04/09/2026
🇵🇰 جنرل حمید گل کی 11ویں برسی — ایک سپہ سالار، ایک عہد اور پاکستان کی دفاعی تاریخ کا ایک اہم باب
15 اگست 2026ء کو پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل کی گیارہویں برسی منائی گئی۔ 15 اگست 2015ء کو مری میں برین ہیمرج کے باعث انتقال کرنے والے جنرل حمید گل نے اپنی عسکری زندگی، انٹیلی جنس خدمات، افغانستان سے متعلق پاکستان کی پالیسی اور مسئلۂ کشمیر پر اپنے سخت مؤقف کے باعث ملکی تاریخ میں ایک نمایاں اور متنازع مقام حاصل کیا۔ ان کی شخصیت کے بارے میں آرا مختلف ہوسکتی ہیں، لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ پاکستان کی دفاعی اور جیو اسٹریٹجک تاریخ کی ان شخصیات میں شامل تھے جن کے فیصلوں اور خیالات کے اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے گئے۔ (Dawn)
جنرل حمید گل 20 نومبر 1936ء کو سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ 1956ء میں پاکستان آرمی میں شامل ہوئے اور ایک پیشہ ور فوجی کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ 1965ء کی جنگ میں وہ ٹینک کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے اور بہادری پر ستارۂ جرات سے نوازے گئے۔ بعد ازاں انہوں نے مختلف کمانڈ اور اسٹاف ذمہ داریاں سنبھالیں، 1978ء میں بریگیڈیئر کے عہدے پر ترقی پائی اور 1980ء میں فرسٹ آرمڈ ڈویژن کے کمانڈر مقرر ہوئے۔ (Dawn)
یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان کو ایک انتہائی پیچیدہ علاقائی اور عالمی ماحول کا سامنا تھا۔ ایک طرف بھارت کے ساتھ مسلسل کشیدگی موجود تھی، دوسری جانب افغانستان میں بدلتے ہوئے حالات پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست اہمیت اختیار کر رہے تھے۔ اسی پس منظر میں جنرل حمید گل کی عسکری و انٹیلی جنس ذمہ داریاں سامنے آئیں اور انہوں نے رفتہ رفتہ پاکستان کی دفاعی پالیسی میں ایک اہم کردار حاصل کیا۔
🛡️ 1965ء کی جنگ اور عسکری زندگی
جنرل حمید گل کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کی عسکری زندگی کے ابتدائی دور کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ 1965ء کی جنگ میں ٹینک کمانڈر کی حیثیت سے ان کی شرکت ان کی فوجی پیشہ ورانہ زندگی کا اہم باب سمجھی جاتی ہے۔ انہیں اس جنگ میں بہادری پر ستارۂ جرات دیا گیا، جو ان کے فوجی کیریئر کی ایک نمایاں علامت تھا۔ (Dawn)
ایک سپاہی کی زندگی صرف میدانِ جنگ میں ہتھیار اٹھانے کا نام نہیں ہوتی؛ اس میں نظم و ضبط، فیصلہ سازی، دباؤ میں قیادت، ساتھیوں کی ذمہ داری اور وطن کے دفاع کی قسم شامل ہوتی ہے۔ جنرل حمید گل نے فوج میں کئی مختلف ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے اسی نظام میں اپنی شناخت بنائی اور بالآخر پاکستان کی سب سے اہم انٹیلی جنس ذمہ داری تک پہنچے۔
🕵️ آئی ایس آئی کی قیادت اور افغانستان کا دور
جنرل حمید گل 1987ء سے 1989ء تک انٹر سروسز انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل رہے۔ یہ دور پاکستان کی تاریخ کے مشکل ترین بین الاقوامی ادوار میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ افغانستان میں سوویت جنگ اپنے آخری اور انتہائی حساس مرحلے میں تھی۔ پاکستان اس تنازع میں ایک مرکزی ریاست تھا اور آئی ایس آئی افغان مزاحمت کو دی جانے والی پاکستانی مدد میں اہم کردار ادا کر رہی تھی، جبکہ امریکا اور سعودی عرب بھی اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ تھے۔ (Dawn)
جنرل حمید گل کا نام اسی دور کے ساتھ سب سے زیادہ جوڑا جاتا ہے۔ مختلف ذرائع کے مطابق ان کی قیادت میں آئی ایس آئی نے افغان مزاحمت کے لیے پاکستانی حمایت کو آگے بڑھایا اور 1989ء میں جلال آباد پر حملے کی حکمت عملی بھی ان سے منسوب کی جاتی ہے۔ تاہم یہ کارروائی مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرسکی اور اسے پاکستان کی اس دور کی افغان حکمت عملی کی ناکامیوں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔ (Wikipedia)
یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ “افغان جہاد” اس وقت کی تاریخی اور سیاسی اصطلاح تھی، جسے سوویت قبضے کے خلاف افغان مزاحمت کے تناظر میں استعمال کیا جاتا تھا۔ جنرل حمید گل کے حامی انہیں اس مزاحمت کے لیے پاکستان کے دفاعی مفادات کے مضبوط محافظ کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اسی پالیسی کے طویل المدتی اثرات نے بعد میں خطے میں عسکریت پسندی اور تشدد کے پیچیدہ مسائل کو جنم دینے میں بھی کردار ادا کیا۔ (Brookings)
🇵🇰 پاکستان کے دفاعی مفادات اور سخت قومی مؤقف
جنرل حمید گل کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کا قومی سلامتی کے معاملات پر سخت مؤقف تھا۔ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پاکستان کی دفاعی پالیسی، افغانستان اور کشمیر کے معاملات پر کھل کر گفتگو کرتے رہے۔ ان کے نزدیک پاکستان کو خطے میں اپنی جغرافیائی، عسکری اور سیاسی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ایک واضح اور خودمختار حکمت عملی اپنانا چاہیے تھا۔
وہ امریکا اور بھارت کی پالیسیوں کے سخت ناقد رہے اور کئی مواقع پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کو اپنی قومی سلامتی کے معاملات میں بیرونی دباؤ کے بجائے اپنے مفادات کو ترجیح دینی چاہیے۔ ان کی یہی بے باکی انہیں پاکستانی میڈیا اور عوامی مباحث میں ایک نمایاں شخصیت بناتی رہی۔ (Al Jazeera)
جنرل حمید گل کے حامیوں کے نزدیک یہی خودمختاری اور قومی مفاد پر اصرار ان کی سب سے بڑی خصوصیات میں شامل تھا۔ ان کے نزدیک پاکستان کو کسی عالمی طاقت کا تابع بننے کے بجائے اپنے جغرافیائی اور دفاعی مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرنے چاہئیں۔
🕊️ کشمیر اور خطے کی سیاست
افغان جنگ کے بعد جنرل حمید گل کی توجہ مسئلۂ کشمیر اور جنوبی ایشیا کی سکیورٹی کی طرف بھی رہی۔ مختلف تاریخی ذرائع ان کے نام کو کشمیر میں مسلح مزاحمتی سرگرمیوں کے لیے پاکستانی حمایت کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ اس حوالے سے ان کی میراث بھی متنازع رہی ہے، کیونکہ پاکستانی حلقوں میں بعض لوگ اسے کشمیری حقِ خود ارادیت کی حمایت سمجھتے تھے، جبکہ ناقدین اسے خطے میں عسکریت پسندی کو بڑھانے والی پالیسی قرار دیتے ہیں۔ (Wikipedia)
یہی وجہ ہے کہ جنرل حمید گل کی تاریخ کو ایک ہی رنگ میں دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ ان کے کردار کو سمجھنے کے لیے اس دور کے سرد جنگی ماحول، افغانستان کی جنگ، پاکستان اور بھارت کی کشیدگی اور اس زمانے کی ریاستی سلامتی کی ترجیحات کو بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔
🇵🇰 ایک بہادر سپاہی کی عوامی زندگی
جنرل حمید گل ریٹائرمنٹ کے بعد خاموش زندگی گزارنے والے سابق فوجی افسر نہیں تھے۔ وہ ٹیلی ویژن پروگراموں، اخبارات اور عوامی مباحث میں مسلسل نظر آتے رہے۔ اپنی رائے کھل کر بیان کرنا ان کی شناخت بن گیا تھا۔ وہ پاکستان کے قومی مفادات، دفاعی سلامتی اور علاقائی سیاست کے موضوعات پر مسلسل گفتگو کرتے رہے۔
ان کے اندازِ گفتگو میں ایک خاص اعتماد اور بے باکی نمایاں تھی۔ ان کے چاہنے والوں کے لیے یہی خصوصیت ان کی طاقت تھی: وہ اپنے مؤقف کو چھپاتے نہیں تھے۔
وہ پاکستان کو ایک مضبوط، خودمختار اور دفاعی اعتبار سے باوقار ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کے نزدیک قومی سلامتی کسی وقتی حکومت یا ایک سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری ریاست اور قوم کا معاملہ تھی۔
⚔️ “جہاد” کا تصور اور تاریخی تناظر
جنرل حمید گل کے حوالے سے “جہاد” کا ذکر کرتے ہوئے تاریخی تناظر کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ ان کی شہرت بنیادی طور پر سوویت قبضے کے خلاف افغان مزاحمت کی پاکستانی حمایت سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کے بعض حامی اس جدوجہد کو ایک تاریخی مزاحمت اور پاکستان کے دفاعی مفاد کا حصہ سمجھتے تھے، جبکہ بہت سے مبصرین اور بعد کے واقعات نے اس پالیسی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عسکریت پسندی اور علاقائی تشدد پر سخت سوالات اٹھائے۔ (DW News)
