Moman Times

Moman Times public service

3 ستمبر 2026 کو متحدہ علماءِ اہلِ سنت کی جانب سے عید میلادُ النبی ﷺ کی عظیم الشان اور تاریخی ریلی منعقد ہونے جا رہی ہے، ...
02/09/2026

3 ستمبر 2026 کو متحدہ علماءِ اہلِ سنت کی جانب سے عید میلادُ النبی ﷺ کی عظیم الشان اور تاریخی ریلی منعقد ہونے جا رہی ہے، ان شاء اللہ۔
محبتِ مصطفیٰ ﷺ کا جذبہ لیے، ہر عاشقِ رسول ﷺ اس عظیم اجتماع کا حصہ بنے۔
یہ ریلی ہماری عقیدت، محبت اور اتحاد کا شاندار اظہار ہوگی۔ ان شاء اللہ 3 ستمبر کا دن تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔

لبیک یا رسول اللہ ﷺ
عید میلادُ النبی ﷺ مبارک

01/09/2026

تعمیر فکر
قرآن ، حدیث اور منہج سلف کے بلند بانگ دعوے
اخلاق، علم ، دلیل اور زبان کی شائستگی کا فقدان


غلام نبی کشافی
آنچار صورہ سرینگر

______________________

کہتے ہیں کہ ایک شخص ہر مجلس میں قرآن و حدیث کے حوالے دیتا اور اپنے آپ کو بڑا متبعِ سنت سمجھتا تھا۔ ایک دن کسی نے اس کی بات سے اختلاف کیا تو وہ فوراً غصے میں آگیا اور اسے برا بھلا کہنا شروع کردیا۔
ایک بزرگ نے مسکرا کر پوچھا:
’’بیٹا! ابھی تم جس شخص سے بحث کر رہے تھے، اس سے تمہارا اختلاف کس بات پر تھا؟‘‘
اس نے کہا: ’’قرآن و حدیث کی بات پر۔‘‘
بزرگ نے کہا: ’’اچھا! اور جو الفاظ تم نے استعمال کیے، وہ بھی قرآن و حدیث نے تمہیں سکھائے تھے؟‘‘
وہ خاموش ہوگیا۔
بزرگ نے کہا:
’’بیٹا! قرآن کو زبان پر رکھنے سے پہلے اسے اخلاق میں اتارنا سیکھو۔ ورنہ تمہارے منہ میں قرآن ہوگا، مگر تمہارے رویے میں قرآن کہیں نظر نہیں آئے گا۔‘‘
بات مختصر تھی، مگر چوٹ گہری تھی۔

دراصل بات یہ ہے کہ پچھلے چند دنوں کے دوران بعض اہلِ حدیث نوجوانوں نے میرے خلاف گالم گلوچ، بدتمیزی، الزام تراشی اور طرح طرح کی غیر شائستہ گفتگو کا خوب مظاہرہ کیا۔ میں نے بھی تقریباً سب کے ارمانوں پر پانی پھیر دیا اور ان کی تحریروں پر ’’ڈلیٹ‘‘ کا تیزاب ڈال دیا، تاکہ وہ میرے صفحے کی زینت بننے کے بجائے اپنے ہی حسد کی آگ میں جل کر راکھ ہو جائیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں چند نوجوان لڑکیاں بھی شامل تھیں، جنہوں نے بدتمیزی کی حدیں پار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
میں سوچتا رہا کہ جو لوگ قرآن و حدیث اور منہجِ سلف کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں، ان کا اخلاق، گفتار اور کردار کیا واقعی ایسا ہونا چاہیے؟ اگر زبان پر قرآن و حدیث ہو، لیکن لہجے میں تحقیر، تمسخر، گالی اور الزام تراشی ہو تو پھر ایسے لوگوں کو اپنے گفتار و کردار کے درمیان موجود اس فاصلے پر ضرور غور کرنا چاہیے۔
کسی نوجوان لڑکی نے لکھا: ’’میں آپ کو جوتے کی نوک پر رکھتی ہوں۔‘‘
ایک صاحب نے اپنے نام کے ساتھ ’’ڈاکٹر‘‘ لکھ رکھا تھا اور مجھے فریسٹریشن کا شکار لکھ دیا ۔
کسی نے میری داڑھی پر اعتراض اور طنز کیا ، لیکن جب میں نے اس کی پروفائل چیک کی ، تو پتہ چلا وہ احسان الہٰی ظہیر کا شیدائی ہے ، جن کی داڑھی میرے سے بھی آدھی ہے۔
کسی نے لکھا ، آپ ابھی چھوٹے بچے ہیں، کہاں کندی اور کہاں آپ؟‘‘
ایک نے لکھا کہ تجھے کس نے یہ اختیار دے دیا کہ تو ہمارے کندی صاحب پر تنقید کرے ، تیری اوقات ہی کیا ہیں ۔
ایک اور نے لکھا کہ تیرے پاس کون سی سند کہ تو ہمارے علماء پر اعتراض کرے ۔
اور ایک صاحب نے تو کمال ہی کردیا لکھا ۔ ’’آپ کو جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں اور آپ خود کو علامہ سمجھ بیٹھے ہیں۔‘‘

ایسی گفتگو پڑھ کر کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ بڑی بڑی کانفرنسوں میں شرکت کرنے، لمبی لمبی تقریریں سننے اور قرآن و حدیث کے نعرے لگانے کے بعد اگر انسان کے اندر برداشت، شائستگی، احترام اور حسنِ اخلاق پیدا نہیں ہوتا تو پھر آخر ان کانفرنسوں اور مجلسوں کا کیا مقصد رہ جاتا ہے ؟
میں کسی مسلک کے تمام لوگوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کا قائل نہیں۔ اچھے اور برے لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔ لیکن جو شخص قرآن و حدیث کی نسبت سے اپنی شناخت قائم کرتا ہے، اس سے کم از کم یہ توقع ضرور کی جا سکتی ہے کہ اختلافِ رائے کے وقت اپنی زبان اور قلم کو اخلاق کے دائرے میں رکھے۔ دلیل کا جواب دلیل سے دے، گالی سے نہیں۔ اختلاف کرے، مگر تحقیر نہ کرے۔

