Aslam Unfiltered

Aslam Unfiltered It's all about the effort and the stories that make us who we are. Don't forget to follow

لکی مروت  سرائے نورنگ بازار میں دھ*ما-کہ
12/05/2026

لکی مروت
سرائے نورنگ بازار میں دھ*ما-کہ

11/05/2026

او بعض بعض د لسو زرو غلام شو۔
سندرغاړے پہ سندرو کی ناکام شو
بيا چې کله مولانا امير مقام شو
نو شانګله کښې کرپشن سرعام شو
شوکت پکی آخرہ کښی بدنام شو
ورسره فواد نوم هم د کرپشن لۀ وجې په بام شو
ترووسه سحر وي وس ماښام شو
وسلام

یہ تصویر آج کل بہت وائرل ہے اور کڑوا سچ بھی ہے 💔تصویر کیا کہہ رہی ہے؟ملکعورت کیا کر رہی ہے؟بھارتی خواتینکھیتوں میں مرچ/س...
11/05/2026

یہ تصویر آج کل بہت وائرل ہے اور کڑوا سچ بھی ہے 💔

تصویر کیا کہہ رہی ہے؟
ملکعورت کیا کر رہی ہے؟
بھارتی خواتینکھیتوں میں مرچ/سبزی چن رہی ہیں۔ محنت کر کے کما رہی ہیں
چینی خواتین دھان کے کھیت میں پودے لگا رہی ہیں۔ پروڈکشن میں حصہ
بنگلہ دیشی خواتین گارمنٹس فیکٹری میں سلائی کر رہی ہیں۔ Export کر کے ڈالر لا رہی ہیں
پاکستانی خواتین "امدادی مرکز" پر لائن میں لگ کر پیسے لے رہی ہیں۔ Dependency
اس کا مطلب کیا ہے؟
بنانے والا طنز کر رہا ہے کہ باقی ملکوں کی عورتیں کام کر کے معیشت چلا رہی ہیں، اور ہماری عورتیں امداد پر گزارا کر رہی ہیں۔

2 باتیں سوچنے والی ہیں:

1. آدھا سچ: یہ درست ہے کہ بنگلہ دیش کی 80% گارمنٹس ایکسپورٹ عورتوں کی وجہ سے ہے۔ چین کی زراعت میں عورتیں ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ بھارت میں بھی دیہاتی عورت کھیت میں کام کرتی ہے۔

2. دوسرا رخ: پاکستان میں بھی لاکھوں عورتیں کام کرتی ہیں۔ اسکول ٹیچر، ڈاکٹر، نرس، کھیت میں، فیکٹری میں، گھروں میں سلائی کر کے۔ سب "امدادی مرکز" پر نہیں کھڑی۔ لیکن تصویر کا پوائنٹ یہ ہے کہ ہمارا نظام عورت کو "ہنر" کی بجائے "امداد" پر لگا رہا ہے۔

اصل مسئلہ کیا ہے؟
1. ہنر کا فقدان: بنگلہ دیش نے اپنی عورتوں کو سلائی سکھائی، ہم نے BISP کا کارڈ دیا۔
2. روزگار نہیں: چین/بھارت میں دیہات میں بھی کام ہے۔ ہمارے دیہات میں فیکٹری نہیں، کھیت میں پانی نہیں۔
3. معاشرتی پابندی: بہت سے علاقوں میں عورت کا گھر سے نکل کر کام کرنا ابھی بھی "عیب" سمجھا جاتا ہے۔

حل کیا ہے؟
"امدادی مرکز" برے نہیں، مجبوری میں سہارا ہیں۔ لیکن مستقل حل "روزگار مرکز" ہے.

اگر ہم اپنی بہنوں، بیٹیوں کو ہنر دیں: سلائی، کمپیوٹر، دستکاری، آنلائن کام، زراعت... تو کل یہ لائن "تنخواہ لینے" کی ہو گی، "امداد لینے" کی نہیں۔

بنگلہ دیش کی عورت*
فیکٹری میں جاتی ہے تو مہینے کے بعد ₨40,000 لے کر عزت سے گھر آتی ہے۔
ہماری عورت امداد لے کر بھی سوچتی ہے کہ "اگلے مہینے کیا ہو گا؟"

عزت امداد میں نہیں، محنت میں ہے۔ اور ہماری عورتیں محنت کر سکتی ہیں، بس موقع اور ہنر چاہیے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا واقعی ہم نے اپنی عورتوں کو "امداد" پر لگا دیا ہے یا یہ تصویر زیادتی کر رہی ہے؟

06/05/2026

نفرت ہی بہتر ہے

06/05/2026

مېندې لیونۍ دي نادانې دي.🥀💔
سعودی عرب مسافر اور ...See More

AI کی مدد سے الپوری اور خوازہ خیلہ کے درمیان طویل عرصے سے مطلوب ٹنل منصوبہ اب تصوراتی طور پر مکمل کر لیا گیا ہے۔ جو کام ...
06/05/2026

AI
کی مدد سے الپوری اور خوازہ خیلہ کے درمیان طویل عرصے سے مطلوب ٹنل منصوبہ اب تصوراتی طور پر مکمل کر لیا گیا ہے۔ جو کام برسوں سے خواب تھا، وہ اب واضح طور پر ممکن نظر آ رہا ہے، ایک محفوظ، تیز اور خطے کے لیے ایک اسان راستہ۔

یہ ایک سنجیدہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ جب ایسا حقیقت کے قریب تصور آسانی سے سامنے لایا جا سکتا ہے، تو یہ منصوبہ ابھی تک عملی طور پر کیوں مکمل نہیں ہو سکا؟ یہ تاخیر صرف ترقی کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کی ناکامی ہے۔

یہ ٹنل کوئی عیاشی نہیں، بلکہ شانگلہ اور سوات کے عوام کی بنیادی ضرورت ہے۔
بشکریہ: اے آئی

د چاچې عقل پوخ شي په زیاتره موضوعاتو کې چپ پاتې کيږي.
26/01/2026

د چاچې عقل پوخ شي په زیاتره موضوعاتو کې چپ پاتې کيږي.

04/04/2024

Coal Miners Unveiled Part 2

29/03/2024

Coal Miners 💔
ملګرو دا زما دوېم ويلاګ دے زما به دا کوشش وي چې د کوېلې زړه چاودې ژوند او پوره طریقه کار تاسو ته اوښاېم

26/03/2024

My first Vlog Somewhere in Balochistan

Address

Al Malqa District, Al Waj Street Riyadh
Riyadh
13521

Telephone

+92535753756

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aslam Unfiltered posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Aslam Unfiltered:

Share