Dil Ka Jani

Dil Ka Jani Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dil Ka Jani, Photographer, Bhera.

SHARIQ ADVERTISER CHAK MUBARAK 0301-61599140345-1068450
10/09/2024

SHARIQ ADVERTISER CHAK MUBARAK
0301-6159914
0345-1068450

01/04/2024

Photographer

نوجوان لڑکوں کی شادی کا مسئلہ اٹھایا تو یونیورسٹی کی ایک سٹوڈنٹ کا میسج آیا۔ وہ اسی کی زبانی بیان کر دیتا ہوں۔ اس کا کہن...
31/03/2024

نوجوان لڑکوں کی شادی کا مسئلہ اٹھایا تو یونیورسٹی کی ایک سٹوڈنٹ کا میسج آیا۔ وہ اسی کی زبانی بیان کر دیتا ہوں۔ اس کا کہنا تھا:
لڑکے اپنی شادی کا رونا رو رہے ہیں حالانکہ وہ جب چاہیں جیسے چاہیں جس کے سامنے چاہیں اپنی شادی کی بات کر سکتے ہیں۔ والدین، دوست، رشتہ دار یہاں تک کہ فیس بک پر بھی اپنی شادی کی بات کھلے عام کر دیتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کا مرد مکمل طور پر بااختیار ہے۔ لیکن نوجوان لڑکی اپنی شادی کا کھلے عام تو کیا، اشاروں کنایوں میں بھی ذکر نہیں سکتی۔ حالانکہ جتنی ضرورت مرد کو شادی کی ہے۔ بالکل اتنی ہی عورت کو بھی ہوتی ہے۔ اب لڑکے اپنی شادی کی بات کر کے کم از کم اپنی فرسٹیشن تو نکالتے رہتے ہیں لیکن لڑکیاں تو وہ بھی نہیں کر سکتی ہیں۔ اسی وجہ سے ناجائز تعلقات میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
لڑکیوں کو لگتا ہے کہ جہیز اور دوسری معاشی و معاشرتی پابندیوں کی وجہ سے یہ ناجائز تعلقات ایک آسان راستہ ہے۔ پھر اس معاشرے کا مرد شوہر بن کر جو پابندیاں لگاتا ہے وہ بوائے فرینڈ بن کر کبھی نہیں لگاتا۔ والدین بھی اکثر یہ کہہ کر رشتہ ٹھکرا دیتے ہیں کہ ہماری بیٹی ابھی پڑھ رہی ہے اور لڑکی اس پر بول بھی نہیں سکتی کہ میری ضرورت ہے، پڑھائی میں جاری رکھوں گی مگر میری شادی کر دیں۔
پڑھائی ضروری ہے لیکن شادی سے جسمانی ضرورت جائز طریقے سے پوری ہونی ہے اور پڑھائی اس میں رکاوٹ نہیں ہے۔ والدین اکثر یہ بھی کہہ دیتے کہ میری بیٹی تو شریف ہے وہ تو کبھی ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔ تو شریف بیٹی کی ضرورت نہیں ہے؟ بلوغت کے بیسں سال بعد تک بھی اس کی ضرورت جائز طریقے سے پوری نہیں ہوگی تو وہ
شرافت کب تک سنبھال پائے گی؟ اگر والدین صرف ایک بار کسی بھی گرلز ہاسٹل میں آکر حالات دیکھ لیں تو اندازہ ہو جائے کہ ہماری نوجوان نسل کیا کر رہی ہے۔
اکثر والدین تو سرکاری یونیورسٹیوں کے ہاسٹلز میں اپنی بیٹیوں کو چھوڑ کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ سرکاری یونیورسٹی ہے، سرکاری ہاسٹلز ہیں کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ ٹھیک ہے سرکاری یونیورسٹیوں میں مغرب . پہلے واپس آنا ہوتا لیکن دن نکلنے مغرب تک کیا کم وقت ہوتا ہے؟ معلوم کروایا کہ آپ کی بیٹی نے کتنی کلاسز لی ہیں؟ آپ کی بیٹی یقیناً شریف ہو گی لیکن یونیورسٹی کے آس پاس ریسٹورنٹس اور ہوٹلز نوجوان لڑکے لڑکیوں سے بھرے ہوتے ہیں، یقیناً وہ بھی آپ میں سے ہی کسی نہ کسی کی بیٹیاں ہی ہیں، وہ لڑکیاں لڑکے کسی دوسرے سیارے کی مخلوق تو ہیں نہیں۔ والدین کبھی اس بات پر ہی غور کر لیں کہ یونیورسٹیوں کے نزدیک ہوٹلز کا کرایہ پورے دن کی بجائے گھنٹوں کی صورت میں کیوں ہوتا ہے... تو صرف یہی بات ان کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہوگی۔ سرکاری ہاسٹلز میں گھر جاتے ہوئے تو فون پر بات کرواتے اور پھر جانے دیتے لیکن کبھی آتے ہوئے بھی فون کر کے معلوم کروایا کہ آپ کی بیٹی آج رات ہاسٹل پہنچی یا نہیں۔
میں اچھے سے جانتی ہوں کہ اکثر لڑکیوں نے جب بھی کہیں جانا ہو تو پہلے گھر چلی جاتی ہیں اور پھر واپسی پر ہاٹل آنے کی بجائے اپنے پروگرام پورے کر کے دو چار دن کے بعد ہی ہوسٹل آتی ہیں۔ جب بیٹیاں گھر سے ہوسٹل آئیں تو بیٹی سے کال کر کے پوچھنے کے ساتھ ساتھ ایک بار شام کو ہوسٹل بھی کال کر کے پوچھ لیں کہ بیٹی ہوسٹل پہنچ گئی پھر کلاس کے ٹورز کے نام پر گھر سے اجازت لی جاتی ہے اور ہاسٹل سے اجازت لی جاتی ہے لیٹ آنے کی یا پھر ایک دو دن کے بعد آنے کی لیکن کبھی ڈیپارٹمنٹ سے بھی پوچھا کہ کیا واقعی کلاس کا کوئی ٹور گیا بھی ہے یا نہیں۔
اگر ایسی کوئی بات معلوم ہو جائے تو آپ کی پابندیاں لگانے سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ آپ کی آنکھوں پر بندھی پٹی شاید اتر جائے کہ جوان اولاد کو صرف پیسے دے دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ شادی کی صورت میں ان کی ایک جائز ضرورت اور بھی ہے.!!
جسے اگر جائز طریقے سے پورا نہیں کریں گے تو پھر وہ اپنے راستے خود نکال لیں گے۔
پانی سے ہی کچھ سیکھ لیں کہ اگر اسے آپ راستہ دیں گے تو وہ اسی راستے پر چلے گا جو آپ نے اسے دیا ہو گا لیکن اگر آپ بندھ باندھ دیں گے تو کچھ وقت تو آپ اسے روک سکتے ہیں لیکن پھر وہ کہیں نہ نہیں سے ادھر ادھر بہنا شروع ہو جائے گا۔ پھر آپ جتنی بھی کوشش کرتے رہے وہ آپ کے قابو میں نہیں رہنا۔ نکاح کو آسان کریں اور بلوغت کے فوراً بعد نکاح کو رواج دیں۔ لڑکیوں کے لیے تو برسر روزگار ہونا بھی شرط نہیں ہے کیونکہ ان پر کوئی معاشی ذمہ داری ہی نہیں ہے ۔
اللّٰہ تعالیٰ آج کل کے والدین کو کچھ سوچنے کی توفیق دے۔آمین

