Voice of kohiwal

Voice of kohiwal درہ آدم خیل کوہیوال

04/08/2023
03/03/2023

ماشاءالله نورو ملگرو سرہ شیر کڑی دہ ثواب پہ نیت

Beautiful view of Dara Adam khell Kohiwal village
03/03/2023

Beautiful view of Dara Adam khell Kohiwal village

28/02/2023

کافی دیر سے ہلکی ہلکی بارش جاری... موسم انتہائی خوشگوار۔

لقمان ، طیب اور اس کی فیملی کو شادی کی خوشیاں بہت بہت مبارک 🥀♥️
27/02/2023

لقمان ، طیب اور اس کی فیملی کو شادی کی خوشیاں بہت بہت مبارک 🥀♥️

10/02/2023

Morning view of village

إنّا لله وإنّا إليهِ راجعون. درہ آدم خیل گاوں کوہیوال ڈاکٹر نوردست کا والد صاحب حاجی شیر مست بقضائے الہی وفات پاچکے ہیںن...
30/01/2023

إنّا لله وإنّا إليهِ راجعون.
درہ آدم خیل گاوں کوہیوال ڈاکٹر نوردست کا والد صاحب حاجی شیر مست بقضائے الہی وفات پاچکے ہیں
نماز جنازہ 11:30بجے کوہیوال قبرستان میں ادا کی جائیگی. اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین

😔😢😭کراچی سے ڈاکٹر وسیم آفندی صاحب بتاتے ہیں کہ چند دن پہلے میرے پاس ایک نوجوان کو لایا گیا تھا جسے سر پر گولی لگی تھی خو...
25/01/2023

😔😢😭کراچی سے ڈاکٹر وسیم آفندی صاحب بتاتے ہیں کہ چند دن پہلے میرے پاس ایک نوجوان کو لایا گیا تھا جسے سر پر گولی لگی تھی خون بہت زیادہ بہہ چکا تھا مگر نوجوان کے حواس ابھی قائم تھے۔
میری یونیفارم دیکھ کر اس نے مجھ سے التجا کی کہ ڈاکٹر صاحب میری موت کی خبر میرے گھر والوں کو نہ دیجئے گا اور ساتھ ہی میرے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے تھے۔ مجھے حیرت تھی کہ میں اسے بچانے کے لیے پر امید تھا اور وہ شخص یقینی موت دیکھ کر بات کر رہا تھا۔ خیر میں نے اسے تسلی دی اور آپریشن تھیٹر پہنچے جہاں اسے بیہوش کرنے کے لئے انجیکشن دیا گیا اور ساتھ ہی میں اس کی روداد بھی سنتا رہا۔ کہانی سناتے سناتے لڑکا بیہوش ہو گیا اور اسی بیہوشی کے دوران اس کی موت ہو گئی مگر اس کے موت مجھے جھنجوڑ کر رکھ گئی شاید پڑھنے والوں کو بھی جھنجوڑ دے اس لئیے واقعہ بتا رہا ہوں کہ جب لڑکے نے التجا کی کہ میری موت کی خبر میرے گھر والوں کو نہ دیجئے گا بلکہ لاش ایدھی سینٹر یا چھیپا کے حوالے کر دیجئیے گا تو میں نے اس سے پوچھا ایسی کیا وجہ ہے۔؟

اس نے بتایا کہ میرے والد صاحب فوت ہو چکے ہیں میری تین چھوٹی بہنیں ہیں جنہوں نے پچھلے دو دن سے کچھ نہیں کھایا۔ مجھے آج دو دن بعد مزدوری ملی اور میں دیہاڑی لگا کر آ رہا تھا کہ راستے میں ڈاکوؤں نے مجھے لوٹنے کی کوشش کی۔
میرے پاس کل دولت وہ آج کی دیہاڑی لگ جانے والی مزدوری اور یہ ایک پرانا سا موبائل تھا۔
اگر صرف میری بات ہوتی تو میں شاید یہ تیرہ سو روپے ڈاکوؤں کو دے دیتا مگر مجھے پتہ تھا گھر میں دو دن سے بھوکی بیٹھی میری بہنیں روٹی کے انتظار میں میری راہ دیکھ رہی ہیں یہ پیسے ڈاکو لے گئیے تو میری بہنیں کیا کھائیں گی۔؟
جب کہ یہ لوگ خوف خدا سے عاری ہیں یہ تو کسی اور کو بھی لوٹ لیں گے لہذا میں نے مزاحمت شروع کر دی اور ان ظالموں نے محض اس تیرہ سو روپے کی خاطر مجھے گولی مار دی۔
ڈاکٹر صاحب مجھے پتہ ہے میں مر جاؤں گا مگر مجھے فکر ہے کہ میرے گھر والے جن کے پاس روٹی تک کے پیسے نہیں ہیں وہ میرے لئیے کفن کے پیسے کہاں سے لائیں گے۔؟
قبر کے پیسے کہاں سے لائیں گے۔؟ لہذا میرے گھر والوں کو میری موت کی خبر نہ دی جائے ساتھ اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر پیسے اور موبائل میرے ہاتھ پر رکھتے ہوئے گھر کا ایڈریس بتایا اور کہا یہ پیسے گھر پہنچا دینا اور یہ موبائل ںیچ کر میری چھوٹی بہن کو نئی جوتی خرید دینا۔
بہت دنوں سے ضد کر رہی تھی اگر میری والدہ کا حوصلہ بلند ہوا تو انہیں تسلی دیتے ہوئے میری موت کی خبر دے دینا ورنہ کہہ دینا کہ آپ کا بیٹا کسی دوسرے شہر مزدوری کے لئیے چلا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ نوجوان حالت غنودگی میں چلا گیا اور وہیں سے موت کی آغوش میں جا پہنچا۔

مگر میں تب سے سوچ رہا کہ اب تک ہم پر پتھروں کی بارش کیوں نہیں ہوئی۔؟
سیلاب ہم کو کیوں بہا نہیں لے گیا۔؟
سرکش جنّات کی طرح ہمارا قلع قمع کرنے کے لئے فرشتے کیوں نہیں اتر رہے۔؟
ہم لوگ اب تک قہر الٰہی سے محفوظ کیوں ہیں۔؟
جبکہ مسلمانوں والے اعمال ہماری اکثریت کب

25/01/2023

Address

Sharjah
00000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Voice of kohiwal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Voice of kohiwal:

Share