Portraits Of Earth

Portraits Of Earth We Set Up This page about Technologies, Photography, Tourism and General Knowledge

کمزار عمانی گاؤں 🇴🇲  عماندنیا سے تقریباً کٹا ہوا ایک گاؤں!!سلطنت عمان کے شمال میں ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جس کا نام کمزار ہ...
10/11/2024

کمزار عمانی گاؤں 🇴🇲 عمان
دنیا سے تقریباً کٹا ہوا ایک گاؤں!!

سلطنت عمان کے شمال میں ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جس کا نام کمزار ہے۔ یہ مسندم کے صوبے میں واقع ہے اور ہرمز کے آبنائے پر موجود ہے۔ اس کے سامنے سمندر اور پیچھے پہاڑ ہیں، اور وہاں تک پہنچنے کا راستہ صرف سمندر یا ہیلی کاپٹر کے ذریعے ممکن ہے۔ یہ مسندم کے صوبے میں واقع ہے اور تقریباً 2000 افراد پر مشتمل آبادی کا حامل ہے۔ وہاں کی ایک خاص زبان ہے جسے "کمزاریہ" کہتے ہیں جو صرف گاؤں والے ہی بولتے ہیں۔ یہ جزیرہ نما عرب میں واحد غیر سامی زبان ہے۔ کمزاریہ زبان کو علاقے میں نادر مانا جاتا ہے اور یہ مقامی لوگوں کے لئے بنیادی زبان ہے جو بولی جاتی ہے لیکن لکھی نہیں جاتی۔ بہت سے لوگ کمزاریہ کو مختلف زبانوں کا مجموعہ مانتے ہیں جن میں سب سے اہم فارسی، ہندی، عربی اور انگریزی ہیں۔

