Sirat e mustaqeem

Sirat e mustaqeem Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Sirat e mustaqeem, Kashmir, Srinagar.

17/08/2026

LIFE CHANGING BAYAN
HAZRAT M***I MUHAMMAD AYOUB SHAB NAQSHBANDI DB

17/08/2026

Peer e kamil Hazrat m***i Muhammad ayoub shab naqshbandii qadri chisti db ❤️❤️❤️❤️

16/08/2026

استاد محترم پیر و مرشد حضرت مفتی محمد ایوب صاحب نقشبندی چشتی دامت برکاتہم
کشمیر میں کون نہیں جانتا اس مرد قلندر کو
جوان ، بوڑھا،عورت،بچہ کون ہے جو ناواقف ہو اس روحانی درویش سے اور یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ کشمیر میں ایسی شخصیت اللہ نے بھیجی ہو کشمیر پر ہمیشہ اللہ کا فضل رہا ہے یہ اولیاء اللہ کی سرزمین ہیں لیکن موجودہ دور میں جب بھی روحانیت کا تذکرہ آتا ہے سب کی نظریں ایک شخصیت پر جاتی ہیں وہ ہیں پیر و مرشد حضرت مفتی صاحب۔
حضرت مفتی صاحب نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ علمِ دین کی تعلیم، تدریس، اصلاحِ معاشرہ، ذکر و فکر اور دعوت و ارشاد میں گزارا ہے۔
ابتدائی تعلیم اور حفظِ قرآن
مفتی محمد ایوب صاحب نے اپنی ابتدائی دینی تعلیم امیر شریعت پیر طریقت حضرت مولانا رحمت اللہ صاحب میر قاسمی کے ادارے میں حاصل کی اور وہیں قرآنِ کریم حفظ کیا۔ جو ادارہ کشمیر کا سب سے بڑا دینی ادارہ مانا جاتا ہے دارالعلوم رحیمیہ جو بانڈی پورہ میں واقع ہے ۔یہی سے مفتی صاحب کا علمی و روحانی سفر آگے بڑھتا گیا ۔
حفظ قرآن کے بعد مفتی صاحب نے ہردوئی میں قراءت کی تعلیم حاصل کی۔ آج بھی ان کی تلاوت میں قرآنِ کریم کی ادائیگی، صفائی اور شفافیت نمایاں محسوس ہوتی ہے۔
قرآن سے جو دل کا رشتہ بنا لے،
وہ زندگی کے ہر اندھیرے میں راستہ پا لے۔
دیوبند کا سفر اور روحانی نسبت
علمی سفر کے اگلے مرحلے میں مفتی صاحب دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے، جہاں انہوں نے اہلِ علم سے استفادہ کیا اور بزرگ عالم مفتی محمود الحسن گنگوہی رحمہ اللہ سے خلافت حاصل کی۔ ان کی نسبت سلسلۂ چشتیہ سے بھی رہی۔
بعد ازاں مفتی محمد الحسن گنگوہی رحمہ اللہ کے انتقال کے بعد مفتی صاحب نے حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی صاحب سے بیعت کی۔ حضرت نے بھی انہیں خلافت سے نوازا۔ اگر میں یہاں ایک جملہ کہوں تو غلط نا ہوگا کہ حضرت پیر و مرشد مفتی صاحب اس وقت کشمیر میں سلسلہ نقشبندی کے سب سے بڑے امین ( امانت دار ) ہیں
یوں مفتی صاحب کی زندگی میں علم کے ساتھ اصلاح و تزکیہ کا پہلو بھی مضبوط ہوتا چلا گیا۔
دعوت و اصلاح کا طویل سفر
آج پیر و مرشد مفتی محمد ایوب صاحب کی عمر تقریباً تریسٹھ برس کے قریب ہے، مگر ان کی دعوتی مصروفیات اور اسفار کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ آرام کے بجائے دین کی خدمت اور لوگوں کی اصلاح میں گزارا ہے۔
تقریباً دو دہائیوں سے ان کے بیانات، دروس اور اصلاحی مجالس کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ دن ہو یا رات، قریب کا سفر ہو یا دور کا، وہ دعوت و اصلاح کے کام میں مصروف نظر آتے ہیں۔
کشمیر کے مختلف علاقوں میں ان سے وابستہ ہزاروں افراد موجود ہیں، اور ان کی خانقاہ و اصلاحی مجالس سے بہت سے لوگ روحانی رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔
دارالعلوم اسلامیہ پنجورہ، ضلع شوپیان بھی ان کی دینی خدمات کا ایک اہم مرکز ہے، جہاں تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری ہے اس عاجز نے بھی وہاں تعلیم حاصل کی ہیں مرشد کے پاس الحمد اللہ مرشد کی اس نسبت پر بڑا فخر ہے الحمد اللہ
خدا آباد رکھیں یہ سلسلہ تیری نسبت کا
ورنہ ہم گناہگار لوگ دنیا میں پہچانے کہاں جاتے

