Mufti Akram Rahmani

Mufti Akram Rahmani حضرت مولانا مفتی محمد اکرم رحمانی
کےعلمی فکری اور فقہی بیانات سے استفادہ کیلۓ پیج کو ضرور فالو کریں

امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم: علم، عرفان اور بصیرت افروز قیادت کا روشن مینارامتِ مسلمہ کی ت...
11/06/2026

امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم: علم، عرفان اور بصیرت افروز قیادت کا روشن مینار
امتِ مسلمہ کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک فکر، ایک تحریک اور ایک تابندہ روایت کی نمائندہ بن جاتی ہیں۔ ان کی ذات علم و عمل، اخلاص و للہیت اور قیادت و رہنمائی کا ایسا حسین امتزاج ہوتی ہے جو نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتا ہے۔ عصرِ حاضر میں ایسی ہی ممتاز اور باوقار شخصیات میں امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم کا نام نہایت احترام اور عقیدت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
حضرت مولانا کا تعلق بہار کے تاریخی علمی و روحانی مرکز خانقاہِ رحمانی، مونگیر سے ہے، جو صدیوں سے علمِ دین، تزکیۂ نفس، اصلاحِ باطن اور خدمتِ خلق کا ایک درخشاں مرکز چلا آ رہا ہے۔ اس عظیم خانوادۂ علم و تقویٰ نے برصغیر کے دینی، تعلیمی اور سماجی میدان میں جو گراں قدر خدمات انجام دی ہیں، وہ تاریخ کے سنہرے اوراق میں ہمیشہ محفوظ رہیں گی۔
حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب دامت برکاتہم آج خانقاہِ رحمانی کے سجادہ نشین کی حیثیت سے اپنے اکابر و اسلاف کی علمی، روحانی اور اصلاحی روایات کو نہایت حسن و خوبی کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔ آپ کی قیادت میں خانقاہِ رحمانی نہ صرف روحانی فیوض و برکات کا مرکز ہے بلکہ نوجوان نسل کی فکری، اخلاقی اور تعلیمی رہنمائی کا بھی ایک مؤثر ادارہ بن چکی ہے۔ آپ کی شخصیت میں علم کی گہرائی، فکر کی پختگی، روحانیت کی لطافت اور قیادت کی بصیرت اس انداز سے جمع ہوگئی ہے کہ آپ کی بات دلوں میں اترتی اور آپ کی رہنمائی اعتماد و اطمینان کا احساس پیدا کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو صرف خانقاہی ذمہ داریوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ ملتِ اسلامیہ کی وسیع تر خدمت کا عظیم موقع بھی عطا فرمایا ہے۔ آپ امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ اور جھارکھنڈ کے امیرِ شریعت کی حیثیت سے ملت کی دینی، سماجی اور ملی رہنمائی فرما رہے ہیں۔ امارتِ شرعیہ برصغیر کا ایک تاریخی اور مؤثر ادارہ ہے جس نے ہمیشہ مسلمانوں کے دینی و سماجی مسائل کے حل، شرعی رہنمائی اور عدل و انصاف کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حضرت مولانا کی مدبرانہ قیادت میں یہ ادارہ اپنی عظیم روایات کو مزید استحکام اور وسعت کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے۔ آپ کی دور اندیشی، حکمت، اعتدال اور بصیرت نے ملت کے مختلف طبقات میں اعتماد، ہم آہنگی اور یکجہتی کی فضا کو فروغ دیا ہے۔
حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب کی شخصیت کا ایک نہایت دلکش پہلو ان کا اخلاص، تواضع اور سادگی ہے۔ بلند مناصب پر فائز ہونے کے باوجود آپ کی زندگی عاجزی، انکساری اور خدمتِ خلق کے جذبے سے مزین ہے۔ آپ کی گفتگو میں علم کی پختگی کے ساتھ امت کا درد، ملت کی فکر اور اصلاحِ معاشرہ کی تڑپ نمایاں محسوس ہوتی ہے۔ آپ مسلسل اس کوشش میں مصروف ہیں کہ نئی نسل کو دین سے جوڑا جائے، تعلیمی شعور کو فروغ دیا جائے اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق کی فضا قائم ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آپ صرف ایک مذہبی رہنما ہی نہیں بلکہ ایک مصلح، مربی، مدبر اور دور اندیش قائد کی حیثیت سے بھی پہچانے جاتے ہیں۔
آج جب امتِ مسلمہ فکری انتشار، تعلیمی پسماندگی اور مختلف سماجی چیلنجز سے دوچار ہے، ایسے نازک دور میں حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب جیسی شخصیات امید، استقامت اور صحیح رہنمائی کا روشن مینار ہیں۔ آپ کی دینی، تعلیمی، اصلاحی اور ملی خدمات نہ صرف موجودہ نسل کے لیے سرمایۂ افتخار ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی مشعلِ راہ ثابت ہوں گی۔ یقیناً تاریخ آپ کی خدمات کو قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھے گی اور ملت آپ کے علمی و روحانی فیوض سے مدتوں مستفید ہوتی رہے گی۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ حضرت امیرِ شریعت دامت برکاتہم کو صحتِ کاملہ، عافیتِ مستمرہ اور درازیِ عمر عطا فرمائے، ان کی دینی، ملی اور اصلاحی خدمات میں بے پناہ برکت نصیب فرمائے، اور ملتِ اسلامیہ کو مدتوں تک ان کے علم، حکمت اور بصیرت افروز قیادت سے فیض یاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
✍️ محمد اکرم رحمانی
خادم، مدرسہ اشرفیہ عربیہ پوہدی بیلا
ضلع دربھنگہ، بہار

