Muhammad Fahad Haris

Muhammad Fahad Haris Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Muhammad Fahad Haris, Photography Videography, Dubai.

کل رات سونے لیٹا تو آئی پیڈ پر ڈاکٹر محمود احمد غازی کا  مضمون "مولانا مودودیؒ اور امام ابن تیمیہؒ" پڑھنا شروع کردیا۔میر...
07/12/2024

کل رات سونے لیٹا تو آئی پیڈ پر ڈاکٹر محمود احمد غازی کا مضمون "مولانا مودودیؒ اور امام ابن تیمیہؒ" پڑھنا شروع کردیا۔

میرے توقعات کے عین مطابق وہی ہوا جس کا میں نے فیس بک پر اس مضمون کے چرچا ہونے کے بعد سوچا تھا یعنی رائی کا پہاڑ اور پر کا کوّا بنایا گیا تھا۔

ڈاکٹر محمود احمد غازی کے پورے مضمون میں کوئی ایسی بات موجود ہی نہیں تھی جس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکے کہ ڈاکٹر محمود احمد غازی نے سید مودودی کو ابن تیمیہ سے متفوق قرار دیا ہے۔

ترجمان القرآن مئی ۲۰۰۴ء میں ڈاکٹر غازی کا یہ مضمون فقط ایک تقابل تھا سید مودودی اور علامہ ابن تیمیہ کے کام کے سلسلے میں اور مضمون کی ہر سطر چیخ چیخ کر یہی بتارہی ہے کہ امام مودودی اور امام ابن تیمیہ میں یہ تقابل بطور مقابلہ بازی نہیں بلکہ بصورت مماثلت کیا گیا تھا۔

یعنی دعوتِ دین کے سلسلے میں علامہ ابن تیمیہ اور سید مودودی کے حالات اور دینی ادب میں کیا کیا مماثلتیں موجود تھیں؟

باقی مضمون کا طرز تحریر و استدلال مترشح کردیتا ہے کہ جس جس جگہ ڈاکٹر محمود احمد غازی نے سید مودودی کے حالات کو علامہ ابن تیمیہ کے حالات پر فوقیت دی ہے تو وہاں ذاتی شخصیت نہیں بلکہ حالات کے تحت بات کی گئی ہے۔

مثال کے طور پر سید مودودی کو اردو کے دینی ادب میں ایک بلند مقام پر رکھنے کے بعد ڈاکٹر محمود احمد غازی نے یہ بتایا ہے کہ جو مقام اردو کے دینی ادب میں بطور ادیب سید مودودی کو حاصل تھا وہ علامہ ابن تیمیہ کو عربی کے دینی ادب میں بطور ادیب حاصل نہ ہوسکا تھا اور آگے اس کی توضیح بھی لکھ دی ہے کہ

"شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ عربی زبان کی عمر اردو سے کم از کم آٹھ گنا زیادہ ہے اور عربی زبان میں اعلیٰ ترین دینی ادب تخلیق کرنے والوں کی تعداد شاید اردو زبان کے مقابلے میں کئی ہزار گنا ہو۔ ان حالات میں شاید ابن تیمیہ اور مولانا مودودی کا یہ تقابل مبنی بر انصاف نہ ہو۔"

رہی بات علامہ ابن تیمیہ کے افکار کی ۶۰۰ سال بعد ایک نہایت بڑے پیمانے پر حکومتی سرپرستی میں ترویج و اشاعت اور سید مودودی کی زندگی میں ہی ان کے افکار کے ماننے والوں کا کثیر تعداد میں موجود ہونا تو یقین جانئے کہ جس پراپیگنڈائز طور پر اس بات کو سوشل میڈیا پر اچھالا گیا ہے، مضمون کے آخر سے قبل کے دو پیراگراف جن میں اس بات کا ذکر موجود ہے، ان کو پورے مضمون کے ساتھ پڑھ لینے سے قاری پر مترشح ہوجاتا ہے کہ ڈاکٹر غازی مرحوم کی بات کو کس مذموم طریقے سے اس کے منشا سے ہٹا کر پیش کرنے کی جسارت کی گئی ہے۔

اس سلسلے میں غلط بیانی کس طور سے کی گئی ہے اس کا فیصلہ قارئین پر چھوڑنے کے لیے ۹ صفحات پر مشتمل اس مضمون کا ڈاونلوڈ لنک پہلے کمنٹ میں دیا جارہا ہے۔ ہر صاحبِ انصاف یہ مضمون پڑھے اور خود جان لے کہ ہمارے ہاں بلا امتیازِ مسلک دین کے داعی کس طور سے شخصیات کے لیے اپنی حساسیت اور مبنی بر غلو عقیدت کے ضمن میں بلا خوفِ خدا علمی خیانتوں کی جسارتیں کرتے پائے جاتے ہیں۔

اس مضمون کو لیکر دونوں اطراف سے جو بھی واویلا مچایا گیا ہے وہ کچھ نہیں فقط اپنی اپنی پسندیدہ شخصیت کے لیے بے جا حساسیت اور مبنی بر غلو عقیدت ہے۔

نوٹ: میرے لیے اس امر میں کوئی دلچسپی نہیں کہ سید مودودی کا کام زیادہ وقیع ہے یا پھر علامہ ابن تیمیہ کا۔ شخصیات پر وہ لڑیں جن کا دین نظریات نہیں شخصیات کا مرہونِ منت ہو۔ اس تحریر کا مقصد فقط ایک وفات شدہ بزرگ عالمِ دین کی طرف غلط بات کی نسبت کو رفع کرنا تھا۔ اگر ڈاکٹر محمود احمد غازی حقیقتاً بھی سید مودودی کو علامہ ابن تیمیہ سے متفوق بتلا جاتے تو یہ ان کی ذاتی رائے سمجھ کر میرے دل میں ان کے علمی کاموں کے سبب ان کا احترام اسی قدر رہتا جتنا آج ہے۔

مضمون کو پہلے کمنٹ میں دئیے گئے لنک سے ڈاؤنلوڈ کرکے مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ یقیناً جو شخص بے جا عقیدت اور شخصیات کے لیے مذموم حساسیت کا شکار نہ ہوگا، اس کو اس مضمون میں وہ کچھ نظر نہ آئے گا، جس کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔

افسوس تو اس بات کا ہے کہ اہلحدیثوں کے لیے علامہ ابن تیمیہ اور جماعتِ اسلامی والوں کے لیے سید مودودی ریڈ لائن بن چکے ہیں اور ان دونوں گروہوں کے متشدد حضرات اس بابت حساسیت کے زیر اثر اپنے مزاج کے برخلاف کچھ بھی سن کر برافروختہ ہوجاتے ہیں۔

ویسے مزے کی بات بتاوں، یہ سب محض مبنی بر غلو عقیدت مندی اعر شخصیت پرستی ہے، جس کا عدل و انصاف اور اسلام سے کچھ لینا دینا نہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو یہ حساسیت اس وقت در کیوں نہیں آتی جب انہیں دو گروہوں کے اکابرین ایک صحابی رسولﷺ جن کو قرآن نے راشد قرار دیا ہے، ملوکیت کا پروردہ اور ایک تابعی کو اس کے مقابلے میں خلیفہ راشد قرار دیتے ہیں جبکہ بقول ابن مبارک اس تابعی کا کُلؔی رتبہ اتنا بھی نہیں جتنا کہ اُس صحابی کے اس گھوڑے کی ناک میں پڑنے والی دھول کا تھا جو نبیﷺ کی معیت میں کیے گئے غزوے کے دوران اس صحابی کے گھوڑے کے نتھنوں میں پڑی تھی۔

تحریر: محمد فھد حارث

۹۰ء کی دہائی کے آخر سے جہاں  جی ایس ایم (GSM) یعنی ٹیلی کمیونیکیشن کی دنیا میں انقلاب برپا ہوا وہیں  انٹرنیٹ نے بھی رفتا...
31/10/2024

