Janisar

Janisar Hi everyone please � Follow My new

یہ صرف ایک معاہدہ نہیں، بلکہ تاریخ کے صفحات پر رقم ہونے والا ایک ایسا لمحہ ہے جو ثابت کرتا ہے کہ مذاکرات اور امن کی طاقت...
19/06/2026

یہ صرف ایک معاہدہ نہیں، بلکہ تاریخ کے صفحات پر رقم ہونے والا ایک ایسا لمحہ ہے جو ثابت کرتا ہے کہ مذاکرات اور امن کی طاقت جنگ اور نفرت سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔

جب دنیا کے بڑے ممالک بات چیت کی میز پر بیٹھتے ہیں اور پاکستان اس عمل میں مثبت اور مؤثر کردار ادا کرتا ہے تو یہ پوری قوم کے لیے فخر کا مقام ہوتا ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر دنیا کو دکھا دیا کہ وہ امن، استحکام اور سفارتی حل کا داعی ملک ہے، جو تنازعات کے بجائے مذاکرات پر یقین رکھتا ہے۔

ایسے تاریخی لمحات دوستوں کے دل خوشی سے بھر دیتے ہیں، جبکہ پاکستان کی کامیابیوں سے خائف عناصر کے لیے یہ منظر باعثِ حسد بن جاتا ہے۔ کیونکہ امن کی ہر کامیابی نفرت کی سیاست کے لیے شکست کا پیغام ہوتی ہے۔

پاکستان ہمیشہ سے خطے اور دنیا میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کے فروغ کے لیے کھڑا رہا ہے اور آج بھی یہی پیغام دے رہا ہے کہ مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ مکالمہ، تدبر اور باہمی احترام ہے۔

یہ تاریخی دستاویز آنے والی نسلوں کو یاد دلائے گی کہ پاکستان صرف ایک ایٹمی طاقت ہی نہیں بلکہ امن، دانشمندی اور سفارتی بصیرت کی بھی ایک اہم علامت ہے۔
🇵🇰❤️

پاکستان زندہ باد 🇵🇰
پاک فورسز زندہ باد⚔️

کچھ یادیں، کچھ باتیں — عظمیٰ حمید گل کے ساتھعظمیٰ حمید گل، عظیم جرنیل، عظیم مجاہد اور مردِ میدان سابق ڈی جی آئی ایس آئی ...
17/06/2026

کچھ یادیں، کچھ باتیں — عظمیٰ حمید گل کے ساتھ

عظمیٰ حمید گل، عظیم جرنیل، عظیم مجاہد اور مردِ میدان سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل حمید گل کی صاحبزادی ہیں۔

میں نے بذاتِ خود اس بات کا مشاہدہ کیا کہ جو جذبۂ حب الوطنی، پاک فوج سے محبت، حق اور سچ کی آواز جنرل حمید گل ہر فورم پر بلند کیا کرتے تھے، وہی جوش، وہی جذبہ محترمہ باجی صاحبہ میں بھی پایا جاتا ہے۔

محترمہ ایک دفاعی تجزیہ نگار، معاشی تجزیہ کار اور بہترین کالم نگار بھی ہیں۔ موصوفہ اپنے والدِ گرامی کے نقشِ قدم پر چلنے والی خاتون ہیں۔ جنرل حمید گل کا دل فلسطین اور کشمیر کے ساتھ دھڑکتا تھا، بالکل اسی طرح عظمیٰ حمید گل صاحبہ کا دل بھی اپنے مظلوم مسلمان بہن بھائیوں کے ساتھ دھڑکتا ہے۔

محترمہ نے گزشتہ سال فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفنس فورسز، آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے اعلان پر لبیک کہتے ہوئے مصر بارڈر کے ذریعے فلسطین کے مظلوم عوام کے لیے 90 کروڑ روپے کا امدادی سامان مہیا کیا، جس میں ادویات، راشن اور دیگر ضروری اشیاء شامل تھیں۔

