Rupen Vlog

Rupen Vlog Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Rupen Vlog, Ravangla.
(1)

جنوب افریقا کے شہر جوھانسبرگ سے لندن آتے ہوئے پرواز کے دوران، اکانومی کلاس میں ایک سفید فام عورت جس کی عمر پچاس یا اس سے...
01/10/2025

جنوب افریقا کے شہر جوھانسبرگ سے لندن آتے ہوئے پرواز کے دوران، اکانومی کلاس میں ایک سفید فام عورت جس کی عمر پچاس یا اس سے کچھ زیادہ تھی کی نشست اتفاقا ایک سیاہ فام آدمی کے ساتھ بن گئی۔
عورت کی بے چینی سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ اس صورتحال سے قطعی خوش نہیں ہے۔ اس نے گھنٹی دیکر ایئر ہوسٹس کو بلایا اور کہا کہ تم اندازہ لگا سکتی ہو کہ میں کس قدر بری صورتحال سے دوچار ہوں۔ تم لوگوں نے مجھے ایک سیاہ فام کے پہلو میں بٹھا دیا ہے۔ میں اس بات پر قطعی راضی نہیں ہوں کہ ایسے گندے شخص کے ساتھ سفر کروں۔ تم لوگ میرے لئے متبادل سیٹ کا بندوبست کرو۔
ایئر ہوسٹس جو کہ ایک عرب ملک سے تعلق رکھنے والی تھی نے اس عورت سے کہا، محترمہ آپ تسلی رکھیں، ویسے تو جہاز مکمل طور پر بھرا ہوا ہے لیکن میں جلد ہی کوشش کرتی ہوں کہ کہیں کوئی ایک خالی کرسی تلاش کروں۔
ایئرہوسٹس گئی اور کچھ ہی لمحات کے بعد لوٹی تو اس عورت سے کہا، محترمہ، جس طرح کہ میں نے آپ کو بتایا تھا کہ جہاز تو مکمل طور پر بھرا ہوا ہے اور اکانومی کلاس میں ایک بھی کرسی خالی نہیں ہے۔ میں نے کیپٹن کو صورتحال سے آگاہ کیا تو اس نے بزنس کلاس کو بھی چیک کیا مگر وہاں پر بھی کوئی سیٹ خالی نہیں تھی۔ اتفاق سے ہمارے پاس فرسٹ کلاس میں ایک سیٹ خالی ہے۔
اس سے پہلے کہ وہ سفید فام عورت کچھ کہتی، ایئرہوسٹس نے اپنی بات کو مکمل کرتے ہوئے کہا، ہماری کمپنی ویسے تو کسی اکانومی کلاس کے مسافر کو فرسٹ کلاس میں نہیں بٹھاتی، لیکن اس خصوصی صورتحال میں کیپٹن نے فیصلہ کیا ہے کہ کوئی شخص ایسے گندے شخص کے ساتھ بیٹھ کر اپنا سفر ہرگز طے نا کرے۔ لہذا۔۔۔۔
ایئرہوسٹس نے اپنا رخ سیاہ فام کی طرف کرتے ہوئے کہا، جناب محترم، کیا آپ اپنا دستی سامان اُٹھا کر میرے ساتھ تشریف لائیں گے؟ ہم نے آپ کیلئے فرسٹ کلاس میں متبادل سیٹ کا انتظام کیا ہے۔
آس پاس کے مسافر جو اس صورتحال کو بغور دیکھ رہے تھے، ایسے فیصلے کی قطعی توقع نہیں رکھ رہے تھے۔ لوگوں نے کھڑے ہو کر پر جوش انداز سے تالیاں بجا کر اس فعل کو سراہا جو کہ اس سفید فام عورت کے منہ پر ایک قسم کا تھپڑ تھا۔
بنی آدم جس کی پیدائش نطفے سے ہوئی, جس کی اصلیت مٹی ہے, جس کے اعلیٰ ترین لباس ایک کیڑے سے بنتے ہیں, جس کا لذیذ ترین کھانا ایک (شہد کی) مکھی کے لعاب سے بنتا ہے، جس کا ٹھکانا ایک وحشتناک قبر ہے اور ایسا تکبر اور ایسی بڑائی

