01/06/2026
کشمیر کے پہاڑوں پر لکھی جانے والی یہ محبت کی کہانی روایتی دردناک انجام سے بدل کر لافانی بن گئی۔ آزاد کشمیر کا ذیشان میر اور لائن آف کنٹرول کے پار اُڑی کی ارم بانو، سرحدوں کی بندشوں سے آزاد ہو کر ایک دوسرے کے دل میں بستے تھے۔
ایک رات، جب جدائی کا درد ناقابلِ برداشت ہوا، تو ذیشان نے خاردار تاروں اور بارود کے خوف کو پسِ پشت ڈال کر "خونی لکیر" عبور کر لی۔ وہ اڑی سیکٹر میں ارم سے جا ملا، لیکن فوراً ہی بھارتی فوج نے دونوں کو حراست میں لے لیا۔ دونوں طرف کے خاندان خوفزدہ تھے کہ اب یہ محبت کسی اندھیری جیل کی نذر ہو جائے گی۔
مگر اس بار محبت کی سچائی جیت گئی۔ دونوں طرف کے عوام اور میڈیا نے اس معصوم محبت کے لیے آواز اٹھائی۔ حکام کو بھی احساس ہوا کہ یہ کوئی سیاسی جرم نہیں بلکہ دو دلوں کا معاملہ ہے۔ قانون نے لچک دکھائی اور انسانی ہمدردی کے تحت دونوں خاندانوں کو ملنے کی اجازت مل گئی۔
اسی سرحد کے سائے میں، جہاں کبھی خوف کا راج تھا، ذیشان اور ارم کا نکاح پڑھایا گیا۔ محبت نے نفرت کی دیواریں گرا دیں، اور وہ دونوں ہمیشہ کے لیے ایک ہو گئے۔