۹۰ء کی دہائی کے آخر سے جہاں جی ایس ایم (GSM) یعنی ٹیلی کمیونیکیشن کی دنیا میں انقلاب برپا ہوا وہیں انٹرنیٹ نے بھی رفتار پکڑ لی۔ البتہ ان دونوں مجال یعنی fields نے اس وقت پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جب انٹرنیٹ ٹرانسمیشن نے کے بی (KB) کی دنیا سے نکل کر ایم بی (MB) کی دنیا میں قدم رکھا اور اسمارٹ فون کے ذریعے موبائل ٹیکنالوجی کی فیلڈ میں انقلاب برپا ہوگیا ۔

یہ دونوں ٹیکنولوجیز عام ہوئیں تو ارزاں بھی ہوگئیں اور یوں انہوں نے تعیشات سے ضروریات تک کا سفر بڑی تیزی سے طے کرلیا۔ پھر ہر شخص کے پاس اسمارٹ فون ضروری ہوگیا اور یوں سوشل میڈیا متعارف ہوا۔

سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم جس نے نہ صرف دنیا کے کونے کونے میں بسنے والے لوگوں کو ایک دوسرے سے متعارف کروایا بلکہ انسان کی نجی زندگی میں ایک طوفان بھی برپا کردیا۔ اس سوشل میڈیا نے انسان کی زندگی میں ایک ہیجان ایک خلجان کو جنم دیدیا ہے۔

جن لوگوں کا انسان کی زندگی میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا، جن کے ہونے یا نہ ہونے سے انسان کو کوئی فرق نہیں پڑتا، ان کے لیے انسان اپنی زندگی کی ترجیحات متعین کرنا شروع کردیتا ہے، ان غیر ضروری و غیر متعلقہ انسانوں کے طور و اطوار انسان کی زندگی پر اثر انداز ہونے لگتے ہیں۔ لوگوں نے اپنی حقیقی زندگی پس پشت ڈال کر سوشل میڈیا کے لیے ایک جعلی زندگی گزارنا شروع کردی ہے۔ آج ہمارا نوجوان طبقہ دوہری زندگی گزارتا ہے ۔ ایک حقیقی اور ایک سوشل میڈیائی زندگی۔ جس میں بہرطور اس کی سوشل میڈیائی زندگی کو ترجیح حاصل ہوتی ہے۔ وہ ایسے لوگوں کو متاثر کرنے کو اپنے شب و روز پلان کرتا ہے جن کو شاید جاننا تو دور کی بات، اس نے کبھی بائی فیس (By Face) دیکھا بھی نہ ہو۔

سوشل میڈیا کا یہ پریشر نوجوان طبقہ پر اس قدر زیادہ ہوچکا ہے کہ ان کی پوری کی پوری زندگی یہی سوشل میڈیا ٹرینڈ (Social Media Trend) ڈکٹیٹ (dictate) کررہے ہوتے ہیں۔ لوگ ٹک ٹاک پر اپنی ویڈیوز پر بنا کر لگاتے ہیں اور پھر جب کمنٹس سیکشن میں ان کو تضحیک و تحقیر آمیز کمنٹس کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو پھر لوگ اپنی ڈپریسڈ (Depressed) ویڈیوز لگاتے ہیں جن میں وہ خود کو ذہنی دباؤ میں رکھتے ہوئے ایسے لوگوں کے ناروا جملوں پر آنسو بہارہے ہوتے ہیں جن کو وہ جانتے تک نہیں، جن کی بابت ان کو یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کہاں رہتے ہیں، کون ہیں، کیا کرتے ہیں؟

کبھی کبھی مجھے سوشل میڈیا ایک ایسا آلہ لگتا ہے جو بتدریج انسانیت کو ہیجان انگیزیت اور ذہنی عدم سکون کی طرف ہنکا لے جارہا ہے۔

نیویارک پوسٹ (New York Post) ، این بی سی نیوز (NBC News) ، سی بی ایس نیوز (CBS News) وغیرہ میں آئے دن خبریں اور آرٹیکل شائع ہوتے ہیں جو اس حقیقت کا انکشاف کررہے ہوتے ہیں کہ کس طرح سوشل میڈیا کی وجہ سے نوجوانوں یعنی ٹین ایجرز میں خود کشی کا تناسب بڑھ رہا ہے۔

جون ۲۰۱۷ء میں پینسلوینیا امریکہ میں ایک ۱۵ سال کی بچی سیڈی اسمتھ نے اس لیے خود کشی کرلی کیونکہ اس کے دوستوں نے انسٹاگرام، فیس بک اور کک پر اس کے لال بالوں اور فربہ جسم کا مذاق بنا کر ٹرول کیا یہاں تک کہ دو ہفتے بعد اس بچی نے سوشل میڈیا ٹرول کے دباؤ میں آکر اپنی جان لےلی۔

سی بی ایس نیوز کی یکم نومبر ۲۰۱۹ء کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ٹین ایجرز یعنی نوجوانوں کی موت کی دوسری سب سے بڑی وجہ خود کشی ہے اور نوجوانوں میں خود کشی کی سب سے بڑی وجہ سوشل میڈیا پریشر ہے جہاں کئی ٹین ایجرز سوشل میڈیا پر غیر متعلقہ لوگوں کے ہاتھوں ٹرولنگ کے سبب ڈپریس ہو کر اپنی جان اپنے ہاتھوں سے لے لیتے ہیں۔

نیویورک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پریشر کے تحت خود کشی کرنے کی پہلی وجہ سائبر بُلئینگ (Cyber Bullying) اور دوسری وجہ ایک پرفیکٹ لائف کی چاہ ہوتی ہے۔ فیس بک ہو یا انسٹا گرام ہر انسان سوشل میڈیا پر اپنی لائف کو ایک دم پرفیکٹ دکھانا چاہتا ہے، چاہے پس منظر میں اس کی زندگی کتنی ہی اجیرن کیوں نہ ہو۔ ایسے بہت سے لوگ جن کی خود کی زندگی کسی داخلی مسائل کا شکار ہوتی ہے، وہ دوسروں کی بظاہر پرفیکٹ اور خوش باش نظر آنے والی زندگی سے متاثر ہوکر احساسِ کمتری کا شکار ہونے لگتے ہیں اور یوں آہستہ آہستہ وہ ڈپریشن کے دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں۔

مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ عام آدمی سوشل میڈیا پر کتنا وقت گزارتا ہے۔ ہم سب کے پاس اسمارٹ فون ہیں اور ہم یہاں فیس بک کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور ہم دیکھ سکتے ہیں کہ یہ فیس بک ہمارا کتنا کارآمد وقت کھا جاتا ہے۔ اس وقت میں ہم ایسے لوگوں کو صفائیاں دینے، ان سے بحث و مباحثہ کرنے، ان کے پیچھے خون جلانے میں اپنی توانائیاں صرف کرتے ہیں جن کا ہماری زندگی میں ہونا یا نہ ہونا برابر ہوتا ہے۔ جن کے نام کے علاوہ ہمیں ان کے بارے میں اور کچھ معلوم نہیں ہوتا۔ لیکن پھر بھی ایسے لوگوں کے پیچھے ہم اپنی زندگی کا نہایت قیمتی وقت برباد کررہے ہوتے ہیں۔ اور نہ صرف اپنا وقت برباد کررہے ہوتے ہیں بلکہ ان لوگوں کو بھی نظر انداز کرجاتے ہیں جو ہمارے ساتھ رہتے ہیں اور جن کا ہم پر سب سے زیادہ حق ہوتا ہے۔