اور جہاں تک میری عمر اور تجربے کا تعلق ہے، شاید بعض نوجوانوں کو معلوم نہیں کہ یہاں جو حضرات آج بڑے بڑے مفتی، امیرِ جماعت، صدر اور دیگر مذہبی عہدوں پر فائز ہیں، ان میں سے اکثر عمر میں مجھ سے چھوٹے ہیں۔ یہ کوئی جھوٹی بات نہیں، محض ایک حقیقت ہے۔ البتہ میں ظاہری طور پر ان سے کم عمر دکھائی دیتا ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں ان کی طرح کھانے پینے میں بے احتیاطی نہیں کرتا اور نہ ہی میرا وزن ان کی طرح ایک یا ڈیڑھ کوئنٹل تک پہنچا ہوا ہے۔
میں تقریباً 43 برس سے پرنٹ میڈیا میں لکھ رہا ہوں اور تقریباً پچھلی تقریباً تین دہائیوں سے لوگ مجھے ایک لکھنے والے کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ آج جو حضرات مذہبی مناصب پر جلوہ افروز ہیں، ان میں سے بیشتر کو سنہ 2000ء سے پہلے ش*ذ و نادر ہی کوئی جانتا تھا۔
لیکن اصل فرق عمر یا شہرت کا نہیں، راستے کا ہے۔ میں نے مذہب کی آڑ میں دین کمانے کو اپنے لیے حرام سمجھا ہے۔ اسی لیے جہاں گیا، جو حق سمجھا، اسے لکھا؛ جو غلط محسوس ہوا، اس پر تنقید کی؛ اور اس کے نتیجے میں علماء اور مذہبی حلقوں کی مخالفت بھی برداشت کی۔
مجھے معلوم ہے کہ سچ بولنے اور سچ لکھنے کی قیمت ہوتی ہے۔ لیکن میں نے ہمیشہ یہی سمجھا ہے کہ اگر انسان حق بات کہنے سے پہلے یہ سوچنے لگے کہ کون ناراض ہوگا اور کون خوش، تو پھر وہ قلم کار نہیں رہتا، مصلحت کار بن جاتا ہے۔ اور مصالحت پسند ہونے کا تصور بھی نہیں کرسکتا ۔

لہٰذا اختلاف کیجیے، ضرور کیجیے ، میری تحریروں کو غلط ثابت کیجیے، قرآن و حدیث سے دلیل لائیے، میرے موقف کی علمی تردید کیجیے۔ مجھے اس سے کوئی شکایت نہیں۔
لیکن ایک گزارش ضرور ہے کہ قرآن و حدیث کا نام لینے سے پہلے اپنے لہجے میں قرآن و حدیث کا اخلاق بھی پیدا کیجیے۔
کیونکہ دین صرف اس چیز کا نام نہیں جو ہم زبان سے کہتے ہیں ، دین اس چیز کا نام بھی ہے جو ہمارے کردار سے دکھائی دیتی ہے۔

آخر میں شاعر کی زبان میں یہ کہنے پر مجبور ہوجاتا ہوں ؛

حق بات کی تائید کروں تو مجرم
حالات پہ تنقید کروں تو مجرم
تم جرم کی تخلیق کرو تو معصوم
میں جرم کی تردید کروں تو مجرم

______________________

01/09/2026

Veer conference k mutabiq ye 40 lakh log hai 😆 jo kisi ijtima mai ni blki jumma phadnay aaye thay .....

29/08/2026

Grand Milad Rally 2026 At Kabamarg Anantnag | Alama Shaykh Abdul Rashid Dawoodi Sahab (hh)

28/08/2026

تعمیر فکر

طلاق اور حلالہ: قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک جائزہ
ایک دینی جماعت کے سربراہ کو الزام تراشی زییب نہیں دیتی

غلام نبی کشافی
آنچار صورہ سرینگر
__________________________

تمہیدی کلمات/

میں نے آج کے اس خاص مضمون میں مسئلۂ طلاق اور حلالہ کے بعض اہم پہلوؤں کو قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح کرنے کی کوشش کی ہے، کیونکہ میرے نزدیک یہ محض فقہی اختلاف کا مسئلہ نہیں بلکہ خاندان، عورت کے حقوق اور شرعی حدود سے براہِ راست متعلق ایک نہایت حساس معاملہ ہے۔ میں حلالہ کی حرمت کے بارے میں کوئی ابہام نہیں سمجھتا اور نہ ہی اس قبیح عمل کی کسی صورت تائید ممکن ہے؛ البتہ ایک دینی جماعت کے ذمہ دار شخص کی طرف سے بغیر معتبر ثبوت کے کسی مخصوص مکتبِ فکر پر سنگین الزامات عائد کرنا اور ایسے حساس مسئلے کو غیر سنجیدہ اور عامیانہ انداز میں پیش کرنا بھی درست نہیں سمجھتا۔
میری کوشش یہی ہے کہ ہم اختلافِ رائے کے باوجود قرآن و حدیث کو اصل معیار بنائیں، جذبات اور مسلکی تعصب سے بلند ہوکر بات کریں، اور جس بات کا ثبوت نہ ہو اسے دین یا کسی طبقے کی طرف منسوب کرنے سے گریز کریں۔ میری نظر میں دین کی خدمت بلند آواز اور سخت الفاظ سے نہیں، بلکہ علم، دلیل، دیانت اور سنجیدگی سے ہوتی ہے۔