تنہائی صرف کمرے کی خاموشی نہیں ہوتی، یہ تو دل کا وہ خلا ہے جسے کوئی نہیں بھر سکتا۔ لوگ پاس ہوں یا دور، یہ احساس پھر بھی ...
01/10/2025

تنہائی صرف کمرے کی خاموشی نہیں ہوتی، یہ تو دل کا وہ خلا ہے جسے کوئی نہیں بھر سکتا۔ لوگ پاس ہوں یا دور، یہ احساس پھر بھی رہتا ہے کہ کچھ کمی ہے، کچھ کھو گیا ہے یہی کمی انسان کو اندر سے خالی اور بے جان کر دیتی ہے .

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 🌺🌼🌺جہاں انسان ڈسکس کیے جائیں وہاں مت جائیں چاہے آپ کتنے ہی تنہاء ہوں🌼💦جہاں غیبت ہی مقصدِ...
01/10/2025

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 🌺🌼🌺
جہاں انسان ڈسکس کیے جائیں وہاں مت جائیں چاہے آپ کتنے ہی تنہاء ہوں🌼
💦جہاں غیبت ہی مقصدِ گفتگو ہو وہاں مت جائیں چاہے کہنے والا آپکو کتنا ہی عزیز ہو🌺
💦اور اس گفتگو میں اپنا حصہ مت ڈالیں چاہے وہاں بولنے سے آپ کتنا ہی included اور ویلیوڈ محسوس کررہے ہوں۔۔۔۔🌺
💦یہ ایسا ہی آسان ہے !
آپکی تنہائی بامعانی چیزوں سے خالی ہوتی ہے تو آپ غلط ہجوم میں چلے جاتے ہیں۔
تنہائی کو اچھے مشاغل سے بھر دیں۔💦
💦انسانوں سے اتنا اٹیچ مت ہوں کہ ان سے جڑے خیر اور شر کو پہچان نہ پائیں۔
اپنے ہنر یا صلاحیت کو بہتر کینوس پر اتاریں گے تو اسے ہر بےتکی دیوار پہ ضائع کرنے سے بچ جائیں گے۔🌺
💦شر تعداد میں کتنا ہی بڑا اور دیکھنے میں کتنا ہی پرکشش کیوں نا ہو ، اسے ترک کرنے میں کوشاں رہیں۔💦
💦آپ تنہاء نہیں رہیں گے ! آپکا رب بہت وسیع رحمتوں والا ہے۔
اس کے آسماں تلے آپکو بہترین موضوعات پہ بات کرنے والے ، نیٹ ورکنگ اور آئیڈیاز پہ کام کرنے والے ، احسن انداز میں گفتگو کرنے والے اور نکھرے لوگ بھی مل جائیں گے، کیونکہ موجود ہیں۔🌻
💦جب آپ شر کو زندگی سے نکال دیں گے تو خیر کی جگہ بڑی خوبصورتی سے خود ہی بنتی جائے گی۔🌺🌼🌺

میں تم سے ناراض ہوں!ایک شخص نے دو شادیاں کیں ، ہر معاملے میں وہ ان بیویوں کے ساتھ برابری اور انصاف کا خیال رکھا کرتا تھا...
01/10/2025

