17/09/2026
“پیر” ڈوگری اور ”پنژال” کشمیری لفظ- والٹر لارینس کا دعوی 👍اسٹین کیا کہتے ہیں؟ آئیے دیکھتے ہیں ✅
میں والٹر لارنس کی 1895ء میں لکھی گئی کتاب “دی ویلی آف کشمیر “ کا ابھی مطالعہ کر رہا تھا۔ صفحہ 15 پر پہنچا تو حاشیے میں پیر پنجال کے نام سے متعلق ایک دلچسپ لسانی وضاحت نظر آئی۔ سوچا آپ سے بھی شیئر کروں اور پھر اسی نام کے بارے میں مارک اسٹین نے جو تحقیق کی ہے، وہ بھی یہاں بیان کروں گا۔ لارنس کے مطابق “Pir” ڈوگری زبان میں پہاڑی چوٹی کے لیے استعمال ہونے والا لفظ ہے جبکہ “Pantsal” پنژال کشمیری زبان کا لفظ ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ پیر پنجال دراصل “Pir Pantsal” کی بگڑی ہوئی اور صورت ہے۔ اس وضاحت کے مطابق یہاں “پیر” سے مراد صوفی یا بزرگ نہیں بلکہ پہاڑی جغرافیہ سے متعلق لفظ ہے۔
بعد کے معروف محقق مارک اسٹین نے پیر پنجال کے نام کو قدیم پنچالہ دھاراسے بھی جوڑا ہے۔ خاص طور پر گیارہویں صدی کے کشمیری ادیب کشمیندر کے ہاں اس کا حوالہ ملتا ہے، جسے اسٹین نے موجودہ پیر پنجال کے قدیم نام سے متعلق قرار دیا۔
مجھے یہی سمجھ آیا کہ پیر پنجال کے نام کے پیچھے ایک قدیم جغرافیائی اور لسانی روایت موجود دکھائی دیتی ہے، تاہم اس کے مکمل ارتقا کو سمجھنے کے لیے قدیم سنسکرت، فارسی، کشمیری, ڈوگری گوجری اور پہاڑی ماخذات کا مزید تقابلی مطالعہ ضروری ہے۔
(ذاکر ملک بھلیسی)