All About Attock

All About Attock تاریخ،تاریخی مقامات، لوک ورثہ، ثقافت،زراعت،باغبانی،مویشی پالنا،کاروبار،اٹک کا ٹیلنٹ،غربت سے کامیابی تک کی کہانیاں،

ضلع اٹک میں مغلیہ عہد میں چار سو سال قبل دریا ہیرو کے کنارے آباد ہیروئی شہر ۔۔۔۔________________________________________...
14/08/2026

ضلع اٹک میں مغلیہ عہد میں چار سو سال قبل دریا ہیرو کے کنارے آباد ہیروئی شہر ۔۔۔۔
_______________________________________________مغلیہ عہد کے قدیم موضع سراۓ ہیروئی کنارہ دریا ہیرو نزد لارنس پور ٹول پلازہ جی ٹی روڈ کی قدیم مسجد اس گاؤں یا سراۓ کا زکر مغلیہ اور درانی عہد کی کتب مثلاً توزک جہانگیری ، مآثر الامراء وغیرہ میں ملتا ہے۔
نورالدین جہانگیر بادشاہ توزک جہانگیری میں لکھتا ہے۔۔
15/ محرم 1016 ھ (1607 ء) کو میں ہروئی میں أترا ، وہاں ہموار سبزہ زار نظر آیا ، جس میں مطلق نشیب و فراز نہیں ہے۔۔اس موضع اور اس کے اطراف و جوانب میں کھٹڑ و دلہ زاک قوم کے سات آٹھ ہزار گھر آباد ہیں۔ ان لوگوں سے ہر قسم کے ظلم وفساد اور چوری چکاری کے واقعات سرزد ہوتے رہتے ہیں۔میں نے حکم دیا کہ اس علاقے اور اٹک کی حکومت زین خان کوکہ کے بیٹے ظفر خان کو دی جاۓ اور وہ میرے کابل کے لوٹنے سے پہلے تمام دلہ زاکوں
ملک بدر کرکے کو لاھور لے جائیں اور کھٹڑوں کے بڑے سرداروں کو گرفتارکر کے انھیں اپنی نگرانی میں رکھۓ۔۔
۔ اس سراۓ کو درانیوں نے کئ بار لوٹا اور تباہ وبرباد کیا۔۔
رہی سہی کسر سکھ عہد حکومت 1840 ء میں آنے والے دریا سندھ کے سیلاب نے نکال دی۔۔۔
اور کھنڈرات کو تیس سال قبل یہاں کرش پلاٹ لگانے والوں نے ملیا میٹ کر دیا۔۔
مسجد اس لیۓ بچ گئ کہ درانی حملہ آور اور کرش پلاٹ والے مسلمان تھے۔۔۔
اس کے قریب ٹیلوں پر قدیم قبرستان تھا۔۔۔جبکہ کے ہیرو کی گہرائی میں جہاں سراۓ کی ایک دیوار نظر آتی تھی ،اس کے ساۓ میں ایک قدیم قبر شہباز قلندر کی تھی۔۔۔
ان کھنڈرات کی اور قبرستان کی باقیات کی رہی سہی کسر یہاں مٹی نکالنے والوں نے پوری کر دی۔۔
قریب ہی ایک بزرگ سائیں صدقی کا مزار ہے۔۔۔
چند فرلانگ آگے ہیرو کنارے قاضی آباد گاؤں آباد ہے ۔۔
،،،تحقیق و تحریر۔۔
راجہ نورمحمدنظامی
ڈائریکٹر
آرکیالوجیکل ،ہسٹاریکل اہنڈ کلچرل ریسرچ سینٹر پوٹھوہار/ ہزارہ ڈویژن

14/08/2026
مشترکہ کھاتے ختم ۔۔زمین کی تقسیم کا مسئلہ حل ۔ کسی فریق کے انکار کے باوجود بھی زمین کے ونڈے ہوں گے۔جائیداد کے مشترکہ کھا...
10/08/2026

