Janisar

Janisar Hi everyone please � Follow My new

04/09/2026

🇵🇰 جنرل حمید گل کی 11ویں برسی — ایک سپہ سالار، ایک عہد اور پاکستان کی دفاعی تاریخ کا ایک اہم باب

15 اگست 2026ء کو پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل کی گیارہویں برسی منائی گئی۔ 15 اگست 2015ء کو مری میں برین ہیمرج کے باعث انتقال کرنے والے جنرل حمید گل نے اپنی عسکری زندگی، انٹیلی جنس خدمات، افغانستان سے متعلق پاکستان کی پالیسی اور مسئلۂ کشمیر پر اپنے سخت مؤقف کے باعث ملکی تاریخ میں ایک نمایاں اور متنازع مقام حاصل کیا۔ ان کی شخصیت کے بارے میں آرا مختلف ہوسکتی ہیں، لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ پاکستان کی دفاعی اور جیو اسٹریٹجک تاریخ کی ان شخصیات میں شامل تھے جن کے فیصلوں اور خیالات کے اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے گئے۔ (Dawn)

جنرل حمید گل 20 نومبر 1936ء کو سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ 1956ء میں پاکستان آرمی میں شامل ہوئے اور ایک پیشہ ور فوجی کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ 1965ء کی جنگ میں وہ ٹینک کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے اور بہادری پر ستارۂ جرات سے نوازے گئے۔ بعد ازاں انہوں نے مختلف کمانڈ اور اسٹاف ذمہ داریاں سنبھالیں، 1978ء میں بریگیڈیئر کے عہدے پر ترقی پائی اور 1980ء میں فرسٹ آرمڈ ڈویژن کے کمانڈر مقرر ہوئے۔ (Dawn)

یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان کو ایک انتہائی پیچیدہ علاقائی اور عالمی ماحول کا سامنا تھا۔ ایک طرف بھارت کے ساتھ مسلسل کشیدگی موجود تھی، دوسری جانب افغانستان میں بدلتے ہوئے حالات پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست اہمیت اختیار کر رہے تھے۔ اسی پس منظر میں جنرل حمید گل کی عسکری و انٹیلی جنس ذمہ داریاں سامنے آئیں اور انہوں نے رفتہ رفتہ پاکستان کی دفاعی پالیسی میں ایک اہم کردار حاصل کیا۔

🛡️ 1965ء کی جنگ اور عسکری زندگی

جنرل حمید گل کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کی عسکری زندگی کے ابتدائی دور کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ 1965ء کی جنگ میں ٹینک کمانڈر کی حیثیت سے ان کی شرکت ان کی فوجی پیشہ ورانہ زندگی کا اہم باب سمجھی جاتی ہے۔ انہیں اس جنگ میں بہادری پر ستارۂ جرات دیا گیا، جو ان کے فوجی کیریئر کی ایک نمایاں علامت تھا۔ (Dawn)

ایک سپاہی کی زندگی صرف میدانِ جنگ میں ہتھیار اٹھانے کا نام نہیں ہوتی؛ اس میں نظم و ضبط، فیصلہ سازی، دباؤ میں قیادت، ساتھیوں کی ذمہ داری اور وطن کے دفاع کی قسم شامل ہوتی ہے۔ جنرل حمید گل نے فوج میں کئی مختلف ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے اسی نظام میں اپنی شناخت بنائی اور بالآخر پاکستان کی سب سے اہم انٹیلی جنس ذمہ داری تک پہنچے۔

🕵️ آئی ایس آئی کی قیادت اور افغانستان کا دور

جنرل حمید گل 1987ء سے 1989ء تک انٹر سروسز انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل رہے۔ یہ دور پاکستان کی تاریخ کے مشکل ترین بین الاقوامی ادوار میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ افغانستان میں سوویت جنگ اپنے آخری اور انتہائی حساس مرحلے میں تھی۔ پاکستان اس تنازع میں ایک مرکزی ریاست تھا اور آئی ایس آئی افغان مزاحمت کو دی جانے والی پاکستانی مدد میں اہم کردار ادا کر رہی تھی، جبکہ امریکا اور سعودی عرب بھی اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ تھے۔ (Dawn)

جنرل حمید گل کا نام اسی دور کے ساتھ سب سے زیادہ جوڑا جاتا ہے۔ مختلف ذرائع کے مطابق ان کی قیادت میں آئی ایس آئی نے افغان مزاحمت کے لیے پاکستانی حمایت کو آگے بڑھایا اور 1989ء میں جلال آباد پر حملے کی حکمت عملی بھی ان سے منسوب کی جاتی ہے۔ تاہم یہ کارروائی مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرسکی اور اسے پاکستان کی اس دور کی افغان حکمت عملی کی ناکامیوں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔ (Wikipedia)

یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ “افغان جہاد” اس وقت کی تاریخی اور سیاسی اصطلاح تھی، جسے سوویت قبضے کے خلاف افغان مزاحمت کے تناظر میں استعمال کیا جاتا تھا۔ جنرل حمید گل کے حامی انہیں اس مزاحمت کے لیے پاکستان کے دفاعی مفادات کے مضبوط محافظ کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اسی پالیسی کے طویل المدتی اثرات نے بعد میں خطے میں عسکریت پسندی اور تشدد کے پیچیدہ مسائل کو جنم دینے میں بھی کردار ادا کیا۔ (Brookings)

🇵🇰 پاکستان کے دفاعی مفادات اور سخت قومی مؤقف

جنرل حمید گل کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کا قومی سلامتی کے معاملات پر سخت مؤقف تھا۔ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پاکستان کی دفاعی پالیسی، افغانستان اور کشمیر کے معاملات پر کھل کر گفتگو کرتے رہے۔ ان کے نزدیک پاکستان کو خطے میں اپنی جغرافیائی، عسکری اور سیاسی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ایک واضح اور خودمختار حکمت عملی اپنانا چاہیے تھا۔

وہ امریکا اور بھارت کی پالیسیوں کے سخت ناقد رہے اور کئی مواقع پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کو اپنی قومی سلامتی کے معاملات میں بیرونی دباؤ کے بجائے اپنے مفادات کو ترجیح دینی چاہیے۔ ان کی یہی بے باکی انہیں پاکستانی میڈیا اور عوامی مباحث میں ایک نمایاں شخصیت بناتی رہی۔ (Al Jazeera)

جنرل حمید گل کے حامیوں کے نزدیک یہی خودمختاری اور قومی مفاد پر اصرار ان کی سب سے بڑی خصوصیات میں شامل تھا۔ ان کے نزدیک پاکستان کو کسی عالمی طاقت کا تابع بننے کے بجائے اپنے جغرافیائی اور دفاعی مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرنے چاہئیں۔

🕊️ کشمیر اور خطے کی سیاست

افغان جنگ کے بعد جنرل حمید گل کی توجہ مسئلۂ کشمیر اور جنوبی ایشیا کی سکیورٹی کی طرف بھی رہی۔ مختلف تاریخی ذرائع ان کے نام کو کشمیر میں مسلح مزاحمتی سرگرمیوں کے لیے پاکستانی حمایت کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ اس حوالے سے ان کی میراث بھی متنازع رہی ہے، کیونکہ پاکستانی حلقوں میں بعض لوگ اسے کشمیری حقِ خود ارادیت کی حمایت سمجھتے تھے، جبکہ ناقدین اسے خطے میں عسکریت پسندی کو بڑھانے والی پالیسی قرار دیتے ہیں۔ (Wikipedia)

یہی وجہ ہے کہ جنرل حمید گل کی تاریخ کو ایک ہی رنگ میں دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ ان کے کردار کو سمجھنے کے لیے اس دور کے سرد جنگی ماحول، افغانستان کی جنگ، پاکستان اور بھارت کی کشیدگی اور اس زمانے کی ریاستی سلامتی کی ترجیحات کو بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔

🇵🇰 ایک بہادر سپاہی کی عوامی زندگی

جنرل حمید گل ریٹائرمنٹ کے بعد خاموش زندگی گزارنے والے سابق فوجی افسر نہیں تھے۔ وہ ٹیلی ویژن پروگراموں، اخبارات اور عوامی مباحث میں مسلسل نظر آتے رہے۔ اپنی رائے کھل کر بیان کرنا ان کی شناخت بن گیا تھا۔ وہ پاکستان کے قومی مفادات، دفاعی سلامتی اور علاقائی سیاست کے موضوعات پر مسلسل گفتگو کرتے رہے۔

ان کے اندازِ گفتگو میں ایک خاص اعتماد اور بے باکی نمایاں تھی۔ ان کے چاہنے والوں کے لیے یہی خصوصیت ان کی طاقت تھی: وہ اپنے مؤقف کو چھپاتے نہیں تھے۔

وہ پاکستان کو ایک مضبوط، خودمختار اور دفاعی اعتبار سے باوقار ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کے نزدیک قومی سلامتی کسی وقتی حکومت یا ایک سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری ریاست اور قوم کا معاملہ تھی۔

⚔️ “جہاد” کا تصور اور تاریخی تناظر

جنرل حمید گل کے حوالے سے “جہاد” کا ذکر کرتے ہوئے تاریخی تناظر کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ ان کی شہرت بنیادی طور پر سوویت قبضے کے خلاف افغان مزاحمت کی پاکستانی حمایت سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کے بعض حامی اس جدوجہد کو ایک تاریخی مزاحمت اور پاکستان کے دفاعی مفاد کا حصہ سمجھتے تھے، جبکہ بہت سے مبصرین اور بعد کے واقعات نے اس پالیسی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عسکریت پسندی اور علاقائی تشدد پر سخت سوالات اٹھائے۔ (DW News)