09/11/2024

افسوس کہ آج نیٹ پہ جان برینن کا وہ گراؤنڈ بریکنگ مقالہ ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا جو اس نے 2015 میں ویٹیکن میں دہشت گردی اور کالے دھن کے تعلق کے بارے میں پڑھا تھا۔ یہ مقالہ اس لحاظ سے دلچسپ تھا کہ عین اس دور میں جب د*عش موجود تھی اور سکالرز کا سارافوکس دہشت گردی کی نظریاتی اسلامی بنیادوں پہ تھا لیکن اس کی عملی حرکیات کو نظرانداز کیا جاتا تھا برینن نے اس موضوع کو مختلف انداز میں لیا اور اس نے دہشت گردی کی فنڈنگ کے ذرائع کو تلاش کرتے اس پہ ضرب لگانے کی تجویز دی۔ اس کا بنیادی نکتہ ہنگامہ خیز تھا اس کے مطابق وقت کے ساتھ دنیا کی اسٹیبلشمنٹ ہائے کے اندر کرپشن کی دلدلیں swamps قائم ہوچکی ہیں جہاں کالا دھن جمع ہوکر مختلف جگہوں پہ پارک ہوتا ہے اور پھر سے مزید کالا دھن جمع کرنے کے لئے جن مختلف منفی سرگرمیوں میں استعمال ہوتا ہے ان میں ایک دہشت گردی بھی ہے۔ اس کا سارا زور ان دلدلوں کو خشک کرنے پہ تھا جہاں یہ ریپٹائلز پرورش پاتے ہیں۔
یاد رہے کہ تب د*عش کے خلاف بظاہر امریکہ برسرپیکار تھا تو تب بھی بندہ نے اپنی تحریروں ، جو آج بھی آرچر آئی اور مکالمہ کی سائٹ پہ تلاش کی جاسکتی ہیں، میں واضح کیا تھا کہ اس کا مذہب یا خلافت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ سارا کھیل یورپ کو روس کی بجائے قطر کی گیس کی متبادل سپلائی کے لئے کھیلا جارہا ہے اور چونکہ یہ پائپ لائن شام سے گزرنا ہے جہاں پرو روس بشار کی حکومت ہے تو اسے ہٹانے کے لئے اس تنظیم کا لانچ کیا گیا ہے۔
بہرحال یہی برینن بعد میں ٹرمپ کی 2016 کی کمپین کا چیف آف سٹاف رہا اور ٹرمپ نے اسے اپنا پہلا قومی سلامتی کا مشیر بنایا لیکن جلد ہی اسے استعفیٰ دینے پہ مجبور کردیا گیا۔ ٹرمپ کی کل کی تقریر یہ بتاتی ہے کہ اسے نہ تو برینن کا وہ مقالہ بھولا ہے اور وہ اب بھی اسی ایجنڈا پہ قائم ہے۔ یہاں ہمیں یہ بھی سمجھ آ جانا چاہیے کہ ڈیپ سٹیٹ اس کے کیوں خلاف ہے ؟
اس تقریر میں ریاستی اداروں خصوصاً قومی سلامتی کے اداروں میں کرپشن ختم کرنے کے لیے اس نے جہاں دیگر اقدامات کا اعلان کیا ہے وہاں ان اداروں کے ریٹائرڈ بیوروکریٹس پہ بڑی کارپوریشنز میں بعد از ریٹائرمنٹ ملازمت پہ پابندی کا پلان بھی ہے۔ دراصل یہی وہ حربہ ہے جس سے یہ بڑی کارپوریشنز ان اداروں سے ناجائز مراعات اور اپنی مرضی کے فیصلے لیتی ہیں اور پھر ان اہلکاروں کو بعد از ریٹائرمنٹ ان کارپوریشنز میں پرکشش عہدے دیے جاتے ہیں۔ ٹرمپ اس نیکسس کو توڑنے کا اعلان کر چکا ہے۔
یہ صورت حال ٹرمپ کو بیسویں صدی کی ابتدا کے صدر تھیوڈور روزویلٹ TR سے ملا دیتی ہے جس نے اس دور کی بڑی کارپوریشنز کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تھا اور اینٹی ٹرسٹ لاز بنائے تھے۔ تب امریکہ تیزی سے صنعتی ہورہا تھا لیکن اینڈریو کارینگی، راک فیلر اور جے پی مورگن جیسی بڑی مچھلیاں سٹیل، پٹرولیم، ربر اور بینکنگ جیسے کاروباروں پہ اجاراداری قائم کرتی جارہی تھیں اور اپنی ذیلی فرموں کو ناجائز رعایتیں دیتی تھیں جو چھوٹے کاروباروں کے لئے مقابلہ ناممکن کے قریب مشکل بنا کر انہیں میدان سے نکال رہی تھیں۔ وہ اسے جمہوریت کی فتح قرار دیتے تھے تب ٹی آر کا جواب بہت مشہور ہوا yes , triumphant it is, but not democracy اور اس نے اینٹی ٹرسٹ لاز بنا کر اس غیر صحت مند فضا کو ختم کیا تھا۔
کیا ٹرمپ نیا TR ثابت ہوسکتا ہے ؟ وہ بھی ایسا ہی سرپھرا مشہور تھا اور ویسے ہی عام آدمی میں مقبول لیکن اس کا کام اسے امریکی تاریخ میں یادگار بنا گیا۔ ٹرمپ کے سامنے بھی ویسا ہی چیلنج ہے قانونی سازی سے لیکر آئینی ترامیم تک اسے مخالفت کا سامنا تو کرنا ہوگا البتہ اس کی پارٹی سینیٹ اور کانگریس میں اکثریت تو رکھتی ہے۔ اور بیٹل لائنز بھی ڈرا ہو چکی ہیں۔
ویسے اسٹیبلشمنٹ اور سیکیورٹی ادارون میں کاروباری مافیا سے تعلق اور کرپشن کی وہی بیماری ہمارے جرنیلوں میں بھی بدرجہ اتُم موجود ہے جو رئیل اسٹیٹ سے لیکر ہر قسم کے کاروبار پہ اپنی اجاراداریاں بناتے جارہے ہیں اور اسی طرح ریٹائرمنٹ کے بعد پرکشش عہدوں پہ تعینات ہوتے ہیں۔ واضح طور پہ یہ ٹرینڈ امریکہ سے آیا تھا اور وہاں علاج کی جدوجید جاری ہے تو کیا یہ علاج ہمارے ہاں بھی ممکن ہوگا ؟ ویسے امریکہ سے آنے والے ٹرینڈز باقی دنیا میں پھیلتے تو ہین اس لحاظ سے امریکہ اٹھارویں اور انیسویں صدی کے فرانس سے ملتا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا تھا
When France sneezes whole of the Europe catches cold.
آج کے امریکہ کے بارے میں کہا جا سکتا ہے
When America sneezes whole the world catches cold.