مشترکہ کھاتے ختم ۔۔زمین کی تقسیم کا مسئلہ حل ۔
کسی فریق کے انکار کے باوجود بھی زمین کے ونڈے ہوں گے۔
جائیداد کے مشترکہ کھاتے پنجاب کا ایک انتہائی پیچیدہ اور سنگین مسئلہ ہے۔ جو لڑائی جھگڑوں کا باعث بنتا ہے اور دیہاتوں میں لوگوں کی جان و مال پر بھاری پڑتا ہے۔
اس سنگین مسئلے کے حل کےلئے بورڈ آف ریونیو نے قانون میں اہم تبدیلی کی ہے۔
جس سے اب زمینوں کا مشترکہ رہنا مشکل ہو گیا ہے اور اگر کوئی فریق انکار بھی کرتا ہے پھر بھی زمین تقسیم ہو گی۔۔
طریقہ کار پر بات کریں تو ۔۔
سب سے پہلے تو جو لوگ باہمی رضا مندی سے کھاتے تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو وہ پٹواری تحصیلدار یا اراضی ریکارڈ سنٹر پر جا کر بیان دے کر کھاتے تقسیم کروا سکتے ہیں۔
دوسرا معاملہ سنگین ہے کہ مشترکہ کھاتوں میں ایک دو فریق صاف انکار کر دیتے ہیں تو ایسی زمین کی تقسیم کیسے ہو گی۔
سیکرٹری ریونیو شفقت اللہ مشتاق کے مطابق
سب سے پہلے متعلقہ فریقین کو تحصیلدار کے سامنے درخواست دینی ہو گی۔ وہ پٹواری کے ذریعے تمام فریقین کو بلائے گا۔ اگر کوئی فریق نہیں آئے گا تو تحصیلدار پٹواری اور نمبر کے ذریعے زمین کی کمرشل ویلیو اور قبضے کو دیکھ کر کھاتہ تقسیم کر دے گا۔
اگر تحصیلدار 2 مہینے میں ونڈہ نہیں بنائے گا تو اس کا متعلقہ تحصیل سے تبادلہ کرنے کے ساتھ ساتھ پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کیس خود بخود اسسٹنٹ کمشنر کو ٹرانسفر ہو جائے گا۔
اگر کو فریق تحصیلدار یا ایسے فیصلے سے متفق نہیں ہوتا تو وہ ضلع کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کے پاس اپیل کر سکتا ہے اور اگر پھر بھی کسی فریق کو اختلاف ہوتا ہے تو کیس سیدھا ممبر بورڈ آف ریونیو کے پاس آئے گا جس کا فیصلہ حتمی ہو گا۔ سیکنڈ اپیل یعنی کہ اب کیس کمشنر آفس نہیں جائے گا سیدھا بورڈ آف ریونیو آئے گا۔
سیکرٹری ریونیو کا کہنا ہے چیف سیکرٹری پنجاب اور سنئیر ممبر بورڈ آف ریونیو نے بہترین فیصلہ کیا ہے۔ شہریوں کو فائدہ اٹھا کر جائیداد کے مشترکہ کھاتوں کے جھنجھٹ سے جان چھڑا لینی چاہیے۔

 یہ بزرگ آج بروز ہفتہ بمطابق 8 اگست صبح دس بجے کے قریب اپنے گھر، ڈھوک پٹھان احمد نگر شرقی نزد کے ایف سی بیرٸیر 3 واہ کین...
08/08/2026


یہ بزرگ آج بروز ہفتہ بمطابق 8 اگست صبح دس بجے کے قریب اپنے گھر، ڈھوک پٹھان احمد نگر شرقی نزد کے ایف سی بیرٸیر 3 واہ کینٹ سے صبح دس بجے نکلے ہیں اور پھر واپس نہیں اۓ ۔ نام ان کا محبوب خان ہے اور نیلے رنگ کے کپڑے پہنے ہوۓ ہیں ۔ جس بھاٸی نے ان کو دیکھا ہو یا کچھ جان پاۓ تو دیے گۓ نمبرز پہ رابطہ کرے
03217491987
03004467619
03006429100

08/08/2026

یہ ہے کیمبل پور ❣️

مولانا پیر سید حسین الدین شاہ انتقال فرما گئےسید حسین الدین شاہ 11۔جنوری 1934 میں ضلع اٹک کے گائوں سلطان پور میں مولانا ...
07/08/2026