اس لیے جنرل حمید گل کو یاد کرتے ہوئے جذبات اپنی جگہ، لیکن تاریخ کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ان کے کردار کو اس کے تمام پہلوؤں کے ساتھ سمجھا جائے۔ ان کی زندگی میں قومی دفاع، فوجی قیادت، جیوپولیٹیکل حکمت عملی، افغان پالیسی اور کشمیر کے ساتھ ساتھ ایسے فیصلے بھی شامل تھے جن کے نتائج پر آج تک بحث جاری ہے۔

🕯️ 15 اگست 2015ء — ایک باب کا اختتام

15 اگست 2015ء کو جنرل حمید گل کی طبیعت شدید خراب ہوئی اور انہیں مری کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں برین ہیمرج کے باعث ان کا انتقال ہوگیا۔ وہ 78 برس کے تھے۔ ان کی وفات پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری دنیا میں سوگ کی لہر دوڑ گئی اور مختلف حلقوں نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ (Dawn)

آج ان کی گیارہویں برسی پر ان کا نام دوبارہ پاکستان کی دفاعی تاریخ میں زیرِ بحث ہے۔

ایک ایسا شخص جو جوانی میں فوج میں آیا، جنگ دیکھی، ٹینک کمانڈ کیے، اہم عسکری ذمہ داریاں سنبھالیں، آئی ایس آئی کی قیادت کی، افغانستان کے شدید ترین دور میں پاکستان کی پالیسی کے مرکز میں رہا اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد بھی قومی امور پر اپنی آواز بلند کرتا رہا۔

یہ معمولی فوجی سفر نہیں تھا۔

یہ ایک ایسے عہد کا سفر تھا جس میں پاکستان نے جنگ، سرد جنگ، افغانستان، بھارت، کشمیر، عالمی طاقتوں کے دباؤ اور اندرونی سیاسی کشمکش سب کچھ ایک ساتھ دیکھا۔

❤️ جنرل حمید گل — ایک یاد، ایک ورثہ

جنرل حمید گل کے بارے میں تاریخ کے فیصلے مختلف ہوسکتے ہیں۔

کوئی انہیں پاکستان کے دفاعی مفادات کا بے باک محافظ کہے گا۔
کوئی انہیں افغان پالیسی کا اہم معمار سمجھے گا۔
کوئی ان کے کشمیر کے حوالے سے کردار کو نمایاں کرے گا۔
اور کوئی ان کی بعض پالیسیوں کے طویل مدتی نتائج پر سوال اٹھائے گا۔

لیکن ان تمام مختلف آرا کے درمیان ایک حقیقت واضح ہے:

جنرل حمید گل پاکستان کی تاریخ کی ان شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے عہد پر گہرا اثر چھوڑا۔

ان کی زندگی ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ ایک ملک کی سلامتی صرف فوجی طاقت سے نہیں بلکہ مضبوط اداروں، دور اندیش پالیسی، قومی اتحاد، معاشی خودمختاری اور ذمہ دار قیادت سے قائم ہوتی ہے۔

ہمیں اپنے شہداء کو یاد رکھنا چاہیے، اپنے سپاہیوں کی قربانیوں کو سلام پیش کرنا چاہیے، اور تاریخ کے ان کرداروں سے سیکھنا چاہیے جنہوں نے پاکستان کی سلامتی کے لیے اپنی زندگی کا بڑا حصہ وقف کیا۔

جنرل حمید گل کی یاد ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ پاکستان کے دفاع، خودمختاری اور قومی مفاد کے بارے میں سنجیدگی کبھی کم نہیں ہونی چاہیے۔

آج ان کی برسی کے موقع پر ہم ان کی عسکری خدمات، ان کی بہادری، ان کی پیشہ ورانہ زندگی اور پاکستان کے قومی معاملات پر ان کے واضح مؤقف کو یاد کرتے ہیں، جبکہ ان کے متنازع فیصلوں اور ان کی پالیسیوں کے نتائج کا تاریخی مطالعہ بھی اسی دیانت داری سے ضروری سمجھتے ہیں۔

🇵🇰 خراجِ عقیدت

اللہ تعالیٰ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبر عطا فرمائے۔

اللہ تعالیٰ پاکستان کے تمام شہداء اور ان تمام محافظوں کو اپنی رحمت میں جگہ دے جنہوں نے وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانیں پیش کیں۔

پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور عزت ہمیشہ قائم رہے۔

🇵🇰 پاکستان زندہ باد
🫡 پاکستان کے تمام محافظوں اور شہداء کو سلام
💚 وطنِ عزیز ہمیشہ مضبوط، پُرامن اور سربلند رہے