طلاق: ایک لمحے کا غصہ یا پوری زندگی کا نقصان؟نکاح محض دو افراد کا باہمی تعلق نہیں، بلکہ دو خاندانوں، دو دلوں اور بے شمار...
11/06/2026

طلاق: ایک لمحے کا غصہ یا پوری زندگی کا نقصان؟
نکاح محض دو افراد کا باہمی تعلق نہیں، بلکہ دو خاندانوں، دو دلوں اور بے شمار امیدوں کا حسین امتزاج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے نکاح کو پسندیدہ اور باعثِ برکت عمل قرار دیا، جبکہ طلاق کو جائز ہونے کے باوجود ناپسند فرمایا۔ تاہم جب میاں بیوی کے درمیان حالات اس حد تک پہنچ جائیں کہ ساتھ رہنا دشوار ہو جائے اور اصلاح کی تمام کوششیں ناکام ہو جائیں، تو شریعت نے طلاق کا دروازہ بھی کھلا رکھا ہے؛ لیکن ایسا دروازہ جس کے ساتھ حکمت، صبر اور سنجیدہ غور و فکر کی شرط وابستہ ہے۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں طلاق ایک شرعی مسئلہ کم اور غصے، جذبات اور انا کا کھیل زیادہ بنتی جا رہی ہے۔ معمولی اختلافات، وقتی ناراضی، خاندانی مداخلت یا دوسروں کے بہکاوے میں آ کر بعض لوگ ایسے فیصلے کر لیتے ہیں جن کا پچھتاوا عمر بھر ان کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ ایک لمحے کے غصے میں ادا کیے گئے چند الفاظ نہ صرف میاں بیوی کی زندگی بدل دیتے ہیں بلکہ بچوں کے مستقبل، خاندان کے سکون اور کئی دلوں کی خوشیوں کو بھی برباد کر دیتے ہیں۔
اسلام کی تعلیمات کا حسن دیکھیے کہ اس نے طلاق کا ایسا حکیمانہ طریقہ مقرر فرمایا ہے جس میں جلد بازی اور جذباتی فیصلوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ شریعت یہ تعلیم دیتی ہے کہ اگر طلاق ناگزیر ہو جائے تو ایک طلاق دی جائے، پھر عدت کی مدت میں سوچنے، سمجھنے، صلح کرنے اور رجوع کرنے کا موقع باقی رکھا جائے۔ گویا اسلام گھر کو ٹوٹنے سے بچانے کے تمام ممکنہ راستے اختیار کرنے کے بعد ہی علیحدگی کی اجازت دیتا ہے۔
اسی لیے فقہائے امت نے طلاق کے اس مسنون طریقے کو پسند فرمایا ہے، کیونکہ اس میں ندامت کم اور اصلاح کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اگر دل بدل جائے، حالات بہتر ہو جائیں یا غلط فہمیاں دور ہو جائیں تو ازدواجی رشتہ دوبارہ بحال کیا جا سکتا ہے۔ یہی اسلام کی رحمت، عدل اور حکمت کا روشن مظہر ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم طلاق کو غصے کا ہتھیار بنانے کے بجائے شریعت کی امانت سمجھیں اور اسے صرف اسی وقت اختیار کریں جب واقعی اس کی ضرورت ہو۔ یاد رکھیے! ایک گھر بسانے میں برسوں کی محنت، محبت اور قربانیاں صرف ہوتی ہیں، لیکن اسے اجاڑنے کے لیے چند الفاظ ہی کافی ہوتے ہیں۔ اس لیے جب بھی زندگی میں اختلافات پیدا ہوں تو صبر، برداشت، مشورے، گفتگو اور اصلاح کے تمام راستے اختیار کیجیے، کیونکہ وہی گھر سب سے خوبصورت اور پائیدار ہوتا ہے جس میں محبت کے ساتھ معافی، برداشت کے ساتھ حکمت اور اختلاف کے ساتھ احترام بھی زندہ ہو۔
اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کے گھروں میں محبت، سکون، رحمت اور برکت عطا فرمائے، میاں بیوی کے درمیان الفت و مودت پیدا فرمائے اور ہمیں اپنی زندگی کے ہر معاملے میں شریعتِ مطہرہ کی رہنمائی اختیار کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
✍️ محمد اکرم رحمانی
خادم، مدرسہ اشرفیہ عربیہ پوہدی بیلا
ضلع دربھنگہ، بہار
#طلاق #نکاح #اسلام

🌹 جب زمین پر سازشیں بنتی ہیں تو آسمان پر فیصلے ہوتے ہیں 🌹قرآنِ کریم کی بعض آیات ایسی ہیں جو مومن کے دل میں یقین، امید او...
11/06/2026

