All About Attock

All About Attock تاریخ،تاریخی مقامات، لوک ورثہ، ثقافت،زراعت،باغبانی،مویشی پالنا،کاروبار،اٹک کا ٹیلنٹ،غربت سے کامیابی تک کی کہانیاں،
(1)

12/05/2026

پاکستان کی سب سے بڑی کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کی گرفتاری اور عدالت میں پیشی
پولیس نے ملزمہ پنکی کو بغیر ہتھکڑی پروٹوکول میں عدالت میں پیش کیا

میرا تعلق ضلع اٹک کے ایک ا پسماندہ گاؤں  کوٹ سونڈکی سے ہے جہاں غربت اور محرومی دیواروں پر لکھی نظر آتی تھی۔ وہ ایک ایسا ...
12/05/2026

میرا تعلق ضلع اٹک کے ایک ا پسماندہ گاؤں کوٹ سونڈکی سے ہے جہاں غربت اور محرومی دیواروں پر لکھی نظر آتی تھی۔ وہ ایک ایسا گوشہِ تنہائی تھا جہاں ترقی کا کوئی راستہ نہ پہنچ سکا تھا۔ گاؤں تک آنے کے لیے کوئی سڑک نہیں تھی، گاڑی تو بہت دور کی بات ہے، کچی پگڈنڈیاں اتنی دشوار تھیں کہ گدھا گاڑی کا چلنا بھی محال تھا۔ ہم ایک ایسے جزیرے میں قید تھے جہاں باہر کی دنیا کا علم صرف قصے کہانیوں تک محدود تھا۔ہمارا گاؤں جہاں پسماندگی کی دھول میں لپٹا ہوا تھا، وہیں قدرت کے رحم و کرم پر بھی ہےا۔ یہ ایک بارانی علاقہ ہے، جہاں زمین سونا تو اگلتی ہے مگر تب، جب بادل برسیں

ر
ایسے کٹھن ماحول میں زندگی گزارنا ایک مسلسل جدوجہد تھی۔ روزی روٹی کا واحد ذریعہ وہی زمین تھی جسے میرے والد گائے اور بیلوں کی مدد سے سینچتے تھے۔ صبح کی پہلی کرن پھوٹنے سے پہلے ہی وہ مال مویشیوں کی فکر میں لگ جاتے اور پھر سارا دن تپتی دھوپ ہو یا یخ بستہ سردی، ان کے قدم چلتے رہتے تھے
دنیا کی نظر میں وہ ایک عام سے کاشتکار تھے، جن کا اوڑھنا بچھونا مٹی اور مشقت تھی، لیکن میرے لیے وہ ایک ایسی درسگاہ تھے جہاں سے میں نے ہمت اور غیرت کا سبق سیکھا۔ ایک ایسے پسماندہ گاؤں میں، جہاں سہولتوں کے نام پر صرف کچی راہیں اور محدود وسائل تھے، وہاں میرے والد نے ہم سات بہن بھائیوں کے لیے وہ خواب دیکھے جو اس زمانے کے ماحول میں ناممکن لگتے تھے۔

ہمارے گاؤں میں تعلیم کا نام و نشان برائے نام تھا۔ ایک ادنیٰ سا مڈل سکول تھا جس کی عمارت شاید ان کے حوصلوں سے بھی زیادہ شکستہ تھی۔ جب وسائل اتنے کم ہوں کہ تانگہ بھی گاؤں کا راستہ نہ پائے، تو وہاں اعلیٰ تعلیم کا سوچنا بھی ایک جرم سمجھا جاتا تھا۔ لیکن میرے والد ایک الگ مٹی کے بنے ہوئے تھے۔ انہوں نے طے کر لیا تھا کہ اپنے بچوں کواس پسماندگی کی دھول میں دفن نہیں ہونے دینا۔