اس امدادی سامان کی فراہمی پر محترمہ نے پاکستان اور مظلوم مسلمانوں کے دل جیت لیے۔ عظمیٰ حمید گل صاحبہ ایک دور اندیش، تحمل مزاج، خدا ترس اور باوقار خاتون ہیں۔ وہ ہر معاملے میں نہایت احتیاط اور سوچ سمجھ کر قدم اٹھاتی ہیں۔

تنظیم جوانانِ پاکستان نظریاتی پر بھی ان کی گہری نظر رہتی ہے۔ محترمہ ہمیشہ فرماتی ہیں کہ صرف جذباتی نعروں سے ملک اور نوجوان نسل کو کچھ حاصل نہیں ہوتا، بلکہ کامیابی اس میں ہے کہ ہم ملک کے دفاع، حفاظت اور سالمیت کے لیے اپنے انٹیلیجنس اداروں اور پاک فوج کے جوانوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چٹان کی طرح مضبوط اور منظم انداز میں کھڑے ہوں۔

موصوفہ فرماتی ہیں کہ ہمارے ملک نے ہمیں عزت دی، شہرت دی اور شناخت دی۔ آج جس طرح امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے میں پاکستان کا نام عزت اور احترام سے لیا جا رہا ہے، وہ ہم سب کے لیے باعثِ فخر ہے۔

محترمہ باجی صاحبہ نے راولپنڈی کے بینظیر بھٹو ہسپتال میں جنرل حمید گل فاؤنڈیشن کی جانب سے 50 بیڈ وقف کیے، جو ایک قابلِ تحسین اور فلاحی اقدام ہے۔

آج ہمیں جنرل حمید گل کے سیاسی وارث اور جانشین کی صورت میں محترمہ عظمیٰ حمید گل صاحبہ جیسی قیادت ملی ہے۔ ہمیں ان کی خدمات اور کردار کی قدر کرنی چاہیے اور ان کے مثبت پیغام کو آگے بڑھانا چاہیے۔

پاکستان ہمیشہ زندہ باد
پاک فوج زندہ باد
جوانانِ پاکستان نظریاتی زندہ باد

عظمیٰ حمید گل صاحبہ قدم بڑھائیے، قوم آپ کے ساتھ ہے، ان شاء اللہ۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaCquztIN9ixA5kMdU0D

فیلڈ مارشل… کیا امن کے نوبل انعام کے مستحق؟تحریر: احسان اللہ خان کاکڑدنیا اس وقت غیر معمولی سیاسی اور عسکری کشیدگی کے دو...
15/06/2026

فیلڈ مارشل… کیا امن کے نوبل انعام کے مستحق؟

تحریر: احسان اللہ خان کاکڑ

دنیا اس وقت غیر معمولی سیاسی اور عسکری کشیدگی کے دور سے گزر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ایسے نازک حالات میں پاکستان کی سلامتی، استحکام اور قومی یکجہتی کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

مصنف کے نزدیک پاکستان کی مسلح افواج، خصوصاً فیلڈ مارشل سید حافظ محمد عاصم منیر کی قیادت میں ملک نے داخلی و خارجی چیلنجز کا جس انداز میں مقابلہ کیا، وہ قومی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ ان کے بقول پاکستان نے ہر مشکل مرحلے پر حکمت، صبر اور مضبوط دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا۔

مصنف کا یہ بھی مؤقف ہے کہ پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے مختلف ادوار میں براہِ راست اور بالواسطہ دباؤ ڈالنے کی کوششیں کی گئیں، لیکن قومی اتحاد، عوامی یکجہتی اور افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیت نے ہر سازش کو ناکام بنایا۔

آج بھی ملک کو درپیش اصل خطرہ صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ داخلی انتشار، لسانیت، فرقہ واریت، نفرت اور انتشار پھیلانے والی سوچ بھی ہے۔ دشمن ہمیشہ یہی چاہتا ہے کہ پاکستانی آپس میں تقسیم ہوں تاکہ قومی طاقت کمزور پڑ جائے۔ ایسے حالات میں ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اتحاد، رواداری اور قومی مفاد کو مقدم رکھے۔

یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ وطنِ عزیز کی حفاظت کے لیے پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس اداروں کے افسران اور جوان روزانہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ قوم ان شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتی رہے گی۔

مصنف کی رائے میں اگر عالمی امن، علاقائی استحکام اور قومی سلامتی کے تناظر میں خدمات کو دیکھا جائے تو فیلڈ مارشل سید حافظ محمد عاصم منیر کی قیادت قابلِ تحسین ہے، اور اسی بنیاد پر وہ انہیں امن کے نوبل انعام کے لیے موزوں شخصیت قرار دیتے ہیں۔ یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے، جس سے اتفاق یا اختلاف کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کا مقصد قومی سلامتی کے لیے خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔

پاکستان کی ترقی، سلامتی اور خوشحالی اسی وقت ممکن ہے جب پوری قوم اختلافات سے بالاتر ہو کر اتحاد، قانون کی پاسداری اور ملکی مفاد کو اپنی اولین ترجیح بنائے۔ مضبوط قومیں اپنے اداروں، شہداء اور قومی مفادات کا احترام کرتی ہیں، اور یہی رویہ پاکستان کو ایک مضبوط، مستحکم اور پرامن ریاست بنا سکتا ہے۔

کشمیر کا اصل کھیل کیا ہے؟ — حقِ خودارادیت، بھارتی حکمتِ عملی اور آزاد کشمیر کی صورتحالاصل کھیل کیا تھا؟؟تحریر: احسان خان...
12/06/2026

کشمیر کا اصل کھیل کیا ہے؟ — حقِ خودارادیت، بھارتی حکمتِ عملی اور آزاد کشمیر کی صورتحال

اصل کھیل کیا تھا؟؟

تحریر: احسان خان کاکڑ

پاکستان کا کشمیر پر دائمی موقف ہے کہ کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دیا جائے، یعنی چاہیں تو انڈیا کے ساتھ الحاق کر لیں، چاہیں تو پاکستان کے ساتھ الحاق کر لیں اور چاہیں تو آزاد ملک بنا لیں۔ اقوامِ متحدہ کا بھی یہی فیصلہ تھا جہاں بھارت نے اس سے اتفاق کر لیا تھا لیکن بعد میں مکر گیا اور ہٹ دھرمی پر اتر آیا۔

پاکستان کی خواہش ضرور ہے کہ کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہو۔ مقبوضہ اور آزاد کشمیر کی عوام کی اکثریت بھی پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتی ہے۔ بھارت یہ بات جانتا تھا کہ اگر کوئی ریفرنڈم ہوا تو کشمیر پاکستان کو مل جائے گا، لہٰذا اس نے دو کام کیے۔

ایک تو اس نے کشمیر میں زبردستی ہندو آبادی کاری شروع کر دی جس کی وجہ سے وہاں کی ڈیموگرافی تبدیل ہونے لگی۔ پھر اس نے کشمیر کو اپنے اندر ضم کر کے ان ہندوؤں کو کشمیری ڈومیسائل بھی دے دیا۔ اب وہاں ریفرنڈم ہوا تو امکان ہے کہ بھارت کو زیادہ ووٹ مل جائیں۔

لیکن مسئلہ آزاد کشمیر کا تھا۔ یہاں کے لوگوں کی اکثریت پاکستان کے ساتھ خوش تھی اور پاکستان کے ساتھ ہی الحاق چاہتی تھی۔ اس کے لیے بھارت نے آزاد کشمیر کی یونیورسٹیوں میں وہی مکروہ کھیل کھیلنا شروع کر دیا جو اس سے پہلے وہ بنگلہ دیش اور بلوچستان میں کھیل چکا ہے۔ جے کے ایل ایف کے نام سے سرخوں کو پاکستان کے خلاف منظم کیا گیا جنہوں نے پاکستان کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی اور آزاد کشمیر کے لوگوں کو پاکستان کے خلاف ورغلانا شروع کر دیا۔ اسی تنظیم کے بطن سے “عوامی ایکشن کمیٹی” نے جنم لیا جس نے کھل کر پاکستان سے علیحدگی کا نعرہ لگایا۔