اکثر سوشل میڈیا پر آپ کوئی ایسی پوسٹ یا واہیات چیز دیکھ لیتے ہیں جو آپ کا پارہ ہائی کردیتی ہے۔ آپ کو سخت غصہ دلادیتی ہے اور پھر آپ کا موڈ آف ہوجاتا ہے اور آپ کے اس آف موڈ کو آپ کی فیملی کو جھیلنا پڑتا ہے۔

انسٹاگرام پر محض اپنے فالوورز بڑھانے کو لوگ نئے نئے کپڑے خریدتے ہیں، تصویریں کھنچواتے ہیں، ایک ایسی زندگی گزارنے کا ڈھونگ کرتے ہیں، جو وہ حقیقت میں کبھی جیتے ہی نہیں۔ اور ان کو اپنے فالوورز کو خوش رکھنے کو یہ سب مسلسل کرتے رہنا پڑتا ہے تاکہ ان کو اپنے ان دیکھے فالوورز کے لائیکس ملتے رہیں۔ یہاں تک کہ اہل علم طبقہ تک فیس بک پر معتدل مزاج بنے رہنے کو اپنے نظریات پر سمجھوتہ کرنے کو تیار ہوجاتا ہے اور مداہنت کی آخری حدوں کو چھو لیتا ہے تاکہ مبادہ کہیں اس کے فالوورز کی تعداد کم نہ ہوجائے یا پھر وہ اس سے متنفر نہ ہوجائیں۔

۱۹۹۴ء میں کینیڈا میں جنم لینے والی فحش فلموں کی اداکارہ آگسٹ ایمیز محض ۲۳ سال کی عمر میں ۵ دسمبر ۲۰۱۷ء کو صرف اس لیے خود کشی کرلیتی ہے کہ وہ ایک ایسے اداکار کے ساتھ فحش فلم میں کام کرنے سے انکار کردیتی ہے جو اس سے قبل ہم جنس پرست یعنی گے پورن موویز (Gay P**n Movies) میں کام کرتا رہا تھا۔ آگسٹ ایمیز کو اس انکار کے سبب ٹوئیٹر پر کافی تنقید سننی پڑتی ہے اور جب وہ اپنی صفائی میں یہ ٹویٹ کرتی ہے کہ اس نے یہ انکار اس لیے کیا کیونکہ گے فحش فلموں میں کام کرنے والے لوگ عموماً مختلف ایس ٹی ڈیز (STDs) یعنی جنسی تعلقات کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں، پس وہ نہیں چاہتی کہ اس کو ایسی کوئی بیماری لگے تو اس کے ٹوئیٹر پر ہم جنس پرستوں کی تنظیم کے ممبران نے اس کو ہم جنس پرست دشمن قرار دے کر ہفتوں تک اس کے ٹوئیٹر اکاونٹ پر وہ طوفانِ بدتمیزی برپا کیا کہ آگسٹ یہ دباؤ برداشت نہ کرسکی اور ۵ دسمبر ۲۰۱۷ ء کو اپنے ہاتھوں سے اپنے فلیٹ میں اپنی جان لے لی۔

پھر بات صرف خود کشی تک محدود نہیں رہتی بلکہ اسی سوشل میڈیا پریشر کے سبب لوگ اپنے جسم و جان کو اذیت میں ڈال لیتے ہیں۔امریکہ کی فیشل پلاسٹک اور ری کنسٹرکٹیو سرجری اکیڈمی (Facial Plastic and Reconstructive Surgery Academy) یعنی اے اے ایف پی آر ایس (AAFPRS) کے تحت امریکہ میں اس وقت سب سے زیادہ پلاسٹک سرجریز ۳۰سال کے اندر کا جوان و نوجوان طبقہ کرواتا ہے جس کا بنیادی مقصد سوشل میڈیا پر خوب سے خوب دِکھنا ہوتا ہے۔

پچھلے دنوں مغربی چینل پر پلاسٹک سرجری کے حوالے سے آنے والے ایک پروگرام بوچڈ (Botched) میں ایک سیاہ فام امریکی لڑکی کو دکھایا گیا جس نے اپنے کولہوں میں یکے بعد دیگرے چھے دفعہ بغیر کسی ڈاکٹر سے مشورہ کیے سیلیکون انجیکشن (Silicone Injection) لگائے تاکہ انسٹا گرام پر اس کی تصاویر خوبصورت آسکیں۔ اس لڑکی نے ایسا اس لیے کیا کہ جب اس نے پہلی دفعہ انسٹاگرام پر اپنی تصاویر ڈالیں تو کسی انجان لڑکے نے کمنٹ کرکے اس کے کولہوں کا مذاق اڑایا کہ تمہارے کولہے تو نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جس پر اس لڑکی نے محض اس ایک کمنٹ کے جواب میں وقفہ وقفہ سے اپنے کولہوں میں سیلیکون بھری۔ بعد میں جاکر یہ سیلیکون اس کے ٹشوز کے ساتھ گھُت گئی اور اس کے کولہوں کا حجم اس قدر بڑھ گیا کہ اس کے لیے اٹھنا بیٹھنا چلنا اور باتھ روم جانا مشکل ہوگیا۔ اس مشکل سے پریشان ہوکر جب اس نے پلاسٹک سرجنز سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس اس کے کولہوں سے سیلیکون نکالنے کا کوئی طریقہ موجود نہیں سوائے اس کے کہ وہ اس کے کولہوں کو کاٹ دیں۔

الغرض صرف انسٹا گرام کے ایک فضول سے کمنٹ نے ایک لڑکی کی پوری زندگی کو تماشہ بنا کر رکھ دیا۔ یہ ہے سوشل میڈیا کا وہ پریشر جس سے صرف مغرب ہی نہیں بلکہ ہماری نوجوان نسل بھی گزر رہی ہے۔ یہاں تک کہ ہم بھی گزر رہے ہیں۔

کبھی کبھار میں خود فیس بک پر کوئی ایسی تحریر پڑھ لیتا ہوں یا کسی شخص کی خود پر ہونے والی ناروا تنقید دیکھ لیتا ہوں تو تھوڑی دیر کے لیے مزاج بہت خراب ہوجاتا ہے۔ شروع شروع میں اس چیز نے مجھے کافی نقصان پہنچایا لیکن بعد میں میں نے سوچا کہ بھلا جو شخص مجھ پر تنقید کررہا ہے یا کسی نہایت غلط بات کی تشہیر کررہا ہے تو اس سے مجھے کیا فرق پڑتا ہے۔ نہ میرا اس شخص سے کوئی لینا دینا ہے اور نہ میرے مزاج خراب کرنے سے غلط نظریات معاشرے سے محو ہوجائیں گے۔ یہ ساری باتیں، بحثیں اور لوگ اپنی جگہ موجود رہیں گے چاہے میں سوشل میڈیا پر رہوں یا نہیں۔ اس کے بعد فیس بک پر فضول چیزیں پڑھ کر اب مزاج کم ہی خراب ہوتا ہے البتہ فکر ضرور لاحق ہوجاتی ہے۔

قصہ مختصر سوشل میڈیا شاید ضرور ایک نعمت ہو لیکن مجھے یہ نعمت نعمت سے زیادہ زحمت لگتی ہے کیونکہ اس نے انسانوں کی زندگی پر غیر ضروری دباؤ ڈال رکھا ہے۔ اس نے انسانوں کو ایسے لوگوں کی وجہ سے پریشان ہونے پر مجبور کردیا ہے، ان کے اعصاب پر حاوی کردیا ہے، جن کا لوگوں کی زندگی سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہوتا۔ سوشل میڈیا نے اسمارٹ فون کے ساتھ مل کر انسان کو ہمہ وقت مشغول کردیا ہے۔ آج اگر کوئی انسان فارغ بیٹھا ہو تو یہ ناممکن ہے کہ وہ اپنا فیس بک ، انسٹا گرام یا ٹوئیٹر کھول کر نہ بیٹھا ہو۔ عبادات سے لیکر ذکر و اذکار اور مطالعہ تک ہر شے کو سوشل میڈیا نے متاثر کیا ہے۔ اور سب سے زیادہ متاثر اس نے انسانی مزاج و طبیعت کو کیا جو کہ لامحالہ انسان کی زندگی پر منفی اثرات کی صورت میں ظاہر ہوتا نظر آتا ہے۔اسی سوشل میڈیا نے انسان کو بے حس بنا دیا ہے۔ اب مرتے ہوئے انسان کو مدد فراہم کرنے سے زیادہ اس کی ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے میں مزا آتا ہے۔