سات بچوں کی پرورش اور ان سب کو اعلیٰ تعلیم دلوانا کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ انہوں نے اپنی ہر خواہش کا گلا گھونٹا تاکہ ہماری کتابوں اور فیسوں میں کبھی کمی نہ آئے۔ کئی بار ایسا ہوا ہوگا کہ ان کی جیب خالی ہوگی، لیکن ان کے چہرے کے اطمینان نے ہمیں کبھی اس کا احساس نہیں ہونے دیا۔ وہ خود ٹوٹتے رہے مگر ہمیں جوڑ کر رکھا۔ وہ پسماندہ گاؤں جہاں سے نکلنے کے راستے محدود تھے، وہاں سے انہوں نے ہمیں تعلیم کے وہ پر دیے جن کی بدولت آج ہم اپنی اپنی اڑان بھر رہے ہیں۔

تصور کریں، ایک ایسا باپ جس کے پاس چند کنال زمین ہےاور چند ڈھور ڈنگر ،لیکن ان کے پاس ایک غیر متزلزل عزم تھا۔ انہوں نے مال مویشیوں کی خدمت کی، روکھ سوکھی کھائی، بیلوں کے پیچھے اپنی جوانی تیاگ دی، صرف اس لیے کہ ان کے بچوں کے ہاتھ میں قلم رہے۔ انہوں نے ہمیں اس مڈل سکول سے نکال کر شہر کی بڑی یونیورسٹیوں تک پہنچایا، حالانکہ وہ خود صرف اپنانام لکھنا جانتے تھے

آج ہم جس مقام پر بھی کھڑے ہیں، یہ ہماری قابلیت نہیں بلکہ ان کے خونِ جگر کا صدقہ ہے۔ وہ جو صبح سویرے ہل چلانے نکلتے تھے، دراصل وہ زمین میں بیج نہیں بلکہ ہمارے مستقبل کی خوشحالی بو رہے ہوتے تھے۔ میرے والد صاحب صرف ایک کسان نہیں، وہ ایک عظیم معمار ہیں جنہوں نے کچی مٹی کے گھروندے میں پلنے والے بچوں کے لیے علم کے پکے محل تعمیر کیے۔

میرے والد وہ ہیرو ہیں جنہوں نے محرومیوں کے اس کالے سائے میں ہمارے لیے سورج تلاش کیا۔ ان کی سفید داڑھی کا ایک ایک بال اور ان کے ہاتھوں کا ہر نشان اس عظیم جدوجہد کا گواہ ہے جو انہوں نے ایک پسماندہ گاؤں کے کچے راستوں سے شروع کی اور ہمیں کامیابی کے پکے میناروں تک پہنچا دیا۔

اللہ ان کی ہمارے لیئے اٹھائی تمام مشقتوں اورتکلیفوں کو ان کے لیے جنت کا وسیلہ بنائے ان کی دی ہوئی اس تربیت کو ہمارے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین
زمرد علوی بن عبدالخالق

11/05/2026
تحصیل جنڈ کا بہادر سپوت لیاقت اپنی جان قربان کرکے ہمیشہ کیلئے امر ہو گیااس عظیم انسان نے اپنی زندگی کی پروا کیے بغیر دشم...
11/05/2026

تحصیل جنڈ کا بہادر سپوت لیاقت اپنی جان قربان کرکے ہمیشہ کیلئے امر ہو گیااس عظیم انسان نے اپنی زندگی کی پروا کیے بغیر دشمن کے ناپاک عزائم کے سامنے دیوار بن کر کھڑا ہو کر ایک بڑی تباہی سے بچایا اور کئی معصوم جانوں کو محفوظ بنایا لیاقت کی یہ بے مثال جرات قربانی اور بہادری ہمیشہ یاد رکھی جائے گی پوری تحصیل جنڈ اپنے اس بہادر بیٹے پر فخر کرتی ہے جس نے انسانیت کی حفاظت کیلئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اللہ تعالیٰ شہید لیاقت کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل دے۔ آمین۔