19/05/2023

‏عورت کیلئے شادی کیوں ضروری ھے؟

ایک عورت ماھر نفسیات کے پاس گئی اور کہا میں شادی نہیں کرنا چاھتی کیونکہ میں پڑھی لکھی ھوں، خود کماتی ھوں اور خود مختار ھوں اس لئے مجھے خاوند کی ضرورت نہیں ھے مگر میں بہت پریشان ھوں کیونکہ میرے والدین شادی کیلئے دباؤ ڈال رھے ھیں۔

میں کیا کروں؟

ماھر نفسیات نے کہا بےشک تم نے بہت کامیابیاں حاصل کرلی ھیں لیکن بعض دفعہ تم کوئی کام کرنا چاھو مگر نا کر سکو
کبھی تم سے کوئی غلطی ھو جائے
کبھی تم ناکام ھو جاؤ
کبھی تمہارے پلان ادھورے رہ جائیں
کبھی تمہاری خواھشیں پوری نہ ھوں
تب تم کس کو قصوروار ٹھہراؤ گی؟

کیا اپنے آپ کو قصوروار ٹھہراؤ گی؟

لڑکی: نہیں بالکل نہیں

ماہر نفسیات: کیا اپنے والد یا بھائی کو قصور وار ٹھہراؤ گی؟

لڑکی: بالکل بھی نہیں

ماھر نفسیات: بالکل یہی وجہ ھے کہ تمہیں ایک خاوند کی ضرورت ہے جسے اپنی غلطیوں اور ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھہرا سکو۔۔🤣

06/08/2017

ایک بزرگ اللہ والے جا رہے تھے سردی کا موسم تھا‘ بارش بھی تھی‘ سامنے سے میاں بیوی آ رہے تھے‘ ان بزرگ کے جوتے سے ایک دو چھینٹیں اڑیں او رعورت کے کپڑوں پر جا گریں۔ خاوند نے جب دیکھا تو اسے بڑا غصہ آیا‘ کہنے لگا تو اندھا ہے تجھے نظر نہیں آتا۔جاری...

06/08/2017

Police Jobs 2017 Police Jobs in Pakistan 2016 Apply Punjab Sindh KPK ICT Police We provide complete information about, how to join Punjab Police, KPK Police, Sindh and Balochistan Police in 2016 as, ASI (Assistant Sub Inspector), SI (Sub Inspector), DSP (Deputy Superintendent of Police) and Constab...

06/08/2017

Atomic Energy Jobs 2017 Pakistan Atomic Energy Commission Islamabad PAEC Jobs 2017 Latest Advertisement Pakistan Atomic Energy Commission also known as PAEC is One of Pakistan highly paid and most efficient Federal government organization. It has various Projects across the country and most times it...

06/08/2017

Address

Bhera

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dil Ka Jani posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category