تحریر: محمد فھد حارث

باغِ فدک سے متعلق اصل صورتحال کیا تھی؟کیا سیدہ فاطمہؓ اس سلسلے میں سیدنا ابو بکر صدیقؓ سے واقعی اس قدر ناراض تھیں کہ  فد...
30/10/2024

باغِ فدک سے متعلق اصل صورتحال کیا تھی؟

کیا سیدہ فاطمہؓ اس سلسلے میں سیدنا ابو بکر صدیقؓ سے واقعی اس قدر ناراض تھیں کہ فدک کے معاملے پر انکار کے بعد آپ نے ابو بکر سے قطع کلامی کر لی تھی؟

کیا فدک کے معاملے میں ہم عصر امت سیدہ فاطمہ کے ساتھ اور ابو بکر کے خلاف تھی؟

سیدنا عمر اور خود سیدنا علی نے فدک کے معاملے میں اپنے عہدِ خلافت میں کیا طرز عمل اپنایا؟

فدک، خیبر اور مدینہ کی بعض جاگیروں کو لیکر سیدنا علی و عباس میں کیا جھگڑا تھا اور وہ کیسے فیصل کروایا گیا؟

اپنی حیات میں نبیﷺ جن جاگیروں اور اموال سے اپنے اہل بیت یعنی ازواج مطہرات اور گھر والوں کا نان نفقہ چلاتے تھے، ان کی شرعی حیثیت کیا تھی؟ کیا وہ نبیﷺ کی ذاتی جائیدادیں تھیں یا منصب نبوت کے لیے خاص تھیں؟

ان تمام سوالوں کے جوابات پر ہم نے ۱۷ منٹ کی ایک ویڈیو ریکارڈ کروا کر اپنے یوٹیوب چینل

Mohammad Fahad Haris

پر اپلوڈ کردی ہے۔

ناظرین یہ ویڈیو ہمارے چینل پر جاکر دیکھ سکتے ہیں۔

تحریر: محمد فھد حارث

26/10/2024

۲۰۱۶ء میں مجھے ملائیشیا کی سیاحت کا موقع ملا تو یہ دیکھ کر سخت حیرانی ہوئی کہ ملائشیا میں حکومت نے سانپوں کی افزائشِ نسل کے لیے باقاعدہ بریڈنگ فارمز بنائے ہوئے ہیں جہاں چوہے اور فصلوں کے لیے نقصان دہ کیڑے مکوڑوں کو کھانے والے کم زہریلے سانپوں کی بریڈنگ کی جاتی ہے اور پھر انہیں کھیتوں میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس اقدام کے سبب ملائشیا میں فصلوں کو چوہوں اور دوسرے مہلک جانداروں سے نہایت کم نقصان پہنچتا ہے اور کسانوں کی محنت بھرپور طریقے سے وصول ہوجاتی ہے۔

پچھلے دنوں اپنے گھر کے پاس والے پارک میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ہورٹی کلچر کی ٹیم کے افراد ایک بڑی بوری میں سے کیچوے نکال نکال کر فرٹیلائزر کی طرح پارک کی گھاسوں اور کیاری والے ایرئیے میں چھوڑ رہے ہیں۔ پوچھنے پر بتایا گیا کہ چونکہ متحدہ عرب امارات میں قدرتی طور پر پودے وغیرہ اگانے کے لیے زرخیز مٹی سرے سے موجود ہی نہیں بلکہ محض رمل یعنی ریت ہی دستیاب ہے جس میں ہر ہفتے باقاعدگی سے فرٹیلائزر ڈالا جاتا ہے تاکہ گھاس اور پودے و درخت وغیرہ کو پنپنے کے لیے ریت سے کچھ تو غذائیت مل سکے۔ تاہم یہ طریقہ مسلسل ہیومن اِن پُٹ کا متقاضی ہے جس میں لیبر، پیسہ اور وقت مسلسل لگائے رکھنا پڑتا ہے، ایسے میں ایک پارک یا زمین کے قطعہ کو ہرا بھرا رکھنے کے لیے کافی خرچہ ہوتا ہے جبکہ پانی کی دستیابی کو بھی یقینی بنانا پڑتا ہے جس کے لیے بھی الگ سے لیبر، پیسہ اور وقت درکار ہوتا ہے ۔ ایسے میں متحدہ عرب امارات کی ہورٹی کلچر ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ ٹیم نے یہ تجویز دی کہ پارکس کی ریتیلی زمین کو پہلی دفعہ سبزے کے لیے تیار کرنے اور اس میں گھاس و پودے لگانے کے بعد حکومتی سینکچوئریز میں کیچووں کی بریڈنگ کرکے ان کو مناسب تعداد میں ان پارکوں میں چھوڑ دیا جائے کیونکہ یہ کیچوے اپنے فضلات کے ذریعے بہترین قسم کا فرٹیلائزر پیدا کرتے ہیں۔ ایسے میں ریتیلی زمین کو زرخیز رکھنے کے لیے ایک قدرتی خود کار داخلی نظام قائم ہوجائے گا اور یوں خارجی طور پر فرٹیلائزر ڈالنے کی ضرورت بھی کم ہوجائے گی اور اس مد میں جو اضافی پیسہ خرچ ہوتا ہے، وہ اخراجات بھی بچ جائینگے اور اسی رقم کو کسی دوسرے مفید کام میں استعمال کیا جاسکے گا۔ اس کو یہ لوگ سسٹینیبیلٹی کا نام دیتے ہیں یعنی خود کار قدرتی ذرائع سے زندگی چلانے کے زیادہ سے زیادہ انتظامات کرنا۔

ترقی یافتہ ممالک سے اس قسم کی کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں، جہاں یہ ممالک مسلسل ریسرچ اینڈ دیولپمنٹ کے ذریعے ایسے نظام اور حل متعارف کروارہے ہیں جن کی تنفیذ کے بعد ان حکومتوں کے انتظامی اخراجات مسلسل کم ہوتے جاتے ہیں اور اخراجات کی مد میں بچ جانے والی اس رقم کو دیگر مصارف جیسے تعلیم، صحت اور ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کی مزید توسیع و ترقی میں لگادیاجاتا ہے۔

آپ کو پتہ ہے ان ملکوں میں ایسا کیوں ممکن ہوسکا کیونکہ یہ ملک شرعی فرمان جو اپنی اصل میں ایک آفاقی اصول ہے کہ "امانتیں امانتداروں کے سپرد کردوں" پر سختی سے کاربند ہیں۔ ان ملکوں میں اداروں میں وہی لوگ فائز ہوتے ہیں، جن میں اداروں کو چلانے کی قابلیت ہوتی ہے، جو اپنے فرائض کی متقاضی مخصوص تعلیم و تربیت لیکر ان عہدوں تک پہنچے ہوتے ہیں۔ جنہیں اپنے مناصب کی ہر ٹیکنیکل ڈیٹیل کا علم ہوتا ہے، وہ کام نکالنے کے لیے کوئی بات ہوا میں نہیں کرتے بلکہ کوئی بھی فیصلہ یا اقدام کرنے حتی کہ صرف تجویز دینے سے پہلے بھی باقاعدہ ہفتوں اور مہینوں پر محیط فیزیبیلٹی اسٹڈی یعنی جدوی مطالعہ کرتے اور دیکھتے ہیں کہ مسائل کے حل کے لیے کسی بھی مجوزہ اقدام کی تنفیذ اپنے اندر کیا پرانس اینڈ کونس رکھتی ہیں یعنی اس کے کیا کیا فوائد حاصل ہوسکتے ہیں اور کیا اس کے کوئی نقصانات بھی ہیں وغیرہ وغیرہ اور پھر اس کے بعد ہی کوئی پراجیکٹ تشکیل دیا جاتا ہے۔

لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں تمام نہ سہی لیکن بیشتر سرکاری اداروں میں اونچے عہدوں پر سیاسی بھرتیوں، سفارشوں اور نوازے جانے کے ضمن میں ایسے اشخاص کو بھرتی کردیا جاتا ہے جن کی اس عہدے کی متقاضی ٹینیکل نالج صفر ہوتی ہے۔ اس کا پہلا تجربہ مجھے ۲۰۰۵ء میں ہوا جب میں نے ایک ملٹی نیشنل ٹیلیکوم کمپنی جوائن کی تھی۔ کمپنی کا بیشتر عملہ نہایت پروفیشنل ٹیکنیکل افراد پر مشتمل تھا جو کہ ٹیلیکوم کی فیلڈ میں نہایت مہارت رکھتے تھے، اس کے علاوہ کمپنی بذات خود بھی ایمپلائز کی تعلیم و تربیت کے لیے ٹریننگز منعقد کرواتی رہتی تھی۔ تاہم اس ملٹی نیشنل کمپنی کو اقتدار بالا کی طرف سے یہ خاص ہدایت تھی کہ ہر ریجنل آفس کا ہیڈ پاک فوج سے ریٹائر کوئی کرنل یا بریگیڈیر ہوگا اور یوں ملک میں کمپنی کے تینوں بڑے آفیسز یعنی کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں ایڈمن انتظامات چلانے کے بہانے سے ہر ریجنل آفس میں پاک فوج کے ایک ریٹائر صاحب بھرتی کردئیے گئے جن کو ٹیلیکوم سے متعلق آتا جاتا کچھ نہیں تھا، تاہم انہوں نے خود پر یہ لازم کرلیا تھا کہ ایمپلائز کے آنے جانے کے وقت پر خاص نظر رکھی جائے اور چونکہ یہ تمام ہیڈز آرمی بیک گراؤنڈ سے تھے، اس لیے ان کے نزدیک سارے ایمپلائز کو ہر حال میں صبح ۹ بجے سے قبل آفس میں ہونا تھا اور ۶ کے بعد کوئی آفس میں نظر نہ آنا چاہیئے تھا۔ جبکہ ٹیلیکوم کمپنیز بالخصوص اگر وہ وینڈرز ہوں تو وہاں آنے جانے کا کوئی ٹائم مقرر کیا ہی نہیں جاسکتا کیونکہ اکثر و بیشتر یہی ہوتا کہ آپ شام ساڑھے چھ بجے گھر واپس پہنچے آفس سے اور ۱۰ بجے پھر کال آگئی کہ فلاں سائٹ پر کام آگیا ہے، آفس کی گاڑی منگواکر فوراً پہنچو اور مسئلہ حل کرو اور یوں ہفتے میں دو سے تین دفعہ یہی ہوتا کہ گھر رات واپسی ۲ یا ۳ بجے ہوتی۔ اب ایسے میں ۹ بجے آفس کیسے پہنچا جائے لیکن ہمارے ریجنل ہیڈز آئے دن اس بات کو لیکر مسئلہ بنائے رکھتے تھے کہ ایمپلائز صبح ۹ بجے آفس کیوں نہیں پہنچتے۔ آپ چاہیں ان کو کتنا ہی سمجھالیں لیکن ایسا لگتا تھا کہ جیسے ان کو کچھ سمجھ ہی نہیں آتا، بس دماغ میں ۹ سے ۶، ۹ سے ۶ چلتا رہتا ہے۔ مزے کی بات یہ تھی کہ تمام ٹیکنیکل ٹیمز کے مینیجرز نے اپنے ماتحتین کو یہ کہہ رکھا تھا کہ ہمیں آپ کے آفس آنے جانے کے وقت سے کوئی سروکار نہیں، بس آپ کو جو کام تفویض کیا جائے، اس کو وقت پر ختم کرکے میل کردیا کریں اور یقین جانئیے کہ ایک عادت سی بنی ہوئی تھی کہ ۳ دن کا کام ۲ دن میں ختم کرکے انجینئرز کام کی میل کردیا کرتے تھے۔

اسی طرح کا ایک اور واقعہ آپ کو سناتا ہوں۔ یہاں متحدہ عرب امارات میں میرا ایک کولیگ ہے جو کسی زمانے میں پاکستان میں ایک آئی ٹی کمپنی میں تھا اور ایک حکومتی ادارے کے لیے اسلام آباد میں ایک آئی ٹی ریلیٹڈ پراجیکٹ کررہا تھا۔ حکومتی ادارے کی طرف سے اس پراجیکٹ کو جو خاتون لیڈ کررہی تھیں، وہ فاسٹ انسٹیوٹ کی گریجویٹ تھیں اور بعدازاں ان کا ڈاکٹریٹ بھی آئی ٹی فیلڈ کا ہی تھا۔ تاہم بیچ پراجیکٹ میں اچانک سے پتہ چلا کہ ان خاتون کا تبادلہ کہیں اور کردیا گیا ہے اور ان کی جگہ ایک سیاسی بھرتی ہوئی ہے اور وہ بھرتی کیا تھی آپ کو معلوم ہے؟ جعلی طریقے سے بی اے پاس کرنے والے اندرون سندھ کے ایک صاحب جو سندھ کی با اثر پالیٹیکل پارٹی کے سربراہ کی بہن کے کوئی رشتہ دار تھے۔ ان صاحب کو آئی ٹی کے آئی کا بھی پتہ نہ تھا۔ آتے ہی موصوف نے پراجیکٹ کرنے والی اس نجی آئی ٹی کمپنی کو دس پرسینٹ کمیشن فی الفور ایک اوورسیز اکاونٹ میں ٹرانسفر کرنے کا حکم صادر کیا اور رقم ٹرانسفر کی تکمیل ہونے تک نہ صرف کمپنی کی تمام پیمنٹس روک رکھیں بلکہ پراجیکٹ بھی ہالٹ یعنی تعطل کا شکار کردیا۔ میرا دوست بتاتا ہے کہ ہم روز حقیقتاً روز اس حکومتی ادارے جاتے، وہاں بیٹھے رہتے اور شام کو بغیر کچھ کام کیے آجاتے کیونکہ حکومت کی جانب سے مقرر پراجیکٹ مینیجر صاحب نے سختی سے کام کو روک دینے کی ہدایات کی تھیں۔ جب رقم ٹرانسفر ہوگئی تو انہوں نے میرے دوست کے باس کو بلا کر بولا کہ بھئی مجھے تو اس آئی ٹی کا اتنا پتہ نہیں، تم لوگ پراجیکٹ اپنے حساب سے کرو اور جہاں دستخط کرنے ہونگے میں کردونگا۔ تاہم پراجیکٹ فائنل ہینڈ اوور کے دستخط کی شرائط سے آپ کو بعد میں مطلع کردیا جائے گا۔