 #ترجیحات‏ایک تھےائیرمارشل نورخان چئیرمین ⁦‪ ‬⁩ 1959-65 PIA منافع بخش ساکھ نام اثاثہ بناتاادارہ چھوڑکرگئے پوری دُنیامیں ...
07/11/2024

#ترجیحات
‏ایک تھےائیرمارشل نورخان چئیرمین ⁦‪ ‬⁩ 1959-65 PIA منافع بخش ساکھ نام اثاثہ بناتاادارہ چھوڑکرگئے پوری دُنیامیں پروازیں چلتی تھیں
‏پی آئی اےکافوکرF27ہائی جیک ہوانورخان مذاکرات کرنےگئےہائی جیکرسےریوالورچھیناگولی لگی پوائنٹ بلینک رینج سےمگراللہ نےزندگی بخش دی بعدازاں ہاکی میں پاکستان کو چیمپئین بنایا کرکٹ کو سیدھاکیا دُنیامیں وہ پہلےوآخری چئیرمین تھےجوخوہائی جیکرزسےبھڑگئےتھےجان کی پرواکیے بغیر
‏ایک تھےشاہدخاقان عباسی چئیرمین ⁦‪ ‬⁩-99 ڈبویا(ٹھیک نہ کیا)کام سیکھااپنی ائیرلائن بنائی
شاہدخاقان نےپی آئی اے کوسٹڈی کیااُسےخسارےمیں رہنےدیااپنالائسنس لیا2003میں لانچ کی جواسوقت منافع میں ہےاور ترقیکررہی ہےپی آئی اے کوخریدار نہیں مل رہا

زندگی کبھی آپکوموقع دےتوائیرمارشل نورخان بننےکی کوشش کریں شاہدخاقان نہیں کیونکہ دولت کاانت کچھ نہیں عزت سدا رہتی ہے

16/07/2024

02/05/2024

معروف صحافی و اینکر حامد میر صاحب کا کالم ضرور پڑھئے گا 🕛

آرمی کے پاس 2 فل جنرل, ‏29 لیفٹنٹ جنرل ‏اور ‏194 میجر جنرل ہیں. ‏اس وقت 9 کور فوج کے لیے 30 لیفٹننٹ جنرل ہیں۔ 18 ڈویژن کے لیے 166 میجر جنرل۔ باقی نیچے بریگیڈئر، کرنل، لیفٹننٹ کرنل، میجر کا حساب لگا لیں۔ اس کے علاوہ ڈی جی آیی ایس پی آر جو کہ ایک کرنل رینک کی آسامی تھی اس پہ اب میجر جنرل لگایا جاتا ہے۔ یعنی ٹوئیٹر چلانے کے لیئے بھی فوج جرنیل استعمال کرتی ہے.

ایک جرنیل سے لے کر بریگیڈیئر، لیفٹننٹ کرنل، میجر تک ہر ایک فوجی، پاکستانی عوام کو کتنے میں پڑتا ہے، کبھی اس بارے میں آپ نے سوچا ہے ؟

اگر حقیقت آپ کے سامنے آجائے تو۔۔۔۔
‏ عوام کی آنکھیں کھل جائیں گی اور سیاستدان فرشتے لگنے لگیں گے.

