26/02/2020
السلام علیکم
روشن ستارے قسط نمبر : 7
شخصیت:
فضیلتہ الشیخ حافظ الحدیث قاری محمد اکبر اسد
(مھتمم مدرسہ ابی بکر و جامع مسجد قباء اہلحدیث الہ آباد روڈ چونیاں)
قاری محمد اکبر اسد اگست 1972ء کو رینالہ خورد ضلع اوکاڑہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں "ٹھٹھہ لہئ شادو" میں پیدا ھوئے۔آپ پیدائشی طور پر نابینا ہیں۔جس دن آپ پیدا ھوئے اس دن آپ کے گاوں میں بہت بڑا جلسہ منعقد پذیرتھا جس میں ملک کے نامور علماء کرام شریک فرماء تھے۔اسی بات پر آپ کی پھوپھی جان نے آپ کو دعا دی کے "یہ جلسہ والے دن پیدا ھوا ھے ساری عمر جلسے ہی کر ے گا"۔
1979ء میں آپ نے 7 سال کی عمر میں جامعہ اسلامیہ ڈھلیانہ سے اپنی تعلیم کا آغاز کیا۔ جامعہ کے مھتمم آپ کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔اور وہ بھی آپ ہی کی طرح نابینا تھے۔ان کا نام قاری نور احمد رحمتہ اللہ علیہ تھا۔انہوں نے 1965ء میں بادشاہی مسجد میں ہونے والے آل پاکستان حسن قرأت مقابلہ میں حصہ لیا ، یہ مقابلہ صدارتی طور پر منعقد ہوا تھا اور قاری نور احمد اس کے فاتح قرار پائے۔آپ کی تلاوت کلام پاک ریڈیو پاکستان پر کافی سال آتی رھی۔آپ صدر ایوب کے پسندیدہ قاری تھے۔
1981ء میں قاری نور احمد رحمتہ اللہ علیہ جامعہ عزیز یہ ساہیوال چلے گئے تو ان کیساتھ آپ بھی چلے گئے۔1984ء میں آپ نے اپنے استاد محترم جناب قاری نور احمد رحمتہ اللہ علیہ کے زیر سایہ مکمل قرآن پاک حفظ کر لیا۔1985ء میں آپ نے تجوید و قرأت پڑھی۔1986ء سے 1990ء تک آپ نے درس نظامی کی تعلیم مکمل کی آپ نے 8 سال کا درس نظامی کا کورس اپنے اساتذہ کرام جن میں مولانا محمد یونس صاحب، مولانا عبداللہ سعید صاحب (نابینا تھے) اور حافظ عبدالرازق صاحب (نابینا تھے) کے زیر سایہ صرف 5 سال کی قلیل عرصہ میں مکمل کیا۔1990ء میں وفاق المدارس سلفیہ کے امتحان میں آپ کی صوبہ پنجاب میں پہلی پوزیشن رھی۔
1991ء میں آپ نے باقاعدہ تور پر امامت اور خطابت کے فرائض جامع مسجد اہلحدیث شیخانوالی میں انجام دینے شروع کیے۔1991ء سے لیکر 1994ء تک آپ جامع مسجد اہلحدیث شیخانوالی کے امام وخطیب رھےاور اسی دوران یعنی 1993ء سے 1994ء میں آپ نے "مشکاۃ المصابیح " جو کہ 6200 احادیث کا مجموعہ ھے زبانی یاد کی اسی وجہ سے آپ ”حافظ المشکات “کے لقب سے معروف ہوگئے۔
1995ء میں آپ نے محلہ میں مدرسہ بنایا۔ اور وہ صرف 2 سال یعنی 1997ء تک ہی رھا۔اس کے بعد دوست احباب کے مشورہ سے آپ نے مین الہ آباد روڈ پر 3 کنال جگہ خرید کر وہاں پر مدرسہ بنانے کا ارادہ کیا۔جگہ دیکھ لی گئی اور اس کی قیمت جو مبلغ 600,000 روپے بنتی تھی اس کی ادائیگی کیلئے 2 ماہ کی مدت تعین کرلی گئی۔اسی دوران مدرسہ کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا اور مدرسہ میں درس و تدریس کا کام شروع ھوگیا۔دن گزرتے گئے یہاں تک کے 600,000 روپے دینے کا دن آن پہنچا۔ آپ سے صرف 400,000 روپے کا ہی انتظام ہوسکا تھا۔ آخری دن جمعہ تھا۔ اس دن آپ بہت پریشان تھے۔جمعہ کی ادائیگی کے بعد آپ بارڈر ایریا کے قریب کل موکل کے ایک کوٹ جس کا نام "کوٹ سندر سنگھ " تھا وہاں روانہ ہوئے جہاں پر آپ کا خطاب تھا ۔آپ جاتے ہوئے اور واپسی پر گاڑی میں اللہ کے حضور دعا گو تھے اور زارو قطار روتے رھے کے کہی سے 200,000 روپے کا انتظام ہوجائے۔جب آپ خطاب کے بعد واپس چونیاں اپنے مدرسہ پہنچے تو آپ کو پریشان حال دیکھ کر آپ کے شاگردوں نے پوچھا