اس کرب کو لفظوں میں سمونا ناممکن ہے، جہاں ہر لفظ ایک آہ اور ہر جملہ ایک آنسو بن جائے۔ پردیس کی تنہائی میں جب انسان کے پا...
10/05/2026

اس کرب کو لفظوں میں سمونا ناممکن ہے، جہاں ہر لفظ ایک آہ اور ہر جملہ ایک آنسو بن جائے۔ پردیس کی تنہائی میں جب انسان کے پاس رونے کے لیے کوئی کندھا بھی نہ ہو، تو یہ دکھ ایک ایسی آگ بن جاتا ہے جو اندر ہی اندر وجود کو جلا ڈالتی ہے۔

پردیس کی اس نام نہاد آسودگی پر ہزار بار ماتم کرنے کا جی چاہتا ہے، جس نے مجھ سے میرا وہ آخری حق بھی چھین لیا کہ میں اپنے باپ کے چہرے کا آخری دیدار کر پاتا۔ جب موبائل کی سکرین پر گھر کا وہ مین گیٹ نظر آیا، اور پھر وہ جنازہ دھیرے دھیرے اس دہلیز سے باہر نکلا، تو مجھے لگا جیسے میرا سینہ چیر کر میرا دل نکال لیا گیا ہو۔ وہ گیٹ نہیں تھا، وہ میرے بچپن کا حصار تھا، میری کل کائنات تھی جو آج مجھ سے ہمیشہ کے لیے چھن رہی تھی۔

وہ منظر دیکھ کر کلیجہ منہ کو آ گیا کہ جس باپ نے مجھے تھک ہار کر گھر لوٹنے پر ہمیشہ بانہوں میں بھرا، آج وہ خود اسی گھر سے منوں مٹی تلے سونے کے لیے جا رہا ہے اور میں... میں ایک بے بس تماشائی کی طرح ہزاروں میل دور، ایک کانج کی سکرین پر اپنی زندگی کو لٹتے دیکھ رہا ہوں۔ میں سکرین پر ہاتھ پھیر رہا تھا، جیسے میں ان کے کفن کو چھو لوں گا، جیسے میں ان کے قدموں سے لپٹ کر انہیں روک لوں گا، لیکن وہ لیکن میں ایسا نہ کر سکا اور میری ہمت ٹوٹتی گئی۔

لوگ کہتے ہیں وقت زخم بھر دیتا ہے، لیکن پردیس میں وقت تو جیسے ٹھہر گیا ہے۔ اب جب کبھی گھر فون کروں گا، تو وہ بھاری اور شفیق آواز نہیں آئے گی۔ وہ گیٹ اب میرے لیے ایک خوفناک یاد بن گیا ہے، کیونکہ وہاں سے اب میرا باپ کبھی واپس اندر نہیں آئے گا۔ یہ کیسا سودا کیا ہم نے کہ چند روپوں کی خاطر اس ہستی کے آخری لمحات گنوا دیے جن کی ایک مسکراہٹ پر ہم اپنی جان وارنے کے دعوے کرتے تھے؟

میرے کندھے آج اس بوجھ سے نہیں جھکے کہ میں پردیس میں محنت کرتا ہوں، بلکہ اس بوجھ سے جھک گئے ہیں کہ میں اس جنازے کو کندھا نہ دے سکا۔ وہ آخری سفر، وہ ویران آنکھیں اور وہ گھر کا خاموش آنگن... اب میری عمر بھر کی تنہائی کا حصہ بن گئے ہیں۔

میرا دکھ یہ نہیں کہ وہ چلے گئے، میرا دکھ یہ ہے کہ میں انہیں جاتے ہوئے روکنا تو دور، ان کی میت کے ساتھ دو قدم چل بھی نہ سکا۔

اب میرے پیچھے وہ ہمالیہ جیسا وجود نہیں رہا جس کے ہوتے ہوئے میں خود کو دنیا کا طاقتور ترین انسان سمجھتا تھا۔
• وہ آواز اب کبھی سنائی نہیں دے گی جو فون پر کہتی تھی: "پتر! اپنا خیال رکھنا۔

