16/11/2025
*سورة البقرة آية*:256
لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ.
*لفظی ترجمہ*
لَا: نہیں
إِكْرَاهَ: زبردستی
فِي: میں
الدِّينِ: دین
قَدْ تَبَيَّنَ: یقیناً جُدا ہو گئی
الرُّشْدُ: ہدایت
مِنَ: سے
الْغَيِّ: گمراہی
فَمَنْ: لہٰذا جو
يَكْفُرْ: نہ مانے
بِالطَّاغُوتِ: طاغوت (گمراہ کرنے والے) کو
وَيُؤْمِنْ: اور ایمان لائے
بِاللَّهِ: اللّٰه تعالیٰ پر
فَقَدِ: پس بتحقیق
اسْتَمْسَكَ: اُس نے تھام لیا
بِالْعُرْوَةِ: رسی کو
الْوُثْقَى: مضبوط
لَا انْفِصَامَ: ٹوٹنا نہیں
لَهَا: اُسے
وَاللَّهُ: اور اللّٰه تعالیٰ
سَمِيعٌ: سُننے والا
عَلِيمٌ: جاننے والا
*با محاورہ ترجمہ*
"دین میں زبردستی نہیں ہے یقیناً ہدایت گمراہی سے جدا ہو گئی، لہذا جو نہ مانے گمراہ کرنے والے کو، اور اللّٰه تعالٰی پر ایمان لائے،پس بتحقیق اس نے تھام لیا مضبوط رسی کو، اُسے ٹوٹنا نہیں ہے، اور اللّٰه تعالیٰ سننے والا، جاننے والا ہے"
*مختصر وضاحت*
اس آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہدایت اور گمراہی کی راہیں بالکل واضح ہیں اور کسی بھی زمانے میں کوئی بھی باشعور انسان یہ عذر پیش نہیں کر سکتا کہ اس کے لیے ہدایت کا سامان مہیا نہیں کیا گیا، یا گمراہی کی علامات کی نشاندہی نہیں کی گئی، کیونکہ کوئی بھی زمانہ وقت کے ہادی یا ان کی تعلیمات سے خالی نہیں رہا، لہذا انبیاء کرام علیہم السلام، آئمہ علیہم السلام، آسمانی کتابوں اور علماء کے ذریعے ہمیشہ ہدایت اور گمراہی کو واضح کیا جاتا رہا ہے، لہٰذا جو شخص بھی طاغوت اور اس کی سازشوں کے مد مقابل آ کر اس کی گمراہ کن افکار کا انکار کرے اور اللّٰه اور اس کے احکامات پر ایمان رکھتے ہوئے اپنی زندگی کو اس کی راہ کے مطابق ڈھال لے تو یقیناً اس نے راہِ خدا کی ایسی مضبوط کَڑی کو تھام لیا ہے کہ جس کے اتصال کا ٹوٹنا ناممکن ہے، اور اللّٰه تعالٰی انسان کی ہر صدا کو سننے والا اور اس کے دل کی گہرائیوں تک موجود سوچ اور افکار کو جاننے والا ہے،
واضح رہے کہ کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے، اس معنی میں ہے کہ دین میں واجب یا حرام کاموں کے لیے کوئی زبردستی نہیں ہے، جبکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ واجب اور حرام کام کی خلاف ورزی کرنے پر سزا کی وعید سنائی گئی ہے اور یقیناً ان کی اطاعت پر سختی سے کام لیا گیا ہے لہٰذا دین میں زبردستی نہ ہونے کا مطلب دین کو اختیار کرنے میں زبردستی نہ ہونا ہے یعنی انسان، دین اور ہدایت واضح ہو جانے کے بعد بھی اگر اسے اختیار نہ کرنا چاہے تو اس پر زبردستی نہیں کی جائے گی بلکہ اس چیز کی سزا قیامت کے دن وہ خود بھگتے گا،صبح بخیر ملتمس دعا"