مولانا پیر سید حسین الدین شاہ انتقال فرما گئے
سید حسین الدین شاہ 11۔جنوری 1934 میں ضلع اٹک کے گائوں سلطان پور میں مولانا سید ضیا الدین شاہ کے گھر میں پیدا ہوئے۔سید حسین الدین شاہ نےابتدائی دینی تعلیم اپنی والدہ سے حاصل کی۔ناظرہ قرآن مجید مولانا لالہ عبدالغنی سے مکمل کیا۔1944 میں گورنمنٹ لوئر مڈل سکول سلطان پور میں چھٹی جماعت کے طالبِ علم تھے جب قرآن حفظ کرنے کے لیےدریا شریف میں حافظ محمد صدیق کے پاس بھیجے گئےلیکن حفظ القرآن کی تکمیل علامہ حافظ عبدالغفور چشتی گولڑوی کے پاس ہوئی۔ ۔19/نومبر1947 میں اپنے گائوں سلطان پور میں درسِ نظامی کا آغاز کیا۔اپنے تایا مولانا سید حسن شاہ اور والد سے فارسی کتب کی تعلیم حاصل کی۔مزید تعلیم کے حصول کے لیے اگست1950 میں دارالعلوم عزیزیہ بگویہ بھیرہ شریف چلے گئے اور وہاں تین سالہ قیام کے دوران میں مشکوٰۃ ،ھدایہ،توضیح تلویح ،متنبی،عبدالغفور،رسالہ قطبیہ ،میر زاہد،ملا جلال کی تعلیم حاصل کی۔1951 میں سید غلام محی الدین شاہ گیلانی گولڑوی المعروف بابو جی کے ہاتھ پر بیعت کی؛بعد ازآں ان کے بہت قریب رہے۔1953 میں تحریکِ ختمِ نبوت میں حصہ لیا اور گرفتار کرکے شاہ پور ڈسٹرکٹ جیل بھیج دیے گئے۔جہاں آپ نے تین مہینے گزارے۔1954 میں علومِ حدیث کے حصول کے لیے جامعہ رضویہ فیصل آباد میں داخلہ لیا اورمولانا محمد سردار احمدسے استفادہ کیا۔15۔اپریل 1955 میں سند فراغت حاصل کی۔مولانا محمد سردار احمد نے آپ کے سر پر دستارِ فضیلت سجائی جو آپ نے تبرک کے طور پر سنبھال کر رکھی ہوئی تھی ۔1953میں تحریکِ ختم نبوت میں حصہ لینے والےدارالعلوم عزیزیہ بھیرہ کے کچھ اساتذہ بھی قید کر لیے گئے تو تدریس کے لیے اساتذہ کی کمی محسوس کی جانے لگی ؛ایسے حالات میں آپ نے تدریسی فرائض بھی انجام دیے لیکن باقاعدہ مدرس کے طور پر پہلی باردارالعلوم رفیع الاسلام ملکوال ضلع گجرات بھیجے گئے۔اپریل1956 میں جامع مسجد ٹھیکے داراں گکھڑ منڈی ضلع گوجرانوالہ میں خطیب کی حیثیت سے چلے گئے۔1958 میں جامع مسجد سبزی منڈی راولپنڈی میں درسِ قرآن اور جمعہ کی خطابت کا سلسلہ شروع کیا؛کچھ عرصے بعد مستقل خطابت کی ذمہ داریاں بھی آپ کے سپرد ہو گئیں۔یہاں سے آپ مولانا محب النبی سے اکتسابِ فیض کے لیے روزانہ گولڑہ شریف جاتے تھے ۔1960 میں حج کی سعادت حاصل کی ۔1961 میں اصلاحِ معاشرہ کی غرض سے "انجمن اشاعت السنۃ"کا قیام آپ کی کوشش اور دل چسپی کا مظہر ہے۔1968 میں ادارۂ تحقیقاتِ اسلامیہ پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل فضل الرحمٰن نے اپنی کتاب"اسلام"میں اسلام کے بنیادی عقائد کو ہدف بنایا۔علما نے احتجاج کیا؛بات مناظرے تک پہنچ گئی؛پیرحسین الدین شاہ کو علما نے متفقہ طور پر مناظرے کے منتخب کیا؛اس وقت کے وزیرِ قانون ایس ایم ظفر کی رہائش گاہ پرمناظرہ ہوا۔اڑھائی گھنٹے کی گفتگو کے بعد ڈاکٹر فضل الرحمٰن نے اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا؛جس کی وجہ سے اسی روز اس سے استعفٰی لے لیا گیا ۔آپ نےجنوری 1964 میں جامعہ رضویہ ضیا ء العلوم راولپنڈی کی بنیاد رکھی۔1964 میں طلبہ کی کردار سازی اور ان کی خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرنے کے لیے"بزمِ ارشاد"کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد رکھی۔1965 کی جنگ میں متاثرین کی خدمت میں پیش پیش رہے ۔1973 میں جامعہ سیٹلائیٹ ٹائون راولپنڈی میں درسِ قرآن شروع کیا ۔1982 میں مدارس کے درمیان روابط کے لیے"انجمن طلبہ عربیہ"قائم کی۔آپ کی سرپرستی میں1992 میں بچیوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے "جامعہ آمنہ ضیاللبنات،اسلام آباد"کا قیام عمل میں لایا گیا۔جمعیتِ علمائے پاکستان،تنظیم المدارساہلِ سنت پاکستان،جماعت اہلِ سنت پاکستان اور تحریکِ ختم نبوت کے عہدہ دار رہے۔آخری دم تک دینی خدمات کا فریضہ انجام دیتے رہے .7۔اگست 2026 کو انتقال ہوا۔اللہ تعالی مغفرت فرمائے آمین
حوالہ: شخصیات اٹک، ایڈیشن 2023،ص 87
ماخذ:
سادات سلطان پور، سید امتیاز شاہ کاظمی ص 379
تحریر
نصرت بخاری
آپ کی نماز جنازہ 8 اگست شام 5:00بجے سلطان پور شریف تحصیل حسن ابدال میں ادا کی جائے گی