تنخواہ کے علاوہ مراعات جن میں دوران ملازمت مفت رہائشی بنگلہ، مفت بجلی، مفت پانی، مفت گیس، سی ۱۳۰ طیارے میں پورے ملک میں مفت سفری سہولت، پی آئ اے اور ریلوے سے رعایئتی ٹکٹ پر سفر کی سہولت، نوکر (bat man) کی سہولت، بریگیڈیئر اور اس سے اوپر والوں کے لیئے سٹاف کار (یعنی سرکاری گاڑی), بچوں کی آرمی پبلک اسکول، FWO اسکول، PAF انٹر کالجز، بحریہ اسکول و کالج، NUST یونیورسٹی، الیکٹرکل اینڈ مکینکل انجنیئرنگ یونیورسٹی (EME) میں مفت پیشہ ورانہ تعلیم، آرمی میڈیکل کالج میں مفت ڈاکٹری کی تعلیم، آرمی, ایئرفورس اور نیوی اسپتالوں میں فوجیوں کا اپنا، ان کے بچوں، بیوی اور والدین کا تا حیات مفت علاج، ریٹائیرمنٹ کے بعد تمام جائداد ویلتھ ٹیکس سے مستثنی، فلیٹ، ولاز، دکانیں، پلاٹ، مربعے اور نہ جانے کیا کیا ان فوجیوں کو دیا جاتا ہے۔۔۔
اس کے علاوہ ریٹائرمنٹ کے بعد کسی سرکاری ادارے کا سربراہ لگا دیا جاتا ہے.

ریٹائرڈ فوجیوں اوران کے بچوں کی فلاح کے نام پر ٹرسٹ اور فلاحی ادارے کی آڑ میں بینک, انشورنس کمپنیاں, فرٹیلائزر, سیمنٹ, سریئے کی فیکٹریاں, ڈیری فارمز, شوگر اور ٹیکسٹائل ملیں, مرچ مسالحے کی فیکٹریاں اور یہاں تک کہ پیٹرول پمپ اور شادی ہال تک چلائے جا رہے ہیں. ملک کی معیشت مسلسل زوال پزیر ہے, لوگوں کے کاروبار بند ہو رہے ہیں, سرمایہ ڈوب رہا ہے لیکن 1953 میں ملنے والے 18 لاکھ ڈالر سے چیرٹی کے نام پر شروع کیا جانے والا کاروبار ترقی کرتے آج اربوں ڈالر کا سرمایہ بن گیا ہے. وجہ صرف یہ کہ جن لائسنسوں اور پرمٹوں کے لیئے عام سرمایہ کار سالوں دفتروں کے چکر کاٹتے ہیں اور ذلیل و خوار ہوتے ہیں وہ ان فوجیوں کو بغیر چوں چراں کیئے دے دیئے جاتے ہیں. مزید یہ کہ اگر کسی کاروبار میں نقصان ہوتا ہے تو سرکاری بجٹ سے بھرپائی ہو جاتی ہے.

شہدا کے ورثاء کے نام پر لی جانے والی قیمتی شہری زمینوں پر ہاوسنگ سوسائٹیاں بنا ڈالیں اور شہریوں کو مہنگے داموں اربوں کما لیئے لیکن کسی کی جرات نہیں کہ سوال کر سکے. اگر عام شہری کوئی فلاحی این جی او کھولنا چاہے تو فوج والے فنڈنگ کے زرائع کو غیر تسلی بخش قرار دے کر پابندی لگا دیتے ہیں اور خود ریٹائرڈ فوجیوں کی فلاح بہبود کے نام پر ادارے بنا کر کاروبار کر رہے ہیں.

دنیا پھر میں ریاست کا قیام اپنے عوام کی فلاح بہبود اور سماجی معاشی ترقی کے لئے کیا جاتا ہے - لیکن اس ملک میں فلاح بہبود صرف فوجی ملازمین کے لیئےہے. فوج پچھلے ستر سال سے پاکستان کی غریب عوام کے منہ کا نوالہ چھین کر اپنا پیٹ بھر رہی ہے اور ساتھ میں آپ پر یہ احسان بھی جتا رہی ہے کہ آپ کو رات کو سکون کی نیند فوج کی وجہ سے آتی ہے۔ کوئ قوم بھی بھلا اتنی کم عقل اور نادان ہو سکتی ہے، جتنی کہ پاکستانی قوم ہے۔

24/02/2024
𝐂𝐚𝐧𝐚𝐝𝐢𝐚𝐧 𝐈𝐦𝐦𝐢𝐠𝐫𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧/𝐏𝐞𝐫𝐦𝐚𝐧𝐞𝐧𝐭 𝐑𝐞𝐬𝐢𝐝𝐞𝐧𝐜𝐞زیادہ تر ہر بندہ کینیڈا امیگریشن کے بارے جاننا چاہتا ہے تو میں کوشش کر رہی ہوں ک...
25/08/2023