میں تم سے ناراض ہوں!
ایک شخص نے دو شادیاں کیں ، ہر معاملے میں وہ ان بیویوں کے ساتھ برابری اور انصاف کا خیال رکھا کرتا تھا.
قضائے الہی سے دونوں کی موت ایک ہی دن واقع ہوگئی.
اپنی عادت کے مطابق اس نے دونوں کو غسل بھی ایک ہی وقت میں دلوایا. جب گھروں سے جنازے نکالنے کا موقع آیا تو دروازہ ایک ہی تھا، اس بیچارے نے بڑھئی کو بلاکر گھر میں ایک اور دروازہ لگوایا؛ تاکہ انصاف کے تقاضوں پر عمل ہوسکے اور دونوں کا جنازہ ایک ہی وقت میں گھر سے نکالا جاسکے.
جنازے ایک ساتھ گھر سے نکلے اور ایک ساتھ دونوں بیویوں کی تدفین بھی عمل میں آئی.
شوہر نے اللہ کا شکر ادا کیا اور خوش ہوتا رہا کہ اس نے کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی.
ایک رات ایک بیوی خواب میں آ کر کہنے لگی: اللہ تمھیں کبھی معاف نہیں کرے گا. کیونکہ تم نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے. میں تم سے ناراض ہوں، بیچارے شوہر کے تو چودہ طبق روشن ہوگئے.
اس نے وجہ پوچھی. پتہ ہے کیا جواب ملا؟
تم نے میرے جنازے کو پرانے دروازے سے باہر نکالا اور اپنی دوسری بیوی کو نئے دروازے سے.
(عربی زبان سے ماخوذ)
کتنا مشکل ہے بیویوں کو خوش رکھنا
ضروری گزارش
پوسٹ کو مزاح کے طور پہ سمجھا جائے

01/10/2025

I got over 40,000 reactions on my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

سات سو سال قبل لکھی گئی ابن خلدون کی یہ تحریر گویا مستقبل کے تصور کا منظر نامہ ہے:“مغلوب قوم کو ہمیشہ فاتح کی تقلید کا ش...
01/10/2025