تحریر وتحقیقراجہ نورمحمدنظامیڈائریکٹر آرکیالوجیکل ہسٹاریکل اہنڈ کلچرل ریسرچ سینٹر پوٹھوہار ہزارہ ڈویژن ،۔_______________...
05/08/2026

تحریر وتحقیق
راجہ نورمحمدنظامی
ڈائریکٹر آرکیالوجیکل ہسٹاریکل اہنڈ کلچرل ریسرچ سینٹر پوٹھوہار ہزارہ ڈویژن ،۔_______________________________________________امقبرہ اٹک ۔۔۔۔؟
یہ مقبرہ حضرت مرزا محمد صالح بیگ نقشبندی مجددی کا ہے۔۔! - - - - -
اس کو غلط طور پر کنجری کا یا مقبرہ اٹک مشہور کر دیا گیا۔۔
ہمارے ہاں رواج ہے ،ہم خود تحقیق نہیں کرتے ، انگریز لکھاریوں نے جو بھی صحیح یا غلط لکھ دیا اس کو حرف آخر سمجھتے ہیں۔۔اور مزید مطالعہ و تحقیق نہیں کرتے۔۔۔
حالانکہ انگریز لکھاریوں کی بے شمار تحقیقات غلط ہیں۔۔
جیسے ہمارے ہاں حسن ابدال میں مقبرہ حضرت بابا حسن ابدال رحمۃ اللّٰہ علیہ کو مقبرہ لالہ رخ مشہور کردیا گیا ،
اکثر انگریز مصنفین اور سیاحوں نے اپنے سیاسی مفادات کے لیے ہماری تاریخ کو مسخ کیا۔۔۔
یہی واردات مقبرہ حضرت مرزا محمد صالح بیگ نقشبندی مجددی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے ساتھ کی گئی۔۔
اور ہم نے حرف آخر سمجھ کر تسلیم کر لیا۔۔۔
حالانکہ یہ مقبرہ
حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی رحمۃ اللّٰہ علیہ بانی سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ کے فرزند عروۃ الوثقی حضرت خواجہ محمد معصوم فاروقی سرہندی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے خلیفہ مرزا محمد صالح بیگ ساکن اٹک کا مدفن ہے۔۔۔ یہاں أن کی سراۓ تھی جس میں أن کی خانقاہ تھی ، آپ اپنی خانقاہ میں دفن ہوۓ۔۔۔
خانقاہ کی دیوار کا کچھ حصہ اور ایک دروازے کے آثار تھوڑے فاصلے پر مغرب کی طرف اب بھی موجود ہیں۔۔۔
حضرت ابو اسماعیل شیخ محمد یحییٰ نقشبندی مجددی متوفی 1132 ھ/ خلیفہ حضرت محمد صادق ایمن آبادی المعروف حضرت شیخ سعدی لاہوری جب اپنے گاؤں سروالہ نزد موجودہ اٹک شہر (سابق کیمبل پور ) سے قدیم تاریخی اٹک شہر کنارہ دریا سندھ میں تشریف لائے تو حضرت مرزا محمد صالح بیگ رحمۃ اللّٰہ علیہ کی خانقاہ میں قیام پذیر ہوئے تھے۔۔
بحوالہ۔۔۔۔
1...ظواہر السرائر ، میاں محمد عمر
چمکنی ، فارسی، قلمی
2 قصۃالمشائخ ، خواجہ محمد زاہد اٹکی۔۔قلمی
وغیرہ وغیرہ
فوٹو بشکریہ جناب محترم علام الدین صاحب واہ کینٹ
Copied

