All About Attock

Call Website Contact the business

All About Attock تاریخ،تاریخی مقامات، لوک ورثہ، ثقافت،زراعت،باغبانی،مویشی پالنا،کاروبار،اٹک کا ٹیلنٹ،غربت سے کامیابی تک کی کہانیاں،

آج سے دو دن بعد رات کو تارا 🌠 طلوع ہو جائے گا۔22 بدرہ (بھادوں) کو تارا 🌠 طلوع ہوتا ہے اور پیور دیسی موسمی فورکاسٹ کے مطا...
05/09/2026

آج سے دو دن بعد رات کو تارا 🌠 طلوع ہو جائے گا۔
22 بدرہ (بھادوں) کو تارا 🌠 طلوع ہوتا ہے اور پیور دیسی موسمی فورکاسٹ کے مطابق ہم سردیوں میں داخل ہو جاتے ہیں کیونکہ 22 بدرہ کے بعد مکھی مچھر کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور مویشی رکھنے والے دوست پھر مال مویشی کے لئے دھواں نہیں لگاتے۔
22 بدرہ کے ٹھیک ایک ہفتہ کے بعد اسوج (اَسُوں) شروع ہو جاتا ہے اور اَسُوں میں صبح کے وقت شمال کی طرف سے ہوائیں چلتی ہیں جو کہ نارمل سے ٹھنڈی ہوتی ہیں اور درجہ حرارت گرانے میں کافی مدد دیتی ہیں۔۔۔👍

نالے ختم کریں گے تو پانی کہاں جائے گا؟اوپر والی تصویر صرف بات سمجھانے کے لیے ہے، جبکہ نیچے والی تصویر نقشے سے لی گئی ہے۔...
02/09/2026

نالے ختم کریں گے تو پانی کہاں جائے گا؟

اوپر والی تصویر صرف بات سمجھانے کے لیے ہے، جبکہ نیچے والی تصویر نقشے سے لی گئی ہے۔ اس حوالے سے مزید نقشے بھی موجود ہیں جو اس مسئلے کی حقیقت کو مزید واضح کرتے ہیں۔

ہم زیادہ لمبی بات نہیں کریں گے، سیدھی بات کریں گے۔

اسلام آباد ہو یا راولپنڈی، گزشتہ برسوں میں بننے والی بہت سی ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور تعمیراتی منصوبوں نے قدرتی نالوں کے راستے محدود کیے، کہیں انہیں ختم کیا گیا، کہیں ان پر تعمیرات ہوئیں اور کہیں ان کی گزرگاہ اس قدر تنگ کر دی گئی کہ بارش کے پانی کے لیے مناسب راستہ ہی باقی نہیں رہا۔

اب سوال یہ ہے کہ بارش کا پانی کہاں جائے؟

نالہ ختم کر دینے سے پانی ختم نہیں ہو جاتا۔ پانی آج بھی وہیں سے گزرنے کی کوشش کرتا ہے جہاں سے وہ صدیوں سے بہتا آیا ہے۔ جب اس کا قدرتی راستہ بند یا تنگ ہو جائے تو پانی سڑکوں، گلیوں اور بالآخر گھروں کا رخ کرتا ہے۔

پھر ہم سیلابی پانی کو الزام دیتے ہیں، موسم کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور متاثرہ شہریوں کو نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پانی اپنا راستہ خود بناتا ہے، لیکن اگر ہم نے اس کا راستہ چھین لیا تو وہ ہمارے گھروں کا راستہ اختیار کرے گا۔

آخر اس مسئلے کا حل کیا ہے؟

حل بہت سیدھا ہے:

قدرتی نالوں اور برساتی گزرگاہوں کو ان کا مناسب راستہ واپس دیا جائے۔
جہاں نالے تنگ کیے گئے ہیں وہاں ان کی گنجائش کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، غیر قانونی یا خطرناک تجاوزات ختم کی جائیں اور نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی منصوبہ بندی میں قدرتی ڈرینج سسٹم کو بنیادی حیثیت دی جائے۔

ورنہ مسئلہ ہر سال وہیں رہے گا، پانی بھی وہیں آئے گا، اور ہر مون سون کے بعد ہم صرف یہ سوال کرتے رہیں گے:

"آخر اسلام آباد اور راولپنڈی میں بارش کا پانی گھروں میں کیوں داخل ہو جاتا ہے؟"

جبکہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے:

"ہم نے پانی کے قدرتی راستے بند کیوں کیے؟"

مسئلہ پانی کا نہیں، پانی کے راستے کا ہے۔

02/09/2026

جنڈ سے تعلق رکھنے والے ہمارے بہت ہی پیارے بھائی اور دوست Fakhr Ud Din Awan اور Malik Muhammad Din Awan کی دکان جو کہ گولڑہ شریف کی سرزمین پر واقع تھی پانی کی نظر ہو گئی😭
آپ کے اس نقصان پر دلی دکھ ہوا اللہ تعالیٰ بہترین نعم البدل عطا فرمائے آمین ثم آمین

1910 میں راولپنڈی شہر کی آبادی کتنی تھی اور اس کے بعد ضلع میں دوسرا بڑا شہر کون سا تھا۔ یہ سوال تھوڑا مشکل اور  بے تکا س...
01/09/2026

1910 میں راولپنڈی شہر کی آبادی کتنی تھی اور اس کے بعد ضلع میں دوسرا بڑا شہر کون سا تھا۔ یہ سوال تھوڑا مشکل اور بے تکا سا تھا لیکن اس کی ایک وجہ تھی کہ 1910 کے راولپنڈی ضلع کے گزٹ میں جس آبادی کا زکر ہے، وہ بتانا مقصود تھی تاکہ اس وقت سے اب تک ہونے والے اضافے کے ہوشربا اعدادوشمار کا تجزیہ کیا جا سکے اور تیزی سے بڑھتی آبادی کے اثرات کو محسوس کیا جا سکے۔
1910 کے وقت راولپنڈی ضلع میں موجودہ ضلع راولپنڈی، ضلع مری اور موجودہ ضلع اٹک کا سارا علاقہ شامل تھا۔ تلہ گنگ اس وقت تک اٹک یا کیبلپور کا حصہ نہیں بنا تھا۔
اس وقت ضلع راولپنڈی کی ٹوٹل آبادی کوئی 850،000 نفوس کے لگ بھگ تھی یعنی مری سے لے کر پنڈی گھیب تک موجودہ تین اضلاع، راولپنڈی، مری اور اٹک کی ٹوٹل آبادی۔
راولپنڈی شہر جو راجہ بازار کے آس پاس تھا، اس کی آبادی 27000 اور کینٹ یعنی چھاونی کی آبادی کوئ 28000، ٹوٹل 55 ہزار کے قریب اور اس کے بعد پورے ضلع میں تحصیلیں ہونے کے باوجود کوئی قابل زکر شہر نہیں تھا۔ گوجر خان، کہوٹہ، فتح جنگ، مری، اٹک اور پنڈی گھیب نمایاں قصبے کہلائے جا سکتے تھے جن میں سب سے بڑا پنڈی گھیب تھا جس کی اس وقت کی آبادی 8 ہزار کے لگ بھگ تھی۔ اب ان علاقوں کے سیکڑوں دیہات 8 ہزار سے زائد آبادی والے ہوں گے۔ صرف سو سوا سو سال میں آبادی کہاں سے کہاں تک پہنچ گئی اور مزید بڑھے جا رہی ہے جس سے آپ اگلے سو سال بعد کی آبادی کا تصور کر سکتے ہیں اور اس کے لیے کیا کیا وسائل اور سہولتیں درکار ہوں گی، اس کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے
ملک اعجاز جسیال