𝐂𝐚𝐧𝐚𝐝𝐢𝐚𝐧 𝐈𝐦𝐦𝐢𝐠𝐫𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧/𝐏𝐞𝐫𝐦𝐚𝐧𝐞𝐧𝐭 𝐑𝐞𝐬𝐢𝐝𝐞𝐧𝐜𝐞

زیادہ تر ہر بندہ کینیڈا امیگریشن کے بارے جاننا چاہتا ہے تو میں کوشش کر رہی ہوں کہ آپ کو سب کچھ بتاؤں جو آپ کو کنسلٹینٹ بتاتے نہیں اور آپ کو پیسے بٹورنے کے لئے جھوٹ بولتے ہیں.

کینیڈا امیگریشن آپ کی تعلیم، کام کے تجربے اور انگریزی زبان کی مہارت کی بنیاد پر منحصر ہے

خرچہ: تقریباً 4 سے 5 لاکھ پاکستانی روپے

کینیڈا کا ایک امیگریشن پروگرام ہے جسے "Express Entry aka EE (فیڈرل اسکلڈ پروگرام عرف FSW)" کہا جاتا ہے۔ ایکسپریس انٹری کی سرکاری ویب سائٹ: https://www.canada.ca/en/immigration-refugees-citizenship/services/immigrate-canada/express-entry/works.html

**مرحلہ 1:** یہ اپنے اعلیٰ تعلیم کا کینیڈین اسسمنٹ (مساوات) حاصل کرنا ہوتا ہے ۔

بہت سی تنظیمیں ہیں جو آپ کو یہ فراہم کر سکتی ہیں۔ لیکن آپ "ورلڈ ایجوکیشن سروسز" (WES) کو چنیں کیونکہ یہ سب سے تیز ہے!

اس پر آپکو 30,000 سے 40,000 ہزار کے درمیان خرچہ آئیگا۔

اس عمل میں کچھ دستاویزات انہیں آپ کو خود نے بھیجنا ہوتا ہے اور کچھ دستاویزات آپ کے یونیورسٹی کے ذریعے جہاں آپ نے تعلیم حاصل کی ہے اس کے زریعے بھیجنیں ہوتے ہیں۔

یہ WES کی سرکاری ویب سائٹ: https://www.wes.org/

**مرحلہ 2:** IELTS۔

آپ کی انگریزی زبان کی اہلیت کا اندازہ لگانے کے لیے انہیں جنرل ٹریننگ IELTS کا نتیجہ درکار ہے۔

ایلٹس IELTS کی فیس 45,000 سے 50,000 ہزار کے درمیان ہے۔

سرکاری ویب سائٹ: https://www.britishcouncil.pk/exam/ielts

**مرحلہ 3: **کام کا تجربہ۔

کم از کم تین سال کا کام کا تجربہ آپ کو کام کے تجربے کے جزو کے لیے زیادہ سے زیادہ پوائنٹس دے گا۔

**مرحلہ 4:** پولیس سرٹیفکیٹ۔

پاکستان میں سی سی پی او دفاتر یہ سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہیں۔ کوئی فیس نہیں ہے۔ لیکن پاکستان میں کچھ نا کچھ ادا کرنا پڑے تو بھی تھوڑا ہی ہو گا۔

**مرحلہ 5**: ایکسپریس انٹری ڈرا میں داخل ہونے کے لیے۔

ایک بار جب آپ کینیڈین ایجوکیشنل اسسمنٹ (مساوات) اور IELTS کا نتیجہ آپ کے ہاتھ میں آجائے تو آپ فیڈرل اسکلڈ ورکرز پروگرام کے تحت ایکسپریس انٹری ڈرا میں داخل ہونے کے اہل ہیں۔

یہ قرعہ اندازی (Draw) کیا ہے ؟

بنیادی طور پر، وہ ہر چند مہینوں میں قرعہ اندازی کرتے ہیں۔ جہاں وہ ہر قرعہ اندازی پر چند ہزار لوگوں کو "درخواست دینے کی دعوت" بھیجتے ہیں!

