Moman Times

Call Directions Website

Moman Times public service

27/09/2026
25/09/2026

May this blessed Jummah bring peace to your heart and tranquility to your soul. Take a moment today to reflect and drop your Ameen in the comments.

Important meeting of nemberdars from Uranhall,Batengoo,Kanjigund ,Pazalpora , Jablipora etc villages held at Uranhall An...
18/09/2026

Important meeting of nemberdars from Uranhall,Batengoo,Kanjigund ,Pazalpora , Jablipora etc villages held at Uranhall Anantnag regarding therates for labour's of paddy work.

13/09/2026

: Vehicle Hits SHO Bijbehara While On Duty, Inju*red, Hospitalised

Dated 6 September 2026, Sunday, at 5:00 PM, an extraordinary meeting was held at Arwani in the presence of the Numberdar...
11/09/2026

Dated 6 September 2026, Sunday, at 5:00 PM, an extraordinary meeting was held at Arwani in the presence of the Numberdars of Arwani, Hasanpora Tawaila, Husanpora Bagh, Hafizabad (Loktipora), Moman Danji, Gund Chahal, and other respected persons, regarding the fixing of rates for paddy harvesting. It was unanimously agreed in the meeting that the rate for cutting and bundling standing paddy would be Rs. 1,000 per kanal, while the rate for cutting and bundling fallen paddy would be Rs. 1,200 per kanal.
Note: All concerned are hereby informed that the above-mentioned rates must be strictly followed in every case.

3 ستمبر 2026 کو متحدہ علماءِ اہلِ سنت کی جانب سے عید میلادُ النبی ﷺ کی عظیم الشان اور تاریخی ریلی منعقد ہونے جا رہی ہے، ...
02/09/2026

3 ستمبر 2026 کو متحدہ علماءِ اہلِ سنت کی جانب سے عید میلادُ النبی ﷺ کی عظیم الشان اور تاریخی ریلی منعقد ہونے جا رہی ہے، ان شاء اللہ۔
محبتِ مصطفیٰ ﷺ کا جذبہ لیے، ہر عاشقِ رسول ﷺ اس عظیم اجتماع کا حصہ بنے۔
یہ ریلی ہماری عقیدت، محبت اور اتحاد کا شاندار اظہار ہوگی۔ ان شاء اللہ 3 ستمبر کا دن تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔

لبیک یا رسول اللہ ﷺ
عید میلادُ النبی ﷺ مبارک

01/09/2026

تعمیر فکر
قرآن ، حدیث اور منہج سلف کے بلند بانگ دعوے
اخلاق، علم ، دلیل اور زبان کی شائستگی کا فقدان


غلام نبی کشافی
آنچار صورہ سرینگر

______________________

کہتے ہیں کہ ایک شخص ہر مجلس میں قرآن و حدیث کے حوالے دیتا اور اپنے آپ کو بڑا متبعِ سنت سمجھتا تھا۔ ایک دن کسی نے اس کی بات سے اختلاف کیا تو وہ فوراً غصے میں آگیا اور اسے برا بھلا کہنا شروع کردیا۔
ایک بزرگ نے مسکرا کر پوچھا:
’’بیٹا! ابھی تم جس شخص سے بحث کر رہے تھے، اس سے تمہارا اختلاف کس بات پر تھا؟‘‘
اس نے کہا: ’’قرآن و حدیث کی بات پر۔‘‘
بزرگ نے کہا: ’’اچھا! اور جو الفاظ تم نے استعمال کیے، وہ بھی قرآن و حدیث نے تمہیں سکھائے تھے؟‘‘
وہ خاموش ہوگیا۔
بزرگ نے کہا:
’’بیٹا! قرآن کو زبان پر رکھنے سے پہلے اسے اخلاق میں اتارنا سیکھو۔ ورنہ تمہارے منہ میں قرآن ہوگا، مگر تمہارے رویے میں قرآن کہیں نظر نہیں آئے گا۔‘‘
بات مختصر تھی، مگر چوٹ گہری تھی۔

دراصل بات یہ ہے کہ پچھلے چند دنوں کے دوران بعض اہلِ حدیث نوجوانوں نے میرے خلاف گالم گلوچ، بدتمیزی، الزام تراشی اور طرح طرح کی غیر شائستہ گفتگو کا خوب مظاہرہ کیا۔ میں نے بھی تقریباً سب کے ارمانوں پر پانی پھیر دیا اور ان کی تحریروں پر ’’ڈلیٹ‘‘ کا تیزاب ڈال دیا، تاکہ وہ میرے صفحے کی زینت بننے کے بجائے اپنے ہی حسد کی آگ میں جل کر راکھ ہو جائیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں چند نوجوان لڑکیاں بھی شامل تھیں، جنہوں نے بدتمیزی کی حدیں پار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
میں سوچتا رہا کہ جو لوگ قرآن و حدیث اور منہجِ سلف کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں، ان کا اخلاق، گفتار اور کردار کیا واقعی ایسا ہونا چاہیے؟ اگر زبان پر قرآن و حدیث ہو، لیکن لہجے میں تحقیر، تمسخر، گالی اور الزام تراشی ہو تو پھر ایسے لوگوں کو اپنے گفتار و کردار کے درمیان موجود اس فاصلے پر ضرور غور کرنا چاہیے۔
کسی نوجوان لڑکی نے لکھا: ’’میں آپ کو جوتے کی نوک پر رکھتی ہوں۔‘‘
ایک صاحب نے اپنے نام کے ساتھ ’’ڈاکٹر‘‘ لکھ رکھا تھا اور مجھے فریسٹریشن کا شکار لکھ دیا ۔
کسی نے میری داڑھی پر اعتراض اور طنز کیا ، لیکن جب میں نے اس کی پروفائل چیک کی ، تو پتہ چلا وہ احسان الہٰی ظہیر کا شیدائی ہے ، جن کی داڑھی میرے سے بھی آدھی ہے۔
کسی نے لکھا ، آپ ابھی چھوٹے بچے ہیں، کہاں کندی اور کہاں آپ؟‘‘
ایک نے لکھا کہ تجھے کس نے یہ اختیار دے دیا کہ تو ہمارے کندی صاحب پر تنقید کرے ، تیری اوقات ہی کیا ہیں ۔
ایک اور نے لکھا کہ تیرے پاس کون سی سند کہ تو ہمارے علماء پر اعتراض کرے ۔
اور ایک صاحب نے تو کمال ہی کردیا لکھا ۔ ’’آپ کو جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں اور آپ خود کو علامہ سمجھ بیٹھے ہیں۔‘‘