سات سو سال قبل لکھی گئی ابن خلدون کی یہ تحریر گویا مستقبل کے تصور کا منظر نامہ ہے:
“مغلوب قوم کو ہمیشہ فاتح کی تقلید کا شوق ہوتا ہے، فاتح کی وردی اور وردی پر سجے تمغے، طلائی بٹن اور بٹنوں پر کنندہ طاقت کی علامات، اعزازی نشانات، اس کی نشست و برخاست کے طور طریقے، اس کے تمام حالات، رسم و رواج ، اس کے ماضی کو اپنی تاریخ سے جوڑ لیتے ہیں، حتیٰ کہ وہ حملہ آور فاتح کی چال ڈھال کی بھی پیروی کرنے لگتے ہیں، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ جس طاقتور سے شکست کھاتے ہیں اس کی کمال مہارت پر آنکھیں بند کر کے یقین رکھتے ہیں۔
محکوم معاشرہ اخلاقی اقدار سے دستبردار ہو جاتا ہے ، ظلمت کا دورانیہ جتنا طویل ہوتا ہے، ذہنی و جسمانی طور پر محکوم سماج کا انسان اتنا ہی جانوروں سے بھی بدتر ہوجاتا ہے، ایک وقت آتا ہے کہ محکوم صرف روٹی کے لقمے اور جنسی جبلت کے لیے زندہ رہتا ہے۔
جب ریاستیں ناکام اور قومیں زوال پذیر ہوتی ہیں تو ان میں نجومی، بھکاری، منافق، ڈھونگ رچانے والے، چغل خور، کھجور کی گٹھلیوں کے قاری، درہم و دینار کے عوض فتویٰ فروش فقہیہ، جھوٹے راوی، ناگوار آواز والے متکبر گلوکار، بھد اڑانے والے شاعر، غنڈے، ڈھول بجانے والے، خود ساختہ حق سچ کے دعویدار، زائچے بنانے والے، خوشامدی، طنز اور ہجو کرنے والے، موقع پرست سیاست دانوں اور افواہیں پھیلانے والے مسافروں کی بہتات ہوجاتی ہے ۔
ہر روز جھوٹے روپ کے نقاب آشکار ہوتے ہیں مگر یقین کوئی نہیں کرتا ، جس میں جو وصف سرے سے نہیں ہوتا وہ اس فن کا ماہر مانا جاتا ہے، اہل ہنر اپنی قدر کھو دیتے ہیں، نظم و نسق ناقص ہو جاتا ہے، گفتار سے معنویت کا عنصر غائب ہوجاتا ہے ، ایمانداری کو جھوٹ کے ساتھ، اور جہاد کو دہشت گردی کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے۔
جب ریاستیں برباد ہوتی ہیں، تو ہر سو دہشت پھیلتی ہے اور لوگ گروہوں میں پناہ ڈھونڈنے لگتے ہیں، عجائبات ظاہر ہوتے ہیں اور افواہیں پھیلتی ہیں، بانجھ بحثیں طول پکڑتی ہیں، دوست دشمن اور دشمن دوست میں بدل جاتا ہے، باطل کی آواز بلند ہوتی ہے اور حق کی آواز دب جاتی ہے، مشکوک چہرے زیادہ نظر آتے ہیں اور ملنسار چہرے سطح سے غائب ہو جاتے ہیں، حوصلہ افزا خواب نایاب ہو جاتے ہیں اور امیدیں دم توڑ جاتی ہیں، عقلمند کی بیگانگی بڑھ جاتی ہے، لوگوں کی ذاتی شناخت ختم ہوجاتی ہے اور جماعت، گروہ یا فرقہ ان کی پہچان بن جاتے ہیں۔
مبلغین کے شور شرابے میں دانشوروں کی آواز گم ہو جاتی ہے۔
بازاروں میں ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے اور وابستگی کی بولیاں لگ جاتی ہیں، قوم پرستی، حب الوطنی، عقیدہ اور مذہب کی بنیادی باتیں ختم ہو جاتی ہیں اور ایک ہی خاندان کے لوگ خونی رشتہ داروں پر غداری کے الزامات لگاتے ہیں۔
بالآخر حالات اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں کہ لوگوں کے پاس نجات کا ایک ہی منصوبہ رہ جاتا ہے اور وہ ہے "ہجرت"، ہر کوئی ان حالات سے فرار اختیار کرنے کی باتیں کرتا ہے، تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہونے لگتا ہے، وطن ایک سرائے میں بدل جاتا ہے، لوگوں کا کل سازو سامان سفری تھیلوں تک سمٹ آتا ہے، چراگاہیں ویران ہونے لگتی ہیں، وطن یادوں میں، اور یادیں کہانیوں میں بدل جاتی ہیں۔”
ابن خلدون خدا آپ پر رحم کرے! کیا آپ ہمارے مستقبل کی جاسوسی کر رہے تھے؟ آپ سات صدیاں قبل وہ دیکھنے کے قابل تھے جو ہم آج تک دیکھنے سے قاصر ہیں!

مستنصر حسین تارڑ لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔" محفل میں سے کسی نے ایک نسوانی نام لیا، اور ایک سرد سانس بھر کر کہا:" اوئے! وہ بھی آئی...
30/09/2025