🌹 جب زمین پر سازشیں بنتی ہیں تو آسمان پر فیصلے ہوتے ہیں 🌹
قرآنِ کریم کی بعض آیات ایسی ہیں جو مومن کے دل میں یقین، امید اور توکل کی نئی روح پھونک دیتی ہیں۔ انہی میں سے ایک عظیم آیت یہ ہے:
﴿وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللّٰهُ ۖ وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ﴾
(سورۂ آل عمران: 54)
ترجمہ:
"انہوں نے خفیہ تدبیریں کیں اور اللہ نے بھی تدبیر فرمائی، اور اللہ سب سے بہتر تدبیر فرمانے والا ہے۔"
یہ آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ان دشمنوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے آپؑ کی دعوتِ حق کو مٹانے اور آپ کو نقصان پہنچانے کے لیے خفیہ منصوبے بنائے تھے۔ وہ اپنی طاقت، تعداد اور چالاکی پر نازاں تھے اور یہ گمان کرتے تھے کہ ان کی تدبیریں ضرور کامیاب ہوں گی، مگر انہیں اس حقیقت کا شعور نہ تھا کہ تمام تدبیروں سے بالا تر ایک تدبیر اور بھی ہے، اور وہ ربِّ کائنات کی تدبیر ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہر سازش کو ناکام بنا دیا، اپنے نبی کو حفاظت و عزت عطا فرمائی اور دشمنوں کو رسوائی و ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ہر دور کے اہلِ ایمان کے لیے ایک زندہ پیغام ہے۔ حق کے راستے پر چلنے والوں کو ہمیشہ مخالفتوں، رکاوٹوں اور سازشوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کبھی ان کے خلاف جھوٹ پھیلایا گیا، کبھی انہیں بدنام کیا گیا اور کبھی طاقت و جبر کے ذریعے ان کی آواز دبانے کی کوشش کی گئی، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ باطل کی چمک ہمیشہ عارضی ثابت ہوئی اور حق کا نور ہمیشہ باقی رہا۔
آج بھی جب دینِ اسلام کی دعوت دینے والوں کے خلاف پروپیگنڈے کیے جاتے ہیں، جب سچ بولنے والوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور جب اہلِ حق کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں تو ایک مومن کا دل اس آیت سے حوصلہ پاتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ انسانوں کی تدبیریں محدود ہیں، مگر اللہ تعالیٰ کی تدبیر لامحدود ہے۔ دشمن صرف ظاہری حالات کو دیکھتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ ظاہر و باطن، حال و مستقبل اور زمین و آسمان کی ہر چیز سے باخبر ہے۔
تاریخ کے اوراق اس حقیقت کے بے شمار شواہد سے بھرے پڑے ہیں۔ فرعون کے پاس سلطنت تھی، نمرود کے پاس طاقت تھی اور ابو جہل کے پاس قبیلے کا غرور تھا، مگر جب اللہ کا فیصلہ آیا تو ان کی تمام قوتیں ریت کی دیوار ثابت ہوئیں۔ اقتدار، لشکر اور سازشیں سب مٹ گئیں، مگر اللہ کے دین کا چراغ روشن رہا۔
اس لیے جب کبھی باطل کی قوتیں غالب دکھائی دیں، سازشیں اپنے عروج پر نظر آئیں اور یہ محسوس ہونے لگے کہ حق کا راستہ تنگ ہو رہا ہے، تو اس آیت کو یاد کر لیجیے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہلِ ایمان کے لیے ایک دائمی پیغام ہے کہ دنیا کی کوئی تدبیر، کوئی منصوبہ اور کوئی سازش اس کے فیصلے پر غالب نہیں آ سکتی۔ زمین پر کتنی ہی چالیں چلی جائیں، آخری فیصلہ آسمان سے آتا ہے اور وہی نافذ ہو کر رہتا ہے۔
﴿وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللّٰهُ ۖ وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ﴾
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ مومن حالات کے طوفانوں سے خوف زدہ نہیں ہوتا، کیونکہ اس کا بھروسہ اس رب پر ہوتا ہے جو تمام تدبیروں کا مالک ہے۔ جب بندہ اپنے معاملات اللہ کے سپرد کر دیتا ہے تو اسے یقین ہو جاتا ہے کہ دنیا کی تمام سازشیں ایک طرف اور ربِّ کریم کا ایک فیصلہ دوسری طرف۔ انجامِ کار کامیابی اسی کے حصے میں آتی ہے جو صبر، استقامت اور توکل کے ساتھ حق پر قائم رہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذات پر کامل بھروسہ، حق پر ثابت قدمی اور ہر حال میں حسنِ ظن کی دولت نصیب فرمائے۔ آمین۔
فقط
محمد اکرم رحمانی
خادم، مدرسہ اشرفیہ عربیہ پوہدی بیلا
ضلع دربھنگہ

اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِترجمہ:"بے شک آپ کا رب بہت وسیع مغفرت والا ہے۔"(سورۃ النجم: 32)انسان خطاؤں کا پتلا ہے۔...
11/06/2026

اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ
ترجمہ:
"بے شک آپ کا رب بہت وسیع مغفرت والا ہے۔"
(سورۃ النجم: 32)
انسان خطاؤں کا پتلا ہے۔ زندگی کے سفر میں جانے انجانے کتنی ہی لغزشیں، گناہ اور کوتاہیاں ہم سے سرزد ہو جاتی ہیں۔ کبھی نفس کے بہکاوے میں آ کر، کبھی غفلت کے باعث، اور کبھی کمزوری کی وجہ سے ہم اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر بیٹھتے ہیں۔ لیکن اسلام کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ یہ انسان کو مایوسی نہیں سکھاتا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ" یعنی تمہارا رب بہت وسیع مغفرت والا ہے۔ اس کی رحمت اور بخشش اتنی وسیع ہے کہ اگر بندہ سچے دل سے توبہ کر لے تو بڑے سے بڑا گناہ بھی معاف ہو سکتا ہے۔
مفسرین لکھتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو امید دلا رہا ہے کہ اگرچہ تم سے غلطیاں ہوتی ہیں، لیکن تمہارا رب تمہاری کمزوریوں کو جانتا ہے اور توبہ کرنے والوں کو معاف فرمانے والا ہے۔ اس لیے کبھی بھی اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں۔
آج اگر دل پر گناہوں کا بوجھ ہے، نمازوں میں کوتاہی ہوئی ہے، حقوق العباد میں کمی رہ گئی ہے یا زندگی غلط راستے پر چل پڑی ہے، تو ابھی بھی وقت ہے۔ اپنے رب کی طرف پلٹ آئیں، آنسوؤں کے ساتھ معافی مانگیں، کیونکہ وہ دروازہ بند نہیں کرتا بلکہ توبہ کرنے والوں کا استقبال کرتا ہے۔
یاد رکھئے!
گناہ انسان کو تباہ نہیں کرتے، بلکہ اللہ کی رحمت سے مایوسی انسان کو تباہ کر دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سچی توبہ کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی وسیع
مغفرت سے نوازے۔ آمین۔
محمد اکرم رحمانی
خادم مدرسہ اشرفیہ عربیہ پوہدی بیلا ضلع دربھنگہ

#توبہ #مغفرت ٰہی #نصیحت #دیناسلام

وقت اور حالات انسان کو مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ سچ جانتے ہوئے بھی خاموش رہے۔"قاتل کے گھرانے سے ان کا بھی تعلق ہےکھل کر کب...
11/06/2026

وقت اور حالات انسان کو مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ سچ جانتے ہوئے بھی خاموش رہے۔
"قاتل کے گھرانے سے ان کا بھی تعلق ہے
کھل کر کبھی قاتل کا وہ نام نہیں لیں گے"

نکاح: سنتِ نبوی ﷺ اور معاشرے کی پاکیزگی کا ذریعہآج کے دور میں جب بے حیائی، فتنوں اور گناہوں کے راستے آسان ہوتے جا رہے ہی...
10/06/2026

نکاح: سنتِ نبوی ﷺ اور معاشرے کی پاکیزگی کا ذریعہ
آج کے دور میں جب بے حیائی، فتنوں اور گناہوں کے راستے آسان ہوتے جا رہے ہیں، اسلام نے انسان کی عفت و پاکدامنی کے تحفظ کے لیے نکاح کا پاکیزہ نظام عطا فرمایا ہے۔ نکاح صرف دو افراد کا تعلق نہیں بلکہ دو خاندانوں کے درمیان محبت، اعتماد اور رحمت کا بندھن ہے۔
نکاح انسان کی فطری ضروریات کو جائز اور پاکیزہ طریقے سے پورا کرتا ہے، نگاہوں کی حفاظت کرتا ہے اور معاشرے کو اخلاقی برائیوں سے بچاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے نکاح کو اپنی سنت قرار دیا اور فرمایا کہ جو میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ سے نہیں۔
افسوس کہ آج نکاح کو غیر ضروری رسم و رواج، فضول خرچی اور بے جا مطالبات کی وجہ سے مشکل بنا دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں بہت سے نوجوان پریشانیوں اور آزمائشوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ نکاح کو آسان بنائیں، سادگی کو فروغ دیں اور اپنے بچوں کی بروقت شادی کا اہتمام کریں۔
یاد رکھیں! جس گھر کی بنیاد اللہ کے نام پر نکاح سے رکھی جاتی ہے، وہاں محبت، سکون اور برکت کے پھول کھلتے ہیں۔ کامیاب معاشرے کی تعمیر مضبوط اور پاکیزہ خاندانوں سے ہوتی ہے، اور مضبوط خاندانوں کی بنیاد نکاح ہے۔
آئیے! نکاح کو آسان بنائیں، سنتِ رسول ﷺ کو زندہ کریں اور اپنے معاشرے کو پاکیزگی، محبت اور رحمت کا گہوارہ بنائیں۔
فقط
محمد اکرم رحمانی
خادم مدرسہ اشرفیہ عربیہ پوہدی بیلا ضلع دربھنگہ
۔
#نکاح ﷺ #اسلام