لیکن مسئلہ موجود تھا کہ آزاد کشمیر کی کل آبادی 40 لاکھ ہے جبکہ انڈین مظالم سے تنگ آ کر آزاد کشمیر اور پھر پاکستان ہجرت کرنے والے کشمیریوں کی تعداد 30 لاکھ ہے۔ یہ 30 لاکھ کشمیری کٹر پاکستانی ہیں۔ ان کو آزاد کشمیر میں ووٹ ڈالنے کا حق ہے۔ لہٰذا پاکستان کے مطالبے کے مطابق یہاں ریفرنڈم ہوا تو جے کے ایل ایف یا عوامی ایکشن کمیٹی کی تمام تر مہم جوئی کے باوجود یہاں پاکستان بھاری اکثریت سے جیت جائے گا۔

لہٰذا بھارت نے عوامی ایکشن کمیٹی کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں کی حقِ نمائندگی پر حملہ کر دیا۔ بہانہ یہ بنایا کہ ان کے ذریعے پاکستان مداخلت کرتا ہے۔ کوئی یہ سوال نہیں کر رہا کہ آزاد کشمیر کی تینوں بڑی جماعتیں یعنی ن لیگ، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی پاکستانی جماعتیں ہیں، تو مداخلت کے لیے پاکستان کو ان 12 سیٹوں کی کیا ضرورت؟

اصل کھیل ہی بھارت کے حق میں کشمیریوں کی نمائندگی کا خاتمہ اور پاکستان سے علیحدگی کا تھا۔

اب اگر اس کے جواب میں پاکستان بھی بھارت کی طرح آزاد کشمیر کو خود میں ضم کر لیتا ہے تو اس سے بھی بھارت کو فائدہ ہوگا کیونکہ اس کے انضمام کو قانونی جواز مل جائے گا۔ اسی لیے پاکستان یہ قدم نہیں اٹھا رہا اور کوشش کر رہا ہے کہ کسی نہ کسی طرح آزاد کشمیر کی عوام کو اس گھناؤنے بھارتی کھیل سے آگاہ کیا

پاکستان زندہ باد🇵🇰
پاک فورسز زندہ باد⚔️

کشمیر بنے گا پاکستان💪🏻💪🏻💪🏻

خطے کی بدلتی صورتحال، پراکسی جنگیں اور پاکستان کو درپیش چیلنجزمشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور خصوصاً پاکستان اس وقت پیچیدہ ...
11/06/2026

خطے کی بدلتی صورتحال، پراکسی جنگیں اور پاکستان کو درپیش چیلنجز

مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور خصوصاً پاکستان اس وقت پیچیدہ سیاسی، مذہبی اور جغرافیائی کشمکش کے دور سے گزر رہے ہیں۔ مختلف ممالک کے درمیان جاری پراکسی جنگوں، خفیہ سفارتی مفادات اور علاقائی طاقت کی رسہ کشی نے پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے۔ ان حالات میں عام عوام کے ذہنوں میں بے شمار سوالات جنم لے رہے ہیں کہ آخر ان تمام فتنوں، خانہ جنگیوں، دہشت گردی، معاشی بحرانوں اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے پیچھے اصل محرکات کیا ہیں۔

بعض تجزیہ نگاروں اور سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی صرف مقامی عوامل کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے بڑی عالمی طاقتوں، خفیہ ایجنسیوں اور علاقائی مفادات کا گہرا عمل دخل موجود ہے۔ ان حلقوں کے مطابق امریکہ، اسرائیل، بھارت اور بعض دیگر ممالک اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لیے خطے میں پراکسی نیٹ ورکس، سیاسی دباؤ اور معاشی جنگ کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

