01/06/2026
A nice initiative by one of our followers. Follow Rohail Khan for his life changing experience of traveling from Pakistan to Europe:
https://www.facebook.com/share/p/198fTKr6xG/
رُوحیل خان کی آپ بیتی
حصہ صفر: شروعات سے پہلے کی بات
میرے پاس ایک پرانی ڈائری ہے۔
دراصل ڈائریاں ہیں — گیارہ۔ مختلف سائز، مختلف رنگ، مختلف شہروں سے خریدی ہوئی۔ ایک اسلام آباد کے ایک عام سے اسٹیشنری شاپ سے — جس کا سرورق اب پھٹ چکا ہے۔ ایک پیرس کے ایک فلی مارکیٹ سے — چمڑے کی جلد، سونے کے حروف۔ ایک بارسلونا سے، ایک پراگ سے، ایک استنبول کی ایک تنگ گلی کی دکان سے جہاں بوڑھے دکاندار نے مجھے چائے پلائی تھی بغیر مانگے۔
ان سب میں لکھا ہے — میری زندگی۔
بچپن سے لکھتا آیا ہوں۔ نہیں معلوم کب شروع ہوا یہ سلسلہ۔ شاید جب پہلی بار محسوس ہوا کہ کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو کسی کو بتائی نہیں جا سکتیں — لیکن کہیں نہ کہیں لکھی ضرور جانی چاہئیں۔ ورنہ وہ اندر ہی اندر دب جاتی ہیں اور آدمی کو بھاری کر دیتی ہیں۔
تو میں لکھتا رہا۔
میرا نام روحیل خان ہے۔
عمر پینتیس سال۔ پیرس میں رہتا ہوں — سولہ سال سے۔ اسلام آباد کا ہوں، شہزاد ٹاؤن والا۔ وہاں سے نکلا تھا انیس سال کی عمر میں — ایک نیلا بیگ، ایک Erasmus Mundus اسکالرشپ، اور ایک ایسا دل جو بڑے خواب دیکھتا تھا لیکن جس نے دنیا کا کچھ بھی نہیں دیکھا تھا۔
آج وہی دل پینتیس سال کا ہو چکا ہے۔
بہت کچھ دیکھ چکا ہے۔ بہت کچھ جھیل چکا ہے۔ بہت کچھ پا چکا ہے — اور بہت کچھ کھو بھی چکا ہے۔
تو پھر اب کیوں؟
یہ سوال میں نے خود سے کئی بار پوچھا۔
گیارہ ڈائریاں بند پڑی ہیں۔ وہ میری ہیں، میرے لیے لکھی گئی ہیں۔ لیکن پچھلے کچھ عرصے سے ایک خیال آتا رہا — کہ شاید یہ کہانی صرف میری نہیں ہے۔
شاید یہ اُس ہر لڑکے کی کہانی ہے جو کسی چھوٹے گھر میں بڑے خواب لے کر پیدا ہوا۔ جس نے پہلی بار گھر سے دور قدم رکھا تو ٹانگیں کانپی تھیں۔ جس نے پردیس میں خود کھانا بنانا سیکھا، خود رونا سیکھا، خود سنبھلنا سیکھا۔
شاید یہ اُس ہر پاکستانی نوجوان کی کہانی ہے جو باہر نکلنا چاہتا ہے — لیکن نہیں جانتا کہ باہر کیا ملتا ہے، کیا کھوتا ہے، کیسا لگتا ہے۔
تو میں نے فیصلہ کیا — لکھوں گا۔ کھل کر لکھوں گا۔
یہ آپ بیتی ہوگی — میری اپنی۔
اس میں وہ سب ہوگا جو زندگی نے دیا — اچھا بھی، برا بھی۔ خوبصورت لمحے بھی، شرمناک غلطیاں بھی۔ دوستیاں بھی، دھوکے بھی۔ محبتیں بھی، جدائیاں بھی۔ وہ راتیں بھی جب پیرس جنت لگا، اور وہ صبحیں بھی جب اجنبی شہر میں اکیلا بیٹھ کر صرف امّی کی آواز سننا چاہی۔
میں کوئی بڑا آدمی نہیں ہوں۔ کوئی مشہور نہیں، کوئی کامیاب کاروباری نہیں — بس ایک عام انسان جس نے غیرمعمولی زندگی جی۔ اور جو کچھ جیا — اسے لفظوں میں ڈھالنے کی ہمت اب آئی ہے۔
ڈائری لکھنا اور دنیا کو پڑھانا — دونوں میں بہت فرق ہوتا ہے۔ ڈائری میں آپ بے خوف ہوتے ہیں کیونکہ کوئی نہیں دیکھتا۔ یہاں — آپ دیکھ رہے ہیں۔ اور یہی خوف مجھے مجبور کرتا رہا کہ رکو، ابھی نہیں۔
لیکن اب نہیں رکوں گا۔
یہ کہانی کئی حصوں میں آئے گی۔
شروع ہوگی وہاں سے — اسلام آباد کی اُن گلیوں سے جہاں میں پلا بڑھا، اُس گھر سے جہاں پانچ بہن بھائی ایک چھت تلے رہے، اُن ابّو سے جن کا قلم ہمیشہ چلتا رہا، اُن امّی سے جن کی دعائیں آج بھی میرے ساتھ چلتی ہیں۔
اور پھر آگے بڑھے گی — پیرس تک، یورپ تک، اُن شہروں تک جن کے نام میں نے بچپن میں کتابوں میں پڑھے تھے اور سوچا تھا کہ یہ بس کہانیوں میں ہوتے ہیں۔
یہ سفر صرف جغرافیائی نہیں ہے۔
یہ اندر کا سفر بھی ہے۔
اگر آپ میرے ساتھ چلنا چاہتے ہیں — تو چلیے۔
کوئی ٹکٹ نہیں لگتا۔ بس پڑھتے رہیے۔
میں لکھتا رہوں گا۔
روحیل خان
پیرس، فرانس
مئی 2026