🔥 اللہ تعالیٰ کو سب سے ناپسندیدہ بات! 🔥نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہمیں اصلاحِ نفس اور تکبر سے بچنے کا ایک ع...
10/06/2026

🔥 اللہ تعالیٰ کو سب سے ناپسندیدہ بات! 🔥
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہمیں اصلاحِ نفس اور تکبر سے بچنے کا ایک عظیم درس دے رہا ہے۔ جب ہمیں کوئی خیرخواہی کے طور پر "اللہ سے ڈرنے" کا کہے، تو اسے اپنی اصلاح کا موقع سمجھیں، نہ کہ تکبر کا۔
آج ہی اپنی زندگی میں اس اہم حدیث کو نافذ کریں اور نیکی کی دعوت دینے والوں کے ساتھ عاجزی کا معاملہ اختیار کریں۔
#حدیثِ_مبارکہ

تربیت: وہ سرمایہ جو نسلوں کو سنوار دیتا ہےآج کے دور میں والدین اپنے بچوں کو بہترین لباس، اچھے اسکول، جدید موبائل اور ہر ...
07/06/2026

تربیت: وہ سرمایہ جو نسلوں کو سنوار دیتا ہے
آج کے دور میں والدین اپنے بچوں کو بہترین لباس، اچھے اسکول، جدید موبائل اور ہر قسم کی سہولت تو دینا چاہتے ہیں، لیکن افسوس کہ تربیت کے لیے وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بچے کو دیا جانے والا سب سے قیمتی تحفہ دولت نہیں بلکہ اچھی تربیت ہے۔
تربیت صرف نصیحتوں کا نام نہیں، بلکہ اپنے کردار سے مثال قائم کرنے کا نام ہے۔ بچے وہ نہیں سیکھتے جو ہم کہتے ہیں، بلکہ وہ سیکھتے ہیں جو ہم کرتے ہیں۔ اگر گھر میں سچائی ہوگی تو بچے سچ بولنا سیکھیں گے، اگر احترام ہوگا تو بچے ادب سیکھیں گے، اور اگر دین سے محبت ہوگی تو ان کے دلوں میں بھی دین کی محبت پیدا ہوگی۔
یاد رکھیے! بے تربیت اولاد صرف ایک گھر کا مسئلہ نہیں بنتی بلکہ پورے معاشرے کے لیے آزمائش بن جاتی ہے۔ جبکہ اچھی تربیت یافتہ اولاد والدین کے لیے دنیا میں عزت اور آخرت میں صدقۂ جاریہ بن جاتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو صرف کامیاب انسان بنانے کی فکر نہ کریں بلکہ انہیں اچھا انسان بنانے کی فکر بھی کریں۔ کیونکہ ڈاکٹر، انجینئر یا تاجر بننا زندگی کی کامیابی نہیں، بلکہ بااخلاق، دیانت دار اور خدا ترس انسان بننا اصل کامیابی ہے۔
آئیں! ہم اپنی مصروف زندگی سے کچھ وقت نکالیں، اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھیں، ان کی بات سنیں، انہیں دین، اخلاق، ادب اور انسانیت کا درس دیں۔ یقین جانیے، آج کی گئی یہ محنت کل ایک بہترین نسل کی صورت میں ہمارے سامنے آئے گی۔
"بچوں کی اچھی تربیت، والدین کی سب سے بڑی کامیابی اور معاشرے کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔"
محمد اکرم رحمانی
خادم مدرسہ اشرفیہ عربیہ پوہدی بیلا ضلع دربھنگہ