پاکستان، افغانستان، ایران، شام، یمن، لبنان اور عراق جیسے ممالک گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل بدامنی، خانہ جنگی اور دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں۔ ان جنگوں نے نہ صرف لاکھوں انسانوں کی جانیں لیں بلکہ پورے خطے کی معیشت، امن اور سماجی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ اسی تناظر میں بعض حلقے یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ مذہبی، لسانی اور فرقہ وارانہ تقسیم کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ مسلم دنیا کو اندرونی طور پر کمزور رکھا جا سکے۔

پاکستان کے حوالے سے بھی مختلف آراء سامنے آتی رہی ہیں۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان، خیبرپختونخوا اور دیگر حساس علاقوں میں بدامنی پھیلانے کے لیے بیرونی قوتیں پراکسی گروہوں، سوشل میڈیا پروپیگنڈے اور معاشی دباؤ کو استعمال کر رہی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، گوادر پورٹ، سی پیک منصوبے اور ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے دشمن عناصر اسے کمزور دیکھنا چاہتے ہیں۔

اسی طرح یہ بحث بھی سامنے آتی ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوان نسل کو ریاستی اداروں، افواجِ پاکستان اور نظریۂ پاکستان سے بدظن کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بعض سیاسی و مذہبی گروہوں پر یہ الزامات بھی لگائے جاتے ہیں کہ وہ دانستہ یا نادانستہ طور پر دشمن بیانیے کو تقویت دیتے ہیں، جس سے قومی یکجہتی متاثر ہوتی ہے۔

تاہم حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں نے ملک میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے بڑی جدوجہد کی ہے۔ ہزاروں شہداء کی قربانیوں کے نتیجے میں آج پاکستان ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مستحکم نظر آتا ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم جذبات کے بجائے شعور، تحقیق اور اتحاد کا راستہ اختیار کرے۔ اختلافِ رائے ہر معاشرے میں موجود ہوتا ہے، مگر قومی سلامتی، داخلی استحکام اور ریاستی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان دشمن قوتیں ہمیشہ قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کریں گی، لیکن اگر عوام، ریاستی ادارے اور سیاسی قیادت ایک صفحے پر رہیں تو ہر سازش ناکام بنائی جا سکتی ہے۔

ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ مضبوط پاکستان ہی خطے کے امن، ترقی اور استحکام کی ضمانت ہے۔ یہی وقت ہے کہ نفرت، تعصب اور انتشار کے بجائے اتحاد، برداشت اور قومی یکجہتی کو فروغ دیا جائے۔

پاکستان ہمیشہ زندہ باد

پاک فورسز زندہ باد

بلوچستان، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر کے موجودہ حالات اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قائدانہ ذمہ داریاکثر لوگ جو عقل و شعور ...
11/06/2026

بلوچستان، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر کے موجودہ حالات اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قائدانہ ذمہ داری

اکثر لوگ جو عقل و شعور سے نابلد ہیں، مگر خود کو محبِ وطن پاکستانی اور روشن خیال تصور کرتے ہیں، یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ عوام کے جان و مال کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے اور ریاست اس ذمہ داری کو نبھانے میں ناکام ہو چکی ہے۔ حالانکہ یہ تجزیہ حقیقت کے برعکس اور جھوٹ پر مبنی ہے۔

پاکستان میں افراتفری پھیلانا، معیشت کو نقصان پہنچانا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کو دنیا کے سامنے ایک ناکام ریاست کے طور پر پیش کرنا دراصل ایک منظم سازش کا حصہ ہے۔ ان سازشوں کے پیچھے بھارت، اسرائیل اور امریکہ جیسے ممالک کا کردار بتایا جاتا ہے، جو نہیں چاہتے کہ ہمارا پیارا وطن ترقی کرے اور مضبوط معیشت کے ساتھ آگے بڑھے۔ ان کا اصل ہدف پاکستان کی معیشت اور قومی استحکام پر کاری ضرب لگانا ہے، لیکن وہ اپنی ان کوششوں میں ناکام رہیں گے، ان شاء اللہ۔