مستنصر حسین تارڑ لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
" محفل میں سے کسی نے ایک نسوانی نام لیا، اور ایک سرد سانس بھر کر کہا:
" اوئے! وہ بھی آئی ہوئی ہے "
اور یہ " وہ " وہ تھی جس نے ایک زمانے میں پورے کالج کو وخت ڈالا ہوا تھا، اپنے حسن میں متکبر، جدھر سے بھی گزرتی، ادھر ٹھنڈی سانسوں کی بہتات کی وجہ سے درجہ حرارت گر جاتا، اور جس روز وہ دکھائی دے جاتی، اس روز لڑکوں کا پڑھائی میں جی نہ لگتا۔ خود کشی کے مختلف طریقوں پر غور ہونے لگتا، دنیا سے جی اچاٹ ہو جاتا۔ بھلے زمانے تھے، دل کی بات دل میں ہی رہتی تھی، کسی کو جرآت نہ ہوتی تھی کہ وہ بلو کے گھر جانے کی بات کرتا۔
اور آج اتنے برسوں بعد " وہ " دکھائی دی تھی۔ اسے ایک ہی بار دیکھنا مشکل تھا کیونکہ اس کا پھیلاؤ پورے صوفے پر محیط تھا، اس کا چہرہ میک اپ کی تہوں کے باوجود اتنا ہولناک دکھائی دیتا تھا کہ انسان رات کو دیکھ لے تو چیخیں مارنے لگے، دن کو دیکھ لے تو پھر مزید چیخیں مارے۔
یہ شہر کے ایک پوش ہوٹل کے عظیم الشان ہال میں راوئینز اولڈ بوائز کا سالانہ ڈنر تھا۔
ہر طرف انواع و اقسام کے اولڈ بوائز گھوم رھے تھے۔ چھوٹے، موٹے، گنجے، بوڑھے ہر قسم کے، ظاہر ہے میں بھی ان میں سے ایک تھا۔
میں ہر ایک سے خوشگوار ہونے کی کوشش میں مصروف تھا لیکن، اس کوشش میں مجھ سے مسلسل حماقتیں سرزد ہو رہی تھیں۔ میں نے اسے کہا:
" اوے کالئیے تم بھی آ گئے ہو "
اس نے کہا:
" معاف کیجئے گا میں کالیا نہیں ہوں "
وہ صاحب شدید ناراضگی کے عالم میں بڑبڑاتے چلے گئے۔ مجھے یقین تھا کہ وہ کالیا ہی تھا، میرا کلاس فیلو جو ہمیشہ فیل ہو جاتا تھا، تب تک گورنمنٹ کالج میں زیر تعلیم رھا جب تک اس کے کلاس فیلو اس کالج میں پروفیسر نہ بن گئے اور انہوں نے اسے کسی نہ کسی طرح بی اے میں پاس نہ کر دیا۔ بعد میں اس نے کسی دوست سے شکایت کی تارڑ سخت بد تمیز شخص ہے، وہ جانتا ہی نہیں کہ میں اب بینک پریذیڈنٹ ہوں، وہ مجھے سب کے سامنے کالیا کہہ رھا تھا۔
ایک اور صاحب میرے سامنے آ کر کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے:
" اوے تو نےپہچانا نہیں مجھے؟"
" نہیں " میں نے کچھ دیر انہیں غور سے دیکھنے کے بعد سر ہلایا۔ وہ کہنے لگا:
" اوے میں ہوں ٹینڈا، ٹنڈا"
اور وہ واقعی ٹینڈا ہی تھا. ہوسٹل میں وہ ہمیشہ ٹنڈ کروا کے گھومتا, اس کی پسندیدہ ڈش ٹینڈے گوشت تھی لیکن, میں اس کی فراخ دلی کا قائل ہو گیا. وہ اب اتنی بڑی پوسٹ پر فائز تھا کہ اسے ایک ایسے شخص سے ملنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی جو یہ جانتا تھا کہ وہ کسی زمانے میں ٹینڈا ہوا کرتا تھا.
ایک اور دوست بہت زمانوں کے بعد ملا. ان کے ہمراہ ایک نوجوان خاتون تھیں۔ میں نے ان سے ہاتھ ملایا، پھر آگے بڑھ کر خاتون کے سر پر پیار دینے کو تھا کہ انہوں نے ہتھیلی پھیلا کر مجھے روک دیا:
" یار کیا کر رہے ہو "
میں نے کہا:
" میں ذرا اپنی بیٹی کو پیار دینے لگا تھا "
اس نے سر کھجاتے کہا:
" ارء یہ تمہاری بھابی ہے "
" اچھا " میں نے حیرت سے کہا:
" میں تمہاری شادی میں شامل ہوا تھا۔ بھابی صاحبہ ماشاءاللہ اپنی عمر سے بہت کم دکھتی ہیں "
انہوں نے کہا:
" یہ وہ والی نہیں ہے"
حق ھا