اب آخر میں میرا بھی ایک تجربہ سنتے جائیے۔ آپ سب کو یاد ہوگا کہ پچھلے سال میں نے فیس بک پر ایک پوسٹ لگائی تھی کہ ۷ماہ سے میری پاکستان انجینئرنگ کونسل کی اپیلیکشن اٹکی پڑی ہے۔ بھانجے کو بارہا پی ای سی کراچی آفس دوڑاتا رہا اور وہاں سے یہی کہا جاتا رہا کہ آئی ٹی سسٹم میں پرابلم کی وجہ سے اپیلیکیشن اٹک گئی ہے، آئی ٹی ٹیم ایک ہفتے میں سسٹم کو ٹھیک کردے گی تو ایپلیکیشن پراسس ہوجائے گی۔ یہ ایک ہفتہ پورے سات ماہ تک کھینچ گیا یہاں تک کہ اسلام آباد میں اپنے ایک دوست کو پی ای سی کے مرکزی آفس بھیجا کہ بھئی یہ مسئلہ حل کرواؤ اور میرا پی ای سی کا کارڈ ایشو کرواؤ۔ بیچارہ دوست دو تین دفعہ پی ای سی اسلام آباد آفس گیا اور ہر دفعہ کاونٹر پر بیٹھے صاحب نے سسٹم میں پرابلم چل رہی ہے کہہ کر ٹرخادیا۔ اس اثنا میں میں پی ای سی کے ذمہ داران کو پی ای سی کی ویب سائٹ پر موجود ان کے ای میل ایڈریس کے ذریعے رابطہ کرکے اپنا مسئلہ بالتفصیل بمع اسکرین شاٹ میل کرتا رہا لیکن کسی ایک میل کا بھی جواب نہ آیا۔ فیس بک پر پوسٹ لگانے کا فائدہ یہ ہوا کہ میری فرینڈ لسٹ میں آفتاب الدین قریشی صاحب جو میرے شدید ناقد بھی ہیں نے مجھ سے پرسنل میں رابطہ کرکے چئیر مین پی ای سی جو ان کے غالباً زمانہ طالبعلمی کے دوست ہیں، کا ڈائریکٹ واٹس اپ نمبر یہ کہہ کر شئیر کیا کہ آپ ان کو اپنا مسئلہ لکھ بھیجئے، میں نے بھی ان سے بات کرلی ہے۔

یقین جانئے کہ میں نے صبح ۱۱ بجے چئیر مین پی ای سی کو آفتاب الدین قریشی صاحب کے ریفرنس سے تفصیلی واٹس اپ میسج کرکے اپنی پریشانی بتائی اور ڈھائی بجے مجھے ان کی ڈپٹی کا واٹس اپ پر میسج آگیا کہ ہم آپ کا مسئلہ حل کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور ان شاءاللہ جلد مسئلہ حل ہوجائے گا اور پھر جلد نہیں اگلے دن ہی میرا مسئلہ حل ہوگیا اور وہ ڈپٹی صاحبہ مجھے مسلسل میسج کرکے ہر مرحلہ پر اپڈیٹ کرتی رہیں اور یہ موکد کرتی رہیں کہ میری ایپلیکیشن کا کام بتدریج ہورہا ہے۔ اور یوں ۷ ماہ سے اٹکا مسئلہ صرف دیڑھ دن میں حل ہوگیا۔ اب سب سے مزے کی بات سنئے۔ جن ڈپٹی صاحبہ کا مجھے میسج آیا تھا اور جنہوں نے صرف دیڑھ دن میں اپنے باس چئیر مین پی ای سی کی ہدایات پر میرا سات ماہ کا اٹکا کام حل کروادیا وہ وہی تھیں جن کو پچھلے ۷ ماہ سے میں مسلسل ای میل پر رابطہ کرکے اپنا مسئلہ بتا کر حل کرنے کی درخواست کررہا تھا اور وہاں سے کوئی جواب ہی نہیں آتا تھا۔

جبکہ متحدہ عرب امارات میں ایک دفعہ ایک رینٹ اے کار والوں نے میرا ری فنڈ ایک ماہ تک روکا تو میں نے دبئی کنزیومر ایپ پر شکایت درج کروائی اور اگلے دن ہی میرا ری فنڈ مجھے مل گیا اور ساتھ ہی شام میں دبئی کنزیومر کے نمائندہ کی کال یہ موکد کرنے کے لیے آئی کہ آپ کا مسئلہ حل ہوگیا ہے یا نہیں۔

یعنی پاکستان میں جو کام سفارش سے کسی قدر عجلت میں ہوا، وہی کام دبئی میں نارمل پراسس کے طور پر اتنی ہی مدت میں بغیر کسی پریشانی کے محض ایک شکایت درج کرنے پر ہوجاتا ہے۔

تو پھر خود بتائیے کہ ملک کیسے ترقی کرے۔ جہاں اپنی گاڑی کا ڈھائی ہزار روپے کا ٹیکس ادا کرنے کے لیے آپ کو کلرک کو ۱۵ ہزار روپے رشوت دینا پڑتی ہے ورنہ وہ آپ سے ٹیکس لیتا ہی نہیں۔ گویا حکومت کو اپنی جیب سے پیسہ دینے کے لیے بھی آپ کو رشوت دینی پڑتی ہے۔

خیر جب ہم دنیا گھومتے ہیں اور ترقی یافتہ ممالک اور وہاں کےسسٹمز دیکھتے ہیں تو اکثر یہ سوچ بہت شدت سے دل میں آتی ہے کہ ہمارے حکمران یا حکومتی نمائندے جب ان ملکوں کے دوروں پر جاتے ہیں تو وہ ان ملکوں کی ترقی اور سسٹمز سے کوئی سیکھ کیوں نہیں لیتے؟ ہماری طرح ان کے دل میں یہ خیال کیوں انتہائی شدت سے چٹکیاں نہیں لیتا کہ کاش ہمارے ملک میں بھی ایسی ہی ترقی ہو، وہاں بھی ایسے ہی نظام کا نفاذ ہو جہاں ریونیو لیکج یعنی تسرب الإيرادات کم سے کم ہو اور ملک کی آمدن کا پیسہ ملک کی ترقی پر لگے۔ یہ رشوتیں ،یہ کاموں کو روکنا ،یہ کام نہ کرنا ملکی معیشت کے لیے کس قدر بڑا نقصان ہوتا ہے، اس کا اندازہ صرف وہی کرسکتے ہیں جو کسی ترقی یافتہ ملک میں ان باتوں کی قدر و اہمیت دیکھ چکے ہوں۔

تحریر: محمد فھد حارث

سیدنا عثمانؓ کی شہادت سے متعلق مولوی اسحٰق جھالوی اور انجینئر محمد علی مرزا جیسے اصحاب نے کئی غلط فہمیاں عوام میں رواج د...
23/10/2024

سیدنا عثمانؓ کی شہادت سے متعلق مولوی اسحٰق جھالوی اور انجینئر محمد علی مرزا جیسے اصحاب نے کئی غلط فہمیاں عوام میں رواج دیدی ہیں۔

جیسے

تمام اہل مدینہ کے ہوتے ہوئے سیدنا عثمان کے پہرے داروں میں صرف حضرات حسنین اور مروان کا سیدنا عثمان کی مدافعت میں کھڑے ہونا۔

صحابہ کا سیدنا عثمان کو خلعتِ خلافت اتار پھینکنے کی تجویز دینا۔

انصار کا سیدنا عثمانؓ کی حمایت کو نہ آنا اور اسی سبب بعد کے خلفائے بنو امیہ اس بات کو لے کر انصار سے کبیدہ خاطر رہنا

طالبین قصاص عثمان جیسے سیدنا زبیر بن العوام و سیدنا معاویہ کا دورانِ شہادت عثمان سیدنا عثمان سے قطع تعلق رہنا اور ان کی مدد نہ کرنا

وغیرہ وغیرہ۔

ایسی تمام غلط فہمیوں کے ابطال پر ہم نے ایک مختصر لیکن جامع ویڈیو بنا کر اپنے یوٹیوب چینل