15 اگست — جنرل حمید گل کی یاد میں۔

(Associated Press of Pakistan)

04/09/2026

🇵🇰 وطن کے محافظ جاگ رہے ہیں — زیارت کی سرزمین پر دہشت گردی کی ایک اور کوشش ناکام

بلوچستان کی پُرخطر پہاڑیوں کے درمیان واقع زیارت کی سرزمین ایک بار پھر اس عزم کی گواہ بنی کہ پاکستان کے محافظ اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر وطن کی حفاظت کے لیے ہر لمحہ تیار ہیں۔

زیارت کراس چیک پوسٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے مسلح شدت پسند عناصر نے شاید یہ سمجھا تھا کہ اچانک حملہ کرکے وہ سیکیورٹی فورسز کو خوفزدہ کر دیں گے، مگر انہیں اندازہ نہیں تھا کہ اس سرزمین کے سپوت جاگ رہے ہیں، چوکس ہیں اور وطن کے دفاع کے لیے سینہ سپر ہیں۔

مسلح عناصر کی فائرنگ کے جواب میں سیکیورٹی فورسز نے فوری اور بھرپور کارروائی کی۔ اطلاعات کے مطابق اس مؤثر جوابی کارروائی میں 10 شدت پسند مارے گئے، جبکہ ان کے قبضے سے اسلحہ اور بارودی مواد بھی برآمد ہونے کی اطلاع ہے۔

یہ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں، بلکہ ان عناصر کے لیے واضح پیغام ہے جو پاکستان کے امن کو تباہ کرنے کے خواب دیکھتے ہیں:

یہ وطن بے بس نہیں۔
یہ قوم خوف زدہ نہیں۔
اور پاکستان کے محافظ غافل نہیں۔

ہماری سیکیورٹی فورسز کے جوان صرف ایک چوکی یا ایک علاقے کی حفاظت نہیں کرتے؛ وہ لاکھوں پاکستانی خاندانوں کے سکون، بچوں کے مستقبل اور پاکستان کے قومی پرچم کی حرمت کے محافظ ہیں۔ ان کے پیچھے ایک ایسی قوم کھڑی ہے جو جانتی ہے کہ امن مفت میں نہیں ملتا، بلکہ اس کے لیے ہمارے بہادر جوان اپنی جانوں تک کی قربانی دیتے ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ بلوچستان کی حقیقی طاقت اس کے پہاڑ، اس کے وسائل یا اس کی سرزمین ہی نہیں، بلکہ اس کے امن پسند اور محبِ وطن عوام ہیں۔ چند مسلح شرپسند عناصر کے جرائم کو پوری بلوچ قوم سے جوڑنا ناانصافی ہوگی۔ بلوچستان کے وہ لاکھوں عوام جو امن، ترقی اور پاکستان کے ساتھ اپنے مستقبل کو دیکھتے ہیں، وہ بھی اسی وطن کے برابر کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔

ہم ان تمام بہادر جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں جو اندھیری راتوں میں چوکیوں پر جاگتے ہیں تاکہ پاکستان کے کروڑوں شہری اپنے گھروں میں سکون سے سو سکیں۔
ہم ان ماؤں کو سلام پیش کرتے ہیں جو اپنے بیٹوں کو وطن کی حفاظت کے لیے رخصت کرتی ہیں۔
ہم ان خاندانوں کو سلام پیش کرتے ہیں جو اپنے پیاروں کی قربانی پر صبر کرکے پاکستان کی سلامتی کو مقدم رکھتے ہیں۔

دہشت گردی کا مقصد صرف انسانوں کو مارنا نہیں ہوتا، بلکہ قوم کے حوصلے کو توڑنا ہوتا ہے۔ مگر پاکستان کی قوم ایسی قوم ہے جس کا حوصلہ گولیوں، دھماکوں اور سازشوں سے نہیں ٹوٹ سکتا۔

آج ایک بار پھر ثابت ہوا کہ:

جو لوگ پاکستان کے امن پر حملہ کریں گے، انہیں قانون اور ریاستی قوت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
جو لوگ ہمارے جوانوں کو نشانہ بنائیں گے، پاکستان کے محافظ ان کے عزائم کو ناکام بنائیں گے۔
اور جو لوگ اس وطن کو کمزور سمجھتے ہیں، انہیں ہر بار اپنی غلط فہمی کی قیمت چکانا ہوگی۔

ہماری منزل صرف دہشت گردی کا خاتمہ نہیں، بلکہ ایسا پُرامن، مضبوط اور خوشحال بلوچستان ہے جہاں مزدور بے خوف ہو کر روزگار کما سکے، بچے سکول جا سکیں، خاندان سکون سے زندگی گزار سکیں اور پاکستان کا سبز ہلالی پرچم ہر پہاڑ، ہر وادی اور ہر شہر میں سربلند رہے۔

