16/08/2026
بونیر میں کھاد کی کھلم کھلا اسمگلنگ — دفعہ 144 کا مذاق!
4750 روپے والی کھاد بونیر کے غریب زمینداروں کو 7000 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق رات کی تاریکی میں مردان سے کھاد چیک پوسٹوں اور پولیس چوکیوں سے باآسانی گزر کر بونیر پہنچ رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر دفعہ 144 نافذ ہے تو پھر یہ کھاد آخر کس کی اجازت اور کس کی سرپرستی میں داخل ہو رہی ہے؟
یہ صورتحال صرف چند افراد کی منافع خوری نہیں بلکہ غریب کسانوں کے ساتھ کھلی زیادتی ہے۔ اگر چیک پوسٹیں موجود ہیں، پولیس اہلکار تعینات ہیں اور دفعہ 144 نافذ ہے، تو پھر اسمگلنگ روکنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟
بونیر پولیس اور متعلقہ انتظامیہ کو اس معاملے کا فوری نوٹس لینا چاہیے، رات کے وقت کھاد کی نقل و حرکت کی مکمل نگرانی کرنی چاہیے اور 4750 روپے کی کھاد 7000 روپے میں فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔
دفعہ 144 صرف کاغذوں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی طور پر نافذ کی جائے، ورنہ یہ قانون نہیں بلکہ غریب کسانوں کے ساتھ ایک مذاق بن کر رہ جائے گا۔