یا اللہ! میں یہاں پردیس میں بے بس ہوں، نہ ان کے چہرے کو آخری بار چھو سکا، نہ انہیں اپنے ہاتھوں سے مٹی دے سکا، نہ ان کے جنازے کو کندھا دے سکا۔ میرے اس کرب اور ان آنسوؤں کو گواہ بنا کر ان کی قبر کو نور سے بھر دے۔

یا الٰہی! جس طرح انہوں نے بچپن میں میری تکلیف پر اپنا چین قربان کیا، جس طرح انہوں نے مجھے زمانے کی تپتی دھوپ سے بچایا، تو بھی آج انہیں قبر کے لی سختیوں سے محفوظ رکھنا، روزِ محشر کی تپش سے محفوظ رکھنا اور انہیں ساقیِ کوثر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ہاتھوں جامِ کوثر نصیب فرمانا۔

انا للہ وانا الیہ راجعون​انتہائی افسوسناک اور دل گرفتہ خبر ہے کہ اٹک کی معروف سماجی شخصیت اور فیس بک پیج 'آل ابوٹ اٹک' ک...
09/05/2026

انا للہ وانا الیہ راجعون
​انتہائی افسوسناک اور دل گرفتہ خبر ہے کہ اٹک کی معروف سماجی شخصیت اور فیس بک پیج 'آل ابوٹ اٹک' کے ایڈمن، محترم جناب زمرد علوی صاحب کے والدِ محترم رضائے الٰہی سے وفات پا گئے ہیں۔
ان کی نماز جنازہ کل بروز اتوار 10مئی دن 11:00بجے ان کے آبائی گاؤں کوٹ سونڈکی بمقام پنڈ اعوان میں ادا کی جائے گی
​اس دکھ کی گھڑی میں ہم علوی صاحب اور ان کے تمام اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ والد کا سایہ اٹھ جانا ایک ایسا خلا ہے جو کبھی پُر نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، انہیں جوارِ رحمت میں جگہ عطا کرے اور لواحقین کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کے لیے صبرِ جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین

صبح اسمبلی کے بعد ایک بچہ آیا… آہستہ سے بولا:“سر ۔۔ اگر سکول پرائیویٹ ہو گیا تو… کیا میں یہاں پڑھ سکوں گا؟”میرے پاس اس س...
07/05/2026

صبح اسمبلی کے بعد ایک بچہ آیا… آہستہ سے بولا:
“سر ۔۔ اگر سکول پرائیویٹ ہو گیا تو… کیا میں یہاں پڑھ سکوں گا؟”
میرے پاس اس سوال کا کوئی سیدھا جواب نہیں تھا۔
کیونکہ مسئلہ کتابوں یا عمارت کا نہیں… اب بات رسائی کی ہو رہی ہے۔
حکومت کہہ رہی ہے نجکاری سے معیار بہتر ہوگا۔
ہو سکتا ہے۔
لیکن ایک سادہ سا سوال ہے:
جو نظام آپ خود نہیں سنبھال سکے… وہی نظام جب منافع کے اصول پر چلے گا تو کیا سب کے لیے یکساں رہے گا؟
سرکاری سکول کی سب سے بڑی خوبی یہ نہیں تھی کہ وہ بہترین تھا—
بلکہ یہ تھی کہ وہ “سب کا” تھا۔
وہ بچہ جس کے جوتے پھٹے ہوئے ہیں… وہ بھی اسی دروازے سے داخل ہوتا تھا جس سے کسی افسر کا بیٹا۔
نجکاری آتی ہے تو دروازہ وہی رہتا ہے…
بس اندر جانے کی شرط بدل جاتی ہے۔
اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم اسے “اصلاح” کہہ رہے ہیں۔
اصل سوال شاید یہ نہیں کہ سکول بہتر ہوں گے یا نہیں—
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم آہستہ آہستہ اپنی ذمہ داریاں مارکیٹ کے حوالے کر رہے ہیں؟
آج سکول… کل ہسپتال… پھر؟
یا ہم ابھی بھی اتنا پوچھ سکتے ہیں:
ریاست اگر تعلیم نہیں سنبھال سکتی… تو پھر وہ آخر سنبھال کیا رہی ہے؟