مثال کے طور پر اگر وہ قرعہ اندازی میں درخواست دینے کے لیے 3000 دعوت نامے بھیج رہے ہیں۔ درخواست دہندگان کو ان کے پوائنٹس کی بنیاد پر درجہ دیا جائے گا، اور ٹاپ 3000 کو درخواست دینے کا دعوت نامہ موصول ہوگا۔

پوائنٹس بنیادی طور پر عمر، کام کا تجربہ، تعلیم اور IELTS پر مبنی ہیں۔

اپنا سکور چیک کرنے، سابقہ ​​کٹ آف سکور چیک کرنے اور قرعہ اندازی میں داخل ہونے کے لیے سرکاری ویب سائٹ: http://www.cic.gc.ca/english/immigrate/skilled/crs-tool.asp

**مرحلہ 6:** طبی معائنہ (Medical Examination)۔

طبی معائنہ کرانا لازمی ہے (PR کے لیے درخواست دینے سے پہلے یا بعد میں کیا جا سکتا ہے)۔ پاکستان میں IOM کی کسی بھی برانچ میں آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔

(صحیح اعداد و شمار سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں)۔
سرکاری ویب سائٹ: http://mhdpakistan.iom.int/appointment

**مرحلہ 7:** PR (مستقل رہائش) کے لیے درخواست دیں۔

ایک بار جب آپ کے پاس "درخواست دینے کے لیے دعوت نامہ" آجائے تو آپ کینیڈا کے PR کو اپلائی کرنے کے لیے جانا چاہتے ہیں۔

مذکورہ دستاویزات کے علاوہ، آپ کو "فنڈز کے ثبوت" کی ضرورت ہوگی۔ اس کی ضرورت ہے کیونکہ وہ اس بات کا ثبوت چاہتے ہیں کہ جب آپ کینیڈا میں اتریں گے تو آپ کے پاس ابتدائی خرچہ کے لیے کافی فنڈز ہیں۔

یہ رقم اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا آپ سنگل، شادی شدہ، یا بچوں کے ساتھ ہیں۔ آپ کو صرف یہ رقم دکھانی ہوگی اور ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے! (عام طور پر بینک اسٹیٹمنٹ کے طور پر پیش کر سکتے ہیں)۔

یہ رقم جو آپ کو دکھانی ہے تقریباً 15 سے 20 لاکھ ہو سکتی ہے (اگر اکیلا ہے تو تھوڑا کم اور اگر آپ کے بچے ہیں تو کچھ زیادہ ہوسکتا ہے)۔

آپ کو آن لائن درخواست دینا ہوگی۔ تمام دستاویزات الیکٹرانک طور پر جمع کرائی جاتی ہیں، بشمول آپ کے پاسپورٹ!

پرمٹ ریزیڈینسی PR درخواست کا آن لائن درخواست فارم کسی دوسرے ویزا فارم کی طرح ہے۔ PR درخواست کی لاگت 1 لاکھ سے 2 لاکھ (1 سے 3 کے خاندان کے سائز پر منحصر ہے) کے درمیان کہیں بھی ہو سکتی ہے۔ درست اعداد و شمار ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

میں یہ نہیں کہوں گی کہ PR کے لیے درخواست دینا مشکل عمل ہے، تاہم تفصیل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہاں تک کہ معمولی غلطیاں بھی PR کے انکار کا باعث بن سکتی ہیں۔

درخواست دینے کا دعوت نامہ ملنے کے بعد PR کا اطلاق کرنے کے لیے سرکاری ویب سائٹ: https://www.canada.ca/en/services/immigration-citizenship.html

*مرحلہ 8:** انتظار کرو!

ایک بار جب آپ PR کے لیے اپلائی کریں تو انتظار کریں!

30% درخواست دہندگان کو 2 ماہ کے اندر منظوری مل جائے گی!

60% درخواست دہندگان کو 4 ماہ کے اندر منظوری مل جائے گی!

90% درخواست دہندگان کو 6 ماہ کے اندر منظوری مل جائے گی!

10% درخواست دہندگان کو 6 ماہ سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے!

مزید یہ کہ 98% کیسز بغیر انٹرویو کے حل ہو جاتے ہیں،

عام طور پر 90% کیسز میں PR 6 ماہ کے اندر منظور ہو جاتا ہے۔

مختصراً، اگر آپ کا کیس ٹریول ہسٹری یا اس جیسی کسی بھی چیز کی وجہ سے پیچیدہ نہیں ہے، اور آپ 90% کیٹیگری سے تعلق رکھتے ہیں، تو چند مہینوں میں اپنے PR کی توقع کر سکتے ہیں!

