24/03/2026
ali:::کہا جاتا ہے کہ ایک سنسان رات میں، جب آسمان پر بادل گرج رہے تھے اور نہر کے کنارے ہوائیں سیٹیاں بجا رہی تھیں، لوگوں نے پانی میں کچھ عجیب سا تیرتا ہوا دیکھا۔ پہلے تو سب نے اسے کوئی کپڑا یا لاش سمجھا، مگر جب قریب جا کر دیکھا تو ہر کسی کی چیخ نکل گئی۔ وہ ایک بچہ تھا… لیکن عام بچہ نہیں۔ اس کے دو سر تھے — اور سب سے ہولناک بات یہ تھی کہ وہ زندہ تھا۔ دونوں چہروں کی آنکھیں کھلی تھیں، جیسے وہ خاموشی سے سب کو گھور رہا ہو۔
کہتے ہیں کہ اس بچے کے دونوں سروں کے ہونٹ ہل رہے تھے، جیسے وہ آہستہ آہستہ کچھ سرگوشی کر رہا ہو۔ نہر کے پانی میں عجیب سی بدبو پھیل گئی تھی اور فضا میں ایک انجان سا خوف تیرنے لگا تھا۔ لوگ خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹ گئے، مگر ایک فیملی، جو اولاد سے محروم تھی، اسے “اللہ کی نشانی” سمجھ کر اپنے گھر لے گئی۔
شروع میں محلے والوں کو لگا کہ وہ نیکی کا کام کر رہے ہیں، مگر اسی رات اس گھر سے عجیب آوازیں آنے لگیں۔ کبھی بچے کے رونے کی آواز، کبھی دو مختلف لہجوں میں ہنسی، اور کبھی دیواروں پر کسی کے ناخن رگڑنے جیسی خراشیں۔ پڑوسیوں نے بتایا کہ آدھی رات کو اس گھر کی کھڑکیوں میں دو مختلف سائے نظر آتے تھے، جو ایک دوسرے سے الگ حرکت کر رہے ہوتے تھے۔
اگلی صبح افواہیں پھیل گئیں اور پولیس کو اطلاع دی گئی۔ جب پولیس دوسرے دن اس فیملی کے گھر پہنچی تو دروازہ اندر سے لاک تھا۔ بار بار دستک دینے کے باوجود کوئی جواب نہ آیا۔ آخرکار دروازہ توڑ دیا گیا۔
اندر کا منظر دیکھ کر پولیس والوں کے بھی رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ گھر مکمل طور پر خالی تھا۔ نہ کوئی فیملی، نہ وہ بچہ۔ صرف دیواروں پر عجیب سے نشانات تھے، جیسے کسی نے گیلے ہاتھوں سے بار بار دیوار کو چھوا ہو۔ فرش پر پانی کے نشان تھے جو کمرے کے بیچ جا کر اچانک غائب ہو جاتے تھے… جیسے کوئی چیز ہوا میں تحلیل ہوگئی ہو۔
گھر کی دیوار پر سرخ رنگ سے ایک جملہ لکھا تھا: “ہم واپس آئیں گے…”
آج تک نہ اس فیملی کا کوئی سراغ ملا، نہ اس دو سروں والے بچے کا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں وہ نہر اب بھی رات کو سرگوشیاں کرتی ہے۔ اور جو بھی آدھی رات کے بعد وہاں جاتا ہے، اسے پانی میں دو چمکتی ہوئی آنکھیں نظر آتی ہیں… جو اندھیرے میں گھور رہی ہوتی ہیں۔ 😱