__________________________

جمعیت اہل حدیث جموں و کشمیر کے موجودہ صدر مولانا عبد اللطیف الکندی کا ایک بیان حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوا، جسے چند دوستوں نے واٹس ایپ اور ان باکس کے ذریعے مجھے بھی ارسال کیا۔ اس کے علاوہ ایک قاری نے بھی اسی بیان کے حوالے سے ایک طویل تحریر لکھ کر بھیجی ہے۔ ان کی تحریر کا خلاصہ، ضروری تصحیحِ الفاظ کے بعد، درج ذیل ہے:

’’میں نے سوشل میڈیا پر جمعیت اہلحدیث کے موجودہ صدر عبد اللطیف الکندی کی ایک ویڈیو دیکھی، جس میں وہ بڑے تیز و طرار انداز میں ایک واقعے کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ایک مخصوص طبقے کے دستار و جبہ پوش مفتیوں نے آر پار حلالہ کے سینٹر کھول رکھے ہیں اور خواتین کے ساتھ ظلم و زیادتی کرتے ہوئے حلالہ کے فتوے دیتے ہیں، جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور کروانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
اس تقریر میں موصوف نے نہایت بازاری اور غیر سنجیدہ اسلوب اختیار کیا ہے۔ چونکہ میں جانتا ہوں کہ آپ کا جواب دلائل کے اعتبار سے مضبوط اور تحریری صورت میں ہوتا ہے، جسے بار بار پڑھنے اور محفوظ کرکے اس سے استفادہ کرنے کا زیادہ بہتر موقع ملتا ہے، اس لئے میں آپ سے اس مسئلے کے بارے میں صحیح اور مدلل رہنمائی کی درخواست کرتا ہوں۔‘‘

شفیق الرحمٰن / کشتواڑ

جہاں تک مولانا عبد اللطیف الکندی کی مذکورہ ویڈیو کا تعلق ہے، اس میں مسئلہ حلالہ کے بارے میں جس انداز سے گفتگو کی گئی ہے، اسے دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ موصوف کو حلالہ کی حدیث لفظی طور پر یاد تو ہے مگر اس کی حرمت اور اس کا شرعی مفہوم ، اس کے وقوع کی صورت اور اس کے موقع و محل کی پوری تفصیل معلوم نہیں ۔ ورنہ ایک بڑی دینی جماعت کے سربراہ سے اس قدر اہم اور حساس مسئلے پر اس نوعیت کے غیر سنجیدہ اور عامیانہ اندازِ گفتگو کی توقع بہرحال نہیں کی جاسکتی۔
ایسے مسائل میں کسی بھی عالمِ دین، خصوصاً کسی دینی جماعت کے ذمہ دار شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ جذبات سے بلند ہوکر مسئلے کی مکمل شرعی تصویر سامنے رکھے، تاکہ عوام میں غلط فہمی پیدا نہ ہو اور نہ کسی خاص طبقے یا مکتبِ فکر کے بارے میں بلا دلیل عمومی تاثر قائم ہو۔ حلالہ کے مسئلے میں قرآن مجید کی ہدایات اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بالکل واضح ہیں؛ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ان نصوص کو ان کے صحیح پس منظر اور فقہی مفہوم کے ساتھ سمجھا اور بیان کیا جائے۔

’’حلالہ‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا مفہوم کسی چیز کو حلال یا جائز کرنا ہے۔ فقہی اصطلاح میں اس سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو وہ عورت اس پہلے شوہر کے لیے حرام ہو جاتی ہے اور اس سے دوبارہ نکاح نہیں کر سکتی، یہاں تک کہ وہ اپنی مرضی سے کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے، دوسرا شوہر اس سے ازدواجی تعلق قائم کرے اور پھر اپنی مرضی سے اسے طلاق دے دے یا اس کا انتقال ہو جائے۔ اس کے بعد عورت عدت گزارے تو پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کی گنجائش پیدا ہو جاتی ہے۔

البتہ کسی پہلے سے طے شدہ منصوبے یا حیلے کے طور پر کسی دوسرے مرد سے اس عورت کا نکاح کرانا، اس نیت سے کہ وہ ازدواجی تعلق قائم کرنے کے بعد اسے طلاق دے دے اور یوں وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجائے، ’’حلالہ‘‘ کہلاتا ہے۔ اس نوعیت کے نکاح بعض اوقات معاوضے کے عوض بھی کرائے جانے کی بات سامنے آتی ہے۔ تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ معاشرے میں اس طرح کے واقعات کتنی کثرت سے پیش آتے ہیں؛ اس لیے اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے احتیاط اور ذمہ داری کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ محض سنی سنائی باتوں یا غیر مستند واقعات کی بنیاد پر بے لگام گفتگو اور عمومی الزامات سے بھی گریز کرنا ضروری ہے۔
لیکن افسوس کہ مولانا عبد اللطیف الکندی نے خواتین پر ظلم و زیادتی کی ایک افسانوی نوعیت کی داستان بیان کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ حلالہ کے لیے ’’آر پار‘‘، یعنی ہندوستان اور پاکستان میں، سینٹر کھولے گئے ہیں، اور اس حوالے سے ایک خاص مسلک اور مکتبِ فکر کو موردِ الزام ٹھہرایا۔ اس طرح کا غیر محتاط اور غیر مستند طرزِ بیان نہ صرف علمی و تحقیقی معیار کے خلاف ہے، بلکہ دین و شریعت کے ایک حساس مسئلے کو جذباتی اور سنسنی خیز انداز میں پیش کرنے کے مترادف ہے۔ کسی بڑے دینی ادارے یا جماعت کے ذمہ دار شخص سے بہرحال یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایسے معاملات میں مستند دلائل، واضح شرعی احکام اور قابلِ اعتماد شواہد کی بنیاد پر گفتگو کرے، نہ کہ عمومی الزامات اور غیر ثابت شدہ واقعات کو حقیقت کے طور پر پیش کرے۔اور انداز بیان بھی ایسا اختبار کرے کہ ایک جماعت کے سربراہ کو کسی بھی طرح زیب نہیں دیتا ۔

