04/07/2025
*Hassan Aur Hussain (AS) - Molana Ishaq*
- آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ دونوں ( حسن اور حسین رضی اللہ عنہما) دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر ۳۷۵۳)
- نبی اکرم ﷺ نے حسن اور حسین رضی الله عنہما کو دیکھا تو فرمایا: اللهم إني أحبهما فأحبهما ”اے ﷲ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان دونوں سے محبت فرما“۔ (جامع ترمذی حدیث نمبر ۳۷۸۲)
- رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا: ”حسن اور حسین اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں“ (جامع ترمذی حدیث نمبر ۳۷۶۸)
- رسول ﷲ ﷺ حضرت امام حسینؓ کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے تو ایک شخص نے کہا: بیٹے! کیا ہی اچھی سواری ہے جس پر تو سوار ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”اور سوار بھی کیا ہی اچھا ہے“۔ (جامع ترمذی حدیث نمبر ۳۷۸۴)
- رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا: ”حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں ﷲ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے، (جامع ترمذی حدیث نمبر ۳۷۷۵)
---
علامہ اقبالؒ نے اشعار کی کثیر تعداد میں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خراج عقیدت پیش کیا ہے جن میں سے کچھ اشعار درج ذیل ہیں۔
غريب و سادہ و رنگيں ہے داستان حرم
نہايت اس کی حسين ، ابتدا ہے اسماعيل
﴿اسلام کی داستان (تعلیم) بہت انوکھی اور آسان اور دلکش ہے۔ اس کی ابتدا حضرت اسماعیل کی قربانی سے ہوتی ہے اور انتہا حضرت حسین کی قربانی پر ہوتی ہے۔ یعنی اسلام اللہ کی راہ میں جان اور مال دونوں کو قربان کر دینے کا نام ہے۔ پس جو شخص اسلام کا مدعی ہو اسے ان دونوں بزرگوں کے نقشِ قدم پر چلنا چاہیے﴾
(بالِ جبریل (غزلیات حصہ دوم) غزل نمبر ۴۲ شعر نمبر۷)
در نواۓ زندگی سوز از حسینؓ
اہل حق حریت آموز از حسینؓ
﴿زندگی کے نغمے میں صرف حضرت امام حسینؓ کی وجہ سے سوز پیدا ہوا اور اہل حق نے انہیں سے آزادی کا سبق لیا﴾
(رموزِ بیخودی، درمعنی ایں کہ سیدۃ النسا فاطمہ الزہراء اسوہ کاملہ ایست براے نساء اسلام، شعر نمبر ۱۰)
گرچہ ہر مرگ است بر مومن شکر
مرگِ پورِ مرتضٰیؓ چیزے دگر
﴿اگرچہ مرد مومن کے لیے ہر موت شکر کی طرح شیریں ہے لیکن حضرت علیؓ مرتضٰی کے فرزند (امام حسینؓ جنہوں نے باطل قوت سے ٹکرا کر کربلا میں شہادت پائی ) کی موت کچھ اور ہی چیز ہے﴾
(جاوید نامہ، آں سوۓ افلاک، پیغام سلطان شہید بہ رود کاویری، شعر نمبر ۳۷)
آں امامِ عاشقاں پورِ بتولؓ
سروِ آزادے ز بستانِ رسولؐ
﴿وہ (حضرت امام حسینؓ) عاشقوں کے امام اور پیشوا حضرت فاطمہ کے فرزند ارجمند جنہیں رسول اللہ ﷺ کے باغ میں سروآزاد کی حیثیت حاصل تھی﴾
(رموزِ بیخودی، درمعنی حریت اسلامیہ و سرِّ حادثہ کربلا، شعر نمبر ۱۵)
بہر آں شہزادہ خیر الملل
دوشِ ختم المرسلین نعم الجمل
﴿سب سے بہتر امت یعنی ملت اسلامیہ کے اس شہزادے (حضرت امام حسین) کی شان یہ تھی کہ رسولوں کے خاتم (حضور اکرم ﷺ) کا کندھا مبارک اس کے لیے اچھی سواری قرار پایا﴾
(رموزِ بیخودی، درمعنی حریت اسلامیہ و سرِّ حادثہ کربلا، شعر نمبر ۱۷)
