ کا ساڑھے چار سو سال پرانا مزار موجود ہے۔ تاریخی، ثقافتی اور روحانی اہمیت رکھنے والے اس مقام پر حاضری دی، مغلیہ فنِ تعمیر کو دیکھا، عکسبندی اور دعا کے بعد دوبارہ سفر شروع کیا۔
کچھ ہی دیر بعد ہم تونسہ بیراج پہنچ چکے تھے جہاں دیگر شہروں سے بائیکرز کی آمد کا سلسلہ جاری تھا۔
سینئر بائیکر محمد اشرف صاحب نے چائے سے ساتھیوں کی تواضع کی۔ سہ پہر تقریباً ساڑھے تین بجے ڈاکٹر سید مزمل حسین کی قیادت میں مرکزی قافلہ بھی ہیڈ تونسہ بیراج پہنچ گیا۔ ماحول میں سفر کا جوش نمایاں تھا۔ بہاولپور سے آنے والے انٹرنیشنل بائیکر ڈی ایم جمیل صاحب نے بائیکرز پر گل پاشی کی۔
شام چار بجے 50 سے زائد بائیکس ایک ترتیب میں کھڑی تھیں۔
“کوہِ سلیمان زندہ باد!”
“پاکستان پائندہ باد!”
کے نعروں کے ساتھ یہ خوبصورت قافلہ تونسہ بیراج سے پہاڑوں کی طرف روانہ ہوا۔
چوکی والا پر تونسہ اور ڈیرہ غازی خان سے آنے والے مزید بائیکرز قافلے میں شامل ہوئے اور یوں ڈاکٹر سید مزمل حسین کی قیادت میں یہ قافلہ بارتھی کی طرف بڑھنے لگا۔
کچھ ہی دیر میں شہری راستے پیچھے رہ گئے اور عظیم کوہِ سلیمان کا آغاز ہو گیا۔
شام اتر رہی تھی اور پہاڑ اپنے رنگ بدل رہے تھے۔ بارتھی کے راستے میں ایک قدرتی جھیل، بارشی پانی کی قدیم گزرگاہیں، مختلف رنگوں میں بکھرے پہاڑ اور دلکش لینڈ اسکیپ جیسے اس موٹر بائیک قافلے کے استقبال کے لیے بچھے ہوئے تھے۔ بائیکرز کبھی پہاڑوں کو دیکھتے، کبھی بادلوں کو اور کبھی موٹر سائیکل روک کر کیمرے نکال لیتے۔
بالآخر مغرب کے بعد ہم سنگھڑ ندی پر تعمیر شدہ شہباز قلندر برج پہنچے۔ یہاں ایک یادگار گروپ فوٹو کے بعد میزبان ڈاکٹر منصور بلوچ کے ہمراہ بارتھی میں ایک ڈیرے پر پہنچے جہاں بائیکرز لیے کھانے کا انتظام تھا۔
دن بھر کی گرمی اور طویل سفر کے بعد علاقے کی مشہور ڈش ثوبت سامنے آئی تو تھکن جیسے کہیں پیچھے رہ گئی۔
یہ اس دور افتادہ وادی میں اتنے بڑے سیاحتی قافلے کی ایک منفرد آمد تھی۔ بارتھی کے قبائلی ماحول میں 60 سے زائد موٹر سائیکلوں، مختلف علاقوں سے آئے ہوئے سیاحوں اور سفر کے جوش نے ایک الگ ہی منظر پیدا کر دیا تھا۔
کھانے کے بعد سیاحتی قافلہ ریسکیو 1122 کمیونٹی آفس بارتھی پہنچا جہاں بائیکس کے لیے وسیع پارکنگ اور سیاحوں کے لیے رہائش و کیمپنگ کا بہترین انتظام کیا گیا تھا۔ ریسکیو اہلکاروں کی مہمان نوازی اور عوامی خدمت کا جذبہ سیاحوں کے لئے متاثر کن تھا۔
اور پھر آئی وہ رات جسے شاید شہری زندگی میں رہنے والے لوگ ترس کر دیکھتے ہیں۔
کھلا آسمان، خاموش پہاڑ، ٹھنڈی ہوا اور ستاروں سے بھرا آسمان۔
شہری علاقوں میں جو ستارے اب روشنیوں کے ہجوم میں گم ہو چکے ہیں، بارتھی میں وہ پوری آب و تاب سے ہمارے سامنے تھے۔ چائے کے کپ ہاتھوں میں تھے، کیمرے آسمان کی طرف اٹھے ہوئے تھے اور اگلے دن کے بڑے ایڈونچر کی بے چینی دلوں میں تھی۔
4 اکتوبر کی صبح بارتھی میں معمول سے بہت پہلے بیدار ہوئے، فجر کی نماز کے بعد ڈاکٹر سید مزمل حسین اور چند دیگر سیاح بارتھی ویو پوائنٹ کی طرف نکل پڑے۔ راستے میں تیتر اور بٹیر کی آوازیں خاموش پہاڑوں میں گونج رہی تھیں۔ ویو پوائنٹ پر طلوعِ آفتاب کے مسحور کن مناظر کیمروں میں محفوظ کرنے کے بعد واپس کیمپ پہنچے۔
پراٹھا، انڈہ اور چائے کے ناشتے کے بعد ریسکیو 1122 کے گراؤنڈ میں ایک مختصر تقریب ہوئی۔ سیاحوں میں اعزازی اسناد تقسیم کی گئیں جبکہ ریسکیو اہلکاروں کو بہترین مہمان نوازی پر شیلڈز اور اسناد پیش کی گئیں۔
یہاں سیاحتی برادری نے ریسکیو 1122 کی عوامی خدمت اور محفوظ معاشرے کے قیام کے لیے خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
صبح نو بجے کے بعد قافلہ اپنے اصل امتحان کے لیے تیار تھا۔ گروپ فوٹو، ضروری ہدایات اور سیفٹی بریفنگ کے بعد ڈاکٹر سید مزمل حسین کی قیادت میں بیل بتھر ٹاپ کی طرف سفر شروع ہوا۔
بارتھی کو الوداع کہتے ہوئے 60 سے زائد بائیکس کا یہ قافلہ قبائلی آبادیوں میں جہاں جہاں سے گزرتا، ایک ہی پیغام ساتھ لے کر جاتا:
پُرامن پاکستان — خوبصورت کوہِ سلیمان
ایک قبائلی مقام ٹھیکر کے بعد قافلے کا سامنا برساتی ندی سوڑا ڈاٹ سے ہوا۔ قریب ہی سوڑا ڈیم کی تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث راستہ انتہائی دشوار ہو چکا تھا۔ اب اس سیاحتی قافلے کو سڑک کی بجائے ندی کے اندر سے گزرنا تھا۔
تقریباً چار سے پانچ کلومیٹر کا یہ آف روڈ سفر کسی عام موٹر بائیک رائیڈ کا حصہ نہیں ہوتا۔ پتھریلا راستہ، پانی، پہاڑی چڑھائیاں، ریتلی سطح، دور دور تک انسانی آبادی کا نام و نشان نہیں اور درمیان میں مختلف صلاحیتوں اور تجربے کے حامل بائیکرز کا ایک بڑا قافلہ۔
یہاں اصل طاقت موٹر سائیکل نہیں بلکہ ساتھی تھا۔
ایک دو بائیکس فنی خرابی کا شکار ہوئیں تو قافلے کے ساتھی رک گئے۔ کسی نے دھکا لگایا، کسی نے بائیک سنبھالی، کسی نے مرمت میں ہاتھ بٹایا۔ سالارِ قافلہ ڈاکٹر سید مزمل حسین بھی بائیکرز کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کے ساتھ موجود رہے۔
یہ وہ لمحات تھے جہاں بائیکنگ ایک شوق سے بڑھ کر بھائی چارے کا عملی نمونہ بن گئی۔
سوڑا ڈاٹ کے دشوار گزار راستے کے بعد قافلہ بیل بتھر کی طرف جانے والے راستے پر پہنچا۔
شدید تھکن، مشکل راستوں اور قافلے کے پھیل جانے کے باعث بائیکرز مختلف چھوٹے گروپس میں تقسیم ہوئے۔
اب ہر گروپ اپنے حوصلے، تجربے اور راستے کی سمجھ کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا، برساتی نالے پھر سامنے تھے، چڑھائی مسلسل تیز ہو رہی تھی، موٹر سائیکلیں پتھروں پر اچھل رہی تھیں اور پہاڑ جیسے ہر موڑ پر پوچھ رہا تھا:
“اب بھی آگے جاؤ گے؟”
اور جواب تھا:
“ہاں!”
آخرکار دوپہر تقریباً ایک بجے بیشتر بائیکرز بیل بتھر ٹاپ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔
سطح سمندر سے تقریباً 7600 فٹ بلند بتائی جانے والی یہ چوٹی اس پورے سفر کی اصل منزل تھی۔ سرسبز وادیوں، بلند و بالا پہاڑوں، نایاب پرندوں اور دور تک پھیلے قدرتی مناظر نے کئی گھنٹوں کی تھکن کو لمحوں میں بھلا دیا۔
وہاں پہنچ کر ایسا محسوس ہوا جیسے ہم نے صرف ایک چوٹی کو عبور نہیں کیا بلکہ اپنی ہمت کی ایک نئی بلندی پر پہنچے ہیں۔
کیمروں نے مناظر محفوظ کیے، قہقہے گونجے اور کچھ دیر کے لیے سب نے اس خاموش وادی کو اپنی آنکھوں میں اتارا۔
دوپہر دو بجے سے پہلے قافلے کے مختلف گروپس نے بیل بتھر سے اگلی منزل مٹ چانڈیہ کی طرف واپسی شروع کردی۔
قافلہ سالار ابھی خراب بائیکس اور ساتھیوں کی مدد میں راستے میں تھے جبکہ مختلف گروپس اپنے اپنے راستوں پر روانہ ہو چکے تھے۔
بیل بتھر کی چڑھائی اگر امتحان تھی تو واپسی کی اترائی بھی کسی مہم جوئی سے کم نہیں تھی۔
برساتی نالے، پتھریلے راستے، واٹر کراسنگ، ریتلی گزرگاہیں اور ناہموار ٹریک۔
راستے سے ناواقفیت اور انسانی آبادی کی کمی کے باوجود ہر گروپ نے سفر جاری رکھا۔
تقریباً تین گھنٹے کی دشوار گزار مسافت کے بعد جب مٹ چانڈیہ کی خوبصورت وادی سامنے آئی تو یوں محسوس ہوا جیسے پہاڑوں نے تھکے ہوئے مسافروں کو اپنی بانہوں میں لے لیا ہو۔
کھجور کے باغات اور وادی کے خوبصورت مناظر نے ساری تھکن لمحوں میں اتار دی۔
مٹ چانڈیہ سے رحیم کوٹھی اور پھر رونگھن کا سفر نسبتاً آسان تھا۔ یہی وہ خطہ ہے جہاں سے کوہِ سلیمان کی دوسری بلند چوٹیوں، مبارکی اور یکبائی کی سمت راستے نکلتے ہیں۔
رونگھن کے قریب شاہانی قبیلے کے سردار حبیب اللّہ بلوچ صاحب نے بائیکرز کو چائے کی دعوت دی۔
وقت کم تھا، جسم تھکا ہوا تھا اور ابھی طویل سفر باقی تھا مگر بلوچ مہمان نوازی کو کیسے ٹھکرایا جاتا؟
ہم ان کی دعوت قبول کرکے ان کی بستی پہنچے۔
چائے کے ساتھ گفتگو ہوئی، سفر کے قصے ہوئے اور تھکن کچھ اور کم ہوگئی۔
سردار حبیب اللّہ بلوچ وسیب ایکسپلورر کے معاون اور ہمسفر ساتھیوں میں شامل ہیں اور خود بھی ایک بہترین سیاح اور مہم جو ہیں۔ وہ اس سے پہلے بیل بتھر ٹاپ پیدل سر کر چکے ہیں اور وسیب ایکسپلورر کی سیاحتی سرگرمیوں میں بھی باقاعدگی سے شریک رہتے ہیں۔
رخصت ہونے سے پہلے رونگھن چیک پوسٹ پر ایک اور گروپ فوٹو بنائی گئی۔
پھر بائیکس دوبارہ اسٹارٹ ہوئیں۔
رونگھن سے سخی سرور تک پہنچتے ہوئے کوہِ سلیمان کی وادیوں پر شام اتر رہی تھی۔
سورج پہاڑوں کے پیچھے چھپ رہا تھا اور آسمان کے رنگ بدل رہے تھے۔
دو دن کے سفر میں شاید یہ آخری بڑا منظر تھا، مگر آنکھیں اب بھی اسے چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھیں۔ سخی سرور پہنچتے ہی مختلف گروپس اپنے اپنے راستوں پر روانہ ہونے لگے۔
ہم چار افراد کا گروپ مختصر قیام کے بعد ڈیرہ غازی خان کی طرف روانہ ہوا جہاں ہمارے ایک دوست احمد عمران بھائی نے رات کے کھانے کا انتظام کر رکھا تھا۔ ڈیرہ غازی خان میں کھانے اور چائے کے بعد رات تقریباً دس بجے ملتان کی طرف واپسی شروع ہوئی۔
غازی گھاٹ پل کراس کرنے کے کچھ ہی دیر بعد ہماری ٹیم کی ایک CD 70 بائیک پنکچر ہوگئی۔
دن بھر کے شدید آف روڈ ایڈونچر کے بعد ہائی وے کا یہ چھوٹا سا پنکچر بھی جیسے سفر کا آخری وقفہ بن گیا۔ ٹائر میں نئی ٹیوب ڈلوائی، کچھ دیر سستانے کا موقع ملا اور پھر سفر دوبارہ شروع ہوا۔
اسی دوران معلوم ہوا کہ ڈاکٹر سید مزمل حسین بھی اپنی ٹیم کے ہمراہ بیل بتھر ٹاپ سر کرنے کے بعد سخی سرور پہنچ چکے ہیں اور کچھ دیر بعد ملتان کے لیے روانہ ہوں گے۔
دل کو اطمینان ہوا کہ قافلے کا ہر ساتھی اپنی اپنی منزل کی طرف محفوظ سفر میں ہے۔
ہم رات 12 بجے کے بعد ملتان پہنچے اور رات گئے 60 سے زائد بائیکرز پر مشتمل یہ عظیم قافلہ، پنجاب کے مختلف شہروں سے آنے والے اپنے تمام ساتھیوں سمیت بخیر و عافیت اپنے گھروں کو واپس لوٹ چکا تھا۔
گھر لوٹ کر محسوس ہوا کہ ہم صرف دو دن گزار کر نہیں آئے بلکہ ہم اپنے ساتھ پہاڑوں کی خاموشی، وادیوں کی خوشبو، قبائلی مہمان نوازی، ساتھیوں کا خلوص، مشکل راستوں کا حوصلہ اور بے شمار تصویروں میں قید یادیں لے کر واپس آئے ہیں۔
اس سفر نے ہمیں سکھایا کہ سیاحت صرف خوبصورت مقامات دیکھنے کا نام نہیں۔
سیاحت لوگوں کو قریب لانے کا نام ہے۔
یہ بھائی چارہ ہے۔
یہ ایک دوسرے کی بائیک دھکیلنے کا نام ہے۔
یہ مشکل راستے میں اپنے ساتھی کا انتظار کرنے کا نام ہے۔
یہ اجنبی وادی میں ملنے والی ایک کپ چائے کا نام ہے۔
یہ مقامی لوگوں کے دل میں اپنے لیے جگہ بنانے کا نام ہے۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ بیل بتھر کا یہ سفر ختم ہو کر بھی ختم نہیں ہوا۔
آج بھی آنکھیں بند کریں تو کہیں سوڑا ڈاٹ کے پتھروں میں سے گزرتی بائیک کی آواز سنائی دیتی ہے، کہیں بارتھی میں گزری رات کے ستارے دکھائی دیتے ہیں، کہیں بیل بتھر کی بلندی سے پھیلی وادی نظر آتی ہے اور کہیں رونگھن کی ایک کپ چائے میں بلوچ مہمان نوازی کی مٹھاس محسوس ہوتی ہے۔
کوہِ سلیمان کے پہاڑ پیچھے رہ گئے،
مگر ان پہاڑوں میں گزارے ہوئے وہ دو دن ہماری یادوں میں ہمیشہ بلند رہیں گے۔
پھر لوٹا ہے خورشیدِ جہاں تاب سفر سے
پھر نورِ سحر دست و گریباں ہے سحر سے
Wasaib Explorer Cross Route CRC (Motorcycle Travelers Club of Pakistan)