اسی طرح لفظ " طلاق " لغت میں نکاح کے بندھن کو ختم کرنے اور رشتۂ ازدواج کو توڑنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ شریعت کی اصطلاح میں مخصوص الفاظ کے ذریعے میاں بیوی کے درمیان قائم نکاح کے معاہدے اور رشتے کو ختم کرنے کو طلاق کہا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں شوہر کا حقِ نکاح ختم ہوجاتا ہے اور عورت عقدِ نکاح سے آزاد ہوجاتی ہے۔
دورِ جاہلیت میں عرب معاشرے میں طلاق کا حق یک طرفہ طور پر مرد کے پاس تھا؛ وہ جب چاہتا اپنی بیوی کو طلاق دے کر نکاح ختم کردیتا تھا۔ اسلام سے قبل اس طرح کی طلاق کا رواج عام تھا۔ مرد طلاق کے ذریعے ان تمام ازدواجی حقوق و تعلقات سے دستبردار ہوجاتا تھا جو عقدِ نکاح کے نتیجے میں اسے حاصل ہوتے تھے، اور بسا اوقات اس کے لیے کوئی واضح ضابطہ یا حد مقرر نہیں تھی۔
اسلام نے طلاق کے معاملے میں واضح اور جامع اصول و ضوابط مقرر کیے اور اس کے مختلف پہلوؤں کے لیے ایسی ہدایات دیں جن کا مقصد میاں بیوی دونوں کے حقوق کا تحفظ اور ناگزیر صورت میں نکاح کے خاتمے کو بھی ایک منظم اور باوقار طریقے سے انجام دینا ہے۔ قرآن مجید کی ان ہدایات سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام نے طلاق کو محض ایک بے قاعدہ اور یک طرفہ اقدام کے بجائے باقاعدہ شرعی اصولوں اور حدود کا پابند بنایا ہے۔
طلاق کے مسئلہ کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ۔

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ۪ فَاِمۡسَاکٌۢ بِمَعۡرُوۡفٍ اَوۡ تَسۡرِیۡحٌۢ بِاِحۡسَانٍ ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَکُمۡ اَنۡ تَاۡخُذُوۡا مِمَّاۤ اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ شَیۡئًا اِلَّاۤ اَنۡ یَّخَافَاۤ اَلَّا یُقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰہِ ؕ فَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا یُقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰہِ ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ فِیۡمَا افۡتَدَتۡ بِہٖ ؕ تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ فَلَا تَعۡتَدُوۡہَا ۚ وَ مَنۡ یَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللّٰہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ۔ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗؕ-فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِؕ-وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ.
( البقرہ : 229-230)
یہ طلاق دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے اور تمہارے لئے جائز نہیں کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو اس میں سے کچھ واپس لے لو مگر جب دونوں کو اندیشہ ہو کہ اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکنے کا اندیشہ ہو ، تاہم اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں ٹھیک انہی حدوں پر نہ رہ پائیں گے تو ان پر کچھ مضائقہ نہیں کہ عورت کچھ معاوضہ دے کر علاحدگی حاصل لے ۔ یہ اللہ کی حدیں ہیں ان سے آگے نہ بڑھو اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ پھر اگر ( دو طلاق دینے کے بعد شوہر نے بیوی کو تیسری بار) طلاق دے دی تو پھر وہ عورت اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دیدے تو ان دونوں کے لئے کوئی مضائقہ نہیں کہ پھر آپس میں رجوع کریں اگر وہ سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدوں کو قائم رکھ پائیں گے، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں وہ واضح کرتا ہے جاننے والوں کے لئے۔