یہ بندہ کل سے لا پتہ ہے ابھی تک نہیں ملا کسی بندے کو کہیں بھی نظر آئے تو مہربانی کر کے نیچے دیے گئے نمبرپررابطہ کریں پوس...
06/05/2026

یہ بندہ کل سے لا پتہ ہے ابھی تک نہیں ملا کسی بندے کو کہیں بھی نظر آئے تو مہربانی کر کے نیچے دیے گئے نمبرپررابطہ کریں
پوسٹ کو ثواب کی نیت سے زیادہ سے زیادہ آگے شیئر کریں

ٹیپو سلطان نے جاگیرداری کا خاتمہ کیا، زمین صرف اس کی تھی جو ہل چلائے * گدی نشینوں اور مجاوروں کو نذر و نیاز لینے سے  روک...
04/05/2026

ٹیپو سلطان نے جاگیرداری کا خاتمہ کیا، زمین صرف اس کی تھی جو ہل چلائے * گدی نشینوں اور مجاوروں کو نذر و نیاز لینے سے روک دیا *بنک بنائے جن سے غریبوں اور چھوٹے تاجروں کو زیادہ منافع ملتا تھا * ہندوستان میں پہلی دفعہ مردم شماری کرائی *مجرم کو ایک درخت لگاکر پروان چڑھانے کی ذمہ داری سونپی جاتی... جتنا بڑا جرم اتنی دیر سے بڑا ہونے والا درخت* ٹیپو سلطان کو اردو اخبار کے بانی ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے*سرنگا پٹم میں جامع الامور کے نام سے یونیورسٹی قائم کی*ایک انگریز صحافی پیٹ آبیر نے لکھا... ‘ٹیپو کی شکست کے بعد مشرق کی پوری سلطنت ہمارے قدموں میں آ گری.

آج ٹیپو سلطان کا یوم شہادت ہے
وہ 20 نومبر 1750 کو پیدا ہوئے اور 4 مئی 1799 کو شہادت پائی. ان کا نام آرکاٹ کے مشہور بزرگ ٹیپو مستان ولی کے نام پر رکھا گیا، جن کے مزار پر ان کے والد حیدر علی نے بیٹے کیلئے دعا مانگی تھی.
ٹیپو نے عمر کا بڑا حصہ میدانِ جنگ میں گزرا لیکن جہاں پہلے اس زمانے کے علوم بالخصوص فنونِ سپہ گری میں مہارت حاصل کی، وہاں عربی، فارسی، انگریزی، فرانسیسی، اردو، تامل، کنڑ زبانوں پر بھی عبور حاصل کیا. اس طرح وہ بیرونی دنیا اور اس کے رجحانات اور اختراعات سے واقف ہوئے. یوں اپنی سلطنت میں کئی اصلاحات لائے. انہوں نے جاگیرداری کا خاتمہ کرکے کسانوں کو زمین کا مالک قرار دیا۔ زمین صرف اس کی تھی جو ہل چلائے.

ٹیپو سلطان بہترین منتظم اور غیر معمولی بصیرت رکھنے والے عوامی رہنما اور قائد تھے۔اپنے 17 سالہ عہدِ حکومت (1782۔1799ء) میں زراعت کی ترقی، آب رسانی کی سہولتوں میں اضافے، نہروں اور تالابوں، سڑکوں اور پلوں، بندرگاہوں اور نئے شہروں کی تعمیر، چھوٹی بڑی صنعتوں کی ترقی، فوجی و انتظامی اصلاحات اور بیرون ملک و پڑوسی حکمرانوں سے سفارتی روابط اور داخلی معاملات پر گفت و شنید جیسے اہم انتظامی و تعمیراتی امور میں الجھے رہے۔ ان کی شہادت کے بعد ملنے والے چار ہزار سے زائد خطوط کے موضوعات و مندرجات ان کی ایسی کارگزاریوں کا واضح ثبوت ہیں۔

