27/07/2023
اللّه ! چترال اور کیلاش کو نظر بد سے بچائے !
ایک قریبی دوست نے سوال کیا کہ , " سیلاب کی خبروں , گھروں کے نقصانات سے مجھے ان پہاڑوں , دریاؤں اور حسین وادیوں کے باسیوں
کی فکر اور پریشانی کیوں ہونے لگتی ہے ?"
جواب میں ایک لمبی تفصیل بھی دل و دماغ میں ہے لیکن دو باتیں اسے بتائیں تو وہ بھی چترالیوں ککے دعائیں کرنے لگا .
میرا بیٹا دو سال پہلے انہی پہاڑوں میں بائیک پر گیا .. بہت سی مزے کی باتوں کے علاوہ , ایک بات مجھے نہیں بھولتی , وہ کہیں آرام کے لئے راستے میں رکا , ایک چھوٹے سے کھوکھا نما ہوٹل پر, مچھلی کا ریٹ پوچھا تو (کوئی نایاب قسم) , بہت مہنگی تھی , اس نے " دال " کا آرڈر دیا .. بائیک کھڑی کرکے گھومنے نکل گیا , واپس آیا تو کھانا تیار تھا . فرائی مچھلی خاصی مقدار میں گرم گرم رکھی تھی . کہتا ہے کہ خیال تو آیا کہ ہوٹل والے کو یاد دلاؤں کہ یہ میرا آرڈر نہیں تھا , لیکن خاموش ہوگیا کہ چلو سیر کو آیا ہوں برداشت کروں .. جب کھانا کھا چکا , چائے پی لی ,
پیسے دینے لگا تو ہوٹل والے نے دو سو روپے مانگے , مجھے لگا بھول گیا ہے , تو یاد دلایا کہ "مچھلی آپ نے مہنگی بتائی تھی " ہوٹل والا بولا " آپ مہمان ہو , آپ نے مہنگی جان کر کھانے کا ارادہ بدلا تو مجھے اچھا نہیں لگا ... یہ میری طرف سے ہے " میرا بیٹا اسکے جواب پر بہت حیران اور جذباتی سا ہوگیا .. انتہائی منت سماجت کرکے ہوٹل والے کو پیسے دیئے جو اس نے پھر بھی کم لئے ....
لوگ ہزار باتیں کریں ....
میرا نومبر 2022 کا اپنا بھی تجربہ ایسا ہی خوشگوار تھا . پامیر ہوٹل چترال کا سٹاف , بغیر کسی تعلق واسطے کے فتح الملک علی ناصر کے چترال قلعہ کے منتظمین کی محبت , چترال کے بازاروں میں ہوٹلوں اور دکانداروں کا رویہ , اسٹیڈیم کے نیچے ایک چترالی بزرگ نے فجر کی نماز کے بھد چائے کے پیسے لینے سے انکار کر دیا , ناشتے کے زبردستی دئے ,
چترال قلعہ کے بلکل سامنے البستان ریسٹورینٹ کے مالک نے بل لینے سے انکار کردیا ...
آیون ویلی کے لوگ محبت سے پیش آئے , بمبوریت میں جہاں ٹھہرے وہ ہوٹل والے مہربان , بمبوریت چوک میں جہاں کھانا کھاتے رہے , وہاں بلکل فیملی والا ماحول ملا ,
حالانکہ ہم اس سفر میں صرف دو دوست, میں اور میرے کالج فیلو شکیل خان تھے ,
کیلاش ہوٹل کے سٹاف عارف بھائی سے تو ایک رشتہ سا بن گیا ..
مختصر یہ کہ مجھے پورے چترال اور کیلاش کے ٹور میں کوئی ایسا واقعہ , کوئی ایسا رویہ دیکھنے کو نہیں ملا جس پر ناگواری محسوس ہوئی ہو .
میں ریڈیو پریزنٹر بھی ہوں , چترال ایف ایم 97 , کو کال کرکے وہاں جانے کی خوائش کا اظہار کیا تو انہوں نے بہت اشتیاق و اخلاق سے دعوت دی لیکن وقت کی کمی سے نہ جاسکا ...
چترال ٹورزم ڈیپارٹمنٹ کو دفتر , معلومات کیلئے گئے تو انہوں نے رہنمائی اور میزبانی کا حق ادا کیا ... عام انسان , مجھ جیسا عام انسان , عام سی گاڑی پر , اگر چترال اور کیلاش میں اتنی حسین یادیں , اپنائیت والے رویے , محبتیں سمیٹ کر لوٹے گا تو ان مہربانوں کی فکر , ایک قدرتی بات ہے .
رب کریم , حالیہ سیلاب اور اسکی تباہ کاریوں اور ہر قسم کی قدرتی آفات سے محفوظ رکھے . میری
پرخلوص ,دلی دعائیں ہمیشہ چترالی بہن بھائیوں بزرگوں اور بچوں کیساتھ ہیں .
امجد اقبال ملک