ان دو آیات میں طلاق کے بارے میں نہایت متوازن اور واضح اصول بیان کئے گئے ہیں۔ قرآن بتاتا ہے کہ طلاق کا طریقہ مرحلہ وار ہے ۔ دو مرتبہ تک طلاق کے بعد شوہر کو یہ اختیار ہے کہ معروف طریقے سے بیوی کو اپنے نکاح میں رکھے یا حسنِ سلوک کے ساتھ جدا کر دے۔ شوہر کے لئے طلاق دینے کی صورت میں یہ جائز نہیں کہ وہ بیوی کو دی ہوئی چیزیں واپس لے، البتہ اگر دونوں کو اندیشہ ہو کہ وہ ازدواجی زندگی میں اللہ کی مقرر کردہ حدود قائم نہیں رکھ سکیں گے تو عورت معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کرسکتی ہے۔ جسے شرعی اصطلاح میں خلع کہا جاتا ہے ۔ لیکن تیسری طلاق کے بعد سابق شوہر کے لئے وہ عورت اس وقت تک حلال نہیں ہوتی ، جب تک اس کا کسی دوسرے مرد سے حقیقی نکاح نہ ہو اور وہ نکاح طبعی طور پر ختم نہ ہوجائے۔ اس کے بعد اگر دونوں دوبارہ نکاح کرنا چاہیں اور انہیں یقین ہو کہ اللہ کی حدود کی پابندی کرسکیں گے تو اس کی گنجائش ہے۔ آخر میں قرآن بار بار متنبہ کرتا ہے کہ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں، ان سے تجاوز کرنا ظلم ہے۔
اول الذکر آیت میں ایک نہایت اہم فقرہ "فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّہ " قابلِ غور ہے۔ یہاں "يُقِيمَا " سے مراد میاں بیوی، یعنی دونوں ہیں، جبکہ " خِفْتُمْ " کا خطاب ان افراد سے ہے جو اس معاملے کا جائزہ لینے اور فیصلہ کرنے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس میں خصوصاً اولیاء، خاندان کے ذمہ دار افراد، قاضی یا حاکم شامل ہیں۔ اس تعبیر سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن محض میاں بیوی کے ذاتی خوف یا وقتی ناراضی کو کافی نہیں سمجھتا، بلکہ ایسی صورتِ حال کی بات کرتا ہے جب معتبر طور پر یہ اندیشہ پیدا ہو جائے کہ دونوں ازدواجی زندگی میں اللہ کی مقرر کردہ حدود اور باہمی حقوق ادا نہیں کر سکیں گے۔ ایسی صورت میں قرآن نے علیحدگی کی دونوں صورتوں کی گنجائش رکھی ہے: شوہر معروف طریقے سے بیوی کو رخصت کرسکتا ہے، لیکن اسے دیا ہوا مہر یا دیگر مال واپس لینے کا حق نہیں؛ اور اگر عورت کے لیے ازدواجی زندگی جاری رکھنا ممکن نہ ہو تو وہ معاوضہ دے کر خلع کے ذریعے علیحدگی حاصل کرسکتی ہے۔ یوں آیت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ نہ شوہر عورت کو اذیت دے کر اس کا مال واپس لے، نہ عورت کو ایسے نکاح میں مجبور رکھا جائے جس میں دونوں اللہ کی حدود قائم نہ رکھ سکیں، بلکہ فیصلہ انصاف، باہمی رضامندی اور حدودِ الٰہی کی پابندی کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جائے۔
بلاشبہ طلاق کا شرعی طریقہ یہی ہے کہ اگر شوہر محسوس کرے کہ اس کی بیوی اس کا ساتھ نباہ نہیں رہی، تو وہ اسے دو مرتبہ، دو الگ طہروں میں طلاق دے کر رجوع اور اصلاح کا موقع فراہم کرے۔ لیکن اگر دو طلاقوں کے باوجود بھی دونوں کے درمیان نباہ نہ ہو سکے تو تیسری طلاق کے بعد وہ عورت اس مرد پر حرام ہو جاتی ہے۔ البتہ دونوں کا دوبارہ نکاح اس صورت میں ممکن ہے کہ وہ عورت کسی دوسرے مرد سے باقاعدہ نکاح کرے، اور وہ دوسرا شوہر کسی وقت اپنی مرضی اور طبعی طور پر اسے طلاق دے؛ اس کے بعد عدت گزارنے پر وہ پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہے۔
البتہ پہلے شوہر کے لئے حلال کرنے کی نیت سے باقاعدہ منصوبہ بنا کر دوسرے مرد سے نکاح کرنا، جسے عرف میں ’’حلالہ‘‘ کہا جاتا ہے، حرام ہے۔ ایسے عمل پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔ یہ حدیث متعدد کتبِ حدیث میں مروی ہے۔ مثال کے طور پر جامع ترمذی میں یہ حدیث اس طرح آئی ہے ۔

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ ۔
(جامع الترمذي: أَبْوَابُ النِّكَاحِ : بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُحِلِّ وَالْمُحَلَّلِ لَهُ : رقم الحدیث 1119/ صحیح )
سیدنا علی بن ابی طالب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نکاح کے معاملے میں ) حلالہ کرنے اور کرانے والے پرلعنت بھیجی ہے۔

اس حدیث میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو سختی سے منع فرمایا ہے جو محض اس مقصد کے لئے کیا جائے کہ مطلقہ عورت پہلے شوہر کے لیے دوبارہ حلال ہو جائے۔ یعنی اگر کسی شخص سے اس نیت سے نکاح کیا جائے کہ وہ کچھ عرصے بعد اسے طلاق دے دے گا، تاکہ وہ پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کر سکے، تو یہ شرعی نکاح نہیں بلکہ ایک حیلہ ہے، اور حدیث میں ایسے حلالہ کرنے والے اور کروانے والے دونوں پر لعنت فرمائی گئی ہے۔ اور اس طرح ان کا یہ غیر شرعی نکاح، نکاح نہیں زنا ہوگا ۔ البتہ اگر عورت کا دوسرے مرد سے حقیقی اور مستقل نکاح ہو اور وہ نکاح طبعی طور پر قائم نہ رہ سکے اور دوسرا شوہر اپنی مرضی سے طلاق دے دے، تو عدت کے بعد پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کرنا جائز ہے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں یہ چند حدیثیں قابل غور ہیں ۔

(1) عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، فَيَتَزَوَّجُهَا الرَّجُلُ فَيُغْلِقُ الْبَاب: وَيُرْخِي السِّتْرَ، ثُمَّ يُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا؟ قَالَ:" لَا تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ، حَتَّى يُجَامِعَهَا الْآخَرُ۔
( النسائی : كتاب الطلاق : باب إحلال المطلقة ثلاثا والنكاح الذي يحلها به : رقم الحدیث 3444/ صحیح )
سیدنا عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیتا ہے پھر اس سے دوسرا آدمی نکاح کر لیتا ہے اور (اسے لیکر) دروازہ بند کر لیتا ہے، پردے گرا دیتا ہے، (کہ کوئی اندر نہ آ سکے) پھر اس سے ہمبستری کئے بغیر اسے طلاق دے دیتا ہے، تو آپ نے فرمایا: وہ پہلے والے شوہر کے لئے اس وقت تک حلال نہ ہو گی جب تک اس کا دوسرا شوہر اس سے ہمبستری نہ کر لے۔

(2) عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا، فَتَزَوَّجَتْ فَطَلَّقَ، فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَحِلُّ لِلْأَوَّلِ؟ قَالَ: «لاَ، حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا كَمَا ذَاقَ الأَوَّلُ.
‌(صحيح البخاري: كِتَابُ الطَّلاَقِ : بَابُ مَنْ أَجَازَ طَلاَقَ الثَّلاَثِ: رقم الحديث5261)
سیدہ عاشہ‬ صدیقہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں۔ اس کی بیوی نے کسی اور شخص سے نکاح کر لیا۔ دوسرے خاوند نے بھی اسے طلاق دے دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: کیا پہلے شوہر کے لئے اب یہ عورت حلال ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، یہاں تک کہ دوسرا شوہر اس سے لطف اندوز ہو جیسا کہ پہلا شوہر ہوا تھا۔

