23/11/2024
آخری کال
چل پڑیں منزلوں کی طرف قافلے آخری کال ہے منتظر ہیں عزیمت کے سب راستے آخری کال ہے
موت جیسی کسی زندگی کے تسلط میں جکڑے ہو کیوں تم سے کہتے ہیں زنجیر کے سلسلے آخری کال ہے
ہم چراغوں نے سنگ مل کے لڑنی ہے جنگ آمد صبح تک چند جو بجھ جائیں تو جل اٹھیں دوسرے آخری کال ہے
جاں بکف ہم نکل آئے آنکھوں میں خوابوں کے جگنو لیے اب نہ دو سر بچانے کے یہ مشورے آخری کال ہے
منزلیں سرفروشوں کی میراث ہیں بزدلوں کی نہیں توڑ دو دست آہن سے ظلمت کدے آخری کال ہے
راستے اب لہو کے سمندر سے اٹ بھی اگر جائیں تو دوستو کم نہ ہو پائیں یہ حوصلے آخری کال ہے
اک اندھیرے میں امید کے دیپ ہاتھوں میں تھامے ہوئے کہہ رہا ہے مسلسل کوئی آپ سے آخری کال ہے
اپنا جواب پوسٹ کریں۔
احمد فرہاد❤️