سبا ویراں کہ اب تک اس زمیں پر ہیںکسی عیار کے غارت گروں کے نقشِ پا باقیسبا باقی، نہ مہروئے سبا باقی!سلیماں سر بہ زانواب ک...
10/06/2026

سبا ویراں کہ اب تک اس زمیں پر ہیں
کسی عیار کے غارت گروں کے نقشِ پا باقی
سبا باقی، نہ مہروئے سبا باقی!
سلیماں سر بہ زانو
اب کہاں سے قاصدِ فرخندہ پے آئے؟
کہاں سے، کس سبو سے کاسۂ پیری میں مے آئے؟

قدیم ملتان کی داستان سناتا ایک جدید میوزیم:
گزشتہ روز اپنے دیرینہ دوست محمد شاہد اقبال کی ملتان میں موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نو قائم شدہ ملتان میوزیم کی سیر کا موقع ملا۔ اس موقع پر میوزیم کے انچارج ثاقب صاحب نے نہایت محبت اور خلوص سے ہمارا استقبال کیا اور میوزیم کی تشکیل، مختلف گیلریز اور اس کے تاریخی و ثقافتی پسِ منظر سے آگاہ کیا۔
ملتان میوزیم پہنچتے ہی سب سے پہلے اس کے جدید مگر روایتی طرزِ تعمیر پر نظر ٹھہر جاتی ہے۔ عمارت کی بناوٹ میں ملتان کے قدیم فنِ تعمیر کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے گویا جدید دور میں ماضی کی ایک خوبصورت بازگشت سنائی دیتی ہو۔
میوزیم کا محلِ وقوع بھی اپنی مثال آپ ہے۔ عمارت کے عقب میں آسمان کو چھوتا حضرت شاہ رکنِ عالمؒ کا مزارِ پُر انوار اور ساتھ ہی قاسم فورٹ کی تاریخی دیوار اس منظر کو ایسی دلکشی عطا کرتی ہے کہ آنے والا کچھ لمحے ٹھہر کر اس حسنِ امتزاج کو محسوس کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
میوزیم کے مرکزی ہال میں داخل ہوتے ہی نگاہ ملتان کے پہلے مسلمان فاتح محمد بن قاسم کے مجسمے پر جا ٹھہرتی ہے جو ایک جنگی منظر کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ منظر محض ایک مجسمہ نہیں بلکہ اُس تاریخ کی یاد دہانی ہے جس نے برصغیر میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔
دیواروں پر آویزاں تصویری گیلری بھی اپنی مثال آپ ہے۔ یہاں ملتان کی تاریخ کے مختلف ادوار تصویروں کی زبان میں گفتگو کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ خونی برج کے مقام پر سکندر اعظم کے زخمی ہونے کی منظر کشی، سکھ دور کی جنگیں، مغلیہ اور برطانوی عہد کے تاریخی مناظر اور وسیب کی قدیم عمارات کی تصاویر دیکھنے والے کو صدیوں پر محیط تاریخ کے سفر پر لے جاتی ہیں۔
میوزیم میں آنے والوں کی سہولت کے لیے مناسب نشستوں کا بھی اہتمام کیا گیا ہے جہاں بیٹھ کر زائرین نہ صرف آرام کر سکتے ہیں بلکہ اس تاریخی ماحول کو مزید قریب سے محسوس بھی کر سکتے ہیں۔
ملتان میوزیم کی چار مستقل گیلریز دراصل اس پورے خطے کی تہذیبی داستان ہیں:
🏺 آثارِ قدیمہ گیلری
جہاں قدیم نوادرات، سکے اور تاریخی آثار ماضی کے دَر وا کرتے ہیں۔
🎨 فن و دستکاری گیلری
جو بلو پوٹری، کاشی گری، کیمل سکن آرٹ اور وسیب کی روایتی ہنرمندی کا شاندار تعارف پیش کرتی ہے۔
🕌 اسلامک گیلری
جو اسلامی تاریخ، فن اور خطے کے مذہبی ورثے کی جھلک دکھاتی ہے۔ یہاں قرآنِ مجید کے قدیم قلمی نسخے رکھے گئے ہیں۔
🏛️ تہذیب و تمدن گیلری
جہاں جنوبی پنجاب کی ثقافت، روایات، طرزِ زندگی اور سماجی ارتقا کو خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔
ملتان کا شمار دنیا کے قدیم ترین زندہ شہروں میں ہوتا ہے۔ یہ شہر ہزاروں برس کی تہذیب، تصوف، علم، تجارت اور ثقافت کا امین ہے۔ ملتان میوزیم اسی عظیم داستان کو جدید انداز میں محفوظ اور پیش کرنے کی ایک قابلِ ستائش کاوش ہے۔
اگر آپ ملتان کی روح کو محسوس کرنا چاہتے ہیں، اس کی تاریخ کو قریب سے جاننا چاہتے ہیں اور اس شہر کے تہذیبی ارتقاء کو ایک ہی مقام پر دیکھنا چاہتے ہیں تو ملتان میوزیم ضرور جائیں۔
کیونکہ ملتان صرف ایک شہر نہیں بلکہ تہذیبوں، روایتوں اور صوفیانہ فکر کی ایک زندہ کتاب ہے۔
Wasaib Explorer Cross Route CRC (Motorcycle Travelers Club of Pakistan)

دوستو آؤ کہ تجدیدِ وفا کا دن ہےساعتِ عہدِ محبت کو حِنا رنگ کریںخُونِ دِل غازہء رُخسارِ وطن ہو جائےاپنے اشکوں کو ستاروں س...
30/04/2026

دوستو آؤ کہ تجدیدِ وفا کا دن ہے
ساعتِ عہدِ محبت کو حِنا رنگ کریں
خُونِ دِل غازہء رُخسارِ وطن ہو جائے
اپنے اشکوں کو ستاروں سے ہم آہنگ کریں