"صبح بخیر! ایک نئی شروعات، ایک نیا جوش۔ زندگی کو مسکرا کر جئیں۔ ✨"
07/06/2026

"صبح بخیر! ایک نئی شروعات، ایک نیا جوش۔ زندگی کو مسکرا کر جئیں۔ ✨"

جنتیوں کی پہلی ضیافت — ایک ایمان افروز حقیقتدنیا میں انسان طرح طرح کے کھانوں کی خواہش کرتا ہے۔ کوئی لذیذ پکوانوں کا شوقی...
06/06/2026

جنتیوں کی پہلی ضیافت — ایک ایمان افروز حقیقت

دنیا میں انسان طرح طرح کے کھانوں کی خواہش کرتا ہے۔ کوئی لذیذ پکوانوں کا شوقین ہے تو کوئی بہترین دعوتوں کا متلاشی۔ مگر ایک مومن کی سب سے بڑی آرزو دنیا کی نعمتیں نہیں بلکہ جنت کی وہ دائمی نعمتیں ہونی چاہئیں جن کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں سے فرمایا ہے۔

احادیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ جب جنتی جنت میں داخل ہوں گے تو ان کی پہلی ضیافت مچھلی کے جگر کے ایک خاص اور بہترین حصے سے کی جائے گی۔ ذرا سوچئے! وہ جنت جس کی زمین مشک سے زیادہ خوشبودار ہوگی، جس کے محلات سونے اور چاندی کے ہوں گے، جس کی نہریں دودھ، شہد اور پاکیزہ مشروبات سے بہتی ہوں گی، وہاں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پہلی مہمانی کس شان سے فرمائے گا۔

یہ حقیقت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا کی ہر نعمت عارضی ہے۔ آج جو دسترخوان سجا ہے، کل ختم ہو جائے گا۔ آج جو ذائقہ اچھا لگ رہا ہے، کچھ دیر بعد اس کا اثر باقی نہیں رہے گا۔ لیکن جنت کی نعمتیں ایسی ہیں جن میں نہ کمی آئے گی، نہ ان سے دل بھرے گا اور نہ کبھی ان کا خاتمہ ہوگا۔

افسوس کہ ہم دنیا کے معمولی فائدوں کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں، مگر جنت کے لیے وہ کوشش نہیں کرتے جس کی وہ مستحق ہے۔ حالانکہ جنت کی ایک نعمت بھی پوری دنیا اور اس کی تمام دولت سے بہتر ہے۔ اگر ہم نمازوں کی پابندی کریں، والدین کی خدمت کریں، حقوق العباد کا خیال رکھیں، حلال رزق اختیار کریں اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں زندگی گزاریں تو ان شاء اللہ وہ دن دور نہیں جب ہمیں بھی جنت کی پہلی ضیافت نصیب ہوگی۔

آئیے! آج عہد کریں کہ ہم اپنی زندگی کا مقصد صرف دنیا کی آسائشیں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کا حصول بنائیں گے۔ کیونکہ اصل کامیابی وہی ہے جس کے بعد کبھی ناکامی نہیں، اور اصل نعمت وہی ہے جس کے بعد کوئی محرومی نہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں جنت الفردوس میں داخل فرمائے اور جنتیوں کی ان عظیم نعمتوں میں حصہ عطا فرمائے۔ آمین۔








Address

Darbhanga

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mufti Akram Rahmani posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share