یہ وطن ہمارے خون سے سینچا گیا ہے،
اس کی حفاظت ہمارا عزم ہے،
اور پاکستان کی سلامتی ہماری سب سے بڑی ترجیح ہے۔

🇵🇰 پاکستان زندہ باد!
🇵🇰 پاک افواج پائندہ باد!
🇵🇰 بلوچستان امن و استحکام کا گہوارہ بنے!
DG ISPRDGK

04/09/2026

🇵🇰 سیف العظم — وہ شاہین جس نے آسمانوں پر پاکستان کا پرچم بلند کیا

دنیا کی تاریخ میں کچھ لوگ ایسے گزرتے ہیں جن کی زندگی صرف ایک شخص کی داستان نہیں رہتی، بلکہ وہ اپنے عزم، جرأت اور کارناموں سے پوری قوم کی پہچان بن جاتے ہیں۔ گروپ کیپٹن سیف العظم بھی انہی عظیم ناموں میں سے ایک تھے۔

یہ وہ پاکستانی تربیت یافتہ فائٹر پائلٹ تھے جنہوں نے اپنی جوانی کے سنہری دور میں آسمانوں پر اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور ایسے معرکوں میں حصہ لیا جنہوں نے انہیں عالمی سطح پر ایک ممتاز فائٹر پائلٹ کے طور پر شناخت دی۔ وہ دنیا کے ان منفرد پائلٹوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے چار مختلف فضائی افواج—پاکستان، اردن، عراق اور بنگلہ دیش—میں خدمات انجام دیں۔

1965 کی پاک بھارت جنگ میں سیف العظم پاکستان ایئر فورس کے شاہینوں میں شامل تھے۔ جنگی کارروائی کے دوران انہوں نے ایک بھارتی جنگی طیارہ مار گرایا، جس پر انہیں پاکستان کا ستارۂ جرأت بھی عطا کیا گیا۔ یوں دشمن کے خلاف ان کی بہادری کا اعتراف خود پاکستان نے ایک اعلیٰ عسکری اعزاز سے کیا۔

لیکن سیف العظم کی داستان یہاں ختم نہیں ہوتی۔

1966 میں انہیں اردن کی رائل اردنی ایئر فورس کے لیے مشیر کے طور پر بھیجا گیا۔ اگلے ہی سال 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں انہوں نے اردن کی جانب سے اسرائیلی فضائیہ کے خلاف فضائی معرکے میں حصہ لیا۔ معتبر ذرائع کے مطابق انہوں نے اسرائیلی Super Mystère طیارہ مار گرایا۔ اس کے بعد وہ عراق منتقل ہوئے، جہاں انہوں نے عراقی فضائیہ کے ساتھ خدمات انجام دیتے ہوئے اسرائیلی فضائی حملے کا مقابلہ کیا اور Vautour بمبار اور Mirage III کے خلاف فضائی کامیابیاں حاصل کیں۔

یہ کارنامے محض جنگی اعداد و شمار نہیں تھے۔ اُس دور میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں انتہائی خطرناک فضائی معرکوں سے عبارت تھیں، اور ایک پائلٹ کے لیے دشمن کے جدید جنگی طیاروں کا سامنا کرنا غیر معمولی عزم، تربیت اور مہارت کا تقاضا کرتا تھا۔

سیف العظم کی شہرت اس قدر بڑھی کہ انہیں بین الاقوامی سطح پر بھی اعزاز حاصل ہوئے۔ امریکی فضائیہ نے انہیں “Top Gun” کے اعزاز سے نوازا، جبکہ بعد میں انہیں “Living Eagle” کے طور پر بھی اعزاز دیا گیا۔ اردن، عراق اور پاکستان سے عسکری اعزازات حاصل کرنا ان کے غیر معمولی فوجی کیریئر کی گواہی دیتا ہے۔

ان کی زندگی کا ایک اور حیران کن پہلو یہ ہے کہ 1971 کے بعد انہوں نے نئی تشکیل پانے والی بنگلہ دیش ایئر فورس میں خدمات انجام دیں اور بالآخر گروپ کیپٹن کے رینک سے ریٹائر ہوئے۔ فوجی زندگی کے بعد انہوں نے سول شعبے میں بھی ذمہ داریاں ادا کیں، اور بعد میں سیاست میں داخل ہو کر اپنے آبائی علاقے سے رکنِ پارلیمان بھی منتخب ہوئے۔

ایک پائلٹ، کئی ممالک، ایک غیر معمولی داستان

سیف العظم کی داستان ہمیں یہ بتاتی ہے کہ عظمت صرف اس بات میں نہیں کہ انسان کہاں پیدا ہوا، بلکہ اصل عظمت اس بات میں ہے کہ وہ اپنی صلاحیت، تربیت اور کردار سے دنیا پر کیا اثر چھوڑتا ہے۔

