Arz-e-Chiniot

Arz-e-Chiniot ♥️✨چنیوٹ اک عشق✨♥️

23/08/2026

“Lakshmi Narain Mandir is more than an old structure—it is a living chapter of the city’s rich, diverse heritage, where history still speaks through every wall and detail.”

With Syed Ali Bukhari ( Film 🎥 & TV Director )
15/08/2026

With Syed Ali Bukhari ( Film 🎥 & TV Director )

IN SHA ALLAH✌🏻♥️Humble request for your support. fans
06/08/2026

IN SHA ALLAH✌🏻♥️
Humble request for your support.
fans

♥️
29/07/2026

♥️

Humans of Chiniot | #04
Syed Ali Zaidi 💞💫
( Founder of Arz-e-Chiniot )

ہر شہر کی ایک پہچان ہوتی ہے، لیکن اس پہچان کو دنیا کے سامنے لانے والے لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔ سید علی زیدی بھی انہی لوگوں میں سے ایک ہیں، جنہوں نے اپنے شہر سے محبت کو صرف الفاظ تک محدود نہیں رکھا بلکہ اپنے کیمرے کے ذریعے چنیوٹ کی تاریخ، ثقافت اور خوبصورتی کو دنیا تک پہنچانے کا بیڑا اٹھایا۔

میں کافی عرصے سے "ارضِ چنیوٹ" کی ویڈیوز دیکھ رہا تھا۔ ہر نئی ویڈیو کے ساتھ چنیوٹ کا ایک نیا روپ سامنے آتا تھا۔ کبھی صدیوں پرانی حویلی، کبھی لکڑی کی حیران کن نقش و نگاری، کبھی ایسے دروازے اور کھڑکیاں جنہیں شاید ہم میں سے بہت سے لوگوں نے بھی پہلے کبھی غور سے نہیں دیکھا تھا۔ تب ہی میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اس کام کے پیچھے موجود شخصیت کو ضرور سراہا جانا چاہیے۔ اسی لیے آج سید علی زیدی کی کہانی Humans of Chiniot کے ذریعے آپ سب کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ "ارضِ چنیوٹ" بنانے کا ابتدا میں ان کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ انہیں صرف فوٹوگرافی اور ویڈیوگرافی کا شوق تھا۔ ایک دن انہوں نے شوقیہ انداز میں ایک سوشل میڈیا پیج بنایا اور چنیوٹ کی پہلی ویڈیو اپ لوڈ کی۔ لوگوں نے اس ویڈیو کو بے حد پسند کیا، خوب سراہا اور حوصلہ افزائی کی۔ یہی حوصلہ افزائی ایک خوبصورت سفر میں بدل گئی، اور پھر "ارضِ چنیوٹ" صرف ایک پیج نہیں رہا بلکہ چنیوٹ کی تاریخ، ثقافت اور ورثے کی آواز بن گیا۔

آج ان کی ویڈیوز لاکھوں لوگوں تک پہنچ چکی ہیں، کئی ویڈیوز نے ملین ویوز حاصل کیے، اور پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک سے لوگوں نے چنیوٹ کی خوبصورتی، فنِ تعمیر اور تاریخی ورثے کو سراہا۔ ان کے کام کو مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات اور سرکاری حلقوں میں بھی پسند کیا گیا اور شیئر کیا گیا۔

سید علی زیدی کا کہنا ہے کہ تقسیمِ ہند سے پہلے چنیوٹ میں بننے والے گھر، لکڑی کے دروازے، کھڑکیاں اور نقش و نگاری آج بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ اس معیار کا فنِ تعمیر آج دوبارہ تخلیق کرنا انتہائی مشکل ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ہم اپنے اس قیمتی ورثے کی حفاظت اس طرح نہیں کر سکے جس کا وہ حق رکھتا تھا۔ اسی احساس نے انہیں مزید محنت کرنے پر آمادہ کیا تاکہ لوگ اپنے شہر کی اصل پہچان کو جانیں، اس پر فخر کریں اور اس کی حفاظت کی اہمیت کو سمجھیں۔

چنیوٹ کو " Land of Heritage " کہا جاتا ہے، اور سید علی زیدی نے اپنے کیمرے کے ذریعے اس ورثے کو نئی زندگی دی ہے۔ ان کی ویڈیوز نے نہ صرف پرانی عمارتوں کو دوبارہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنایا بلکہ نئی نسل کو بھی اپنی تاریخ، ثقافت اور فنِ تعمیر سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔

پیشہ ورانہ طور پر سید علی زیدی ادویات کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ وہ میڈیسن کی خرید و فروخت، کمپنیوں اور ڈسٹری بیوٹرز کے ساتھ کام کرنے کے ساتھ ساتھ آرڈر پر بعض مصنوعات کی مینوفیکچرنگ بھی کرواتے ہیں۔ مگر اپنے مصروف پیشے کے باوجود انہوں نے اپنے شہر کے لیے وقت نکالا اور یہ ثابت کیا کہ اگر انسان اپنے شہر سے سچی محبت کرے تو وہ اپنے شوق کو بھی ایک خدمت میں بدل سکتا ہے۔

Humans of Chiniot کی جانب سے سید علی زیدی کو خراجِ تحسین، جنہوں نے اپنے کیمرے سے صرف ویڈیوز نہیں بنائیں، بلکہ چنیوٹ کی تاریخ، ثقافت اور ورثے کو دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچایا، تاکہ آنے والی نسلیں بھی اپنے شہر کی اصل خوبصورتی سے واقف رہیں۔

اگر آپ بھی چنیوٹ کی اصل خوبصورتی، تاریخی عمارتوں، ثقافت اور پوشیدہ مقامات کو دیکھنا چاہتے ہیں تو "Arz-e-Chiniot" کو ضرور فالو کریں۔ ایک فالو نہ صرف اس محنت کی حوصلہ افزائی ہوگا بلکہ اپنے شہر کے ورثے سے جڑنے کا بھی ایک خوبصورت ذریعہ بنے گا۔

https://www.instagram.com/arz_e_chiniot?igsh=MXZwM2YzOWl2ZHQ1bQ==

یہ صرف ایک عمارت کی پچھلی دیوار نہیں، بلکہ چنیوٹ کی صدیوں  پرانی تہذیب کا خاموش باب ہے، جہاں ہر محراب ایک داستان سناتی ہ...
16/07/2026

یہ صرف ایک عمارت کی پچھلی دیوار نہیں، بلکہ چنیوٹ کی صدیوں پرانی تہذیب کا خاموش باب ہے، جہاں ہر محراب ایک داستان سناتی ہے۔عمر حیات محل کا وہ رخ، جسے بہت کم لوگوں نے دیکھا ہے ، مگر جس کی خوبصورتی اور فنِ تعمیر آج بھی دیکھنے والوں کو حیران کر دیتا ہےوقت کی گرد نے رنگ ضرور ماند کیے، مگر فنِ تعمیر کی عظمت آج بھی پوری شان سے قائم ہے۔ہر اینٹ، ہر محراب اور ہر نقش یہ گواہی دیتا ہے کہ چنیوٹ کا فن کبھی معمولی نہیں تھا۔خاموش دیواریں بھی تاریخ بولتی ہیں، بس سننے والا چاہیے۔
عمر حیات محل کا عقبی حصہ بھی اتنا ہی شاندار ہے جتنا اس کا مرکزی رخ۔ یہ چنیوٹ کے بے مثال فنِ تعمیر کی زندہ علامت ہے۔یہ کھڑکیاں آج بھی ماضی کی سانسیں سناتی ہیں، اور ہر محراب اپنے سنہری دور کی گواہ ہے۔یہ صرف ایک محل نہیں، چنیوٹ کے فن، ثقافت اور تاریخ کا وہ شاہکار ہے جو ہر زاویے سے اپنی عظمت بیان کرتا ہے۔جو لوگ صرف سامنے کا حسن دیکھتے ہیں، وہ اس تاریخی شاہکار کی اصل گہرائی سے محروم رہ جاتے ہیں۔عمر حیات محل کا ہر گوشہ، ہر زاویہ اور ہر نقش اس سرزمین کے عظیم معماروں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔
یہ ورثہ ہماری شناخت ہے، آئیے اسے محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ✨♥️
fans
Directorate General of Archaeology, Punjab
Maryam Nawaz Sharif

15/07/2026

“C H I N I O T ik I S H Q”✨♥️

زمانے بیت گئے، شان مگر باقی ہے،یہ مغلیہ مسجد ہے، پہچان مگر باقی ہے۔
14/07/2026

زمانے بیت گئے، شان مگر باقی ہے،
یہ مغلیہ مسجد ہے، پہچان مگر باقی ہے۔

27/06/2026

“Labaik Ya Hussain | 10th Muharram 2026”

fans

19/06/2026

The Shehnai is a traditional wind instrument of South Asia, especially associated with India, Pakistan, Bangladesh, and Nepal. It is believed to have evolved from the pungi, a folk reed instrument, and has been played for centuries at royal courts, religious ceremonies, and festive occasions.

The name “Shehnai” is often said to come from the words “Shah” (king) and “Nai” (barber or court musician), referring to musicians who played the instrument in royal courts, although this explanation is based on tradition rather than confirmed historical evidence.

Address

Chiniot
Chiniot
34500

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Arz-e-Chiniot posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share