(3) كَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ قَالَ لِأَحَدِهِمْ: أَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَ امْرَأَتَكَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِهَذَا، وَإِنْ كُنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْكَ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ، وَعَصَيْتَ اللَّهَ فِيمَا أَمَرَكَ مِنْ طَلَاقِ امْرَأَتِكَ۔
(صحيح مسلم: كِتَابُ الطَّلَاقِ (بَابُ تَحْرِيمِ طَلَاقِ الْحَائِضِ بِغَيْرِ رِضَاهَا، وَأَنَّهُ لَوْ خَالَفَ وَقَعَ الطَّلَاقُ، وَيُؤْمَرُ بِرَجْعَتِهَا : رقم الحدیث1471)
سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے جب اس ( طلاق کے مسئلہ کے ) بارے میں پوچھا جاتا تو وہ سائل سے کہتے: اگر تم نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دی ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی یہی حکم دیا تھا۔ لیکن اگر تم نے اسے تین طلاقیں دے دی ہیں تو وہ تم پر حرام ہو گئی، یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح کرے۔ اور اپنی بیوی کو طلاق دینے کے معاملے میں تم نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی ہے۔

ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی عورت کو تین طلاقیں ہو جائیں تو وہ پہلے شوہر کے لئے حلال نہیں رہتی، جب تک وہ کسی دوسرے مرد سے باقاعدہ نکاح نہ کرے اور اس دوسرے شوہر کے ساتھ حقیقی ازدواجی تعلق قائم نہ ہو۔ محض نکاح کرنا، تنہائی میں دروازہ بند کرنا یا پردے گرانا کافی نہیں۔ نیز سیدنا عبداللہ بن عمر کی روایت سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ایک یا دو طلاق کی صورت میں رجوع کی گنجائش ہے، جبکہ بیک وقت تین طلاقیں دینا اللہ کے مقرر کردہ طریقے کی مخالفت اور نافرمانی ہے۔
اسلام نے طلاق کا ایک باقاعدہ اور تدریجی طریقہ مقرر کیا ہے کہ اگر کسی شخص کا اپنی بیوی کے ساتھ نباہ نہیں ہو پا رہا ہو تو وہ حالتِ طہر میں ایک طلاق دے سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ اس کے بعد بیوی کے اندر احساسِ ندامت پیدا ہو اور دونوں کے درمیان دوبارہ موافقت ہو جائے؛ لیکن اگر وہ بدستور اپنی سابقہ روش پر قائم رہے تو شوہر دوسری طلاق دے سکتا ہے، اور اگر اس کے باوجود اصلاح کی کوئی صورت پیدا نہ ہو تو آخری اور قطعی جدائی کے لیے تیسری طلاق دی جا سکتی ہے۔ تیسری طلاق کے بعد رجوع کا اختیار ختم ہو جاتا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ جب کوئی شخص شرعی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تینوں طلاقیں ایک ساتھ، یا ایک ہی مجلس میں دے دیتا ہے، تو کیا وہ تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں؟ قرآن و حدیث کے گہرے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایک مجلس میں دی گئی تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں، کیونکہ ایسا شخص خود اپنے لیے رجوع، اصلاح اور مفاہمت کے اس تدریجی راستے کو ختم کردیتا ہے جو شریعت نے طلاق کے معاملے میں مقرر کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرتے ہوئے طلاق کا غیر شرعی طریقہ اختیار کرتا ہے تو اس کے اس فعل کو محض اس بنا پر بے اثر قرار نہیں دیا جاسکتا کہ اس نے شرعی طریقے کی پابندی نہیں کی۔ اسی لیے دوسروں کے لیے عبرت اور طلاق کے معاملے میں شرعی حدود کی پابندی کی تاکید کے طور پر ایک مجلس میں دی گئی تینوں طلاقوں کو واقع قرار دیا گیا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ جب کوئی شخص شرعی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تینوں طلاقوں کو ایک ساتھ، یا ایک ہی مجلس میں دے دیتا ہے تو وہ خود اپنے لیے واپسی اور اصلاح کے اس تدریجی راستے کو ختم کر دیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس نے اللہ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کیا ہے، تو اس کے لئے شرعی آسانی بھی ختم ہوجاتی ہے ۔ اس لئے دوسروں کے لئے عبرت کا نشان بننے کے طور پر اس کی ایک مجلس میں دی گئی تینوں طلاقوں کو شریعت اسلامیہ نے واقع قرار دیا ہے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں امام مالک سے مروی یہ روایت قابل غور ہے ۔

عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي مِائَةَ تَطْلِيقَةٍ، فَمَاذَا تَرَى عَلَيَّ؟ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: طَلُقَتْ مِنْكَ لِثَلَاثٍ، وَسَبْعٌ وَتِسْعُونَ اتَّخَذْتَ بِهَا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا.
(موطا امام مالك : كِتَابُ الطَّلَاقِ : بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبَتَّةِ : رقم الحدیث 1195/ شرح الزرقانی علی مؤطا الامام مالك : ج 3 ، ص 218 / صحیح)
امام مالک سے روایت ہے کہ انہیں یہ خبر پہنچی کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عباس سے عرض کیا : میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دی ہیں، آپ میرے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ سیدنا عبداللہ بن عباس نے جواب دیا کہ وہ تین طلاق میں تجھ سے جدا ہو گئی، اور باقی ستانوے (97) طلاقوں کے ذریعے تم نے اللہ کی آیات کو مذاق بنا لیا۔

اس روایت کی تفصیل اور تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے۔

عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا! قَالَ: فَسَكَتَ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ رَادُّهَا إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: يَنْطَلِقُ أَحَدُكُمْ فَيَرْكَبُ الْحُمُوقَةَ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ! يَا ابْنَ عَبَّاسٍ! وَإِنَّ اللَّهَ قَالَ:{وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا}[الطلاق: 2]، وَإِنَّكَ لَمْ تَتَّقِ اللَّهَ، فَلَمْ أَجِدْ لَكَ مَخْرَجًا، عَصَيْتَ رَبَّكَ، وَبَانَتْ مِنْكَ امْرَأَتُكَ، وَإِنَّ اللَّهَ قَالَ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ}[الطلاق: 1], فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ.