عالمی یومِ ثقافتی ورثہ ہر سال 18 اپریل کو منایا جاتا ہے جس کا مقصد دنیا بھر میں تاریخی، ثقافتی اور تمدنی ورثے کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور ان کے تحفظ کے لیے شعور بیدار کرنا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قدیم عمارتیں، قلعے، مزارات، مندر، روایات، زبانیں اور ثقافتیں صرف ماضی کی یادگار نہیں بلکہ ہماری شناخت کا اہم حصہ ہیں۔
رواں برس عالمی یومِ ثقافتی ورثہ کے موقع پر گھنٹہ گھر ملتان میں والڈ سٹی اتھارٹی ملتان کے زیرِ اہتمام ایک پُروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کی نقابت کا اعزاز مجھے حاصل ہوا۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسول ﷺ سے ہوا جس کے بعد قومی ترانہ پیش کیا گیا۔
اس موقع پر ثقافتی جھومر، ڈاچی ڈانس اور گھریلو دستکاریوں کے حسین نمونے نمائش کے لیے رکھے گئے۔ ملتان کے معروف لوک فنکاروں نے اپنے فن کا شاندار مظاہرہ کیا جس نے تقریب کو چار چاند لگا دیے۔
اس پُروقار تقریب میں عامر شہزاد صدیقی (پی ٹی وی ملتان)، سئیں عارف ملغانی (معروف اینکر)، ڈاکٹر سید مزمل حسین (بانی وسیب ایکسپلورر) اور ملتان فورٹ کے انچارج صلاح الدین مزاری صاحب سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور فیمیلیز نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے ملتان کے 5 ہزار سالہ قدیم تاریخی و ثقافتی ورثے کے تحفظ، عظیم کوہِ سلیمان کے قدرتی مناظر اور اس خطے میں فروغِ سیاحت کی اہمیت پر زور دیا۔ آخر میں گھنٹہ گھر ملتان کی فضا "پاکستان زندہ باد" اور "یہ تو ہو گا" کے فلک شگاف نعروں سے گونج اُٹھی۔
عالمی یومِ ثقافتی ورثہ کی یہ تقریب نہ صرف ثقافت کا جشن تھی بلکہ والڈ سٹی اتھارٹی ملتان کی جانب سے نئی نسل کو اپنے ورثے سے جوڑنے کی ایک خوبصورت کاوش بھی تھی۔
آئیں، اپنی پہچان کو محفوظ بنائیں کیونکہ یہی ہمارا اصل ورثہ ہے۔
Wasaib Explorer Walled City Of Multan

کھولی ہیں ذوقِ دید نے آنکھیں تری اگرہر رہ گزر میں نقشِ کفِ پائے یار دیکھ  عالمی یومِ ورثہ کے موقع پر وسیب ایکسپلورر کی ج...
13/04/2026

کھولی ہیں ذوقِ دید نے آنکھیں تری اگر
ہر رہ گزر میں نقشِ کفِ پائے یار دیکھ

عالمی یومِ ورثہ کے موقع پر وسیب ایکسپلورر کی جانب سے ٹرین رائیڈ کا اہتمام کیا گیا۔ دِلوں کو جوڑتی شٹل ٹرین کا یہ سفر جذبات، تاریخ، محبت اور وسیب سے جڑنے کی ایک دلفریب داستان ثابت ہوا۔
اتوار کی صبح 5:30 بجے یہ کاروانِ سیاحت فخرِ وسیب ڈاکٹر سید مزمل حسین کی قیادت میں ملتان چھاؤنی سے روانہ ہوا۔ دو بوگیوں کا یہ سفر دو دہائیوں بعد ریل گاڑی پر میرا پہلا سفر بنا۔ یہ شٹل ٹرین درحقیقت وسیب کی دھڑکن ہے جہاں دوستی، مسکراہٹیں اور یادگار لمحات ہمارے ساتھ محوِ سفر رہے۔
طلوعِ آفتاب کی پُر کیف ساعتوں میں ریل گاڑی پر شیر شاہ پل عبور کرنے کا وہ حسین لمحہ!
ہوا، منظر اور ڈیڑھ صدی سے قائم اس شاہکار کا احساس۔۔۔سب کچھ دل میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا.!
مظفرگڑھ، لعل پیر، محمود کوٹ، سنانواں، کوٹ ادو غرض ہر اسٹیشن ایک نئی کہانی سناتا رہا۔
مشتاق انصاری صاحب اور نئے وسیبی مسافر کاشف صاحب کی طرف سے پیش کیا گیا لذیذ ناشتہ، بُدھ اسٹیشن پر گرما گرم چائے اور احباب کا اپنا پَن۔۔۔یہی تو وسیب کا اصل حُسن ہے!
پھر جب صابر پیا صاحب کا مترنم کلام گونجا تو وسیبی ٹرین میں ایک محفل سی سج گئی۔
تونسہ بیراج پر دریائے سندھ کا حسین منظر، گندم کے سنہری کھیت اور دور سے عظیم کوہِ سلیمان کی جھلک۔۔۔ان سب رنگوں نے مل کر ایک ایسی تصویر بنائی جو لفظوں سے زیادہ احساسات میں جھلکتی ہے۔
سفر کے اختتامی لمحات میں ملی نغموں نے کاروانِ سیاحت کے ساتھ دیگر مسافروں کے بھی دل موہ لیے۔ "دل دل پاکستان، سوہنی دھرتی…" ٹرین کا ہر ڈبہ حب الوطنی کے خوبصورت احساس سے گونج اٹھا۔
ڈیرہ غازی خان پہنچنے پر میزبانوں کی جانب سے پرتپاک استقبال، مقبرہ غازی خان میرانی پر تاریخ کی جھلک، گروپ فوٹوز، اعزازی اسناد اور وسیب کے تاریخی ورثہ اور ثقافت کے انمٹ نقوش۔۔۔یہ سفر ہمیں سکھا گیا کہ
"سیاحت صرف مقامات کھوجنے کا نام نہیں بلکہ یہ دلوں کو جوڑنے کا حقیقی جذبہ ہے!"

تُم جس خواب میں آنکھیں کھولو، اُس کا روپ اَمر۔۔تُم جس رَنگ کا کپڑا پہنو، وہ موسم کا رَنگ۔۔تُم جس پُھول کو ہَنس کر دیکھو،...
11/04/2026

تُم جس خواب میں آنکھیں کھولو، اُس کا روپ اَمر۔۔
تُم جس رَنگ کا کپڑا پہنو، وہ موسم کا رَنگ۔۔
تُم جس پُھول کو ہَنس کر دیکھو، کبھی نہ وہ مُرجھائے۔۔
تُم جس حَرف پہ اُنگلی رَکھ دو، وہ روشن ہو جائے۔۔

سرزمینِ وسیب کو ہمیشہ ایسی شخصیات کی ضرورت رہی ہے جو نہ صرف اس مٹی سے محبت کریں بلکہ اس کی پہچان کو دنیا بھر میں اجاگر کرنے کے جذبے سے سرشار ہوں۔
10 اپریل ایسی ہی ایک درخشاں شخصیت کا یومِ پیدائش ہے۔ بانی وسیب ایکسپلورر ڈاکٹر سید مزمل حسین صاحب جنوبی پنجاب اور عظیم کوہِ سلیمان کی سیاحت کا استعارہ ہیں۔ آپ نے کوہِ سلیمان کی فلک بوس چوٹیوں، پُر اسرار وادیوں، ثقافتی رنگوں اور تاریخی ورثے کو جس خوبصورتی سے دنیا کے سامنے پیش کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔
ڈاکٹر صاحب کی کاوشوں سے نہ صرف اس خطے کی سیاحت کو نئی جہت ملی بلکہ وسیب ایکسپلورر ایک تحریک بن کر ابھرا جہاں سے وسیب کی خوشبو ملک کے طول و عرض میں پھیل گئی۔ فخرِ وسیب ڈاکٹر سید مزمل حسین نے اس خطے میں سیفٹی گیجٹس کے ساتھ سکوٹری سیاحت کو فروغ دیا اور فلاحی سرگرمیوں، شجر کاری مہمات اور سماجی خدمت کے میدان میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر صاحب کی شخصیت سے متاثر ہو کر ملک اور بیرونِ ملک سے بے شمار افراد اس کاروانِ سیاحت کا حصہ بنے اور وسیبی ورثے کو اس کی حقیقی شناخت ملی۔
تاریخ، روایات اور محبتوں کے سنگم پیراں غائب ریلوے اسٹیشن پر فخرِ وسیب ڈاکٹر سید مزمل حسین صاحب کی سالگرہ کے حوالے سے سادہ مگر پُروقار تقریب منعقد کی گئی۔ یہ ریلوے اسٹیشن 1904 سے آج تک اپنی تاریخی حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ غروبِ آفتاب کے حسین منظر میں کیک کٹنگ کی تقریب نے ایک یادگار لمحہ تخلیق کیا۔ ریلوے اسٹیشن پر کھیلتے کودتے بچوں کو بھی اس خوشی میں شامل کیا گیا جن کی مسکراہٹوں نے تقریب کو اور بھی دلفریب بنا دیا۔
سالگرہ کا کیک Cherished Treats کی جانب سے تیار کیا گیا جو ایک ایسا برینڈ ہے جہاں محبت، معیار اور ذائقہ ایک ساتھ ملتے ہیں۔
چاکلیٹس، کیکس، کپ کیکس اور لذیذ بریانی کے ذریعے یہ برینڈ ہر تقریب کو یادگار بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر سید مزمل حسین صاحب نے تمام شرکاء کو چائے کے ساتھ یادگار لمحات سے لطف اندوز ہونے کا موقع دیا۔ اسی میٹ اپ میں ہیریٹیج ڈے کے حوالے سے ٹرین رائیڈ کے پروگرام کو بھی حتمی شکل دی گئی جو وسیب کی تاریخ سے جڑنے کا ایک اور خوبصورت قدم ہے۔
ہم دل کی گہرائیوں سے دعاگو ہیں کہ اللّٰہ مہربان ڈاکٹر صاحب اور ان کے اہل و عیال پر ہمیشہ شفیق و مہربان رہے اور انہیں اسی جوش و جذبے سے وسیب کی خدمت کا حوصلہ اور توانائی عطا کرتا رہے۔ آمین
Wasaib Explorer