در میانِ امت آں کیواں جناب
ہمچو حرفِ قل ھو ﷲ در کتاب
﴿امام حسین رضی اللہ عنہ کا رتبہ بلندی میں آسمان کے برابر تھا۔ امت کے درمیان ان کی حیثیت وہی تھی جو سورۂ اخلاص ( قل ھو اللہ) کو قرآن کے درمیان حاصل ہے۔ یعنی جس طرح سورۂ اخلاص کو قرآن مجید میں ایک خاص حیثیت حاصل ہے اسی طرح حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو ملت اسلامیہ میں ایک خاص حیثیت حاصل ہے﴾
(رموزِ بیخودی، درمعنی حریت اسلامیہ و سرِّ حادثہ کربلا، شعر نمبر ۱۹)
موسیٰ و فرعون و شبیر و یزید
ایں دو قوت از حیات آید پدید
﴿موسیٰ اور فرعون، شبیر اور یزید یہ دو قوتیں ہیں جو زندگی سے ظاہر ہوئیں۔ ان میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ حق کے علم بردار تھے۔ فرعون اور یزید نے باطل کی پاسداری کی۔ دونوں قوتیں ابتدا سے چلی آتی ہیں اور ان کے درمیان کشمکش بھی ہوتی رہی ہے﴾
(رموزِ بیخودی، درمعنی حریت اسلامیہ و سرِّ حادثہ کربلا، شعر نمبر ۲۰)
سر ابراہیم و اسمعیل بود
یعنی آں اجمال را تفصیل بود
﴿حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ، حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کے آئینہ دار تھے، یعنی وہ قربانی جو اجمال کی حیثیت رکھتی تھی، اس کی تفصیل امام حسین رضی اللہ عنہ نے پیش کر دی۔ (مراد یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے غیبی اشارے سے اپنے بیٹے کی قربانی کا فیصلہ کر لیا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی راہ خدا میں جان دینے کے لیے تیار ہو گئے لیکن ﷲ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آخری وقت پر روک دیا اور قربانی کی نوبت نہ آئی۔ اسی واقع کی یادگار میں عیدالاضحیٰ کی قربانیاں ملت اسلامیہ کا شعار بن گئیں۔ فدینہ بذبح عظیم (ہم نے ایک بھاری قربانی کو اس کا فدیہ کر دیا) کے اصل معنی یہی تھے۔ اقبال کہتے ہیں کہ قربانی کی نوبت نہ آئی، اگرچہ پورے سامان جمع ہو چکے تھے اس لیے یہ معاملہ اجمال کی منزل میں رہا۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی اور اقرباء و رفقا کی جانیں راہ حریت میں بے دریغ قربان کر دیں۔ یوں اجمال کو تفصیل کے دائرے میں پہنچا دیا﴾
(رموزِ بیخودی، درمعنی حریت اسلامیہ و سرِّ حادثہ کربلا، شعر نمبر ۲۹)
خونِ او تفسیر ایں اسرار کرد
ملت خوابیدہ را بیدار کرد
﴿حضرت امام حسینؓ کے خون نے دین حقہ اسلام کا یہ راز کھول کر بیان کر دیا اور سوئی ہوئی ملت کو جگا دیا ۔ یعنی ملت اس حق سے غافل تھی امام حسین نے اس کی غفلت دور کر دی﴾
(رموزِ بیخودی، درمعنی حریت اسلامیہ و سرِّ حادثہ کربلا، شعر نمبر ۳۳)
تیغ لا چوں از میاں بیروں کشید
از رگِ اربابِ باطل خوں کشید
﴿انھوں (حضرت امام حسینؓ)نے لا کی تلوار میان سے باہر کھینچی تو صاحبان باطل کی رگوں سے خون نکال دیا﴾
(رموزِ بیخودی، درمعنی حریت اسلامیہ و سرِّ حادثہ کربلا، شعر نمبر ۳۴)
نقش الا ﷲ بر صحرا نوشت
سطرِ عنوانِ نجاتِ ما نوشت
﴿انھوں (حضرت امام حسینؓ) نے الا ﷲ یعنی توحید کا نقش صحرا کے سینے پر بٹھا دیا۔ یہ نقش۔ ہماری نجات کے عنوان کی سطر لکھ دی﴾
(رموزِ بیخودی، درمعنی حریت اسلامیہ و سرِّ حادثہ کربلا، شعر نمبر ۳۵)