"استاد محترم کتنے پیسے کم ہیں؟ جس پر آپ نے کہا " دولاکھ روپے کم ہیں" تو آپ کے شاگردوں نے کہا" استاد محترم آپ پریشان مت ہوں اللہ پاک نے آپ کی دعائیں قبول کر لی ہیں یہ لیجئے 200,000 روپے حاجی منیر نامی شخص جو موڑ کھنڈہ(بھائی پھیروں کا گاوں) سے آیا تھا دے گیا ھے۔اللہ پاک کی اس عنایت پر آپ ساری رات شکرانے کے نوافل ادا کرتے رھے۔اور اگلے دن فجر کی نماز کے بعد آپ ان کے گھر گئے جن سے مدرسہ کی جگہ خریدی تھی۔اور اسے چھ لاکھ روپے دیے۔ زمین مالک نے چھ لاکھ روپے میں سے مدرسہ کی تعمیر کیلیے 50,000 روپے واپس کر دیےاور اس طرح آپ نے مدرسہ کی تعمیر کا کام شروع کرایا۔آپ کے والد محترم نے آپ کا مدرسہ بنوانے میں بہت ساتھ دیا مگر 1999ء میں آپ کو زوردار جھٹکا لگا آپ کے والد محترم اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے۔اس کے بعد آپ کے بڑے بھائی رائے محمد عباس نے آپ کا بھرپور ساتھ دیا اور 4 سال بعد 2003ء میں وہ بھی دنیا فانی سے رخصت فرماء گئے۔
2005ء سے آپ جامع مسجد علی المرتضی ٹھوکر نیاز بیگ میں اپنے عزیز دوست محترم منظور شیخ کے کہنے پر جمعہ پڑھاتے رھے۔جس میں اہل علاقہ کثیر تعداد شرکت کرتے۔ 2010ء میں آپ کے دوست وفات پاگئے اور آپ مستقل تور پر اپنے مدرسہ میں ہی جمعہ پڑھانے لگے جو ابتک جاری ھے۔
آپ اپنی والد محترمہ سے درخوست کرتے تھے کہ وہ اللہ سے دعا کریں کہ ان کا بیٹا صحیح بخاری کا حافظ بن جائے جس پر آپ کی والد محترمہ فرماتیں بیٹا اللہ تجھے ضرور بخاری شریف کا حافظ بنائے گا مگر اس دن میں اس دنیا میں نہ رھوں گی ۔2018ء میں9 ماہ کی قلیل مدت میں آپ نے صحیح بخاری مکمل حفظ کر لی جو کہ 7563 احادیث پر مشتمل ھے۔ آپ کی والدہ محترمہ اس دنیا میں نہ تھی جس پر آپ بہت روئے تھے۔
صحیح بخاری زبانی حفظ کرنے کی خوشی میں آپ کی درج ذیل جگہوں پر تاج پوشی کی گئی۔
1۔جامع ابی بکر اہلحدیث الہ آباد روڈ جس میں ملک کے نامور علماء کرام تشریف فرماء ہوئے اور شیر پنجاب مولانا منظور احمد نے اپنے دست مبارک سے آپ کی تاج پوشی کی۔
2۔ محترم قاری افضل عزیزی جو والٹن لاہور کے ایک مدرسہ کے مہتمم انہوں نے آپ کے اعزاز میں شاندار جلسہ منعقد کیا اور آپکی تاج پوشی کی۔
3۔ قاری سیف اللہ عابد کے مدرسہ جو خانیوال میں ھے وہاں پر بھی آپ کی تاج پوشی کی گئی۔
آپ نے 7 دفعہ بافضل خدا عمرہ کی سعادت حاصل فرمائی۔اس دوران آپ کو متعدد جگہوں پر تبلیغ کا موقع ملا اور آپ گھنٹوں عربی زبان میں تبلیغ فرماتے۔2010ء میں آپ کو امام کعبہ جناب شیخ عبدالرحمن السدیس کے گھر میں 2 دفعہ ان کے ساتھ کھانا کھانے کا موقع ملا۔
1998ء سے لیکر ابتک آپ نے اندرون اور بیرون ملک دعوت و تبلیغ کے سلسلہ میں سفر کیا مگر کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلایا ۔آپ کے مدرسہ میں اللہ کے فضل سے 2 کروڑ روپے کی خطیر رقم لگی۔
آپ کے مدرسہ میں حفظ القران،ناظرہ القران،ترجمہ،تفسیرالقران،درس نظامی،وفاق المدارس کی تعلیم دی جاتی ھے۔آپ کے شاگردوں کی تعداد سینکڑوں میں ھے ۔
آپ کا آج کے نوجوانوں کو پیغام ھے کہ "جس طرح ہمارے علماء کرام نے اسلام کی سر بلندی کے لئے دعوت و تبلیغ کا کام کیا اسی طرح نوجوانوں کو بھی آگے آنا چاہیے ، اسی میں بہتری ھے اور اسی طرح انسان گناہ سے بچ سکتاھے اور گناہ سے بچ کر ھی دنیا بنائی جاتی ھے اور آخر سنواری جاتی ھے ۔
ایک واقعہ ہے کہ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ اپنے استاد محترم سے عرض کرتے ہیں کہ میں جو بھی یاد کرتا ھوں بھول جاتا ہوں" اس پر آپ کے استاد گرامی نے فرمایا۔
"بیٹا آپ گناہ چھوڑ دیں کیونکہ علم اللہ کا نور ھے اور نو گنہگاراور نافرمان کو نہیں ملتا۔
روشن ستارے آپ جیسے نیک سیرت اور عظیم انسان کو آپنی پوری ٹیم کیطرف سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔
والسلام
تحریر و تحقیق:ایڈیٹر روشن ستارے