تقویٰ اور سادگی کی ایک مثال
علم حاصل کرنا ایک عظیم سعادت ہے، مگر علم کے ساتھ عمل اور تقویٰ پیدا ہو جائے تو یہی علم انسان کے لیے روشنی بن جاتا ہے۔
حضرت مرشد مفتی محمد ایوب صاحب نے تقریباً اٹھائیس برس سے مدرسے کا کھانا نہیں کھایا اور نہ مدرسے کی چائے استعمال کی۔ اسی طرح جہاں وہ مدرسے میں بیٹھ کر لوگوں کی اصلاح و تربیت کرتے ہیں، وہاں کے بجلی کے بل بھی اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں۔
یہ معمولی باتیں نہیں۔ انسان کے تقویٰ کا اصل امتحان انہی چھوٹی چھوٹی چیزوں میں ہوتا ہے جہاں کوئی تالیاں بجانے والا نہیں ہوتا، کوئی تعریف کرنے والا نہیں ہوتا اور انسان صرف اللہ تعالیٰ کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرتا ہے۔
تقویٰ کا چرچا زبان سے نہیں ہوتا،
یہ وہ خوشبو ہے جو کردار سے آتی ہے۔
علم کے ساتھ تواضع
مفتی صاحب کے علمی مقام کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ کشمیر کے معروف عالم اور مفتیِ اعظم مفتی نذیر احمد صاحب قاسمی مفتی صاحب کے اولین اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں۔ خود مفتی نذیر احمد صاحب قاسمی نے اپنے ایک ویڈیو میں فرمایا کہ میرے شاگرد مفتی ایوب صاحب مجھ سے بہت آگے نکل گئے ہیں حالانکہ مفتی نذیر صاحب کوئی چھوٹی شخصیت نہیں ہیں ۔
اگر ایک استاد اپنے شاگرد کے علمی مقام کو اس انداز سے تسلیم کرے تو یہ اس شاگرد کے لیے یقیناً ایک بڑی علمی سند اور باعثِ سعادت بات ہے۔
اصل سوال شخصیت نہیں، ترجیحات ہیں
آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اختلافِ رائے کے آداب کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اختلاف علمی ہو تو دلیل سے کیا جائے، تنقید ہو تو تہذیب کے دائرے میں رہ کر کی جائے، اور کسی عالم سے اختلاف ہو تو اس کے لیے بھی وہی زبان استعمال کی جائے جو اہلِ علم کے شایانِ شان ہے۔
لیکن اگر اختلاف اس حد تک پہنچ جائے کہ زبان میں سختی، الزام اور تحقیر آ جائے تو نقصان صرف ایک فرد کا نہیں ہوتا؛ پورے دینی ماحول کا وقار متاثر ہوتا ہے۔پھر جب ایک تحریک کا زمہدار گندی زبان استعمال کرے مذاق بنائے افسوس صد افسوس حسد کی بھی حد ہوتی ہے بغض و کینہ کی بھی حد ہوتی ہے جگڑا کیا ہے کہ مفتی صاحب خود کو نقشبندی کیوں کہتے ارے مولوی صاحب یہ نسبت یہ سلسلہ کیا کسی کے باپ کی جاگیر ہے فیکٹری چل رہی ہیں آپ کو گھر میں کیا اس سلسلہ کی، کرو محنت تقوی حاصل کرو یا مفتی صاحب کے دربار میں ہی آو ہوسکتا ہو کہ آپ کو بھی کچھ حصہ مل جائے روحانیت کا ایسے جلنے سے چلانے سے چیخنے سے کیا فائدہ افسوس جب بڑوں کا یہ حال ہو چھوٹوں کی حالت کیا ہوگی سینہ پھٹ رہا ہے دل جل رہا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے بعض لوگوں کی جانب سے سخت زبان استعمال کیے جانے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ اگر کسی مسئلے میں علمی اختلاف ہے تو اسے ضرور بیان کیا جائے، مگر دلیل کے ساتھ، ادب کے ساتھ اور انصاف کے ساتھ۔
یہاں ایک بڑا سوال ہمارے سامنے کھڑا ہوتا ہے:
جب ہمارے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد دین سے دور ہو رہی ہے، جب بعض نوجوان بنیادی عقائد تک سے ناواقف ہیں، جب ختمِ نبوت جیسے بنیادی عقیدے کے تحفظ کی ضرورت ہے، جب صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی عظمت اور مقام کے بارے میں شبہات پیدا کیے جا رہے ہیں، جب الحاد، بے دینی اور اخلاقی بے راہ روی جیسے چیلنجز ہمارے سامنے موجود ہیں—تو کیا ہماری ساری توانائیاں صرف اس بات پر صرف ہونی چاہئیں کہ فلاں عالم کو کیسے زیر کیا جائے؟
چراغِ دین بجھانے سے اندھیرا کم نہیں ہوتا،
چراغ اور جلاؤ، راستہ روشن کرو۔
اختلاف رہے، مگر ادب کے ساتھ
یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ کسی عالمِ دین کو تنقید سے بالاتر قرار دینا درست نہیں۔ ہر انسان سے خطا ہو سکتی ہے، ہر عالم کے کسی مسئلے میں اجتہادی یا فکری اختلاف کی گنجائش ہو سکتی ہے۔حضرت مرشد مفتی صاحب ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے ہمیشہ امن و امان کا درس دیا ہے اتحاد و اتفاق کا درس دیا ہے لیکن آپ لوگ کشمیر کو برباد کرنے کی قسم کھا چکے ہوں ایک باد یاد رکھیں ۔
تنقید اور توہین میں فرق ہے۔
دلیل کے ساتھ اختلاف علم ہے،
اور بدزبانی کے ساتھ اختلاف فساد ہے۔
اگر مفتی محمد ایوب صاحب سے کسی کو اختلاف ہے تو وہ اپنے دلائل پیش کرے۔ علمی مجالس میں گفتگو ہو، کتابیں لکھی جائیں، مناظرانہ یا تحقیقی انداز میں اعتراضات کا جواب دیا جائے۔ مگر کسی عالم کی طویل دینی خدمات، عمر، علم، تقویٰ اور اصلاحی جدوجہد کو نظر انداز کرکے محض زبان کے زور پر اسے گرانے کی کوشش نہ کی جائے۔
آج ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے؟
آج کشمیر کے مسلمانوں کو ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے سے زیادہ ایک دوسرے کے ہاتھ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
ہمیں ایسے علماء کی ضرورت ہے جو نوجوانوں کو قرآن سے جوڑیں، سنت سے محبت سکھائیں، ختمِ نبوت کا عقیدہ سمجھائیں، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت دلوں میں پیدا کریں، الحاد کے شبہات کا علمی جواب دیں اور نئی نسل کو دین، اخلاق اور کردار کی طرف واپس لائیں۔
اور اگر ہمارے درمیان کوئی عالم اس میدان میں اپنی زندگی کے کئی عشرے صرف کر چکا ہے تو کم از کم اس کی خدمات کا اعتراف ضرور ہونا چاہیے۔
اختلاف کیجیے، مگر انصاف کے ساتھ۔
تنقید کیجیے، مگر ادب کے ساتھ۔
بات کیجیے، مگر دلیل کے ساتھ۔
حضرت پیر و مرشد مفتی محمد ایوب صاحب کی زندگی کے بارے میں جو خدمات بیان کی جاتی ہیں، ان کا کم از کم یہ تقاضا ضرور ہے کہ ان کے بارے میں گفتگو تحقیق، انصاف اور ادب کے دائرے میں کی جائے۔اگر آپ خاموش رہے تو ٹھیک ورنہ ایک ایک قرض ادا کیا جائے گا ان شاء اللہ ہماری خاموشی کو کمزوری سمجھ بیٹھے ہمیں اپنے اکابرین ان چیزوں سے بالکل ناراض ہوتے ہیں کیونکہ ہم کشمیر میں امن چاہتے ہیں لیکن قوم کے بڑے دہشت گرد وہ لوگ ہیں جو کشمیر میں دین کے نام پر دہشت گردی کرے ۔
آج بھی کم دل پر پھتر رکھ کے کشمیر کے حالات کو مدنظر رکھ کے صبر کرتے ہیں آپ کیلئے دعا کرتے ہیں اللہ پاک ہدایت دے ۔