31/08/2026

اے سی کمروں میں بیٹھ کر رپورٹیں ایسے ہی بنتی ہیں ۔ اور اوپر سب اچھا کی رپورٹ جاتی ہے ۔ اس غلط بھیجنے پر کوئی ایکشن ہوا ہوتا تو ائیندہ کے لیے یہ کام نہ ہوتا ۔
لیکن وہ کہاوت ہے کہ
مجاں مجاں نہئں بھہناں ہوندیاں نے ۔
بس ایک دوسرے کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے بیٹھے ہیں سب ۔ کوئی خوف خدا نہیں ۔
غریب کی رسائی جہاں تک ہے اس سے ڈرو یہ نہیں کہ وہ چیز اللہ کے ہاں رپورٹ نہیں ہو رہی ہے ۔ بلکہ رسی ڈھیلی چھوڑی ہوئی ہے ۔ کسی کو ذرا زیادہ ٹائم لگ جاتا ہے ۔
ہر گاوں میں کوئی نہ کوئی سرکاری اہلکار موجود ہے ورنہ اساتذہ تو ہر جگہ موجود ہیں ۔ ان میں سے ایک کی ڈیوٹی لگائی جائے کہ جب بھی کوئی ایسی خبر ہو اسکی اطلاع فورآ تحصیل یا ضلعی انتظامیہ کو دی جائے ۔ اج کل کے دور میں کیا مشکل ہے ۔ اور ہر ضلعے کی سطح پر ایسی صورت حال سے نبٹنے کے لیے ایسا نیٹ ورک کا ہونا ضروری ہے ۔ جو بروقت کاروائی کر کے قیمتی جان ومال کو بچا سکے ۔ لیکن کرے گا کون جس کے اندر خوف خدا اور احساس ہوگا ۔

واہ کینٹ لائق علی چوک ۔۔حیدر آباد دکن ریاست کے آخری وزیر اعظم میر لائق علی کے نام سے بنا جو واہ کینٹ کے اولین چیئر مین ب...
30/08/2026

واہ کینٹ لائق علی چوک ۔۔حیدر آباد دکن ریاست کے آخری وزیر اعظم میر لائق علی کے نام سے بنا جو واہ کینٹ کے اولین چیئر مین بنے وہاں سے ہجرت کر کے یہاں آئے

واہ، حیدرآباد اور لائق علی چوک کا بھولا ہوا رشتہ

حیدرآباد دکن کے آخری وزیراعظم میر لائق علی خان صرف نظام میر عثمان علی خان کے قریبی عزیز ہی نہیں، ایک انجینئر اور صنعت کار بھی تھے۔ 1947-48 میں جب نوزائیدہ پاکستان کے خزانے میں تنخواہوں تک کے پیسے نہ تھے تو حیدرآباد ریاست نے ہی دل کھول کر مالی مدد کی۔ ستمبر 1948 میں بھارت نے آپریشن پولو سے ریاست پر قبضہ کیا، میر صاحب کو گھر میں نظر بند کیا گیا، پھر وہ برقعہ پہن کر بمبئی سے کراچی فرار ہو کر پاکستان آگئے۔ یہاں انہوں نے نظام کی دی ہوئی رقم سے حیدرآباد ٹرسٹ بنایا، وزارتِ دفاع میں مشیر رہے اور امریکہ میں پاکستان کے خصوصی سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

پاکستان کے پاس اس وقت ایک بھی اسلحہ فیکٹری نہ تھی، 16 فیکٹریاں سب بھارت میں رہ گئی تھیں۔ اسی کمی کو پورا کرنے کے لیے 28 دسمبر 1951 کو واہ کینٹ میں POF کی بنیاد رکھی گئی۔ ابتدائی مشکل دنوں میں اس ادارے کو چلانے کے لیے جس تجربہ کار مدبر کی ضرورت تھی، وہ میر لائق علی ہی تھے۔ انہیں واہ فیکٹری کا پہلا اعزازی چیئرمین اور منتظم مقرر کیا گیا، اور مقامی تاریخ کے مطابق واہ کی اس مارکیٹ اور انوار چوک کا سنگِ بنیاد بھی انہی کے ہاتھوں رکھا گیا جو بعد میں لائق علی چوک کہلایا۔

ساٹھ کی دہائی میں جس چوک کے پہلو میں آپ جے اینڈ کے پرائمری سکول میں پڑھتے تھے، آج شاید اس کی تختی بھی باقی نہ ہو۔ اگر نام مٹ گیا تو نئی نسل کیسے جانے گی کہ واہ کو بسانے والا ایک ایسا ہیرو تھا جس نے اپنی پوری ریاست پاکستان پر قربان کر دی تھی؟ یہ چوک اینٹ پتھر نہیں، اس وطن کے ان گمنام محسنوں کا قرض ہے جنہیں یاد رکھنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔

واہ فیکٹری کی تعمیر کا آغاز مئی 1949 کو ہوا اور افتتاح دسمبر 51 میں ہوا
میر لائق علی صاحب پیشے کے لحاظ سے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ انجینئر اور نامور صنعت کار تھے۔ اسی تکنیکی مہارت کی بنیاد پر انہوں نے پاکستان آرڈیننس فیکٹریز (POF) واہ کے قیام، اس کے پلانٹ کے ڈیزائن، تکنیکی ڈھانچے کی تیاری اور ابتدائی تعمیراتی مراحل میں بطورِ مشیر انتہائی اہم کردار ادا کیا.
انہی خدمات کے پیش نظر لائق علی چوک ان کے نام پر ہے
اکتوبر 71 میں وہ پاکستان کے سرکاری وفد کے ساتھ امریکہ گئے جہاں وہ دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے اور ان کی تدفین جنت البقیع مدینہ منورہ میں کی گئی

حسن ابدال, اسلام آباد کے شہری خاص طور پر متوجہ ہوں۔۔ پانچ ماہ سے یہ معصوم اپنی  #ماں کا منتظر ہے…24 مارچ 2026 کا دن تھا...
28/08/2026

حسن ابدال, اسلام آباد کے شہری خاص طور پر متوجہ ہوں۔۔
پانچ ماہ سے یہ معصوم اپنی #ماں کا منتظر ہے…
24 مارچ 2026 کا دن تھا، جب یہ معصوم بچہ تھانہ سٹی حسن ابدال کی حدود سے لاوارث حالت میں ملا تھا۔ یہ بچہ ڈاؤن سنڈروم کا شکار ہے اور اپنے نام، گھر، والدین یا خاندان کے بارے میں کچھ بھی بتانے سے قاصر ہے۔
پانچ ماہ گزر چکے ہیں… مگر نہ جانے اس کی ماں اپنے لختِ جگر کی تلاش میں کہاں کہاں بھٹک رہی ہوگی، کتنی دعائیں مانگ رہی ہوگی اور ہر آہٹ پر اپنے بچے کے لوٹ آنے کی امید لگائے بیٹھی ہوگی۔
یہ معصوم اپنی زبان سے اپنے گھر کا راستہ نہیں بتا سکتا،
اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ ممکن ہے آپ کا ایک شیئر اس معصوم کو اس کی ماں تک پہنچا دے۔
ایک ماں اپنے بچے کے انتظار میں ہے، اور ایک معصوم بچہ اپنی ماں کے انتظار میں…
رابطہ نمبر: 03090000015
کیس نمبر: 27715829

پمز ہسپتال میں آگ لگنا ایک حادثہ تھا .ایسے حساس علاقے , دارلخلافہ میں واقع , انتہائی اہم ہسپتال میں انتظام اتنے جدید ہون...
26/08/2026

پمز ہسپتال میں آگ لگنا ایک حادثہ تھا .

ایسے حساس علاقے , دارلخلافہ میں واقع , انتہائی اہم ہسپتال میں انتظام اتنے جدید ہونے چائیے تھے کہ ایسا حادثہ رونما ہی نہ ہوتا .
اس سے بڑھ کر شرمناک وہ خبریں ہیں جو والدین اور مریضوں کے لواحقین اپنی زبانی لائیو بیان کر رہے ہیں . انتہائی قابل غور ہیں کہ حفاظتی انتظامات , امدادی ٹیموں کا تاخیر سے پہنچنا , والدین کا آگ کے باوجود , تالے , کھڑکیاں , شیشے توڑ کر بچوں کو نکالنا , انتہائی شرمناک عمل ہے
َ. اللّہ سبکو ایسے حالات سے محفوظ رکھے , کسی ہسپتال کے ساتھ ایسا اندوہناک واقعہ پیش نہ آئے لیکن اسلام آباد جیسا شہر اور اتنی بد انتظامی دیکھ کر
حقیقت میں احساس ہوا کہ ہمارے اٹک میں کم از کم انتظامیہ , اور حفاظتی عملے کی ایسی غفلت کبھی نہیں دیکھی گئی .
ہزار خرابیاں ہونگی لیکن ہماری ہسپتالوں کا عملہ , ریسکیو کی ٹیمیں اور انتظامیہ , ہزار درجہ بہتر ہے , اللّه انہیں بھی ہمیشہ ایسی نا گہانیوں سے محفوظ رکھے .
وزیر صحت کی درجن بھر مائیک سینے پر سجاے , اور درجن بھر کیمرے اور روسٹرم سجا کر وہاں آنا از خود ایک گھٹیا حرکت ہے
آپ کیا کہیں گے ? کیا تسلی دیں گے ? آپکے ایکشن نظر آنے چائیں .
واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتے وزارت کو چھوڑیں , نااہل و نالائق عملہ کو فارغ کریں .
آپ کچھ بھی کر لیں آپ ان والدین کے دکھ کا ازالہ نہیں کر سکتے , انکا دکھ , انکا غصہ , انکا رویہ سمجھ آتا ہے .
فوری طور پر موقع پر مائیک سجا کر , رٹی رٹائی تقریروں اور مصنوی فقروں کا دور گزر چکا ہے .
اللّہ میرے وطن عزیز پر رحم کرے , نالائق , نااہل اور بدنام زمانہ وزیروں, افسران سے جان چھڑائے .
امجد اقبال ملک
Voice of Attock