( ابو داؤد : كِتَابُ الطَّلَاقِ : بَابُ نَسْخِ الْمُرَاجَعَةِ بَعْدَ التَّطْلِيقَاتِ الثَّلَاثِ : رقم 2197/صحیح)

مجاہد کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔ چنانچہ وہ خاموش ہوگئے یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ وہ اس عورت کو اس پر واپس کر دیں گے۔ (رجوع کرنے کا فتوی دے دیں گے۔) پھر بولے: تم میں ایک اٹھتا ہے اور حماقت کا ارتکاب کرتا ہے، پھر کہتا ہے: ابن عباس! ابن عباس! حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے {وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا : الطلاق : 2} جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے، اللہ اس کے لیے نکلنے کی راہ بھی پیدا فرما دیتا ہے۔“ لیکن تو نے اللہ کا تقویٰ اختیار نہیں کیا، لہٰذا میں تیرے لئے کوئی راہ نہیں پاتا۔ تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بیوی تجھ سے جدا ہو گی۔ اور اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ : الطلاق آية 1) في قبل عدتهن» ”اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو انہیں ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو۔

ایک اور حدیث، اگرچہ اس کی سند میں ضعف ہے، کے مطابق جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دی ہیں تو آپ انتہائی غضبناک ہوئے اور اس عمل کو کتاب اللہ کے ساتھ کھلواڑ قرار دیتے ہوئے فرمایا: «أَيُلْعَبُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ»۔ ظاہر ہے کہ ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دینے سے رجوع کی گنجائش باقی نہیں رہتی، جبکہ شریعت نے طلاق کے معاملے میں سوچنے اور رجوع کرنے کا موقع رکھا ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، قَالَ: أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ جَمِيعًا، فَقَامَ غَضْبَانًا، ثُمَّ قَالَ : أَيُلْعَبُ بِكِتَابِ اللَّهِ، وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ، حَتَّى قَامَ رَجُلٌ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَقْتُلُهُ؟.
( النسائی : كتاب الطلاق : بَابُ: الثَّلاَثِ الْمَجْمُوعَةِ وَمَا فِيهِ مِنَ التَّغْلِيظِ : رقم الحدیث 3430/ ضعيف)
سیدنا محمود بن لبید بیان۔ کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شخص کے بارے میں بتایا گیا کہ اس نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دے دی ہیں، (یہ سن کر) آپ غصے سے کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے: میں تمہارے درمیان موجود ہوتے ہوئے بھی تم اللہ کی کتاب (قرآن) کے ساتھ کھلواڑ کرنے لگے ہو، (آپ کا غصہ دیکھ کر اور آپ کی بات سن کر) ایک شخص کھڑا ہو گیا اور اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہ میں اسے قتل کر دوں؟۔

اس طرح جب ان تینوں روایات کو سامنے رکھا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دینا شریعت کے مقرر کردہ طریقۂ طلاق کے خل

تعمیر فکر            صدر جمعیت ڈاکٹر عبد اللطیف الکندی کی          مسئلہ حلالہ پر غیر سنجیدہ گفتگوغلام نبی کشافیآنچار صو...
27/08/2026

