11/06/2026
امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم: علم، عرفان اور بصیرت افروز قیادت کا روشن مینار
امتِ مسلمہ کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک فکر، ایک تحریک اور ایک تابندہ روایت کی نمائندہ بن جاتی ہیں۔ ان کی ذات علم و عمل، اخلاص و للہیت اور قیادت و رہنمائی کا ایسا حسین امتزاج ہوتی ہے جو نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتا ہے۔ عصرِ حاضر میں ایسی ہی ممتاز اور باوقار شخصیات میں امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم کا نام نہایت احترام اور عقیدت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
حضرت مولانا کا تعلق بہار کے تاریخی علمی و روحانی مرکز خانقاہِ رحمانی، مونگیر سے ہے، جو صدیوں سے علمِ دین، تزکیۂ نفس، اصلاحِ باطن اور خدمتِ خلق کا ایک درخشاں مرکز چلا آ رہا ہے۔ اس عظیم خانوادۂ علم و تقویٰ نے برصغیر کے دینی، تعلیمی اور سماجی میدان میں جو گراں قدر خدمات انجام دی ہیں، وہ تاریخ کے سنہرے اوراق میں ہمیشہ محفوظ رہیں گی۔
حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب دامت برکاتہم آج خانقاہِ رحمانی کے سجادہ نشین کی حیثیت سے اپنے اکابر و اسلاف کی علمی، روحانی اور اصلاحی روایات کو نہایت حسن و خوبی کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔ آپ کی قیادت میں خانقاہِ رحمانی نہ صرف روحانی فیوض و برکات کا مرکز ہے بلکہ نوجوان نسل کی فکری، اخلاقی اور تعلیمی رہنمائی کا بھی ایک مؤثر ادارہ بن چکی ہے۔ آپ کی شخصیت میں علم کی گہرائی، فکر کی پختگی، روحانیت کی لطافت اور قیادت کی بصیرت اس انداز سے جمع ہوگئی ہے کہ آپ کی بات دلوں میں اترتی اور آپ کی رہنمائی اعتماد و اطمینان کا احساس پیدا کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو صرف خانقاہی ذمہ داریوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ ملتِ اسلامیہ کی وسیع تر خدمت کا عظیم موقع بھی عطا فرمایا ہے۔ آپ امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ اور جھارکھنڈ کے امیرِ شریعت کی حیثیت سے ملت کی دینی، سماجی اور ملی رہنمائی فرما رہے ہیں۔ امارتِ شرعیہ برصغیر کا ایک تاریخی اور مؤثر ادارہ ہے جس نے ہمیشہ مسلمانوں کے دینی و سماجی مسائل کے حل، شرعی رہنمائی اور عدل و انصاف کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حضرت مولانا کی مدبرانہ قیادت میں یہ ادارہ اپنی عظیم روایات کو مزید استحکام اور وسعت کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے۔ آپ کی دور اندیشی، حکمت، اعتدال اور بصیرت نے ملت کے مختلف طبقات میں اعتماد، ہم آہنگی اور یکجہتی کی فضا کو فروغ دیا ہے۔
حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب کی شخصیت کا ایک نہایت دلکش پہلو ان کا اخلاص، تواضع اور سادگی ہے۔ بلند مناصب پر فائز ہونے کے باوجود آپ کی زندگی عاجزی، انکساری اور خدمتِ خلق کے جذبے سے مزین ہے۔ آپ کی گفتگو میں علم کی پختگی کے ساتھ امت کا درد، ملت کی فکر اور اصلاحِ معاشرہ کی تڑپ نمایاں محسوس ہوتی ہے۔ آپ مسلسل اس کوشش میں مصروف ہیں کہ نئی نسل کو دین سے جوڑا جائے، تعلیمی شعور کو فروغ دیا جائے اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق کی فضا قائم ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آپ صرف ایک مذہبی رہنما ہی نہیں بلکہ ایک مصلح، مربی، مدبر اور دور اندیش قائد کی حیثیت سے بھی پہچانے جاتے ہیں۔
آج جب امتِ مسلمہ فکری انتشار، تعلیمی پسماندگی اور مختلف سماجی چیلنجز سے دوچار ہے، ایسے نازک دور میں حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب جیسی شخصیات امید، استقامت اور صحیح رہنمائی کا روشن مینار ہیں۔ آپ کی دینی، تعلیمی، اصلاحی اور ملی خدمات نہ صرف موجودہ نسل کے لیے سرمایۂ افتخار ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی مشعلِ راہ ثابت ہوں گی۔ یقیناً تاریخ آپ کی خدمات کو قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھے گی اور ملت آپ کے علمی و روحانی فیوض سے مدتوں مستفید ہوتی رہے گی۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ حضرت امیرِ شریعت دامت برکاتہم کو صحتِ کاملہ، عافیتِ مستمرہ اور درازیِ عمر عطا فرمائے، ان کی دینی، ملی اور اصلاحی خدمات میں بے پناہ برکت نصیب فرمائے، اور ملتِ اسلامیہ کو مدتوں تک ان کے علم، حکمت اور بصیرت افروز قیادت سے فیض یاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
✍️ محمد اکرم رحمانی
خادم، مدرسہ اشرفیہ عربیہ پوہدی بیلا
ضلع دربھنگہ، بہار