12/05/2026
میرا تعلق ضلع اٹک کے ایک ا پسماندہ گاؤں کوٹ سونڈکی سے ہے جہاں غربت اور محرومی دیواروں پر لکھی نظر آتی تھی۔ وہ ایک ایسا گوشہِ تنہائی تھا جہاں ترقی کا کوئی راستہ نہ پہنچ سکا تھا۔ گاؤں تک آنے کے لیے کوئی سڑک نہیں تھی، گاڑی تو بہت دور کی بات ہے، کچی پگڈنڈیاں اتنی دشوار تھیں کہ گدھا گاڑی کا چلنا بھی محال تھا۔ ہم ایک ایسے جزیرے میں قید تھے جہاں باہر کی دنیا کا علم صرف قصے کہانیوں تک محدود تھا۔ہمارا گاؤں جہاں پسماندگی کی دھول میں لپٹا ہوا تھا، وہیں قدرت کے رحم و کرم پر بھی ہےا۔ یہ ایک بارانی علاقہ ہے، جہاں زمین سونا تو اگلتی ہے مگر تب، جب بادل برسیں
ر
ایسے کٹھن ماحول میں زندگی گزارنا ایک مسلسل جدوجہد تھی۔ روزی روٹی کا واحد ذریعہ وہی زمین تھی جسے میرے والد گائے اور بیلوں کی مدد سے سینچتے تھے۔ صبح کی پہلی کرن پھوٹنے سے پہلے ہی وہ مال مویشیوں کی فکر میں لگ جاتے اور پھر سارا دن تپتی دھوپ ہو یا یخ بستہ سردی، ان کے قدم چلتے رہتے تھے
دنیا کی نظر میں وہ ایک عام سے کاشتکار تھے، جن کا اوڑھنا بچھونا مٹی اور مشقت تھی، لیکن میرے لیے وہ ایک ایسی درسگاہ تھے جہاں سے میں نے ہمت اور غیرت کا سبق سیکھا۔ ایک ایسے پسماندہ گاؤں میں، جہاں سہولتوں کے نام پر صرف کچی راہیں اور محدود وسائل تھے، وہاں میرے والد نے ہم سات بہن بھائیوں کے لیے وہ خواب دیکھے جو اس زمانے کے ماحول میں ناممکن لگتے تھے۔
ہمارے گاؤں میں تعلیم کا نام و نشان برائے نام تھا۔ ایک ادنیٰ سا مڈل سکول تھا جس کی عمارت شاید ان کے حوصلوں سے بھی زیادہ شکستہ تھی۔ جب وسائل اتنے کم ہوں کہ تانگہ بھی گاؤں کا راستہ نہ پائے، تو وہاں اعلیٰ تعلیم کا سوچنا بھی ایک جرم سمجھا جاتا تھا۔ لیکن میرے والد ایک الگ مٹی کے بنے ہوئے تھے۔ انہوں نے طے کر لیا تھا کہ اپنے بچوں کواس پسماندگی کی دھول میں دفن نہیں ہونے دینا۔
سات بچوں کی پرورش اور ان سب کو اعلیٰ تعلیم دلوانا کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ انہوں نے اپنی ہر خواہش کا گلا گھونٹا تاکہ ہماری کتابوں اور فیسوں میں کبھی کمی نہ آئے۔ کئی بار ایسا ہوا ہوگا کہ ان کی جیب خالی ہوگی، لیکن ان کے چہرے کے اطمینان نے ہمیں کبھی اس کا احساس نہیں ہونے دیا۔ وہ خود ٹوٹتے رہے مگر ہمیں جوڑ کر رکھا۔ وہ پسماندہ گاؤں جہاں سے نکلنے کے راستے محدود تھے، وہاں سے انہوں نے ہمیں تعلیم کے وہ پر دیے جن کی بدولت آج ہم اپنی اپنی اڑان بھر رہے ہیں۔
تصور کریں، ایک ایسا باپ جس کے پاس چند کنال زمین ہےاور چند ڈھور ڈنگر ،لیکن ان کے پاس ایک غیر متزلزل عزم تھا۔ انہوں نے مال مویشیوں کی خدمت کی، روکھ سوکھی کھائی، بیلوں کے پیچھے اپنی جوانی تیاگ دی، صرف اس لیے کہ ان کے بچوں کے ہاتھ میں قلم رہے۔ انہوں نے ہمیں اس مڈل سکول سے نکال کر شہر کی بڑی یونیورسٹیوں تک پہنچایا، حالانکہ وہ خود صرف اپنانام لکھنا جانتے تھے
آج ہم جس مقام پر بھی کھڑے ہیں، یہ ہماری قابلیت نہیں بلکہ ان کے خونِ جگر کا صدقہ ہے۔ وہ جو صبح سویرے ہل چلانے نکلتے تھے، دراصل وہ زمین میں بیج نہیں بلکہ ہمارے مستقبل کی خوشحالی بو رہے ہوتے تھے۔ میرے والد صاحب صرف ایک کسان نہیں، وہ ایک عظیم معمار ہیں جنہوں نے کچی مٹی کے گھروندے میں پلنے والے بچوں کے لیے علم کے پکے محل تعمیر کیے۔
میرے والد وہ ہیرو ہیں جنہوں نے محرومیوں کے اس کالے سائے میں ہمارے لیے سورج تلاش کیا۔ ان کی سفید داڑھی کا ایک ایک بال اور ان کے ہاتھوں کا ہر نشان اس عظیم جدوجہد کا گواہ ہے جو انہوں نے ایک پسماندہ گاؤں کے کچے راستوں سے شروع کی اور ہمیں کامیابی کے پکے میناروں تک پہنچا دیا۔
اللہ ان کی ہمارے لیئے اٹھائی تمام مشقتوں اورتکلیفوں کو ان کے لیے جنت کا وسیلہ بنائے ان کی دی ہوئی اس تربیت کو ہمارے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین
زمرد علوی بن عبدالخالق