18/10/2026
بلوچستان میں امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا
تحریر: احسان خان کاکڑ
بلوچستان کا امن صرف ایک صوبے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کے امن، استحکام اور ترقی سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل عنایت حسین کا خضدار، قلات، بسیمہ اور نورگامہ کا دورہ اسی عزم کی تجدید ہے کہ بلوچستان میں امن و استحکام کے لیے ریاست اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی۔
دہشت گردی اور تشدد کے خلاف کارروائیوں کا بنیادی مقصد بلوچستان کے عوام کو ایک محفوظ، پُرامن اور مستحکم ماحول فراہم کرنا ہے، تاکہ عام شہری بلا خوف اپنی روزمرہ زندگی گزار سکیں، کاروبار کر سکیں اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی تعمیر کر سکیں۔
ریاست دشمن عناصر کے خلاف قانون اور آئین کے دائرے میں کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ امن کے لیے کردار ادا کرنے والے ہر فرد اور ادارے کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔
بلوچستان کے عوام نے طویل عرصے سے امن، ترقی، روزگار اور خوشحالی کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اس لیے پائیدار امن کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت، روزگار، بنیادی سہولیات اور معاشی ترقی پر توجہ دینا بھی انتہائی ضروری ہے۔
دہشت گردی کا مقابلہ صرف طاقت سے نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی، عوام کے اعتماد، بہتر حکمرانی اور ترقی کے مواقع کے ذریعے بھی کیا جاتا ہے۔
پاکستان کا واضح مؤقف ہے کہ بلوچستان کے عوام کا امن، جان و مال اور مستقبل اولین ترجیح ہے۔ ایک پُرامن بلوچستان ہی ایک مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد بن سکتا ہے۔
بلوچستان کا امن — پاکستان کا امن۔ 🇵🇰
اللہ تعالیٰ بلوچستان اور پورے پاکستان کو امن و سلامتی عطا فرمائے اور تمام بے گناہ شہریوں، سکیورٹی اہلکاروں اور وطن کی خدمت کرنے والوں کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔
پاکستان زندہ باد🇵🇰
پاک فوج زندہ باد⚔️
#بلوچستان #پاکستان #امن #ترقی #استحکام 🇵🇰DG ISPRMinistry of Information and Broadcasting, PakistanGovernment of PakistanGovt of PunjabMohsin NaqviSindh GovernmentGovernment of Iraq - الحكومة العراقيةKhawaja AsifTariq Aziz King