21/03/2026
عید کا دن تھا، گھر میں ہر چیز اپنی جگہ پر تھی—صحیح وقت پر چولہا جلتا رہا، بچوں کی آوازیں صحن میں گونجتی رہیں، دسترخوان پر وہی پکوان جو ہر سال امید بن کر آتے ہیں۔ بڑوں کے ہاتھ دعا کے لیے اٹھے، پڑوس سے مبارکبادیں آئیں، تصویریں بنیں، اور دن اپنے معمول کے مطابق گزر گیا۔ مگر میرے حصے میں صرف خاموشی آئی۔ گھر سے دوربیٹھا میں ہر گھنٹی کو سنتا رہا جیسے وہ میرا نام لے گی، مگر فون خاموش رہا۔ نہ کوئی خیریت پوچھنے والا، نہ ایسا لفظ جو یہ احساس دلائے کہ میرے ہونے سے کسی کے دن میں فرق پڑتا ہے۔
دوپہر ڈھلی تو احساس ہوا کہ یہ خلا صرف کال کا نہیں—یہ اس بات کا ہے کہ روزمرہ کی مصروفیت میں کچھ رشتے صرف عادت بن جاتے ہیں، ضرورت نہیں رہتے۔ ہم دعوتوں اور تقریبات میں یاد آتے ہیں، لیکن تنہائی میں نہیں۔ شاید گھر والوں کے لیے میں اب صرف ایک تصویر ہوں، جو عید کے دن فریم میں دھندلا گئی۔
پھر بھی دل میں شکوہ نہیں، دعا ہے: اللہ ہمارے گھر والوں کو بے شمار خوشیاں دے، ان کی ہنسی قائم رہے، دسترخوان ایسے ہی آباد رہیں۔ محبت کا یہ رنگ بھی قبول ہے—دور رہ کر بھی ان کے لیے خیر مانگنا، چاہے پلٹ کر میرا نام بھی نہ لیا جائے۔ عید ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ ملنا ہی سب کچھ نہیں، یاد رکھنا اور دعا دینا بھی تعلق کی ایک شکل ہے۔ بس اگلی بار فاصلے تھوڑے کم ہوں، اور خیریت کا ایک جملہ نصیب ہو، تو شاید یہ خلا کچھ بھر جائے۔