یہاں تک کہ اگر چیزیں تھوڑی پیچیدہ ہیں، تو پھر چند مہینے اور زیادہ سے زیادہ انٹرویو کی توقع کریں!

**مرحلہ 9:** اپنے پاسپورٹ پر مہر لگائیں اور مستقل رہائش عرف COPR کی تصدیق حاصل کریں!

آپ کی آن لائن درخواست منظور ہونے کے بعد، آپ اپنا پاسپورٹ قریب ترین کینیڈین قونصل خانے میں جمع کرائیں اور کینیڈا میں داخل ہونے کا ویزا اور ساتھ ہی اپنا COPR چند دنوں میں حاصل کریں!

**مرحلہ 10:** کینیڈا میں لینڈ!

اپنے مہر والے ویزا اور COPR کی میعاد ختم ہونے سے پہلے کینیڈا میں اتریں۔

آپ کو اپنا PR کارڈ کینیڈا میں مل جائے گا۔

کینیڈا کا شہری بننے کے لیے، آپ کو 5 سال کی کسی بھی مدت کے اندر 3 سال کی مدت کے لیے کینیڈا میں رہنے کی ضرورت ہے!

**نتیجہ:**

یہ سادہ، آسان اور قابل عمل ہے۔

یہ کہنے میں کوئی شک نہیں کہ اگر آپ ہنر مند بنیادوں پر امیگریشن کی تلاش میں ہیں تو یہ بہترین پروگرام ہے۔

آخر میں، آپ کو اس عمل سے گزرنے کے لیے کسی مشیر یا وکیل کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ رپورٹ اور مشاہدہ کیا گیا ہے کہ جو کنسلٹنٹس یہ خدمات پیش کر رہے ہیں ان میں سے بہت سے غیر اہل، نااہل، غیر پیشہ ور اور فراڈ ہیں۔

بہت سے درخواست دہندگان نے کنسلٹنٹس کی وجہ سے PR مسترد ہونے اور دھوکہ دہی کی اطلاع دی ہے۔

سب کچھ انٹرنیٹ پر ہے، آپ اپنے کیس پر کارروائی کرنے کے لیے خود بہترین شخص ہیں۔

سی یو ان کینیڈا

طالب دعا: مناحل نوشین

Apply to travel, study, work or immigrate to Canada, apply for citizenship, a permanent resident card or refugee protection, check the status of your application or find a form.

10/08/2023
تحریک انصاف ایک محب وطن سیاسی جماعت ہے۔ ملک دشمن نہیںہم نے کسی دشمن کی طرح:- اکہتر میں ملک نہیں توڑا- سیاچن پر قبضہ ترک ...
11/05/2023

تحریک انصاف ایک محب وطن سیاسی جماعت ہے۔ ملک دشمن نہیں

ہم نے کسی دشمن کی طرح:

- اکہتر میں ملک نہیں توڑا
- سیاچن پر قبضہ ترک نہیں کیا
- کارگل میں پاک فوج کو شکست نہیں دی
- 99 میں پاکستان نیوی کا طیارہ مار نہیں گرایا
- ڈرون حملوں میں پاکستانی شہریوں کو قتل نہیں کیا
- سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ نہیں کیا
- اسامہ کے گھر آپریشن کرکے اسے پاکستان سے اٹھا نہیں لے گئے
- لاہور میں ڈیوٹی انجام دیتے پاکستانی ایجنسیوں کے دو اہلکار بیچ سڑک پر قتل نہیں کیے
- 2016 میں سرجیکل اسٹرائیکس نہیں کیں
- 2019 میں بالاکوٹ پر بم نہیں پھینکا

لہذا، ہم میں اور پاکستان کے دشمنوں جیسے امریکہ، اس کی ایجنسیاں، نیٹو اور بھارت میں زمین آسمان کا فرق ہے