چند اشعار مرشد کے نام
مفتی محمد ایوبؔ کی نسبت پہ ناز ہے
دل کو سکون، روح کو ان کی عطا سے ساز ہے
مفتی محمد ایوبؔ کی نگاہِ کرم ملی
دل کو قرار آیا، تو راہوں کو روشنی ملی
ایوبِؔ مرشد کی محبت کا یہ اثر ہے
دل میں خدا کی یاد ہے، لب پر درود و ذکر ہے
مرشد ہیں مفتی محمد ایوبؔ، رہبرِ راہِ حق
ان کی نصیحتوں سے سنورتا ہے دل کا سبق
اللہ سلامت رکھے میرے مرشدِ محترم
مفتی محمد ایوبؔ پہ ہو رب کا خاص کرم
اللہ پاک پیر و مرشد کا سایہ تادیر ہم پر رکھیں آمین سلامت رہے مرشد تیری نسبت ۔

از قلم ۔۔حافظ عادل صدیقی

16/08/2026

MONDAY❗MAGRIB Bayan Of Hazrat M***I Ayoub Sahab DB At 📌 MARKAZI JAMIA MASJID SHAREEF ABU BASEER WANGAM SHOPAIN.
17 AUGUST 2026

16/08/2026

YA HMRA MURSHID KI SHAAN HA
HAZRAT M***I AYOUB SHAB NAQSHBANDI CHISTI QADRI DB❤️

PEER E KAMIL MURSHID HAZRAT M***I MUHAMMAD AYOUB SHAB NAQSHBANDI CHISTI QADRII DB ❤️❤️چند اشعار مرشد کے نام مفتی محمد ای...
16/08/2026

PEER E KAMIL MURSHID HAZRAT M***I MUHAMMAD AYOUB SHAB NAQSHBANDI CHISTI QADRII DB ❤️❤️
چند اشعار مرشد کے نام
مفتی محمد ایوبؔ کی نسبت پہ ناز ہے
دل کو سکون، روح کو ان کی عطا سے ساز ہے
مفتی محمد ایوبؔ کی نگاہِ کرم ملی
دل کو قرار آیا، تو راہوں کو روشنی ملی
ایوبِؔ مرشد کی محبت کا یہ اثر ہے
دل میں خدا کی یاد ہے، لب پر درود و ذکر ہے
مرشد ہیں مفتی محمد ایوبؔ، رہبرِ راہِ حق
ان کی نصیحتوں سے سنورتا ہے دل کا سبق
اللہ سلامت رکھے میرے مرشدِ محترم
مفتی محمد ایوبؔ پہ ہو رب کا خاص کرم
اللہ پاک پیر و مرشد کا سایہ تادیر ہم پر رکھیں آمین سلامت رہے مرشد تیری نسبت ۔

15/08/2026

NAFARMAN LOOG
HAZRAT M***I MUHAMMAD AYOUB SHAB NAQSHBANDI DB

15/08/2026

JALSA BAYAN OF Hazrat M***i Muhammad Ayoub Sahab DB AT DARUL ULOM SALMANIA WANTRAG MATTAN ANANTANAG
MAGRIB ONWARDS
SUNNY
16 AUGUST

15/08/2026

🌹 حضرت مفتی محمد ایوب صاحب دامت برکاتہم العالیہ
جب اللہ تعالیٰ کسی کو مردود فرمانے کا ارادہ فرماتے ہیں، تو اس کے دل میں علمائے ربانیین اور اہل اللہ کا بغض و نفرت ڈال دیتے ہیں۔
مجھے مبالغہ کرنے کی عادت نہیں، مگر حضرت اقدس مفتی محمد ایوب صاحب دامت برکاتہم العالیہ اولیائے کرام کی صف میں ایک روشن اور چمکتا ہوا ستارہ ہیں۔ جن کے فیضِ صحبت سے نہ جانے کتنے لوگوں کو رجوع الی اللہ کی دولت نصیب ہوئی، اور کتنے ہی سالکین حضرت کی صحبت میں رہ کر جامِ عشق نوش فرماتے ہیں۔
نہ جانے کتنی نہریں تیرے دریا سے ہوئیں جاری
مگر پھر بھی ترے دریا کی طغیانی نہیں جاتی
حضرت کا وجود اہلِ کشمیر کے لیے نعمتِ عظمیٰ ہے۔
جسے روشن کرے قدرتِ حق
وہ دیا کیا بجھے گا ہوا سے
🌿 حضرت مولانا ساجد مظاہری صاحب دامت برکاتہم العالیہ

حضرت مفتی محمد ایوب نقشبندی صاحب دامت فیوضہم العالیہ کا سلسلہ نقشبندیہ، چشتیہ اور قادریہ کا شجرۂ طریقت مشرک کیا جانے حضر...
15/08/2026

حضرت مفتی محمد ایوب نقشبندی صاحب دامت فیوضہم العالیہ کا سلسلہ نقشبندیہ، چشتیہ اور قادریہ کا شجرۂ طریقت

مشرک کیا جانے حضرت کا مقام و مرتبہ

Address

Kashmir
Srinagar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sirat e mustaqeem posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Sirat e mustaqeem:

Shortcuts

Share