آج میں خود سے کہنا چاہتی ہوں:اور اپنے جیسی ہر خاتون کو۔۔۔ کہ،آہستہ چلو۔۔۔ تم واقعی کوشش کر رہی ہو۔آہستہ چلو۔۔۔ زندگی تمہ...
30/09/2025

آج میں خود سے کہنا چاہتی ہوں:
اور اپنے جیسی ہر خاتون کو۔۔۔ کہ،
آہستہ چلو۔۔۔ تم واقعی کوشش کر رہی ہو۔
آہستہ چلو۔۔۔ زندگی تمہارے ہاتھوں سے نکل نہیں گئی، اس کے دامن میں ابھی اتنے رنگ چھپے ہیں جو تم نے دیکھنے ہیں، اتنے لمحے ہیں جو تمہیں جینے ہیں، اور اتنے خواب ہیں جو تمہارے منتظر ہیں۔
آہستہ چلو۔۔۔ کیونکہ کچھ چیزیں دعاؤں اور کوششوں کے باوجود بھی وقت سے پہلے نہیں ملتیں؛ وہ تبھی تم تک پہنچتی ہیں جب تمہارے نصیب کے دروازے کھلتے ہیں۔ جو تمہارے حصے میں لکھا گیا ہے وہ آسانی سے تمہیں مل جائے گا، اور جو نہیں، وہ چاہنے کے باوجود نہیں ملے گا۔
سانسوں کو گہرائی دو، دل کو وسعت دو، اپنے بازو زندگی کے لئے کھولو اور اس کی خوشبو کو محسوس کرتے ہوئے آہستہ آہستہ قدم بڑھاؤ۔
یاد رکھو: جو تم سے چھوٹ گیا وہ کبھی تمہارا نہ تھا، اور جو تمہیں ملا وہ تمہارے مقدر کا انعام ہے۔
ملنے اور چھن جانے والی ہر چیز پر شکر گزار رہو، چاہے وہ تمہاری خواہش کے مطابق نہ ہو، کیونکہ یہی لمحات، یہی تجربات کل تمہارے اندر ایک نیا حوصلہ، ایک نیا شعور اور ایک نئی پہچان تراشیں گے۔
اپنے دل میں یہ یقین بٹھاؤ کہ راستے طویل ہوں یا کٹھن، تمہارے اندر وہ روشنی موجود ہے جو اندھیروں کو چیر کر آگے بڑھ سکتی ہے۔
تمہاری رفتار سست ہو سکتی ہے مگر تم رکی نہیں ہو، اور یہی سب سے بڑی جیت ہے۔
خود کو وقت دو، اپنے دل کو محبت دو، اور ہر صبح یہ سوچ کر اُٹھو کہ آج تم کل سے بہتر ہو۔
زندگی تمہارے ساتھ ہے، تمہارے خلاف نہیں۔
تمہارا سفر جاری ہے، اور یہ سفر ہی تمہارا اصل تحفہ ہے۔
وقت کے درخت پر ہر پھل کا اپنا موسم ہے،

اگر آ پ اپنے آ پ کو کوئی بیش قیمت تحفہ دینا چاہتے ہیں تو اچھی صحت کا دیں۔اپنی خوراک میں سے چینی , ہر وہ غذا جس کے اجزاء ...
30/09/2025