میں دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتا ہوں اپنے فورسز کے جوانوں اور بہادر انٹیلیجنس اداروں کو، جو سردی ہو یا گرمی، بارش ہو یا طوفان، دن رات اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ملک و قوم کی حفاظت میں مصروف ہیں۔ افسوس کہ بعض احسان فراموش اور مفاد پرست عناصر ان قربانیوں کو دل سے تسلیم کرنے کے بجائے دشمن کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کے خلاف مختلف طریقوں سے جنگ مسلط کی جا رہی ہے۔ دہشت گردی ہو، معاشی دہشت گردی ہو یا قومیت، لسانیت، فرقہ واریت اور تعصب کی آگ بھڑکانے کی کوششیں — دشمن ہر حربہ استعمال کر رہا ہے۔ سالانہ کروڑوں ڈالر ایسے عناصر پر خرچ کیے جا رہے ہیں جو پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے درپے ہیں، مگر ناکامی ان کا مقدر ہوگی، ان شاء اللہ۔

افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے اپنے بعض لوگ بھی من گھڑت پروپیگنڈے کا شکار ہو کر ریاست پاکستان کو ہی قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ کیا ہمیں زیب دیتا ہے کہ ہم اپنے ہی وطن اور اپنے محافظ اداروں کے خلاف زبان استعمال کریں؟

ہمارے کچھ مفاد پرست سیاستدان جب اقتدار میں ہوتے ہیں، مراعات اور پروٹوکول سے لطف اندوز ہوتے ہیں، تو انہیں سب کچھ ٹھیک دکھائی دیتا ہے، لیکن جیسے ہی اقتدار، کرسی اور بڑی بڑی گاڑیاں ان سے چھن جاتی ہیں، وہ پاکستان، پاک فوج اور ریاستی اداروں کے خلاف زبان درازی شروع کر دیتے ہیں۔ پاکستان کو بدنام کرنا دشمنوں کا ایجنڈا ہے، مگر افسوس کہ اس ایجنڈے میں ہمارے اپنے لوگ بھی صفِ اول کا کردار ادا کرتے ہیں۔

ایک طرف یہ عناصر دشمن کی زبان بولتے ہیں اور دوسری جانب پاکستان کو ہی قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست ایسے عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے، کیونکہ جو لوگ اپنے وطن، اپنی افواج اور اپنے اداروں کے خلاف نفرت پھیلائیں، وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

ہم سلام پیش کرتے ہیں فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفنس فورسز، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر صاحب کو، جو چاروں محاذوں پر ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ ان کی دیدہ دلیری، قیادت اور جرات کا اعتراف دشمن بھی کرتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ آج پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔

سلام پاک فوج
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
پاک فورسز زندہ باد

آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات — جائز حقوق یا کسی بڑی سازش کا حصہ؟کچھ حساب کتاب ہمارا بھی بنتا ہے۔تحریر: اح...
08/06/2026

آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات — جائز حقوق یا کسی بڑی سازش کا حصہ؟

کچھ حساب کتاب ہمارا بھی بنتا ہے۔

تحریر: احسان خان کاکڑ

پاکستان کی 6 لاکھ فوج میں سے کم از کم 1 لاکھ فوج گزشتہ 77 سال سے آزاد کشمیر کی حفاظت کے لیے کھڑی ہے اور ایل او سی پر 10 لاکھ بھارتی فوج کا راستہ روکے ہوئے ہے۔ اگر 6 لاکھ فوج کا بجٹ 9 ارب ڈالر بنتا ہے تو صرف 1 لاکھ فوج پر تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر خرچ ہوتا ہے۔ انفلیشن کو شامل کیا جائے تو 77 سال میں پاکستان آزاد کشمیر کی حفاظت پر تقریباً 100 ارب ڈالر یا 28000 ارب روپے خرچ کر چکا ہے۔

