21/06/2026
والد — ایک ایسا سایہ جو عمر بھر ساتھ رہتا ہے
فادرز ڈے صرف ایک دن نہیں، بلکہ اس عظیم ہستی کو یاد کرنے کا موقع ہے جو اپنی پوری زندگی اولاد کے لیے قربان کر دیتا ہے۔ والد وہ شخصیت ہے جو اپنے بچوں کے لیے دھوپ میں جلتا ہے تاکہ ان کے حصے میں ٹھنڈی چھاؤں آئے۔
جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو والد کی آنکھوں میں نئے خواب جنم لیتے ہیں۔ وہ اپنی خوشیوں، آرام اور خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر اپنے بچے کے مستقبل کی فکر میں لگ جاتا ہے۔ راتوں کی نیند، دن کا سکون اور اپنی محنت کی کمائی سب کچھ اولاد کے نام کر دیتا ہے۔
بچپن میں جب بچہ چلنا سیکھتا ہے تو والد اس کا ہاتھ پکڑتا ہے۔ جب وہ گر جاتا ہے تو اسے اٹھاتا ہے، حوصلہ دیتا ہے اور زندگی کے راستوں پر چلنا سکھاتا ہے۔ بچے کے لیے والد صرف ایک سرپرست نہیں بلکہ ایک ہیرو ہوتا ہے جس کی موجودگی اسے ہر خوف سے محفوظ محسوس کراتی ہے۔
وقت گزرتا ہے، بچہ جوان ہو جاتا ہے۔ اب وہ اپنے فیصلے خود کرنے لگتا ہے، اپنی دنیا میں مصروف ہو جاتا ہے۔ لیکن والد کی فکر کم نہیں ہوتی۔ وہ اب بھی اولاد کی کامیابی، عزت اور خوشی کے لیے دعاگو رہتا ہے۔ اکثر والد اپنی ضروریات کو نظر انداز کر دیتا ہے تاکہ اولاد کی خواہشات پوری ہو سکیں۔
پھر ایک وقت آتا ہے جب وہی مضبوط والد بوڑھا ہو جاتا ہے۔ اس کے بال سفید ہو جاتے ہیں، قدموں کی طاقت کم ہو جاتی ہے اور وہ ہاتھ جو کبھی اولاد کو سہارا دیتے تھے، اب خود سہارے کے محتاج ہو جاتے ہیں۔ ایسے وقت میں اولاد کا فرض بنتا ہے کہ وہ والد کی عزت، خدمت اور محبت میں کوئی کمی نہ آنے دے۔
ہمارے معاشرے میں والد کو خاندان کا ستون سمجھا جاتا ہے۔ وہ غیرت، قربانی، محنت اور ذمہ داری کی علامت ہوتا ہے۔ ایک پشتون باپ اپنی اولاد کی عزت اور بہتر مستقبل کے لیے ہر مشکل برداشت کرتا ہے۔ اس کی خاموشیاں بھی محبت ہوتی ہیں اور اس کی سختی کے پیچھے بھی اولاد کی بھلائی چھپی ہوتی ہے۔
آج فادرز ڈے کے موقع پر ہمیں اپنے والد کی قدر کرنی چاہیے۔ اگر والد زندہ ہیں تو ان کے ساتھ وقت گزاریں، ان کی خدمت کریں اور ان سے محبت کا اظہار کریں۔ اور اگر وہ اس دنیا سے جا چکے ہیں تو ان کے لیے دعا کریں، کیونکہ والد جیسی نعمت کا کوئی نعم البدل نہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام والدین کو صحت، عزت اور لمبی عمر عطا فرمائے، اور جو اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں ان کی مغفرت فرمائے۔ آمین۔