قلعہ دراوڑ_ ریت کے سمندر میں کھڑی صدیوں پرانی اک داستاںچولستان کے بے کنار صحرا میں جب قلعہ دراوڑ کی پہلی جھلک نظر آئے تو...
16/03/2026

قلعہ دراوڑ_ ریت کے سمندر میں کھڑی صدیوں پرانی اک داستاں
چولستان کے بے کنار صحرا میں جب قلعہ دراوڑ کی پہلی جھلک نظر آئے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ریت کے سمندر میں صدیوں پرانا کوئی عظیم بحری جہاز لنگر انداز ہے۔
14 فروری کے رومانوی دن جب میں نے ملتان سے چولستان بائیک رائیڈ کا آغاز کیا تو میرے سامنے صرف رستہ نہیں تھا، درحقیقت وہ وقت کے صدیوں پرانے سفر کی شروعات تھی۔
بہاولپور اور ڈیرہ نواب صاحب کے تاریخی ورثہ کی سیر کے بعد جیسے جیسے شہر کی ہلچل کم ہوئی تو زمین کا رنگ بدلتا محسوس ہونے لگا۔ سڑک کے اردگرد ریت کے ٹیلے شروع ہوئے اور ہوا میں صحرا کی وہ مخصوص خاموشی شامل ہو گئی جو صرف چولستان کا خاصہ ہے۔
یہ روہی رنگ رنگیلڑی محض ایک صحرا نہیں بلکہ ہزاروں برس قدیم تہذیبوں کی گواہ ہے جہاں کبھی دریائے ہاکڑہ اپنی پُرزور موجوں کے ساتھ رواں دواں تھا۔ اس کے کناروں پر بستیاں آباد تھیں، قلعے تعمیر ہوئے اور زندگی اپنے عروج پر تھی۔
آج دریا تو خشک ہو چکا ہے مگر اس کے کناروں پر بکھرے کھنڈرات اور قلعوں کی قطاریں اب بھی اس گزرے زمانے کی داستان سناتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس قدیم دریا کے اطراف چار ہزار سال قبل مسیح سے لے کر اسلامی دور تک تہذیب و تمدن کے آثار ملتے ہیں۔
اسی تاریخی سرزمین کے قلب میں ریت کے ٹیلوں کے بیچوں بیچ ایک عظیم الشان قلعہ موجود ہے۔ قلعہ دراوڑ کی بلند فصیلیں، چالیس مضبوط برج اور مٹیالے رنگ کی دیواریں گویا صحرا کے سینے پر تاریخ کی مہر ثبت کر رہی ہوں۔
روایات کے مطابق اس قلعے کی بنیادیں تاریخِ اسلام سے بھی بہت پہلے رکھی گئیں۔ اس کا قدیم نام دیوراول تھا جو وقت کے ساتھ بدل کر دراوڑ ہو گیا۔
1733ء میں ریاست بہاولپور کے بانی نواب صادق محمد خان اول نے اسے دوبارہ تعمیر کروایا اور یوں یہ قلعہ صحرائے چولستان کا ایک عظیم محافظ بن کر ابھرا۔
قلعے کے اندر کنواں، رہائشی عمارتیں اور فوجی دستوں کے لیے مختص جگہوں کے آثار آج بھی ماضی کی جھلک دکھاتی ہیں۔ قلعے کے باہر سفید سنگ مرمر سے بنی ایک دلکش مسجد اور بہاولپور کے نوابوں کا شاہی قبرستان بھی موجود ہے۔ یہ جگہیں اس تاریخی ورثے کی اہمیت میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔ قلعہ دراوڑ محض ایک تاریخی عمارت نہیں بلکہ وقت کی ایک محفوظ یادگار محسوس ہوتی ہے۔
چولستان کی زندگی آسان نہیں۔ یہاں پانی نایاب ہے، بارش کم ہوتی ہے اور خانہ بدوش قبائل اپنی بکریوں، بھیڑوں اور اونٹوں کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے بنائے گئے تالاب جنہیں ٹوبہ کہا جاتا ہے یہاں کے لوگوں کے لیے زندگی کی علامت ہیں۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس سخت رہن سہن کے باوجود یہاں کے لوگ اپنی سرزمین سے بے حد محبت کرتے ہیں۔ اسی صحرا کی رومان بھری فضا کو صوفی شاعر خواجہ غلام فریدؒ نے اپنے کلام میں ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔
مقامی لوگ کہتے ہیں کہ چولستان کی سرابی فضا میں قلعہ دراوڑ کی دیواریں دن میں کئی بار رنگ بدلتی ہیں۔ شاید اسی لیے یہ قلعہ دیکھنے والوں کو ہر بار ایک نیا منظر دکھاتا ہے۔
میں دیر تک اس قلعے کے سامنے کھڑا رہا۔ ہوا ریت کو آہستہ آہستہ اڑا رہی تھی…
فصیلیں خاموشی سے صدیوں کی داستانیں سنا رہی تھیں…
صحرا کی وسعتوں میں کھڑا قلعہ دراوڑ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وقت گزر جاتا ہے مگر تاریخ اپنی فصیلیں کبھی نہیں گراتی۔


زمینِ چمن گل کِھلاتی ہے کیا کیا بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسےشجاع آباد (فصیلوں میں آباد اک زندہ تاریخ)ملتان تا چولستان با...
04/03/2026