اگر آ پ اپنے آ پ کو کوئی بیش قیمت تحفہ دینا چاہتے ہیں تو اچھی صحت کا دیں۔
اپنی خوراک میں سے چینی , ہر وہ غذا جس کے اجزاء کو اس سے الگ کر کے اسے ریفائن کیا گیا ہے اور ڈبے میں بند غذا کو نکال دیں۔
آ پ نے کبھی نہیں دیکھا ہو گا کہ کسی سیب یا امرود پر نیوٹریشنل فیکٹس کا ٹیبل لگا کر بیچا گیا ہو یا بتایا گیا ہو کہ اس کے اندر یہ یہ اجزاء ہیں۔
اوریجنل غذا تفصیلات کی محتاج نہیں ہوتی کہ اس کے اندر یہ یہ ڈالا گیا ہے۔ جب یہ یہ ڈال دیتے ہیں تو ذائقہ بہتر کرنے کے لئے اور شیلف لائف بڑھانے کے لئے ایسا بہت کچھ اضافی ڈال دیتے ہیں جو صحت بخش نہیں ہوتا۔
فیٹی لیور اور ڈایا بیٹیس لائف سٹائل بیماریاں ہیں ۔ آ پ اپنا لائف سٹائل ٹھیک کر لیں یہ بیماریاں آ پکو چھوڑ دیں گی۔
ہم وہی چیزیں جو کھا کھا کر بیمار ہوئے ہیں ، دوائی کے ساتھ ساتھ بھی وہی کھاتے رہتے ہیں اسی لئے مرض بڑھتا ہے جوں جوں دوا کی کے مصداق بیماری پروگریسیو ہوتی رہتی ہے۔
جو کچھ بھی کھائیں مائنڈ فل ہو کر کھائیں ۔ یہ آ پکے جسم کا ایندھن ہے۔ اگر غیر معیاری ایندھن ڈالیں گے تو جسم کے افعال بھی متاثر ہوں گے قدرتی بات ہے۔
اپنی صحت کا خیال رکھیں اپنے لئے۔

سب سے مضبوط مرد دشمنوں کے ہاتھوں نہیں گرتے — وہ اُن عورتوں کے ہاتھوں گرتے ہیں جنہیں وہ خود چُنتے ہیںسامسون اور دلیلا کی ...
30/09/2025

سب سے مضبوط مرد دشمنوں کے ہاتھوں نہیں گرتے — وہ اُن عورتوں کے ہاتھوں گرتے ہیں جنہیں وہ خود چُنتے ہیں
سامسون اور دلیلا کی صدیوں پرانی کہانی بھی نیپولین اور جوزفین کی کہانی سے مختلف نہ تھی۔
سامسون کی طاقت اُس کے شہوت کے ہاتھوں چوری ہو گئی۔
نیپولین کی سلطنت ایک بانجھ عورت نے کمزور کر دی جس نے اُس کی راتیں بے چین کر کے رکھ دیں۔
اور جب توپیں خاموش ہو گئیں، تو زوال کے لمحات میں بھی جوزفین کی سرگوشیاں گونج رہی تھیں۔
اُس کے آخری تین الفاظ میں ایک بدکار عورت کا نام تھا۔
آئیے، اسے سمجھتے ہیں۔

1۔ سلطنتیں بھی ویسے ہی گرتی ہیں جیسے شادیاں — اندر سے
سامسون کو فلستی فوجوں نے نہیں ہرایا۔
نیپولین کو یورپ کے اتحاد نے نہیں شکست دی۔
دونوں کو اُن عورتوں نے توڑا جن پر وہ سب سے زیادہ بھروسہ کرتے تھے۔
باہر کے دشمن مرد کو شاید ہی کبھی تباہ کر پائیں۔
غداری ہی ہے جو سلطنت کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔

2۔ شہوت مرد کو اپنی وراثت سے اندھا کر دیتی ہے
سامسون کو دلیلا کا جسم تو دکھائی دیا، اُس کی چھری نہیں۔
نیپولین کو جوزفین کی دلربائی تو نظر آئی،اُس کی زنجیریں نہیں۔
تاریخ خود کو دہراتی ہے:
وہ مرد جو دوراندیش تھے،اپنی میراث سے بڑھ کر شہوت کو دیکھنے لگے تو ڈھیر ہو گئے۔