Mohammad Fahad Haris

پر بعنوان

Shahadat e Usman - Unrevealed Facts | شہادت عثمان -چند نامعلوم حقائق|

اپلوڈ کردی ہے۔

جو حضرات یہ ویڈیو دیکھنا چاہیں، وہ ہمارے چینل پر جاکر یہ ویڈیو دیکھ سکتے ہیں۔

سرچ کرنے کی آسانی کے لیے ویڈیو کا ٹائٹل پہلے کمنٹ میں بھی دیا جارہا ہے۔

تحریر: محمد فھد حارث

22/10/2024

برصغیر کے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ رہا کہ ہم نے اپنی معاشرتی اقدار کو مذہبی اقدار قرار دے کر اپنے دین میں بے سختیاں پیدا کرلیں جس کے سبب ہمارے معاشرے میں گھٹن بھی پیدا ہوئی اور حق تلفیاں بھی۔ انہیں مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ اختلاط مرد و زن کا ہے۔

ہمارے معاشرے میں اختلاطِ مردوزن کو کچھ یوں لیا جاتا ہے کہ بس یہاں مرد نے عورت کو یا عورت نے مرد کو دیکھا نہیں کہ وہ دونوں زنا کے مرتکب ہوجائینگے۔ اسی سبب ہم نے اختلاط کی بے جا حدود متعین کرلیں جو دورِ نبویﷺ کے معاشرے اور اس کے نظائر سے بالکل بھی لگا نہیں کھاتیں۔

ہمارے ہاں اس سلسلے میں پہلی بے انصافی یہ ہوئی کہ خواتین کو مساجد آنے سے "یوں "روک دیا گیا جیسے یہ کوئی "وقتی و انتظامی "حکم نہ ہو بلکہ نصِ شرعی سے ثابت حکم ہو جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ نبیﷺ کے دور میں خواتین مردوں کےساتھ پچھلی صفوں میں رہ کر نمازِ باجماعت ادا کرتی تھی۔ ذرا سوچئے کہ اس زمانے میں مرد پاجامہ یا شلوار نہیں بلکہ کھلی ہوئی چادر بصورتِ تہبند پہنتے تھے جس کی وجہ سے حالتِ سجدہ میں ستر نظر آنے کا اندیشہ رہتا تھا لیکن بجائے اس کے کہ آپﷺ خواتین کو مساجد آنے سے روک دیتے آپﷺ نے بس ان کو فقط یہ حکم دینے پر اکتفا کیا کہ مردوں کے سجدوں سے سر اٹھانے کے بعد خواتین سجدوں سے سر اٹھائیں۔ حتیٰ کہ آپﷺ نے مردوں اور عورتوں کی صفوں کے درمیان میں کوئی دیوار یا چادر تک نہ لگوائی۔ یہاں تک کہ شروع شروع میں مردوعورت ایک ہی دروازے سے مسجد میں داخل ہوتے تھے جس کی وجہ سے اکثر دروازے پر بھیڑ ہوجاتی تھی، پس اس مشکل کے حل کے لیے آپﷺ نے عورتوں کے لیے علیحدہ دروازہ بنوادیا ۔ آج بھی اس دروازے کو باب النساء کہا جاتا ہے۔ جبکہ آج تو خواتین کے لیے مساجد میں علیحدہ ہال ہوتا ہے جہاں مسجد کے اندر چار دیواری میں رہتے ہوئے وہ مردوں کی نگاہوں سے بالکل اوجھل ہو کر نماز ادا کرتی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہمارے ہاں خواتین کے مساجد آنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ صد حیرت۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ موطا امام مالک کی روایت کے تحت سیدنا سعد بن ابی وقاص کی صلوٰۃ المیت سیدہ عائشہ اور دیگر امہات المومنین نے بالخصوص مسجد نبویﷺ میں ادا کروائی تھی تاکہ امہات المومنین میں ان کی صلوٰۃ المیت ادا کرسکیں۔ کیا آج آپ تصور کرسکتے ہیں کہ خواتین کو کسی نامحرم مرد کی صلوٰۃ المیت ادا کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

عید کے دن جبکہ صلوٰۃ العید مسجد کی چار دیواری میں نہیں بلکہ عیدگاہ کے کھلے میدان میں ادا کی جاتی تھی وہاں بھی آپﷺ نے تاکید کے ساتھ خواتین کو صلوٰۃ العید میں حاضر ہونے کا حکم دیا حتی کہ حیض والی خواتین تک کو عیدگاہ آنے کی تاکید کی ۔ یہی نہیں بلکہ ایک خاتون نے جب یہ کہا کہ اگر ہمارے پاس باہر نکلنے کو چادر نہ ہو تو؟ آپﷺ نے فرمایا کہ اس کی کوئی دینی بہن اس کو اپنی چادر دے دے۔

علامہ ابن حزم ظاہری نے جمہرۃ انساب العرب میں سیدہ شفاء بنت عبداللہ کی بابت لکھا ہے کہ سیدنا عمرؓ نے انہیں نہ صرف ام المومنین سیدہ حفصہ اور دیگر خواتین کو لکھانے پڑھانے کی ڈیوٹی پر نافذ کیا تھا بلکہ ان کو مدینہ کے بازار کا نگراں مقرر کیا تھا جہاں وہ بازار کے سامان کے معیار اور اشیاء کے نرخوں نگرانی بھی کرتی تھیں۔ اب بتائیے کہ بازار میں مردوں کی دکانوں پر نگراں ایک عورت مقرر کی جارہی ہے۔ کیا آج برصغیر کے معاشرے میں آپ اس کا تصور بھی کرسکتے ہیں؟

پھر ام عطیہ، ام سلیم اور سید ہ عائشہؓ کے جنگوں میں زخمیوں کی تیماداری اور اپنی پیٹھوں پر مشکیزے اٹھائے پانی پلانے کے کام سے بھلا کون واقف نہ ہوگا اور یاد رکھیے کہ سیدہ عائشہ نے یہ خدمت اولاً جنگِ احد میں انجام دی تھی جبکہ وہ نوجوانی کی عمر میں تھیں۔

اسی طرح ذرا سیدہ ام عمارہ اور سیدہ ام حرام بنت ملحان کی قتال فی سبیل اللہ کی خدمات کو بھی یاد کرلیجئے جہاں ام عمارہؓ نے شجاعت و بہادری میں کئی مردوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کتنے ہی دشمنوں کو جہنم واصل کیا تو سیدہ ام حرام بنت ملحان پہلے بحری غزوے سے واپسی پر اپنی سواری سے گر کر جنت کی نعمتوں سے بہرہ مند ہوئیں۔

پھر ذرا احادیث و سیرت کی کتابوں میں مذکور ان تمام واقعات کو بھی ملاحظہ کرلیجئے جہاں نبیﷺ مردوں کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوتے اور کوئی بھی خاتون آکر آپﷺ سے حیض، نفاس، اح**ام یا کسی بھی مسئلے پر کوئی سوال پوچھ لیتی۔ نبیﷺ مسجدِ نبویﷺ میں بیٹھے ہیں کہ ایک خاتون آکر خود کو آپﷺ کو ہبہ کردیتی ہے جس پر آپﷺ سر جھکا لیتے ہیں اور ایک دوسرے صحابی اٹھ کر ان سے نکاح کی خواہش ظاہر کرتے ہیں اور آپﷺ ان سے مہر کی بابت اور اس کا انتظام کرنے کو کہتے ہیں اور اس تمام اثناء میں وہ خاتون مسجدِ نبویﷺ میں ہی بیٹھی نظر آتی ہے جبکہ وہاں مرد بھی موجود ہیں۔