26/08/2026

نظام پر لعنت ہے۔۔!! ان کے کتوں کی بھی سیکیورٹی ہوتی ہے لیکن یہاں بچے جل چکے ہیں، متاثرہ باپ کی دل چیر دینے والی گفتگو

’’پاکستان زندہ باد‘‘ — یہ صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ سپاہی مقبول حسین کی پوری زندگی کی پہچان بن گیا۔ بھارتی قید میں 40 سال ت...
14/08/2026

’’پاکستان زندہ باد‘‘ — یہ صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ سپاہی مقبول حسین کی پوری زندگی کی پہچان بن گیا۔ بھارتی قید میں 40 سال تک ناقابلِ تصور اذیتیں برداشت کرنے کے باوجود انہوں نے وطن کے خلاف ایک لفظ کہنا گوارا نہ کیا۔

سپاہی مقبول حسین 1965 کی جنگ کے دوران کشمیر کے محاذ پر دشمن کے خلاف لڑ رہے تھے۔ ایک کارروائی کے دوران بھارتی اسلحے کے ڈپو کو تباہ کرنے کے بعد واپسی پر وہ زخمی ہوگئے۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ آگے بڑھیں، وہ دشمن کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی دوران وہ بھارتی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہوگئے۔

بھارتی فوج نے ان سے جنگی معلومات حاصل کرنے کے لیے شدید تشدد کیا۔ انہیں بھوکا پیاسا رکھا گیا، ناخن تک اکھاڑ دیے گئے اور مسلسل اذیتیں دی گئیں۔ بھارتی اہلکاروں نے انہیں پاکستان کے خلاف نعرہ لگانے پر مجبور کرنے کی کوشش کی، مگر سپاہی مقبول حسین کے عزم میں کوئی لرزش نہ آئی۔

جب ان سے ’’پاکستان مردہ باد‘‘ کہنے کو کہا گیا تو انہوں نے پوری قوت سے ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کا نعرہ بلند کیا۔ دشمن نے غصے میں ان کی زبان کاٹ دی تاکہ وہ دوبارہ نعرہ نہ لگا سکیں، لیکن ان کا جذبۂ حب الوطنی نہ چھین سکا۔

زبان سے نعرہ لگانے کی طاقت چھن جانے کے بعد سپاہی مقبول حسین نے اپنے خون سے دیوار پر ’’پاکستان زندہ باد‘‘ لکھ کر دنیا کو بتا دیا کہ وطن سے محبت آواز کی محتاج نہیں۔

تقریباً 40 سال بھارتی قید میں گزارنے کے بعد وہ 2005 میں رہا ہوئے۔ طویل قید اور اذیتوں کے باعث ان کی شناخت بھی مشکل ہوگئی تھی، بعد ازاں ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ان کی شناخت کی گئی۔

سپاہی مقبول حسین کی بے مثال قربانی اور حب الوطنی کے اعتراف میں انہیں ستارۂ جرأت سے نوازا گیا۔

18 اگست 2018 کو سپاہی مقبول حسین اس دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن ان کی داستانِ شجاعت آج بھی پاکستانی قوم کے لیے عزم، وفاداری اور حب الوطنی کی روشن مثال ہے۔

قوم اپنے محسنوں اور وطن کے لیے قربانیاں دینے والے بہادر سپاہیوں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سپاہی مقبول حسین کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔

Address

Attock

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when All About Attock posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to All About Attock:

Shortcuts

Share