وہ ایک ایسے دور میں پاکستان ایئر فورس کا حصہ بنے جب نوجوان پائلٹوں کے لیے آسمان محض پرواز کی جگہ نہیں تھا بلکہ وطن کے دفاع کا میدان تھا۔ انہوں نے اپنے فرائض کو صرف ایک ملازمت نہیں سمجھا، بلکہ ایک ذمہ داری کے طور پر نبھایا۔

وہ آسمان پر اڑتے تھے، مگر ان کے پروں کے ساتھ ایک قوم کا وقار بھی پرواز کرتا تھا۔

آج جب ہم پاکستان کے بہادر شاہینوں کا ذکر کرتے ہیں تو سیف العظم کا نام بھی عزت اور احترام سے لیا جانا چاہیے۔ ان کی زندگی نئی نسل کے لیے یہ پیغام ہے کہ محنت، نظم و ضبط، جرات اور پیشہ ورانہ مہارت انسان کو دنیا کے بڑے میدانوں میں ممتاز بنا سکتی ہے۔

سیف العظم دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں، مگر ان کی داستان آج بھی زندہ ہے۔

یہ داستان اُس نوجوان کی ہے جس نے آسمانوں کو اپنا میدان بنایا۔

یہ داستان اُس پائلٹ کی ہے جس نے جنگ کے مشکل ترین لمحات میں اپنے فرائض نبھائے۔

اور یہ داستان اُس پاکستانی تربیت یافتہ شاہین کی ہے جس نے اپنی پرواز سے یہ ثابت کیا کہ بلند حوصلے رکھنے والوں کے لیے آسمان بھی حد نہیں ہوتا۔

🇵🇰 سلام سیف العظم!

🇵🇰 سلام پاکستان کے ان تمام شاہینوں کو جو وطن کے نام پر اپنی زندگیاں وقف کرتے ہیں۔

پاکستان زندہ باد 🇵🇰
پاک فضائیہ پائندہ باد ✈️

DG ISPRSindh Government Government of Pakistan Govt of Punjab Government of Iraq - الحكومة العراقية Ministry of Information and Broadcasting, Pakistan

04/09/2026

🇵🇰 6 ستمبر — یومِ دفاع و شہداء پاکستان
وہ دن جب پوری قوم وطن کے دفاع کے لیے ایک دیوار بن گئی

6 ستمبر پاکستان کی تاریخ کا محض ایک دن نہیں، بلکہ قومی عزم، اتحاد، قربانی، بہادری اور وطن سے وفاداری کی ایک زندہ داستان ہے۔ ہر سال جب 6 ستمبر کا سورج طلوع ہوتا ہے تو ہمیں 1965 کے وہ لمحات یاد آتے ہیں جب پاکستان کی سرحدوں پر جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے، ہمارے جوان مادرِ وطن کے دفاع کے لیے مورچوں میں موجود تھے اور پوری پاکستانی قوم اپنے سپاہیوں کے شانہ بشانہ کھڑی تھی۔

یہ وہ دن تھا جب پاکستان کو ایک بڑے فوجی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ اس موقع پر ہماری مسلح افواج نے اپنے فرائض انجام دیے اور پاکستانی قوم نے غیر معمولی یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ 6 ستمبر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قوم کی اصل طاقت صرف ہتھیاروں، ٹینکوں یا طیاروں میں نہیں ہوتی، بلکہ اس کے حوصلے، اتحاد اور اپنے وطن کے لیے قربانی دینے کے جذبے میں ہوتی ہے۔

وہ رات، جب پاکستان کو آزمایا گیا

1965 کے جنگی حالات نے پاکستانی قوم کو ایک سخت امتحان سے دوچار کیا۔ جب دشمن نے پاکستان کے خلاف پیش قدمی کی تو پاکستانی مسلح افواج نے ملک کے دفاع کے لیے بھرپور مزاحمت کی۔ سرحدوں پر موجود جوانوں کے سامنے ایک ہی مقصد تھا: پاکستان کا دفاع۔

میدانِ جنگ میں موجود جوان شاید یہ نہیں جانتے تھے کہ آنے والی نسلیں ان کے نام کس احترام سے لیں گی۔ انہیں صرف ایک بات معلوم تھی:

پیچھے پاکستان ہے،
آگے خطرہ ہے،
اور ہمارے درمیان سرحد ہے۔

یہی جذبہ تھا جس نے ایک سپاہی کو اپنے خوف سے بلند کیا اور اسے وطن کی خاطر سب کچھ قربان کرنے کا حوصلہ دیا۔

پاک فوج کے بہادر جوان — مٹی سے وفا کی داستان

1965 کی جنگ میں پاک فوج کے جوانوں نے کئی محاذوں پر غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ پنجاب کے میدانوں سے لے کر سرحدی علاقوں تک پاکستانی سپاہیوں نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر وطن کا دفاع کیا۔