ہم تو وہ واحد سیاسی جماعت ہیں کہ جن کے دور میں، بھارتی طیارہ مار گرا کر، فوج اور قوم کو عزت بخشی گئی تھی ورنہ تو ہماری تاریخ میں ندامت ہی ندامت تھی

آج آپ جن سیاسی پارٹیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، یہ سب کے سب پاکستان اور پاک فوج کے لیے ہمیشہ باعث شرمندگی بنے ہیں چاہے سلالہ ہو، ایبٹ آباد آپریشن ہو، ڈان لیکس ہوں یا میمو گیٹ اسکینڈل

جبکہ،

پوچھ لیجیے اس عوام سے، کہ ان کی زندگی میں، 27 فروری کے علاوہ کوئی قابل فخر دن ہے؟

رہی بات موجودہ سیاسی صورتحال کی تو آپ آج اعلان کردیجیے کہ آئین کے مطابق، الیکشن ڈیوٹی کے لیے فوج کی خدمات حاضر ہیں

پھر دیکھیے، منٹوں کے اندر اندر پورا ملک پرسکون نہ ہو جائے، قوم کا اعتماد بحال نہ ہو جائے تو کہیے
Shahzad Hussain

25/08/2022

انگریزی کا مقولہ ہے "Familiarity Breeds Contempt" یعنی ۔ ۔ ۔ "قربت، حقارت کو جنم دیتی ہے"۔ ہم جس قدر کسی کے قریب ہوتے ہیں اتنا ہی اس میں غلطیاں تلاش کرنے کا رجحان اور امکان بڑھ جاتا ہے۔

کئی بار یہ گمان ہو تا ہے کہ ہمارے ہاں یہ محاورہ اس بات کی کسوٹی بن سکتا ہے کہ کون کون درحقیقت مسلمان ہے۔

آپ دیکھیے، جس شدومد سے تکفیر و تحقیر کے نعرے مسلمان گروہ ایک دوسرے کے لیے بلند کرتے ہیں اس کا عشر عشیر بھی ان کے خلاف نہیں کرتے جو سکہ بند غیر مسلم ہیں۔ بلکہ ان کی تو بات بھی بڑے غور سے سنتے ہیں، ان کی کتابوں سے علم سمیٹنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے اور ان کا اور انکے قوانین و روایات کا احترام بھی خوب کرتے ہیں۔

دوسری جانب، جو درحقیقت قریب ہیں ان سے دوریوں کے دعوے ہیں۔ بعینہ اسی طرح جیسے وراثت کے دعویدار خون کے رشتوں میں بندھے ہونے کے باوصف کشت و خون میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یہاں بھی جھگڑا وراثت کا ہی ہے۔ مال کا نہ سہی، ٹھیکیداری کا سہی۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جیسے عوام اس بات کو سمجھ لیں کہ جس کے خلاف اس قسم کے غیر سرکاری فتوے سامنے آئیں اسے بلا جبر و اکراہ اور برضا و رغبت مسلمان سمجھیں اور اس سے اپنے قلبی تعلق کو فروغ دیں۔

باہمی تقسیم اور اور منافرت کا خاتمہ صرف اور صرف عام مسلمان کے ہاتھ میں ہے، اس کی امید ان ٹھیکے داروں سے مت کیجیے جو درحقیقت اس کے اصل ذمہ دار ہیں اور جن کا مطمع نظر صرف اپنا مفاد اور اپنی دکانداری ہے.

ہم عام مسلمان صرف مزدور ہیں۔ تقسیم کو قائم رکھنے میں ہمارا خون اور پسینہ سکتا ہے اور فائدہ چند پیشواؤں کا ہوتا ہے۔ جب مزدوری کرنا ہی مقدر ٹھہرا، پھر کیوں نہ صرف اللہ تعالی کی کریں ۔۔۔ جس کے ہر حکم کا مقصد صرف اور صرف ہماری بھلائی ہے، جو ہمیں ان فضول تقسیموں سے روکتا اور رواداری و احسان کا حکم دیتا ہے.

25.08.2015

Address

Oxford Street
London
SW72RL

Opening Hours

Monday 9am - 5pm
Tuesday 9am - 5pm
Wednesday 9am - 5pm
Thursday 9am - 5pm
Friday 9am - 5pm

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Portraits Of Earth posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Portraits Of Earth:

Share

Category