ٹیپو سلطان نے تخت نشینی کے بعد اپنی رعایا کے نام جو پہلا سرکاری فرمان جاری کیا اس میں بلا تفریق مذہب و ملت اپنی رعایا کی اخلاقی اصلاح، ان کی خوشحالی، معاشی و سیاسی ترقی، عدل و انصاف، جاگیرداروں اور زمین داروں کے ظلم وستم سے نجات، مذہبی و لسانی و طبقاتی عصبیت کے خاتمہ، اور دفاع وطن کے لیے جان کی بازی لگادینے کا عزم کیا۔
ٹیپو سلطان مذہبی شعائر کے سختی سے پابند تھے. وہ دن بھر باوضو رہتے. فرامین پر دستخط کرتے ہوئے بسم اللہ اپنے ہاتھ سے لکھتے. لوگوں کو اپنے سامنے جھکنے سے منع کردیا تھا. انہوں نےگدی نشینوں اور مجاوروں کو نذر ونیاز لینے سے بھی روک دیا تھا.

ٹیپو سلطان فرانسیسی دستورِ جمہوریت سے متاثر ہوئے اور ایک مجلس شوریٰ قائم کی جس کا نام ’مجلس غم نباشد‘ تھا دفاعی اور خارجی امور کے سوا تمام اختیارات مجلسِ وزراء کو سونپ دئیے، جس کا میر (وزیراعلی') یعنی صدر الصدور میر صادق کو بنایا. اگرچہ میر صادق، قمر الدین خان اور ہندو وزیر پورنیا کی مخبریوں اور سازشوں نے انہیں المناک انجام تک پہنچایا. ٹیپو کے محاصرے پر انہوں نے گولہ بارود میں مٹی ملوادی اور پھر جب انگریز فوج نے قلعے میں شگاف کرلیا تو عین اسی وقت پورنیا نے محافظ فوجی کو تنخواہ تقسیم کرنے کے نام پر بلایا اور انگریز فوج بلا مزاحمت اندر داخل ہوگئی.

ٹیپو سلطان کو جدت و اختراعات کا خاص شوق تھا۔کئی شہروں کے نام بدل ڈالے۔ مثلاً بنگلور کا نام دارالسرور، کالی کٹ کا اسلام آباد، میسور کا نظر آباد، اور مینگلور کا جمال آباد رکھا۔ وزن اور پیمانوں کے نام بھی تبدیل کردیے۔نیا روپیہ جاری کیااور مختلف نسبتوں سے ان کے نام رکھے مثلاً احمدی، صدیقی، فاروقی، حیدری وغیرہ۔ سن ہجری کی جگہ سن محمدی جاری کیا، جو آغازِ نبوت سے شروع ہوتا تھا.سرنگا پٹم میں جامع الامور کے نام سے ایک یونیورسٹی بھی قائم کی.

ٹیپو سلطان نے نئی وضع کی بندوقیں اور توپیں بنوائیں، ایسی ڈھالیں تیار کرائیں جن پر تیر یا گولی کا اثر نہیں ہوتا تھا. بحریہ کا مستقل محکمہ بھی قائم کیا. بحری جہازوں کو مقناطیسی چٹانوں سے بچانے کیلئے لوہے کی جگہ تانبے کے پیندے کا استعمال ٹیپو سلطان ہی کی ایجاد ہے. فوجی میزائل(طغرق) ایجاد کرنے کا سہرا بھی انہیں کے سر تھا۔ امریکیوں نے بھی انہیں راکٹ کے بانیوں میں شمار کیا ہے.

ہندوستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ ٹیپو سلطان نے مردم شماری کرائی۔ پنچایت راج کی بنیاد رکھی۔
ٹیپو سلطان نے ہر ہر شہر، قصبہ اور قلعہ کے چار دروازے مقرر کیے جہاں پہرے دار مقرر کیے جس مقام پر چوری ہوجاتی، وہاں کے پولیس افسر کو اس کا ذمہ دار قرار دیا جاتا۔ اگر مجرم گرفتار نہ ہوسکتا تو پولیس افسران کی تنخواہ سے اس کی تلافی کی جاتی۔ ان مقامات پر جہاں ڈاکوؤں کے حملہ کا خطرہ رہتا تھا، وہاں کے رہنے والوں کو آتشیں اسلحہ رکھنے کی عام اجازت دی جاتی۔ ہر شہر میں قاضی اور ہر گاؤں میں پنچائت مقدموں کا فیصلہ کرتی۔ اپیل کیلئے صدر عدالت (ہائیکورٹ) تھی۔
ٹیپو سلطان نے مجرموں کو سزا کا ایک نیا طریقہ نکالا. مجرم کو اس کے جرم کی مناسبت سے ایک درخت لگانے اور پروان چڑھانے کی ذمہ داری سونپی جاتی۔ معمولی جرم کے لیے ایسا درخت جس کیلئے کم عرصہ لگتا اور سنگین جرم کیلئے ایسا درخت جس کیلئے کافی محنت و مہلت درکار ہوتی۔

ٹیپو سلطان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ اردو اخبار کے بانی تھے۔ 1794ء میں انہوں نے اپنی ذاتی نگرانی میں ایک ہفت روزہ جاری کیا۔ اس ہفت روزہ میں سلطنت کے مختلف علاقوں میں پھیلے ہوئے سپاہیوں کے نام سلطان کی ہدایات شائع ہوتی تھیں۔ یہ ہفت روزہ سلطان کی شہادت تک مسلسل پانچ سال پابندی سے شائع ہوتا رہا۔

ٹیپو سلطان نے غلاموں اور لڑکیوں کی خرید و فروخت بالکل بند کردی۔ ان کے لیے یتیم خانے بنائے۔ زمین داریوں کا خاتمہ کرکے مزدوروں اور کسانوں کو زمین کا مالک قرار دیا۔ زمین کو رعایا کی ملکیت قرار دیا گیا، زمین پر کسانوں کا دوامی قبضہ تسلیم کرلیا گیا۔ زمین صرف اس کی تھی جو ہل چلائے۔ ٹیپوسلطان نے احکام جاری کردیے تھے کہ جو شخص زمین کے لیے درخواست کرے،اسے اس کی ضرورت کے مطابق زمین مفت دی جائے۔ تجارت کی توسیع کے لیے بیرونی ملکوں سے روابط پیدا کیے۔ دور دور سے کاریگر بلا کر اپنے ہاں ہر قسم کی صنعتیں جاری کیں۔ دوسرے ممالک سے ریشم کے کیڑے منگوا کر ان کی پرورش و پرداخت کا طریقہ اپنی رعایا کو سکھایا۔ اس کے علاوہ جواہر تراشی اور اسلحہ سازی کے کارخانے بھی قائم کیے۔ ان کارخانوں میں گھڑی سازی اور قینچیوں کا کام بھی ہوتا تھا۔ ان کارخانوں کے قیام سے ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ضرورت کی ہر چیز سلطنت میں تیار ہونے لگی۔ درآمدات پر انحصار کم ہوگیا اور چیزیں برآمد ہونے لگیں۔ ہزاروں کو روزگار ملا۔

ٹیپو سلطان نے ایک نئی تجارتی پالیسی وضع کی جس کے تحت بیرونی ممالک ایران، ترکی اور حجاز وغیرہ سے مسلم تاجروں کو آکر تجارت کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے خصوصی رعایتیں دیں۔ خود حکومت کی زیر سرپرستی ایک بڑی تجارتی کمپنی بھی قائم کی گئی جس میں ہر شخص سرمایہ لگا کر شریک ہوسکتا تھا۔

