19/07/2026
یقین کریں کہ میں پہلی بار سعودی عرب آیا ہو اور سعودی پردیسیوں کے لیے ایک ایسا ملک ہے جہاں مسافروں کو ہر روز ہزار مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے جسمیں میں سب سے زیادہ کام کا نہ ملنا، تنخواہ کا تین، چار مہینے نہ ملنا وغیرہ وغیرہ.
لیکن جب سے میں سعودی عرب آیا ہوں، کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ اپنے وطن سے دور ہوں، کیونکہ روزانہ ماں باپ، بیوی بچوں اور اپنے پیاروں کی آواز سن لیتا تھا۔ مگر کئی دنوں سے بنوں میں نیٹ ورک بند ہے، نہ گھر والوں کا حال معلوم ہوتا ہے اور نہ ہی اپنی خیریت ان تک پہنچا سکتے ہیں۔
قسم سے، دن سالوں جیسے لگنے لگے ہیں۔ ہم پردیسی ہر چند منٹ بعد موبائل اٹھا کر دیکھتے ہیں کہ شاید نیٹ ورک بحال ہو گیا ہو، مگر ہر بار مایوسی ہی ہاتھ آتی ہے۔
پاکستانی حکومت سے گزارش ہے کہ باقی معاملات اپنی جگہ، لیکن پردیس میں رہنے والوں کے لیے کم از کم رابطے کا یہ واحد سہارا بحال کر دیں۔ 12 گھنٹے کی ڈیوٹی کے بعد جب انسان اپنے گھر فون کرتا ہے تو ساری تھکن اتر جاتی ہے، مگر اب وہ سکون بھی ہم سے چھین لیا گیا ہے۔
پردیسیوں کو اگر مزید سکون نہیں دے سکتے تو کم از کم یہ چھوٹی سی خوشی تو نہ چھینیں۔ انہی پردیسیوں کی محنت اور بھیجی گئی رقوم سے ہر ماہ ملک میں زرمبادلہ آتا ہے، گھر چلتے ہیں اور معیشت کو سہارا ملتا ہے۔ ہمارے پاس اپنے پیاروں کی آواز سننے کے علاوہ اور کیا ہے؟
ہم صرف اتنی گزارش کرتے ہیں کہ نیٹ ورک جلد از جلد بحال کیا جائے تاکہ ہزاروں پردیسی اپنے والدین، بیوی بچوں اور خاندان والوں کی خیریت جان سکیں۔
اللہ تعالیٰ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ 💔
#پشتونخواہ #امن #بنوں
Deputy Commissioner Bannu
Bannu Media