زمینِ چمن گل کِھلاتی ہے کیا کیا
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
شجاع آباد (فصیلوں میں آباد اک زندہ تاریخ)
ملتان تا چولستان بائیک رائیڈ کے اس تاریخی سفر میں جلالپور پیر والا کے بعد میرا اگلا پڑاؤ شجاع آباد تھا۔ ایک ایسا شہر جس کی بنیاد 18ویں صدی کے وسط میں رکھی گئی اور جسے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت فصیل بند کیا گیا۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق اس شہر کو تقریباً 1750ء کے قریب مغل دور کے گورنر نواب شجاع خان نے آباد کیا اور اپنے نام سے منسوب کیا۔ یہ محض ایک آبادی نہیں تھی بلکہ ایک دفاعی شہر تھا جس کے چاروں اطراف میں بلند فصیل، مضبوط اینٹوں کی دیواریں، گول برج اور متعدد دروازے تھے۔ یہ سب مغلیہ شہری دفاعی منصوبہ بندی کی واضح مثال ہیں۔
جب آپ والڈ سٹی کے قدیم دروازے کے نیچے سے گزریں تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے وقت کی دہلیز پار کر رہے ہوں۔ دروازے کے اوپر جھکتی اینٹیں، محرابی ساخت اور بازاروں میں روزمرہ کے معمولات زندگی کہ جیسے ماضی اور حال ایک ہی تصویر میں سانس لے رہے ہوں۔
آگے فصیل کے ساتھ چلتے ہوئے اس کی موٹائی اور برج نما ساخت صاف بتا رہی تھی کہ یہ شہر کبھی محض رہائش گاہ نہیں بلکہ ایک محفوظ قلعہ بند مرکز تھا۔ برطانوی دور کے ریکارڈ کے مطابق 18ویں اور 19ویں صدی میں شجاع آباد ملتان کے بعد ایک اہم انتظامی اور تجارتی مرکز سمجھا جاتا تھا۔
والڈ سٹی کے اندر موجود تاریخی مسجد کے دروازے پر قرآنی آیات کی خطاطی، محرابی ساخت، باریک نقاشی اور بالکونی کی خوبصورتی کٹائی مغلیہ طرزِ تعمیر کی جھلک پیش کرتی ہے۔ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے ریکارڈ میں جنوبی پنجاب کی مساجد میں اسی طرز کی خطاطی اور آرائشی عناصر کو نوابی و مغلیہ دور سے منسوب کیا گیا ہے۔
شہر کی تنگ گلیوں میں شانِ بے نیازی سے کھڑی بلند و بالا کوٹھی جسے مقامی لوگ “شیش محل” کہتے ہیں۔ تقسیمِ ہند سے پہلے کی یہ یادگار عمارت اپنی بلندی اور ساخت کے باعث اندرونِ شہر میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ اس کوٹھی کے ایک کمرے کی چھت شیشے کی بنائی گئی تھی جو اب بھی اسی طرح موجود ہے۔ ایسا طرزِ تعمیر جو برصغیر میں امراء کی رہائش گاہوں میں روشنی اور جمالیاتی حسن کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ ایسا فنِ تعمیر جو آج کے دور میں خواب لگتا ہے۔
تصور کریں… روشنی جب اس شیشے سے چھن کر اندر آتی ہوگی تو کمرہ ستاروں کی طرح جگمگاتا ہوگا۔ یہ عمارت اب بھی شجاع آباد کی بلند و بالا عمارتوں میں سے ایک ہے۔
ان تنگ قدیمی گلیوں میں چلتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ شجاع آباد صرف ایک تحصیل نہیں بلکہ یہ مغل عہد کی شہری منصوبہ بندی، دفاعی حکمتِ عملی اور ثقافتی ذوق کا زندہ ثبوت ہے۔
بانی شہر نواب شجاع خان سدوزئی کا مقبرہ محکمہ آثارِ قدیمہ کی عدم توجہی اور حکومتی بے حسی کے باعث شدید شکست و ریخت کا شکار ہے۔ اگر متعلقہ اداروں اور مقامی انتظامیہ نے اس تاریخی ورثہ کی جلد از جلد بحالی کے اقدامات نہ کیے تو یہ مقبرہ مکمل طور پر منہدم ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔
شہر کی فصیل کے کچھ حصے ٹوٹ چکے ہیں، دروازوں کی شان ماند پڑ چکی ہے مگر تاریخ اب بھی باقی ہے ان اینٹوں میں، محرابوں میں اور ان راستوں میں جہاں آج بھی زندگی ویسے ہی رواں ہے جیسے صدیوں پہلے تھی۔ یہ شہر جنوبی پنجاب کی وہ تہذیبی جھلک ہےجو ابھی مکمل طور پر محفوظ کیے جانے کی منتظر ہے۔

علی الصبح، چولستان کی ٹھنڈی ریت اور دھند میں لپٹا افق۔۔۔انجن کی مدھم آواز کے ساتھ سانسوں میں چولستان کی خوشبو لیے  واپسی...
27/02/2026

علی الصبح، چولستان کی ٹھنڈی ریت اور دھند میں لپٹا افق۔۔۔
انجن کی مدھم آواز کے ساتھ سانسوں میں چولستان کی خوشبو لیے واپسی کا سفر شروع ہوا تو احمد پور شرقیہ پہنچ کر میں نے جامپور رائیڈرز سے رخصت چاہی اور دیرینہ دوست مسعود اقبال صاحب کے دولت کدے کا رخ کیا۔ مسعود اقبال بھائی سینئر بائیکر ہونے کے ساتھ ایک باوقار، خوش مزاج اور دلکش شخصیت کے مالک ہیں۔ چولستان کی سنہری دھند سے نکل کر جب ان تک پہنچا تو گویا سفر کی تھکان لمحوں میں اتر گئی۔ پُرتکلف ناشتہ، گرم چائے اور محفلِ یاراں خوب جمی۔ یہ صرف ایک ملاقات نہیں تھی بلکہ بائیکرز کی وہ محبت تھی جو سڑکوں سے زیادہ دلوں کو جوڑتی ہے۔
احمد پور شرقیہ سے یادوں کی بارات لیے جلالپور پیروالا کی روحانی فضاؤں میں پہنچ کر محترم ظفر شاہ بخاری سے رابطہ کیا۔ حالیہ سیلاب کے دنوں میں ان کی فلاحی سرگرمیاں اس خطے میں امید کی علامت بن چکی ہیں۔
شہر میں داخل ہونے پر پُرتپاک استقبال نے دل جیت لیا۔ چائے اور جلالپور کے مشہور سوہن حلوے کی مٹھاس سے لطف اندوز ہونے کے بعد جلالپور کا تاریخی ورثہ دیکھنے کا موقع ملا۔
حضرت سید سلطان احمد قتال بخاری (آسمانِ تصوف کا درخشندہ ستارہ)
سلسلہ سہروردیہ کے عظیم بزرگ جن کا نسب 11ویں پشت میں جلال الدین بخاری سرخ پوش اور 28ویں پشت میں حضرت علی سے جا ملتا ہے۔
949ھ میں اوچ شریف میں پیدا ہوئے۔ 21 برس کی عمر میں تلاشِ حق میں نکلے اور کہروڑپکا میں حضرت پیر علی سرورؒ سے بیعت کی۔ حج بیت اللہ، روضۂ رسول ﷺ، کربلا اور نجف کی زیارات سے مشرف ہوئے۔
990ھ میں دریائے ستلج اور چناب کے سنگم پر اک بیابان میں قیام کیا۔ وہی مقام جہاں بعد ازاں ایک شہر آباد ہوا تو اپنے جدِ امجد کے نام پر “جلالپور” کہا گیا اور پھر یہی جلالپور پیروالا کہلایا۔
آپ کی تبلیغ اور حسنِ اخلاق سے ہزاروں افراد حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ 1041ھ میں وصال فرمایا اور یہیں آسودۂ خاک ہوئے۔
روایت ہے کہ شاہجہان نے اس دربار کی تعمیر کا حکم دیا۔ 1108ھ سے 1158ھ تک پچاس برس میں یہ عظیم الشان مزار مکمل ہوا۔ رنگ برنگی اینٹوں، کاشی کاری اور لکڑی کے نفیس کام سے مزین یہ مقبرہ آج بھی فنِ تعمیر کی نادر مثال ہے۔
قدیم شاہی مسجد جلالپور پیروالا (عظمتِ رفتہ کا استعارہ)
پانچ سو سال سے زیادہ قدیم یہ مسجد جس کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کا سنگِ بنیاد شہنشاہ شاہجہان نے رکھا۔
مسجد کے احاطے میں ایک صدیوں پرانا درخت آج بھی ماضی کی گواہی دیتا ہے۔ اس کی دیکھ بھال ابتدا سے قاضی خاندان کے سپرد رہی۔ یہ جلالپور کی پہلی مسجد ہونے کا اعزاز بھی رکھتی ہے۔ گارے، مٹی اور چونے سے بنی یہ مسجد مسلم آرکیٹیکچر کا شاہکار ہے۔
چولستان کی ریت سے شروع ہونے والا یہ سفر دوستی کی مٹھاس، خدمتِ خلق کی خوشبو اور اولیاء اللہ کی سرزمین کی روحانیت میں ڈھلتا محسوس ہوا۔ سفر کا اصل حسن راستے نہیں، راستوں میں ملنے والے لوگ ہوتے ہیں۔
ظفر شاہ صاحب اور ان کی ٹیم کا تہہ دل سے شکریہ کہ آپ جیسے لوگ ہی معاشرے کا اصل سرمایہ ہیں۔
جنوبی پنجاب محض جغرافیہ نہیں بلکہ یہ تاریخ، تصوف، تہذیب اور انسان دوستی کا زندہ استعارہ ہے۔