چونڈہ کا محاذ بھی اسی جنگ کی ایک اہم یادگار ہے، جہاں پاکستانی جوانوں نے شدید دباؤ کے باوجود مزاحمت جاری رکھی۔

مگر ان کارناموں کو صرف جنگی اعداد و شمار میں نہیں سمجھا جا سکتا۔ ایک جوان کے لیے جنگ کا مطلب اپنی جان داؤ پر لگانا، اپنے خاندان سے دور رہنا اور یہ یقین رکھنا تھا کہ شاید اگلی صبح وہ سورج نہ دیکھ سکے۔

پھر بھی وہ ڈٹا رہا۔

کیونکہ اس کے سامنے صرف ایک سرحد نہیں تھی؛
اس کے سامنے پاکستان تھا۔

پاک فضائیہ کے شاہین — جب آسمان بھی میدانِ جنگ بن گیا

6 ستمبر کی داستان پاک فضائیہ کے بغیر نامکمل ہے۔ جب دشمن کے طیارے پاکستانی فضاؤں کی طرف بڑھے تو پاک فضائیہ کے شاہین فضا میں بلند ہوئے۔

یہ صرف طیاروں کی جنگ نہیں تھی بلکہ اعصاب، مہارت، جرات اور فرض شناسی کا امتحان تھا۔

پاکستانی قوم نے اپنے فضائی محافظوں میں وہی جذبہ دیکھا جس نے زمین پر جوانوں کو مضبوط رکھا ہوا تھا۔

آسمان پر اڑنے والے ان شاہینوں نے یہ ثابت کیا کہ وطن کی حفاظت صرف زمین پر نہیں ہوتی۔ کبھی سرحد مٹی پر کھینچی جاتی ہے اور کبھی آسمان میں۔

پاک بحریہ — خاموش مگر مضبوط محافظ

6 ستمبر ہمیں صرف زمینی اور فضائی دفاع کی یاد نہیں دلاتا۔ پاک بحریہ نے بھی پاکستان کی سمندری حدود کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کیا۔

یوں وطن کا دفاع تینوں مسلح افواج کی مشترکہ ذمہ داری کے طور پر سامنے آیا:

بری فوج زمین پر،
فضائیہ آسمان پر،
اور بحریہ سمندر میں —

مگر عزم ایک:

پاکستان۔

سب سے بڑا ہیرو صرف سپاہی نہیں، پوری قوم تھی

6 ستمبر کی سب سے خوبصورت حقیقت یہ ہے کہ اُس وقت پاکستانی قوم نے خود کو ایک جسم اور ایک جان سمجھا۔

گھروں میں ماؤں نے دعائیں کیں۔
بہنوں نے بھائیوں کے لیے دعائیں مانگیں۔
بچوں نے اپنے باپوں کی طرف امید سے دیکھا۔
مزدوروں نے اپنا کام جاری رکھا۔
ڈاکٹروں نے زخمیوں کا علاج کیا۔
فنکاروں نے اپنے فن کے ذریعے قوم کا حوصلہ بلند کیا۔

یہ قومی یکجہتی 6 ستمبر کو ایک عظیم علامت بناتی ہے۔

شہداء — وہ لوگ جنہوں نے کل کے لیے آج قربان کر دیا

یومِ دفاع کا اصل مرکز صرف ٹینک، توپیں یا جنگی طیارے نہیں؛ اصل مرکز ہمارے شہداء ہیں۔

وہ جوان جنہوں نے اپنی ماؤں کی گود سے نکل کر وطن کی مٹی کو اپنی آخری آرام گاہ بنایا۔

وہ باپ جو اپنے بچوں کو جوان ہونے سے پہلے یتیم کر گئے۔

وہ شوہر جن کی بیویاں آج بھی ان کی یاد میں آنکھیں نم کرتی ہیں۔

اور وہ بھائی جن کے خاندان آج بھی فخر سے کہتے ہیں:

"ہمارا پیارا پاکستان کے لیے قربان ہوا تھا۔"

شہید مر نہیں جاتا۔
وہ قوم کی یاد میں زندہ رہتا ہے۔

اور جب تک پاکستان زندہ ہے، اس کے شہداء کے نام بھی زندہ رہیں گے۔

6 ستمبر ہمیں آج کیا سکھاتا ہے؟

آج 1965 کو کئی دہائیاں گزر چکی ہیں۔ دنیا بدل چکی ہے، جنگ کے طریقے بدل چکے ہیں اور خطرات کی نوعیت بھی بدل چکی ہے۔ مگر 6 ستمبر کا بنیادی پیغام آج بھی وہی ہے:

اتحاد، نظم و ضبط، قربانی اور وطن سے وفاداری۔

دفاع صرف سرحد پر کھڑے سپاہی کی ذمہ داری نہیں۔ ایک استاد اپنے طالب علم کو علم دے کر، ایک ڈاکٹر اپنے مریض کی خدمت کرکے، ایک مزدور ایمانداری سے کام کرکے، ایک صحافی ذمہ داری سے قلم اٹھا کر اور ایک شہری قانون کا احترام کرکے بھی اپنے وطن کی خدمت کرتا ہے۔

حقیقی حب الوطنی صرف نعرہ نہیں؛
حب الوطنی ایک کردار ہے۔

بلوچستان سے کشمیر تک — ایک پاکستان

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کی طاقت اس کے صوبوں کے باہمی اتحاد میں ہے۔

بلوچستان کے پہاڑ ہوں،
خیبر پختونخوا کی وادیاں،
پنجاب کے میدان،
سندھ کی زمین،
گلگت بلتستان کی بلند چوٹیاں،

یہ سب مل کر پاکستان بنتے ہیں۔

ہمیں نفرت، لسانیت اور فرقہ واریت کے بجائے اس سوچ کو مضبوط کرنا ہوگا کہ:

پاکستانی پہلے،
باقی شناختیں بعد میں۔

جو لوگ قوموں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنا چاہتے ہیں، وہ پاکستان کی طاقت کم کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارا جواب اتحاد ہونا چاہیے۔

آج کے پاکستان کا نیا محاذ

آج وطن کا دفاع صرف سرحد پر نہیں ہو رہا۔ دہشت گردی، انتہاپسندی، جھوٹی معلومات، معاشی مشکلات، بدعنوانی اور قومی انتشار بھی ہمارے لیے چیلنج ہیں۔

اسی لیے 6 ستمبر ہمیں صرف ماضی یاد کرنے کے لیے نہیں آتا؛ یہ ہمیں مستقبل کی ذمہ داری بھی سونپتا ہے۔

ہمیں اپنے شہداء کو صرف پھول نہیں دینے، بلکہ ان کے خوابوں کا پاکستان بنانے کی ضرورت ہے۔

ایک ایسا پاکستان جہاں قانون مضبوط ہو، انصاف ہو، تعلیم عام ہو، معیشت مستحکم ہو، نوجوان بااختیار ہوں، ہر شہری محفوظ ہو اور ہر پاکستانی کو اپنے مستقبل پر یقین ہو۔

سلام اُن محافظوں کے نام

آج جب ہم یومِ دفاع و شہداء منا رہے ہیں تو آئیے اپنے ان تمام شہداء، غازیوں، سابق فوجیوں اور موجودہ محافظوں کو خراجِ عقیدت پیش کریں جو پاکستان کی سلامتی کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے ہیں۔

ہم ان ماؤں کو سلام کرتے ہیں جنہوں نے اپنے بیٹوں کو وطن پر قربان کیا۔

ہم ان خاندانوں کو سلام کرتے ہیں جنہوں نے اپنے پیارے کھو کر بھی پاکستان کے لیے صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔

ہم ان جوانوں کو سلام کرتے ہیں جو آج بھی برف پوش پہاڑوں، صحراؤں، سرحدی چوکیوں، سمندری حدود اور فضائی نگرانی میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔

اور ہم اس قوم کو سلام کرتے ہیں جو مشکل وقت میں اپنے وطن کے ساتھ کھڑی رہی۔

6 ستمبر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان صرف نقشے پر بنی ایک لکیر کا نام نہیں۔ پاکستان کروڑوں لوگوں کے خواب، امید، قربانی اور محبت کا نام ہے۔

یہ وطن ہمیں قربانیوں سے ملا ہے،
اور اس کی حفاظت ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔

آئیے آج عہد کریں:

ہم پاکستان کو کمزور کرنے والی ہر نفرت کو مسترد کریں گے۔
ہم جھوٹ اور انتشار کے بجائے اتحاد کو فروغ دیں گے۔
ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔
اور ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط، پُرامن اور خوشحال پاکستان بنائیں گے۔

🇵🇰 شہداء کو سلام
🇵🇰 غازیوں کو سلام
🇵🇰 پاکستان کے محافظوں کو سلام
🇵🇰 پاکستان کی عظیم قوم کو سلام

پاکستان زندہ باد 🇵🇰
پاک افواج پائندہ باد 🇵🇰



#6ستمبر




DG ISPRSindh GovernmentGovt of PunjabGovernment of PakistanMinistry of Information and Broadcasting, PakistanGovernment of Iraq - الحكومة العراقية

Adresse

France � 58M
Paris
75000

Notifications

Soyez le premier à savoir et laissez-nous vous envoyer un courriel lorsque Janisar publie des nouvelles et des promotions. Votre adresse e-mail ne sera pas utilisée à d'autres fins, et vous pouvez vous désabonner à tout moment.

Raccourcis

Partager