آزاد کشمیر کی اپنی آمدن تقریباً 120 ارب روپے ہے جبکہ اخراجات 310 ارب روپے تک پہنچتے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 190 ارب روپے پاکستان فراہم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے اکثر گھروں میں ایک سے زائد سرکاری نوکریاں موجود ہیں۔ اگر انفلیشن شامل کی جائے تو گزشتہ 77 سال میں پاکستان تقریباً 14000 ارب روپے آزاد کشمیر کو فراہم کر چکا ہے۔

اس کے علاوہ مفت بجلی، سستا آٹا، پٹرول اور دیگر سبسڈیز پر پاکستان جو اخراجات کرتا ہے، ان کا الگ حساب ہے۔ کشمیر کے لیے لڑی گئی جنگیں، دی گئی قربانیاں، شہداء کا خون اور قوم کے جذبات کا بھی کوئی حساب نہیں۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان تمام قربانیوں اور وسائل کے بدلے پاکستان کو کیا مل رہا ہے؟

عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ پاکستان کو اس سب کے بدلے پانی ملتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پانی مقبوضہ کشمیر سے نکلتا ہے جبکہ آزاد کشمیر صرف ایک گزرگاہ ہے۔ اس پانی سے آزاد کشمیر بھی مکمل فائدہ اٹھاتا ہے۔ اگر مقبوضہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، اور وہاں کے عوام “کشمیر بنے گا پاکستان” کا نعرہ لگاتے ہیں، تو پھر یہ پانی بھی پاکستان کا قومی اثاثہ ہے۔ ایسے میں کیا پاکستان کو بھی اس پانی کا حساب مانگنے کا حق نہیں؟

اگر “کشمیر بنے گا پاکستان” ایک حقیقت ہے تو پھر پاکستان کی قربانیاں اور حمایت قابلِ فہم ہیں۔ لیکن اگر کچھ عناصر آزاد کشمیر کو الگ ریاست ظاہر کرنے یا بھارت کے ایجنڈے کو تقویت دینے کی کوشش کریں، تو پھر سوالات ضرور جنم لیتے ہیں۔

گزشتہ سال بھی آزاد کشمیر میں بعض شرپسند عناصر نے بھارت کے اشاروں پر حالات خراب کیے۔ بے گناہ سویلین اور فورسز اہلکار شہید ہوئے۔ بعد ازاں ان کے مطالبات سامنے آئے اور ریاستِ پاکستان نے کئی مطالبات تسلیم بھی کیے، مگر کچھ عرصہ خاموشی کے بعد دوبارہ انتشار کی کوششیں شروع ہو گئیں۔

اب بعض عناصر کی جانب سے ایسے مطالبات سامنے آ رہے ہیں کہ آزاد کشمیر سے تمام فورسز نکال دی جائیں اور پاکستان کے فیصلوں کو تسلیم نہ کیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک سچا، محب وطن کشمیری ایسے مطالبات کر سکتا ہے؟ یا پھر یہ کسی بیرونی ایجنڈے کا حصہ ہے؟

ریاستِ پاکستان اور ریاستی اداروں سے اپیل ہے کہ وہ ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کریں جو پاکستان، افواجِ پاکستان اور ریاستی اداروں کی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں۔ دشمن جنگ کے میدان میں پاکستان اور اس کی افواج کو شکست نہیں دے سکا، اس لیے اب قومیت، لسانیت اور انتشار کے ذریعے ملک کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

لیکن دشمن یاد رکھے کہ پاکستان کے انٹیلیجنس ادارے، بہادر سپوت اور پاک فورسز ہر سازش سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ قوم آج بھی اپنی افواج اور ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے، اور ہر اس سازش کو ناکام بنائے گی جو پاکستان کے خلاف تیار کی جائے گی۔