صادق گڑھ پیلس (ایک کھوئی ہوئی سلطنت کی بازگشت)ملتان سے چولستان میری بائیک رائیڈ جاری تھی۔انجن کی آواز، ٹریفک کا شور، سرد...
20/02/2026

صادق گڑھ پیلس (ایک کھوئی ہوئی سلطنت کی بازگشت)
ملتان سے چولستان میری بائیک رائیڈ جاری تھی۔
انجن کی آواز، ٹریفک کا شور، سرد ہوا اور دل میں سالانہ جیپ ریلی کا جوش
بہاولپور کے تاریخی نور محل کا وزٹ کرنے کے بعد ریاست بہاولپور کا ہیڈکوارٹر ڈیرہ نواب صاحب اب زیادہ مسافت پر نہیں تھا۔ احمد پور شرقیہ سے قلعہ دراوڑ کی سمت جاتی شاہراہ سے ایک سڑک الگ ہوئی۔ سنسان اور خاموش کہ جیسے کسی راز کی محافظ ہو۔ یہی راستہ لے جاتا ہے صادق گڑھ پیلس تک
صادق گڑھ پیلس اپنے دامن میں عظمتِ رفتہ کی کئی کہانیاں سموئے ہوئے ہے۔
پیلس کی طرف جانے والی سڑک کا منظر عجیب ہے ایک طرف ایک نالہ بہتا ہے تو دوسری جانب آسیب زدہ درختوں کی قطار۔ یہ آسیب اس وقت مزید گہرا ہو جاتا ہے جب آپ ایک دیو ہیکل دروازے سے صادق گڑھ پیلس میں داخل ہوتے ہیں۔
پہلی نظر میں دل عش عش کر اٹھتا ہے۔ اس کی خوبصورتی وائیٹ ہاؤس سے کسی طور بھی کم نہیں لیکن جیسے ہی اس محل کے اندر داخل ہوتے ہیں دل سے ایک سرد آہ نکلتی ہے۔ ان در و دیوار پر چھایا آسیب دراصل وہ قومی بے حسی ہے جس نے اس شاندار محل کو کھنڈر میں بدل دیا ہے۔
ڈیرہ نواب صاحب کبھی عباسی فرماں رواؤں کا پایہ تخت تھا جن کا عہدِ حکومت اڑھائی سو سال پر محیط ہے۔ جن میں سے 50 سال ریاست کی تشکیل میں صرف ہوئے اور جب یہ ریاست بن گئی تو انہوں نے نئی بستیاں بھی بنائیں اور اپنے لیے محلات بھی بنائے۔ ڈیرہ نواب صاحب میں موجود صادق گڑھ پیلس دراصل ایک وسیع کمپلیکس ہے جس میں تین رہائشی محلات اس کے عین عقب میں واقع ہیں جنہیں مبارک محل، راحت محل اور صادق محل کہتے ہیں۔ یہ تینوں رہائشی حصے اندرونی سرنگوں کے ذریعے بھی ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور پھر یہ سرنگیں باہر کھیتوں کی طرف بھی کھلتی ہیں۔
مرکزی دروازے کے سامنے اور محل کے درمیان ایک بارہ دری ہے جس کے اطراف میں کبھی رنگ برنگے پھولوں سے مزین لان ہوا کرتے ہوں گے جہاں تتلیاں طواف کرتی رہتی ہوں گی مگر اب وہاں جڑی بوٹیوں کی حکمرانی ہے۔ محل کے برآمدے سے سفید سنگ مرمر کی سیڑھیاں پہلی بالکونی کی طرف لے جاتی ہیں۔ آگے سفید سنگ مر مر کا بنا ہوا انتہائی خوبصورت فوارہ ہے اور اس کے آگے مرکزی دربار ہے۔ جس کی شان و شوکت کا اندازہ یہاں پر نصب ایک بہت بڑے شیشے سے بھی کیا جا سکتا ہے جس کو نواب صاحب نے خصوصی طور پر انگلینڈ سے منگوایا تھا۔ کہتے ہیں کہ جب یہ آئینہ بحری جہاز سے کراچی کی بندرگاہ پر اتارا گیا تو اسے ریلوے کے ذریعے بہاولپور لایا گیا جس کے لیے کئی پلیٹ فارم چوڑے کرنے پڑ گئے۔ اس شیشے کے آگے شاہی چبوترہ ہے جہاں نواب صاحب اپنے مشیران کے ساتھ بیٹھ کر امورِ ریاست سرانجام دیا کرتے تھے مگر اب اس چبوترے میں استعمال ہونے والی لکڑیاں بھی اکھڑ رہی ہیں اور اس پر موجود ایرانی قالین گل سڑ چکا ہے۔ اس ہال نما شاہی دربار کی چھت پر کی گئی کندہ کاری اور اس میں کھلنے والی بالکونیوں کی شان و شوکت کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ قدیم روم اور ہندوستانی طرز تعمیر کو اس میں یکجا کر دیا گیا ہے۔
صادق گڑھ پیلس کا سنگ بنیاد نواب صادق خان عباسی چہارم نے 1882 میں رکھا تھا اور دس سال کے عرصے میں 15 لاکھ روپے سے اس کی تکمیل ہوئی تھی۔ 15 ہزار مزدوروں اور کاریگروں نے یہاں کام کیا تھا جن کی نگرانی اطالوی ماہرین تعمیرات نے کی تھی ۔ 24 مربعوں پر محیط یہ محل جمال و جلال کا شاہکار ہے۔ اس کی 50 فٹ اونچی فصیلیں ایک کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہیں جس کے ہر کونے پر فوجی بیرک بھی موجود ہے جہاں پر پہرہ دار تیر کمانیں سنبھالے کھڑے ہوتے ہوں گے۔ محل کے وسط میں ایک شاندار گنبد ہے۔ چاروں طرف بر آمدے ہیں برجیوں کے نچلے حصے میں تہہ خانے ہیں۔ جہاں ریاست کا خزانہ رکھا جاتا تھا۔ اس خزانے میں استعمال ہونے والی بھاری لوہے کے سیف آج بھی اس انداز سے کھلے ہوئے ہیں جیسے کسی نادر شاہی حملے کا شکار ہوئے ہوں۔ ایک جگہ پر دیوار کو توڑا گیا ہے اور اس کے درمیان سے ایک سوراخ کہیں آگے کی جانب موجود خزانے کا پتہ دیتا ہے جسے تلاش کر کے نکال لیا گیا ہو گا۔
مرکزی ایوان کے اندر دربار ہال اور اس سے متصل دونوں جانب وسیع ڈائننگ ہال ہیں۔ نواب آف بہاولپور کے نواسے پرنس قمر الزمان عباسی نے اپنی کتاب میں اس کی منظر کشی ان الفاظ میں کی ہے،
"خواب گاہ سے لے کرڈرائنگ روم، ڈریسنگ روم، غسل خانے اور دفتر کے کمرے تمام شاہی لوازمات سے خود کفیل ہیں۔ ہر کمرے کی چھت، فرش اور درو دیوار سے نفاست اور خوبصورتی جھلکتی ہے۔ سامانِ آرائش اور فرنیچر بڑے اعلیٰ درجے کا ہے، کمروں میں قدِ آدم آئینے اور بلوری فانوس لگے ہوئے ہیں۔ کرسیوں، میزوں اور گلدانوں پر ایک ہی طرح کا رنگ ہے۔ آرٹ کے بہترین نمونے، نوادرات اور قیمتی پردے اس قصرِ عالی شان کے وقار میں اضافہ کرتے ہیں۔ محل میں ایک چڑیا گھر بھی ہے جس میں انواع و اقسام کے پرندے اور جانور ہیں۔ محل کے اندر کئی جانوروں کو حنوط کر کے رکھا گیا ہے۔"