اس لیے جنرل حمید گل کو یاد کرتے ہوئے جذبات اپنی جگہ، لیکن تاریخ کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ان کے کردار کو اس کے تمام پہلوؤں کے ساتھ سمجھا جائے۔ ان کی زندگی میں قومی دفاع، فوجی قیادت، جیوپولیٹیکل حکمت عملی، افغان پالیسی اور کشمیر کے ساتھ ساتھ ایسے فیصلے بھی شامل تھے جن کے نتائج پر آج تک بحث جاری ہے۔
🕯️ 15 اگست 2015ء — ایک باب کا اختتام
15 اگست 2015ء کو جنرل حمید گل کی طبیعت شدید خراب ہوئی اور انہیں مری کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں برین ہیمرج کے باعث ان کا انتقال ہوگیا۔ وہ 78 برس کے تھے۔ ان کی وفات پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری دنیا میں سوگ کی لہر دوڑ گئی اور مختلف حلقوں نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ (Dawn)
آج ان کی گیارہویں برسی پر ان کا نام دوبارہ پاکستان کی دفاعی تاریخ میں زیرِ بحث ہے۔
ایک ایسا شخص جو جوانی میں فوج میں آیا، جنگ دیکھی، ٹینک کمانڈ کیے، اہم عسکری ذمہ داریاں سنبھالیں، آئی ایس آئی کی قیادت کی، افغانستان کے شدید ترین دور میں پاکستان کی پالیسی کے مرکز میں رہا اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد بھی قومی امور پر اپنی آواز بلند کرتا رہا۔
یہ معمولی فوجی سفر نہیں تھا۔
یہ ایک ایسے عہد کا سفر تھا جس میں پاکستان نے جنگ، سرد جنگ، افغانستان، بھارت، کشمیر، عالمی طاقتوں کے دباؤ اور اندرونی سیاسی کشمکش سب کچھ ایک ساتھ دیکھا۔
❤️ جنرل حمید گل — ایک یاد، ایک ورثہ
جنرل حمید گل کے بارے میں تاریخ کے فیصلے مختلف ہوسکتے ہیں۔
کوئی انہیں پاکستان کے دفاعی مفادات کا بے باک محافظ کہے گا۔
کوئی انہیں افغان پالیسی کا اہم معمار سمجھے گا۔
کوئی ان کے کشمیر کے حوالے سے کردار کو نمایاں کرے گا۔
اور کوئی ان کی بعض پالیسیوں کے طویل مدتی نتائج پر سوال اٹھائے گا۔
لیکن ان تمام مختلف آرا کے درمیان ایک حقیقت واضح ہے:
جنرل حمید گل پاکستان کی تاریخ کی ان شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے عہد پر گہرا اثر چھوڑا۔
ان کی زندگی ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ ایک ملک کی سلامتی صرف فوجی طاقت سے نہیں بلکہ مضبوط اداروں، دور اندیش پالیسی، قومی اتحاد، معاشی خودمختاری اور ذمہ دار قیادت سے قائم ہوتی ہے۔
ہمیں اپنے شہداء کو یاد رکھنا چاہیے، اپنے سپاہیوں کی قربانیوں کو سلام پیش کرنا چاہیے، اور تاریخ کے ان کرداروں سے سیکھنا چاہیے جنہوں نے پاکستان کی سلامتی کے لیے اپنی زندگی کا بڑا حصہ وقف کیا۔
جنرل حمید گل کی یاد ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ پاکستان کے دفاع، خودمختاری اور قومی مفاد کے بارے میں سنجیدگی کبھی کم نہیں ہونی چاہیے۔
آج ان کی برسی کے موقع پر ہم ان کی عسکری خدمات، ان کی بہادری، ان کی پیشہ ورانہ زندگی اور پاکستان کے قومی معاملات پر ان کے واضح مؤقف کو یاد کرتے ہیں، جبکہ ان کے متنازع فیصلوں اور ان کی پالیسیوں کے نتائج کا تاریخی مطالعہ بھی اسی دیانت داری سے ضروری سمجھتے ہیں۔
🇵🇰 خراجِ عقیدت
اللہ تعالیٰ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبر عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ پاکستان کے تمام شہداء اور ان تمام محافظوں کو اپنی رحمت میں جگہ دے جنہوں نے وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانیں پیش کیں۔
پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور عزت ہمیشہ قائم رہے۔
🇵🇰 پاکستان زندہ باد
🫡 پاکستان کے تمام محافظوں اور شہداء کو سلام
💚 وطنِ عزیز ہمیشہ مضبوط، پُرامن اور سربلند رہے
15 اگست — جنرل حمید گل کی یاد میں۔
(Associated Press of Pakistan)