سلطان نے جہاں جاگیرداری کو ختم کیا، وہاں سرمایہ داری کے خاتمے کے لیے بھی اقدامات کیے۔ تمام سلطنت میں رعایا، تاجروں اور کاشتکاروں کے لیے بنک جاری کیے۔ ان میں خاص بات یہ تھی کہ غریب طبقہ اور چھوٹے سرمایہ داروں کو زیادہ منافع دیا جاتا تھا۔ ان تمام اصلاحات اور سلطان کی جدوجہد کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوستان کے تمام علاقوں میں میسور سب سے زیادہ خوشحال اور سرسبز و شاداب علاقہ ہوگیا۔
کیپٹن لٹل جس نے میسور کی تیسری جنگ میں نمایاں حصہ لیا تھا، اپنی یادداشتوں میں لکھا :

’’ٹیپو کے متعلق بہت سی افواہیں سنی جاتی تھیں کہ وہ ایک جابر و ظالم حکمران ہے۔جس کی وجہ سے اس کی تمام رعایا اس سے بے زار ہے۔ لیکن جب ہم اس کے ملک میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ صنعت و حرفت کی روز افزوں ترقی کی وجہ سے نئے نئے شہر آباد ہوئے اور ہوتے جارہے ہیں۔ رعایا اپنے کاموں میں مصروف و منہمک ہے۔ زمین کا کوئی حصہ بھی بنجر نظر نہیں آتا۔ قابل کاشت زمین جس قدر بھی مل سکتی ہے اس پر کھیتیاں لہرا رہی ہیں۔ ایک انچ زمین بھی بیکار نہیں پائی گئی۔ رعایا اورفوج کے دل میں بادشاہ کا احترام اور محبت بدرجہ اتم موجود ہے۔ فوج کی تنظیم اور اس کے ہتھیاروں کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ یہ یورپ کے کسی مہذب ملک کی فوج سے کسی حالت میں پیچھے نہیں ہے"۔
ایک انگریز صحافی پیٹ آبیر نے اپنی کتاب ‘رائز اینڈ پروگریس آف برٹش پاور ان انڈیا’ میں لکھا... ‘ٹیپو کی شکست کے بعد مشرق کی پوری سلطنت ہمارے قدموں میں آ گری۔

01/05/2026

آجھ سنو مزدور دی کہانی 😭

29/04/2026

کسی بھی معاشرے میں ظلم تب تک ظلم رہتا ہے جب تک لوگ اس ظلم کو اپنی قسمت اور مقدر سمجھ لیں ۔چھوٹی بہن میں سمجھ سکتا ہوں اپ پر کتنا بڑا ظلم ہوا ہے اپ کے فائنل ایگزامز تھے فیڈرل بورڈ کے اور اپ کو ایک رات پہلے بے چھت اور بے پردہ کر دیا گیا ۔میں یا کوئی بھی ریاست کے خلاف لڑ تو نہیں سکتا میری بہن لیکن میرا اپ سے وعدہ رہا میں اپ کو انصاف دلانے کے لیے کسی بھی حد تک جاؤں گا۔خوشی اس بات کی ہو رہی ہے کہ اپ نے اس ظلم کے خلاف اواز اٹھائی اور مجھے امید ہے کہ باقی بھی جتنے لوگ ہیں جن کے ساتھ ظلم ہوا ہے وہ اواز اٹھائیں گے جب ہم سارے اواز اٹھائیں گے تو انشاءاللہ ان ظالم حکمرانوں کے کانوں میں ہماری اواز گونجتی رہے گی جب تک یہ انصاف نہیں دیں گے یہ ظالم حکمران چین کی نیند نہیں سو سکیں گے۔ انشاءاللہ
Justice for poor people's of Saidpur village Bari Imam & malpur

Address

Attock

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when All About Attock posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to All About Attock:

Share