3۔ ایک بانجھ عورت اُس کی سب سے بڑی کمزوری بن گئی
نیپولین، جو اولاد کے لیے بے تاب تھا، جوزفین کا وفادار رہا، حالانکہ وہ بچے پیدا کرنے سے قاصر ثابت ہو چکی تھی۔
وہ وفاداری محبت نہیں تھی۔
یہ کمزوری تھی جو عقیدت کی شکل میں سجی ہوئی تھی۔
وہ مرد جس نے آسٹرلیٹز کی لڑائی جیتی تھی، وہ اپنے ہی گھر کی جنگ نہ جیت سکا۔

4۔ بے وفائی وہ زہر ہے جو بادشاہوں کو کمزور کر دیتی ہے
جوزفین صرف اولاد نہ دے سکنے تک محدود نہیں تھی۔
اُس نے محل میں معاشقوں اور ذلت کی سرگوشیوں سے ہوا بھر دی۔
فوجی نیپولین کے غضب سے کانپتے تھے۔
مگر جوزفین دروازے بند کر کے اُس کا مذاق اڑاتی تھی۔
سب سے مضبوط مرد بھی اُس عورت پر فتح حاصل نہیں کر سکتا جو اُسے بےعزت کرنے پر تلی ہو۔

5۔ طلاق نے اُسے آزاد نہیں کیا — بلکہ توڑ دیا
نیپولین نے جوزفین کو طلاق دے کر میری لوئیز سے وراثت کے لیے شادی کی۔
لیکن تب تک نقصان ہو چکا تھا۔
اُس کی روح کمزور ہو چکی تھی۔
اُس کی فیصلہ سازی متاثر ہو چکی تھی۔
اور وہ سلطنت جو اُس نے لوہے کے نظم و ضبط پر بنائی تھی،دراڑیں پڑنے لگیں۔

6۔ اُس کے آخری الفاظ ثابت کرتے ہیں کہ اصل میں جیت کس کی ہوئی
اپنی آخری سانسوں پر، نیپولین نے تین نام لیے:
"فرانس...فوج... جوزفین۔"
"وراثت" نہیں۔
"فتح"نہیں۔
"خدا"تک نہیں۔
جس عورت نے اُس کے ساتھ غداری کی، وہ اب بھی اُس کی روح میں گھر کیے ہوئے تھی۔
یہی عظیم مردوں کا المیہ ہے جو غلط انتخاب کرتے ہیں— اُس عورت کا سایہ اُن کی قبر تک اُن کا پیچھا کرتا ہے۔

7۔ آج کے مرد بھی یہی غلطی دہرا رہے ہیں
آج، وہ جوزفین نہیں ہے۔
بلکہ انسٹا گرام کی ماڈلز ہیں۔
وہ ساتھ والی گرل فرینڈز ہیں جو بیوی بن جاتی ہیں۔
وہ عورتیں ہیں جو انتشار،شہوت اور غداری کی عادی ہیں۔
سلطنتیں ہمیشہ یورپ میں ہی نہیں گرتیں۔
کبھی وہ فیملی کورٹ میں گِرتی ہیں۔
بچوں کے اخراجات کے حکم ناموں میں۔
خلع و نان نفقہ کے حکمناموں میں جو مردوں کو کنگال،تلخ اور ٹوٹا ہوا چھوڑ جاتی ہیں۔

حتمی بات
سب سے مضبوط مرد دشمنوں کے ہاتھوں نہیں گرتے۔
وہ اُن عورتوں کے ہاتھوں گرتے ہیں جنہیں وہ خود چُنتے ہیں۔
سامسون نے اسے ثابت کیا۔
نیپولین نے اسے ثابت کیا۔
اور آج کے مرد ہر روز اسے ثابت کر رہے ہیں۔
لہٰذا، سوچ سمجھ کر چنیں۔
کیونکہ میدانِ جنگ کا کوئی دشمن آپ کو اُتنا زخمی نہیں کر سکتا...
جتنی وہ عورت کر سکتی ہے جو آپ کے بستر کا حصہ ہے۔

Address

Ravangla

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rupen Vlog posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Rupen Vlog:

Share