03/08/2026

شدید بارشوں کے باعث پنڈی گھیب شہر کی حالت

پبلک سروس میسجگرمیوں اور برسات کے موسم میں سانپ کے کاٹنے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔اس موسم میں سانپوں سے متعلق ...
03/08/2026

پبلک سروس میسج

گرمیوں اور برسات کے موسم میں سانپ کے کاٹنے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
اس موسم میں سانپوں سے متعلق آگاہی نہایت ضروری ہے۔ اس پوسٹ میں ہم سانپ کے کاٹنے سے متعلق عام سوالات اور احتیاطی تدابیر پر بات کریں گے۔ برائے مہربانی اس پیغام کو اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ ضرور شیئر کریں، تاکہ یہ مفید معلومات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکیں۔
جزاکم اللہ خیراً

سانپ کے کاٹنے سے موت کی ایک بڑی وجہ "خوف" ہوتی ہے۔

لہٰذا سب سے پہلا قدم متاثرہ شخص کو تسلی دینا اور ذہنی طور پر پرسکون رکھنا ہے۔

اہم حقائق:

1. تمام سانپ زہریلے نہیں ہوتے۔

2. زہریلے سانپ بھی ہر بار کاٹنے پر زہر نہیں چھوڑتے۔

3. اگر زہر چھوڑا بھی جائے تو ضروری نہیں کہ وہ مکمل طور پر جسم میں داخل ہو۔

ان باتوں کو سانپ سے ڈسے گئے فرد کو ضرور بتائیں تاکہ وہ گھبراہٹ سے بچے اور ذہنی سکون میں رہے۔

پاکستان میں پائے جانے والے زہریلے سانپ:

کوبرا
کریٹ
وائپر

زہریلے اور غیر زہریلے سانپ کے کاٹنے کی پہچان:
زہریلے سانپ: دو واضح دانتوں کے نشان
غیر زہریلے سانپ: آدھے دائرے میں کئی چھوٹے دانتوں کے نشان

زہریلے سانپ کے کاٹنے کی علامات:
کاٹنے کی جگہ پر دو دانتوں کے نشان
متاثرہ جگہ پر سوجن
آنکھیں کھولنے میں مشکل
سانس لینے میں دشواری
جسم پر نیلے دھبے
یہ علامات عام طور پر 30 منٹ سے 1 گھنٹے کے اندر ظاہر ہونے لگتی ہیں۔

علاج:
زیادہ تر سرکاری ہسپتالوں، حتیٰ کہ THQ اور DHQ میں بھی سانپ کے زہر کا ٹیکہ (Antivenom) دستیاب ہوتا ہے۔
یہ پولی ویلنٹ ہوتا ہے، یعنی تمام عام زہریلے سانپوں کے زہر کے خلاف مؤثر ہوتا ہے۔

فرسٹ ایڈ (ابتدائی طبی امداد):
1. زخم کے اوپر نرم پٹی باندھیں (اتنی سختی سے نہیں کہ خون بند ہو جائے۔ ایک انگلی گزرنی چاہیے)۔
2. متاثرہ عضو کو حرکت نہ دیں تاکہ زہر جسم میں نہ پھیلے۔
3. زخم کو صاف پانی سے دھوئیں۔
4. زخم پر چیرا نہ لگائیں۔
5. زخم کو نہ چوسیں۔
سانپ کا زہر چوس کر نکالنا ایک فلمی تصور ہے، حقیقت میں ناممکن ہے۔
6. زخم پر برف نہ لگائیں۔

اہم ترین بات:
جتنا جلدی ممکن ہو مریض کو قریبی ہسپتال لے جائیں تاکہ بروقت انجیکشن دیا جا سکے۔
ٹوٹکوں پر قیمتی وقت ضائع نہ کریں، یہ مریض کی جان کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
اللہ ہمیں ہر قسم کی آزمائش اور مصیبت سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
بچوں اور اہلِ خانہ کی صحت سے متعلق معلومات کے لیے ہماری پوسٹس دیکھتے رہیں۔

ڈاکٹر ارشد محمود(MBBS, FCPS)
کنسلٹنٹ چائلڈ نیورالوجسٹ
چلڈرن ہسپتال، لاہور

Address

Attock

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when All About Attock posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to All About Attock:

Shortcuts

Share