پھر ذرا سورۃ مجادلہ کا شانِ نزول بھی مستحضر کرلیا جائے جہاں خولہ بنت ثعلبہ آکر نبیﷺ سے بحث کرتی ہیں اور اللہ سورۃ مجادلہ اتاردیتے ہیں۔ پھر عہد فاروقی میں ایک مرتبہ ح سیدنا عمر چند افراد کے ساتھ کہیں جا رہے تھے تو ایک عورت نے آپ کو بڑی دیر تک روکے رکھا اور نصیحت کرتی رہی تو آپ کے ہمراہیوں نے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے کہ ایک بوڑھی عورت کی بات سننے کے لیے آپ اتنی دیر تک رکے رہے تو آپ نے فرمایا کہ اگر مجھے اس سے زیادہ وقت بھی روکتیں تو میں رکتا اور ان کی باتیں سنتا کیونکہ یہ خولہ بنت ثعلبہ ہیں جن کی بات اللہ تعالٰی نے سنی اور قرآن کی آیتیں نازل ہوئیں۔

یہی نہیں بھرے مجمع میں ایک عورت سیدنا عمرؓ کو مہر کے مسئلے میں ٹوک د یتی ہے۔۔ اب ذرا یہ بتائیے کہ آپ کے ہاں تصور ہے کہ امیر جماعت یا امام مجمع سے بات کررہا ہو اور ایک عورت اس کو ٹوک دے یا پھر شیخ جماعت جارہے ہوں اور ایک عورت آکر ان کو بے نقط سنانا شروع کردے۔

اسی طرح ایک صحابیہ کی بابت تذکرہ نویس لکھتے ہیں کہ ان کی بڑی ساری حویلی تھی جس کے باغ میں وہ چقندر اگایا کرتی تھیں اور نبیﷺ اکثر اپنے مہمانوں کو ان صحابیہ کے ہاں ٹھہرواتے تھے۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ امام بخاری نے اپنی صحیح میں باقاعدہ ایک باب باندھا ہے "باب عیادۃ النساء للرجال" یعنی "عورتوں کا مردوں کی عیادت کو جانا۔" پہلے تو آپ ذرا مجھے یہ بتائیے کہ آپ کے معاشرے میں کیا یہ تصور بھی کیا جاسکتا ہے کہ مذہبی خاندان کی کوئی عورت کسی نامحرم شخص کی عیادت کو جائے یا اس سے اسکا حال احوال پوچھ سکے۔۔ "جہاں مردوں کے قرآن کی خوش الحان تلاوت کے سبب خواتین کے فتنے میں پڑنے کا اندیشہ ظاہر کیا جائے وہاں بھلا عیادت جیسا کام تو پتہ نہیں اپنے اندر کتنے فتنے مضمر رکھتا ہوگا۔"

مذکورہ باب کے تحت امام بخاری روایت لائے ہیں کہ سیدنا ابوبکر و سیدنا بلال بیمار پڑے تو سیدہ عائشہ دونوں کی عیادت کو حاضر ہوئی اور دونوں سے دریافت کیا کیف تجدک یعنی کیسے مزاج ہیں آپ کے؟ امام بخاری دوسری روایت لائے ہیں کہ سیدہ ام الدرداء نے ایک انصاری صحابی کی عیادت کی۔

ام مبشرؓ نامحرم مرد سیدنا کعب بن مالک کے مرض الموت میں ان کی عیادت کو حاضر ہوکر کہتی ہیں کہ میرے بیٹے کو میرا سلام کہنا۔

یہ تو خواتین کا مردوں کی عیادت کے لیے جانا ہوگیا۔ دورِ نبویﷺ میں خود مرد بھی خواتین کی عیادت کو جاتے تھے جیسا کہ صحیحین کی روایت میں آتا ہے کہ نبیﷺ اپنی چچازاد بہن سیدہ ضباعہ بنت زبیر کی عیادت کو تشریف لے گئے اور دورانِ عیادت ان کو حج کی نیت کی ترغیب دی۔ ابوداود کی روایت میں ہے کہ ام العلاء بیماری ہوئیں تو نبیﷺ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ مسلم میں ام السائب کی روایت ہے کہ ام السائب کو بخار چڑھا تو نبیﷺ ان کی عیادت کو گئے، دورانِ عیادت ام السائب نے بخار کو برا بھلا کہا تو آپﷺ نے ان کو ایسا کرنے سے یہ کہتے ہوئے منع کیا کہ اس سے انسان کے گناہ دھلتے ہیں۔

پھر یاد رہے کہ امہات المومنین جن کے اوپر پردے کے احکامات سب سے زیادہ سختی سے نافذ تھے، صحابہ کرام سے ان کی عیادت کو جانا اور ان سے خیریت دریافت کرنا خود صحیحین کی روایت سے ثابت ہے جیسا کہ امام بخاری نے سیدنا ابن عباسؓ کا سیدہ عائشہؓ کے مرض الموت میں حاضر ہونا اور ان دونوں کا باہمی مکالمہ روایت کیا ہے۔

پھر صحیحین کی وہ روایت ہمارے احباب نہ بھولیں جس میں مذکور ہے کہ نبیﷺ ام حرام کے گھر قیلولہ فرماتے اور وہ دورانِ قیلولہ آپﷺ کے سر میں کنگھی کیا کرتی تھیں۔ بعض لوگ اس روایت کی تاویل میں ام حرام کو نبیﷺ کی محرم قرار دینے کی بات کرتے ہیں لیکن یہ اس قدر بے اصل بات ہے کہ نسب کی کسی معتبر کتاب سے اس کا ثبوت بہم نہیں پہنچایا جاسکتا ۔

سیدہ اسماء بنت ابی بکر کی بابت ہر تذکرہ نویس نے یہ بات لکھی ہے کہ وہ اپنے شوہر زبیر بن العوام کے کاموں میں ان کا ہاتھ بٹاتی تھیں، گھوڑوں کی مالش کرتی تھیں، ان کے لیے دانے کوٹتی تھیں اور دور کسی باغ سے یہ دانے اور دیگر سامان اپنے سر پر اٹھا کر لاتی تھیں۔

الغرض بلامبالغہ ایسی سینکڑوں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں جو ہمارے سامنے وہ عرب معاشرہ پیش کرتی ہیں جو برصغیر کے علماء کے بتائے و بنائے معاشرے سے بالکل انجان و اجنبی ہے ۔

دراصل یہ ساری مصیبت یوں پڑی کہ قرآن و حدیث میں مذکور احکامِ سترو حجاب اور اختلاط مردو زن کو ہم نے دورِ نبویﷺ اور خیر القرون کے معاشرے کے نظائر سے کاٹ کر اپنی مرضی و منشاء اور اپنے معاشرے کے لحاظ سے معنی پہنا کر ان کو نافذکردیا جہاں عورت کچھ نہیں صرف ایک فتنہ ہے اور جہاں کا مرد ہو یا عورت وہ ایک دوسرے کو دیکھنا کجا ایک دوسرے کی آواز سن کر ہی حواس باختہ ہوجانے کو تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔

سورۃ النور اور سورۃ الاحزاب میں بیان کردہ احکامِ غض بصر اور ستروحجاب کو جب تک دورِ نبویﷺ کے نظائر کے ساتھ نتھی کرکے ان کی تطبیق نہ کی جائے گی، ہمارا معاشرہ دورِ نبویﷺ کے معاشرے کے مخالف اور اس سے بعید ہی نظر آئے گا جہاں اسلام کے نام پر خواتین کا معاشرتی و معاشی استحصال اور اس خود ساختہ اسلام سے جنمی گھٹن کے سبب ان کا جنسی استحصال ہوتا رہے گا۔

تحریر: محمد فھد حارث

Address

Dubai

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Fahad Haris posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Muhammad Fahad Haris:

Share