ایسی گفتگو پڑھ کر کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ بڑی بڑی کانفرنسوں میں شرکت کرنے، لمبی لمبی تقریریں سننے اور قرآن و حدیث کے نعرے لگانے کے بعد اگر انسان کے اندر برداشت، شائستگی، احترام اور حسنِ اخلاق پیدا نہیں ہوتا تو پھر آخر ان کانفرنسوں اور مجلسوں کا کیا مقصد رہ جاتا ہے ؟
میں کسی مسلک کے تمام لوگوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کا قائل نہیں۔ اچھے اور برے لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔ لیکن جو شخص قرآن و حدیث کی نسبت سے اپنی شناخت قائم کرتا ہے، اس سے کم از کم یہ توقع ضرور کی جا سکتی ہے کہ اختلافِ رائے کے وقت اپنی زبان اور قلم کو اخلاق کے دائرے میں رکھے۔ دلیل کا جواب دلیل سے دے، گالی سے نہیں۔ اختلاف کرے، مگر تحقیر نہ کرے۔

اور جہاں تک میری عمر اور تجربے کا تعلق ہے، شاید بعض نوجوانوں کو معلوم نہیں کہ یہاں جو حضرات آج بڑے بڑے مفتی، امیرِ جماعت، صدر اور دیگر مذہبی عہدوں پر فائز ہیں، ان میں سے اکثر عمر میں مجھ سے چھوٹے ہیں۔ یہ کوئی جھوٹی بات نہیں، محض ایک حقیقت ہے۔ البتہ میں ظاہری طور پر ان سے کم عمر دکھائی دیتا ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں ان کی طرح کھانے پینے میں بے احتیاطی نہیں کرتا اور نہ ہی میرا وزن ان کی طرح ایک یا ڈیڑھ کوئنٹل تک پہنچا ہوا ہے۔
میں تقریباً 43 برس سے پرنٹ میڈیا میں لکھ رہا ہوں اور تقریباً پچھلی تقریباً تین دہائیوں سے لوگ مجھے ایک لکھنے والے کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ آج جو حضرات مذہبی مناصب پر جلوہ افروز ہیں، ان میں سے بیشتر کو سنہ 2000ء سے پہلے ش*ذ و نادر ہی کوئی جانتا تھا۔
لیکن اصل فرق عمر یا شہرت کا نہیں، راستے کا ہے۔ میں نے مذہب کی آڑ میں دین کمانے کو اپنے لیے حرام سمجھا ہے۔ اسی لیے جہاں گیا، جو حق سمجھا، اسے لکھا؛ جو غلط محسوس ہوا، اس پر تنقید کی؛ اور اس کے نتیجے میں علماء اور مذہبی حلقوں کی مخالفت بھی برداشت کی۔
مجھے معلوم ہے کہ سچ بولنے اور سچ لکھنے کی قیمت ہوتی ہے۔ لیکن میں نے ہمیشہ یہی سمجھا ہے کہ اگر انسان حق بات کہنے سے پہلے یہ سوچنے لگے کہ کون ناراض ہوگا اور کون خوش، تو پھر وہ قلم کار نہیں رہتا، مصلحت کار بن جاتا ہے۔ اور مصالحت پسند ہونے کا تصور بھی نہیں کرسکتا ۔

لہٰذا اختلاف کیجیے، ضرور کیجیے ، میری تحریروں کو غلط ثابت کیجیے، قرآن و حدیث سے دلیل لائیے، میرے موقف کی علمی تردید کیجیے۔ مجھے اس سے کوئی شکایت نہیں۔
لیکن ایک گزارش ضرور ہے کہ قرآن و حدیث کا نام لینے سے پہلے اپنے لہجے میں قرآن و حدیث کا اخلاق بھی پیدا کیجیے۔
کیونکہ دین صرف اس چیز کا نام نہیں جو ہم زبان سے کہتے ہیں ، دین اس چیز کا نام بھی ہے جو ہمارے کردار سے دکھائی دیتی ہے۔

آخر میں شاعر کی زبان میں یہ کہنے پر مجبور ہوجاتا ہوں ؛

حق بات کی تائید کروں تو مجرم
حالات پہ تنقید کروں تو مجرم
تم جرم کی تخلیق کرو تو معصوم
میں جرم کی تردید کروں تو مجرم

______________________

01/09/2026

Veer conference k mutabiq ye 40 lakh log hai 😆 jo kisi ijtima mai ni blki jumma phadnay aaye thay .....

Address

Moman Danji Pora
Anantnag
192124

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Moman Times posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share