تعمیر فکر

صدر جمعیت ڈاکٹر عبد اللطیف الکندی کی
مسئلہ حلالہ پر غیر سنجیدہ گفتگو

غلام نبی کشافی
آنچار صورہ سرینگر

_____________________

بعض دوستوں نے جمعیت اہلحدیث کے موجودہ صدر مولانا عبد اللطیف الکندی کی ایک ویڈیو بھیجی اور اس سے پہلے بھی سوشل میڈیا پر ان کی کئی ویڈیوز دیکھنے کا موقع ملا ۔ ان کا اندازِ بیان مجھے ہمیشہ غیر علمی محسوس ہوتا ہے، اور جس طرح کی زبان وہ استعمال کرتے ہیں، اس سے یہ تصور کرنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ کسی بڑی تنظیم کے سربراہ بھی ہوسکتے ہیں۔ ان کا طرزِ گفتگو، لب و لہجہ اور عمومی انداز بیان بھی مجھے عالمانہ مزاج سے کسی بھی طرح ہم آہنگ دکھائی نہیں دیتا۔
چند دن پہلے ان کا ایک انٹرویو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوا، جس میں انہوں نے اپنی ڈگریوں اور کامیابیوں کا ذکر خاصے مبالغہ آمیز انداز میں کیا۔ تاہم جب میں ان کی گفتگو اور بیانات کا جائزہ لیتا ہوں تو مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے، کسی رسمی ڈگری کے بغیر بھی، میں علمی اور تحریری میدان میں ان سے کہیں آگے ہوں۔ میرے کئی شاگرد بھی ہیں، جن میں بعض اہلحدیث مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن علمی قابلیت اور ذہانت کے اعتبار سے وہ بھی مجھے ان سے کہیں زیادہ بہتر اور باصلاحیت دکھائی دیتے ہیں۔
اگر کوئی شخص کسی منصب پر فائز ہو تو اسے اپنی قابلیت محض ڈگریوں کے ذریعے نہیں، بلکہ اپنی علمی صلاحیت اور عملی کارکردگی کے ذریعے ثابت کرنا چاہئے۔ دنیا میں بڑے بڑے اہلِ علم میں سے بہت سے لوگ بظاہر مروجہ ڈگریوں کے حامل نہیں تھے۔ مثال کے طور پر مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا وحید الدین خان اور ڈاکٹر اسرار احمد جیسے کئی اہلِ علم ایسے گزرے ہیں جن کے پاس مروجہ مذہبی ڈگریاں نہیں تھیں، اور ان سے آپ اختلاف رائے بھی کرسکتے ہیں، لیکن انہوں نے اپنی علمی، فکری اور اصلاحی خدمات کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی شخص کی اصل علمی قدر و منزلت اس کی ڈگریوں سے نہیں، بلکہ اس کے علم، مطالعے، فکر، تحریر اور عملی خدمات سے متعین ہوتی ہے۔
زیرِ نظر ویڈیو میں مسئلہ حلالہ کی آڑ میں کندی صاحب نے واقعی تکبر اور ردِّعمل کی نفسیات سے متاثر ہوکر سنجیدگی اور اعتدال کی تمام حدوں کو پار کر دیا ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ طلاق اور حلالہ کے مسائل کے بارے میں ان کا مطالعہ بھی زیادہ تر تقلیدی اور سطحی نوعیت کا ہے، اسی لیے وہ اس طرح کے نہایت حساس اور اہم شرعی مسائل پر اشتعال انگیز، غیر سنجیدہ اور بے ربط گفتگو کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
لیکن افسوس کہ کندی صاحب میں اس نوع کی علمی اور فکری صلاحیتیں نمایاں طور پر دکھائی نہیں دیتیں۔ جمعیت کا اخبار ’’مسلم‘‘ ہی کی مثال سامنے ہے ، سیکڑوں مدنی ڈگریوں والے مولوی صاحبان ڈگریاں لیکر وارد کشمیر ہوئے ، مگر اخبار مسلم آج ایک رسمی اشاعت یا راشن کارڈ کی مانند دکھائی دیتا ہے ۔ اس میں ایسی علمی اور فکری کاوشیں برائے نام ہی نظر آتی ہیں جو کسی سنجیدہ طالبِ علم کی علمی پیاس بجھا سکیں۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جمعیت اہلحدیث حقیقی علماء سے خالی اور ویران دکھائی دیتی ہے ۔
کئی سال قبل کا واقعہ ہے کہ میرے ایک مضمون کو بھی اخبار ’’مسلم‘‘ میں نقل کرکے کسی دوسرے شخص کے نام سے شائع کیا گیا تھا۔ میں نے اس پر کندی صاحب کے نام ایک خط لکھا، مضمون کی کاپی بھی ارسال کی اور یہ بھی واضح کیا کہ میرا اصل مضمون کب اور کس اخبار میں شائع ہوچکا ہے۔ اگرچہ اس وقت کندی صاحب تنظیم کے صدر نہیں تھے، البتہ اخبار ’’مسلم‘‘ کے مدیرِ اعلیٰ ضرور تھے۔ اس سلسلے میں ان سے ایک دو مرتبہ فون پر بھی بات ہوئی، لیکن انہوں نے اس معاملے کو کوئی اہمیت نہیں دی اور میری تحریر بھی شائع نہیں کی گئی۔ بعد میں میرے ماموں جان کے انتقال پر جب وہ تعزیت کے لیے آئے تو بعد از مغرب تعزیتی مجلس میں، میرے چند تمہیدی کلمات کے بعد، میری دعوت پر انہوں نے مختصر گفتگو کی۔ اسی تعزیتی مجلس میں انہوں نے میرے سامنے مذکورہ واقعہ کا اعتراف بھی کیا۔
میرا خیال ہے کہ انہیں صرف تعمیرات کھڑی کرنے کے بجائے علمی و فکری افرادی قوت تیار کرنے پر بھی توجہ دینی چاہئے، کیونکہ کسی بھی جماعت کی حقیقی قوت اس کی عمارتوں سے زیادہ اس کے اہلِ علم، مفکرین، علماء اور فقہاء سے ہوتی ہے۔ محض واعظین کی کثرت کسی جماعت کو علمی اور فکری اعتبار سے مضبوط نہیں بنا سکتی۔
آخر میں عرض ہے کہ مولانا عبد اللطیف الکندی کی مذکورہ ویڈیو میں مسئلۂ حلالہ کے حوالے سے کی گئی غلط بیانی پر میرا ایک تفصیلی مضمون کل شائع ہونے کی امید ہے ۔ اگر اس موضوع سے متعلق یہ تحریر بھی اسی مضمون میں شامل کردی جاتی تو مضمون خاصا طویل ہوجاتا۔ اس لیے اسے فی الحال اسی مضمون کے پیش لفظ کے طور پر قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے، تاکہ وہ کل شائع ہونے والے تفصیلی مضمون کے پس منظر اور موضوع سے پہلے ہی ذہنی طور پر آگاہ ہوں۔

____________________________

27/08/2026

وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکْ کا ہے سایہ تجھ پر
بول بالا ہے تِرا ذِکر ہے اُونچا تیرا

مِٹ گئے مِٹتے ہیں مِٹ جائیں گے اَعدا تیرے
نہ مِٹا ہے نہ مِٹے گا کبھی چرچا تیرا

یہ اہلِ یمن ہیں، جو جشنِ میلادِ مصطفیٰ ﷺ کے موقع پر اپنے آقا و مولیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی خوشی مناتے اور درود و سلام ک...
26/08/2026

یہ اہلِ یمن ہیں، جو جشنِ میلادِ مصطفیٰ ﷺ کے موقع پر اپنے آقا و مولیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی خوشی مناتے اور درود و سلام کی صدائیں بلند کرتے ہیں۔ نبیِ کریم ﷺ نے یمن کے حق میں برکت کی دعا فرمائی تھی۔ آج اہلِ یمن کا یہ عظیم الشان منظر ان کی محبتِ رسول ﷺ اور عقیدتِ مصطفیٰ ﷺ کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ یمن اور اہلِ یمن کو ہمیشہ محبتِ رسول ﷺ پر قائم رکھے اور ان کے لیے نبیِ کریم ﷺ کی دعائے برکت کے فیوض و برکات نصیب فرمائے۔ آمین۔

Address

Moman Danji Pora
Anantnag
192124

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Moman Times posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share