محل میں سینما گھر کی عمارت بھی ہے جو اب گر چکی ہے۔ مسجد اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ کھڑی ہے مگر یہاں اذان دینے والا کوئی نہیں ہے۔ یہاں بجلی پیدا کرنے کے لیے ایک پاور ہاؤس بھی تھا جس کی آسمان کو چھوتی چمنی سے آج بھی ماضی کی روشنیاں جھلکتی ہیں۔ محل کے ساتھ درجن بھر گاڑیوں کو پارک کرنے کا ایک گیراج بھی ہے جہاں دو چار رولز رائس آج بھی گرد سے اٹی پڑی ہیں۔ ان گاڑیوں کی مرمت کے لیے ورکشاپ بھی موجود ہے۔
محل کی دوسری منزل پر ایک شاندار لائبریری بھی تھی جس میں نادر و نایاب کتابوں کا ذخیرہ تھا اور اس لائبریری کے ساتھ ہی خواجہ غلام فرید کا کمرہ بھی ہے۔
ایک روایت کے مطابق نواب صادق خان اپنی دوسری بیگم گامن گدوھکن کو دلہن بنا کر اسی محل میں لائے۔ نواب صاحب نے اس خاتون کو بہاولنگر کی کسی جیل یا قید خانے میں دیکھا اور اس پر فریفتہ ہو گئے۔ سیمابی طبیعت پر عاشق مزاجی در آئی۔ فوراً اسے رہا کروایا اور اس سے شادی کا فیصلہ کر لیا۔ اس بیگم سے نہایت عشق تھا اس کے مزاج کے مطابق پیراہن زیب تن کرتے۔ عشق و محبت کی بارش برستی رہی مگر کوئی پھول نہ کھل سکا۔ جس شانِ خسروانہ سے بیگم کے برقِ جمال کی تجلی ان برسوں میں گرتی رہی پھر کبھی نصیب نہ ہو سکی کیونکہ شادی کے قلیل بندھن میں ہی بیگم کا انتقال ہو گیا تھا۔
صادق گڑھ پیلس جہاں وقت کے کئی راجے مہاراجے، برطانوی شاہی خاندان کے افراد، وائسرائے اور اہم سیاسی افراد آئے وہ عہدِ رفتہ کی ایک ایسی داستان لیے ہوئے ہے جو لالچ، خون کی سفیدی اور عیاری و مکاری سے عبارت ہے۔ وہ محل جس کے مکین عدل و انصاف کے پیامبر تھے ان کے ساتھ ناانصافیوں کی تمام حدیں پار کر کے اس محل کو کھنڈر بنا دیا گیا۔
اس شاندار محل کی تباہی کا آغاز تو اسی وقت ہو گیا تھا جب ریاست بہالپور کے نواب سر صادق خان عباسی 1966 میں لندن میں انتقال کر گئے تو اس کے ساتھ ہی محل کی ملکیت پر تنازع کھڑا ہو گیا۔ نواب صاحب کے دس بیٹے، دس بیٹیاں اور تین بیوائیں تھیں جو جائیداد کی تقسیم کے لیے متحرک ہو گئے۔ لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم عباسی جو کہ ضیا دور میں گورنر سندھ تھے اور بہاولپور کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے انہوں نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے 1984 میں محل کو سیل کروا دیا جو 2005 تک 21 سال سیل رہا۔
اس دوران اس محل کے ساتھ کیا بیتی؟
محل عدالتِ عظمیٰ کے حکم پر بند تھا کیونکہ وارثان میں مقدمہ بازی چل رہی تھی۔ چنانچہ محل کا جائزہ لینے والے کمیشن کی رپورٹ کے مطابق محل میں حنوط شدہ چیتے کی آنکھیں تک نکال لی گئی تھیں شاید آنکھوں کی جگہ قیمتی پتھر لگے ہوئے تھے۔ محل کی دیوار پر ایک بڑی سی تصویر لگی ہوئی تھی جس میں برطانوی فوجیوں کا جتھہ دشمن پر حملہ کر رہا تھا۔ یہ تصویر دنیا کے مشہور مصور ٹامس جان بیکر کی بنائی ہوئی تھی۔ ایک تصویر بکنگھم پیلس اور دوسری صادق گڑھ پیلس میں آویزاں کی گئی تھی۔ اس کی قیمت اس وقت دو تین ملین پاؤنڈ ہو گی۔
بعد میں معلوم ہوا کہ وہ بھی چوری کر لی گئی ہے۔ یہاں سے تمام نوادرات غائب کر دیے گئے۔ کرسٹل کی بنی ہوئی کرسیاں اور فانوس جو ہالینڈ سے بن کر آئے تھے انہیں بھی محل سے چوری کر لیا گیا۔ محل کے تہہ خانہ میں ایک اسلحہ خانہ تھا جس میں دنیا کی قیمتی ترین بندوقوں کا ذخیرہ تھا۔ بیلجئم اور انگلستان کے بنے ہوئے قیمتی پستول بھی تھے جو سینکڑوں کی تعداد میں تھے۔ جن کی قیمت 20 ہزار پاؤنڈ سے تین لاکھ پاؤنڈ تک ہوتی ہے اور جن پر سونے کی کشیدہ کاری کی گئی تھی۔
محل کے گیراج میں دنیا کی قیمتی ترین گاڑی رولز رائس کا ایک جم غفیر موجود تھا۔ ان کے بارے میں روایت ہے کہ نواب صاحب رولز رائس بنانے والی فیکٹری گئے وہاں تین گاڑیاں موجود تھیں۔ نواب صاحب نے قیمت پوچھی تو سیلز مین نے ہتک آمیز نظروں سے جواب دیا کہ تمہاری سوچ اور جیب سے بہت زیادہ ہے۔ جس پر نواب صاحب نے مینیجر کو بلایا اور کہا کہ اس سال جتنی رولز رائس گاڑیاں بنیں وہ بہاولپور پہنچا دی جائیں۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ قائداعظم جس گاڑی پر بیٹھ کر لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے گورنر جنرل کا حلف لینے گئے تھے وہ بھی نواب آف بہاولپور نے دی تھی۔
اب اس محل میں کوئی قیمتی چیز نہیں بچی۔ محل میں زیادہ تر چوریاں اسی 21 سال کے عرصے میں ہوئیں جب یہ محل سیل رہا۔ یہ قیمتی اشیا یا تو بیرون ملک سمگل ہو گئیں یا پھر کچھ طاقتور طبقے کے ڈرائینگ رومز کی زینت بن گئیں۔
اب اس محل کا مستقبل کیا ہے؟ کیا یہ قیمتی ورثہ قصہ پارینہ بن جائے گا یا پھر اس کی بحالی کی کوئی صورت نکل سکتی ہے؟
چولستان کی گرد اڑتی رہی اور تاریخ خاموش کھڑی مجھے دیکھتی رہی۔
"یہ محل ویران نہیں دراصل ہم ویران ہو چکے ہیں۔"

Address

Dera Ghazi Khan, Punjab
Dera Ghazi Khan
32200

Telephone

+923124761652

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Cherish Riders Tribe posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category