🇵🇰 پاکستان ہمیشہ زندہ باد
⚔️پاک فورسز زندہ باد




















05/06/2026

I got over 200 reactions on my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

پاکستان کا دفاع، جدید میزائل ٹیکنالوجی اور قومی اتحاد کی ضرورتپاک فوج جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس میزائل بنانے والے ممالک...
05/06/2026

پاکستان کا دفاع، جدید میزائل ٹیکنالوجی اور قومی اتحاد کی ضرورت

پاک فوج جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس میزائل بنانے والے ممالک میں شامل ہو چکی ہے، اور اب پاکستان کی سالمیت اور حفاظت مضبوط اور محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ آج کسی مائی کے لال میں یہ جرات نہیں کہ وہ پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھ سکے۔ دشمن اب صرف دہشت گردی تک محدود نہیں رہا بلکہ قومیت، لسانیت، فرقہ واریت اور تعصب کے لبادے میں پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔

دنیا نے پاکستان کی جدید میزائل ٹیکنالوجی کا عملی مظاہرہ معرکۂ حق اور آپریشن بنیان المرصوص کے دوران دیکھ لیا۔ آج پورا ہندوستان پاکستان کے نشانے پر ہے، جبکہ پاکستان کی جانب سے حاصل کی جانے والی نئی میزائل ٹیکنالوجی نے دشمنوں کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی نیندیں بھی حرام کر دی ہیں۔ اب ہندو بنیا پاکستان کے قریب اپنے جنگی جہاز لانے کی جرات نہیں کر سکتا، کیونکہ پاکستان کی دفاعی طاقت میں ہونے والے اضافے نے دشمن کے حوصلے پست کر دیے ہیں۔

ایک جانب پاکستان کے 25 کروڑ عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، تو دوسری طرف اسلامی ممالک بھی پاکستان کے اس دفاعی پروگرام پر فخر محسوس کر رہے ہیں۔ پاکستان کا دفاع اب مکمل طور پر محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفنس فورسز ستارۂ امتیاز، لفٹیننٹ جنرل سید حافظ محمد عاصم منیر صاحب کی شبانہ روز محنت رنگ لا رہی ہے، اور پوری قوم ان کی قیادت پر فخر کر رہی ہے۔

سپہ سالار لفٹیننٹ جنرل سید حافظ عاصم منیر دشمنوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر رہے ہیں۔ ایسا بے باک اور نڈر جرنیل پاکستان کی تاریخ میں کم ہی دیکھنے کو ملا ہے۔ اس سے پہلے شہید لفٹیننٹ جنرل محمد ضیاء الحق اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی، مجاہدِ اسلام غازی جنرل حمید گل نے جو خدمات سرانجام دیں، دنیا انہیں مدتوں یاد رکھے گی۔

ہمیں پاکستان کے ہر سپاہی، ہر جرنیل، ہر شہید اور ہر غازی پر فخر ہے۔ پاک فورسز کا ہر جوان قوم کے ماتھے کا جھومر ہے۔ آج قوم کو آپس میں اتحاد اور اتفاق کا مظاہرہ کرنا ہوگا، کیونکہ اس کے سوا ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں۔

نام نہاد فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان، اغیار کے اشاروں پر جہاد اور آزادی کے نام پر دشمن کا بیانیہ پاکستان پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ان نمک حراموں اور ملک دشمن عناصر کا مقدر ناکامی ہی ہوگا، ان شاء اللہ۔

پاکستان ہمیشہ زندہ باد
پاک فورسز زندہ باد
انٹیلیجنس ادارے زندہ باد
پاک فورسز کے شہداء اور غازیوں کو سلام

Adresse

France � 58M
Paris
75000

Notifications

Soyez le premier à savoir et laissez-nous vous envoyer un courriel lorsque Janisar publie des nouvelles et des promotions. Votre adresse e-mail ne sera pas utilisée à d'autres fins, et vous pouvez vous désabonner à tout moment.

Partager