06/10/2026
خپلو ہسپتال میں مستقل گائناکالوجسٹ کیوں نہیں؟ — کیا ایک ماں کی زندگی اتنی سستی ہے؟
ذرا ایک لمحے کے لیے اپنے گھر کے بارے میں سوچیں۔
اگر آپ کے گھر میں ایک بیوی، ایک بہن یا ایک ماں ہو، اور اسے حمل یا کسی حساس طبی مسئلے کے دوران فوری طور پر ماہر ڈاکٹر کی ضرورت پڑ جائے…
لیکن آپ کے اپنے علاقے میں وہ ڈاکٹر موجود نہ ہو، اور آپ کو اسے لے کر دور دراز سفر کرنا پڑے، دشوار راستوں سے گزرنا پڑے، موسم کی سختیاں برداشت کرنی پڑیں اور ہر لمحہ یہ خوف ہو کہ کہیں دیر نہ ہو جائے۔
آپ کیا محسوس کریں گے؟
کیا یہ صورتحال ہمیں واقعی قبول ہے؟
خپلو اور گردونواح کی خواتین کے لیے یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں۔
یہ پہلی بار نہیں ہوا۔
یہ مسئلہ بارہا سامنے آ چکا ہے، بارہا عوام نے آواز اٹھائی ہے، مگر آج بھی ہم اسی سوال کے سامنے کھڑے ہیں۔
گزشتہ پانچ سالوں سے یہ مسئلہ بار بار کیوں پیدا ہو رہا ہے؟
آخر ایک بنیادی طبی ضرورت کا مستقل حل کیوں نہیں نکالا جا سکا؟
اب عوام جاننا چاہتے ہیں:
اس معاملے کی ذمہ داری کس پر ہے؟
اس مسئلے کو حل کرنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟
اور آخر بار بار یہی صورتحال کیوں پیدا ہوتی ہے؟
ہم کسی فرد کو نشانہ نہیں بنا رہے۔
ہم صرف نظام سے جواب مانگ رہے ہیں۔
صحت کی بنیادی سہولت کوئی عیاشی نہیں۔
یہ کسی پر احسان نہیں۔
یہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔
کسی ماں کو اپنے بنیادی حق کے حصول کے لیے اپنی زندگی خطرے میں نہیں ڈالنی چاہیے۔
کسی شوہر کو اپنی بیوی کے بارے میں یہ سوچ کر سفر نہیں کرنا چاہیے کہ اللہ خیر کرے، وقت پر ڈاکٹر مل جائے۔
کسی بھائی کو اپنی بہن کے لیے یہ خوف نہیں ہونا چاہیے کہ اگر راستے میں طبی پیچیدگی پیدا ہوگئی تو کیا ہوگا۔
اور کسی بیٹے کو اپنی ماں کے لیے یہ سوچنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے کہ کاش ہمارے علاقے میں بروقت علاج کی سہولت موجود ہوتی۔
ہم 2026 میں رہ رہے ہیں۔
کیا آج بھی ایک بنیادی طبی سہولت کے لیے ہماری ماؤں اور بہنوں کو اتنی بے یقینی کا سامنا کرنا چاہیے؟
ذمہ دار اداروں سے ہمارے واضح مطالبات
1۔ خپلو ہسپتال میں مستقل گائناکالوجسٹ کی تعیناتی کو فوری یقینی بنایا جائے۔
2۔ جب تک مستقل تعیناتی نہیں ہوتی، تب تک مسلسل اور قابلِ اعتماد متبادل انتظام کیا جائے تاکہ مریضوں کو بے یار و مددگار نہ چھوڑا جائے۔
3۔ عوام کو واضح طور پر بتایا جائے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں یہ مسئلہ بار بار کیوں پیدا ہوا اور اسے مستقل طور پر حل کیوں نہیں کیا جا سکا۔
4۔ متعلقہ محکمہ صحت اور انتظامیہ ذمہ داری اور ٹائم لائن واضح کریں کہ مستقل حل کب تک فراہم کیا جائے گا۔
5۔ حاملہ خواتین اور دیگر حساس مریضوں کے لیے ایمرجنسی ریفرل اور بروقت ٹرانسپورٹ کا مؤثر نظام یقینی بنایا جائے۔
6۔ عوامی نمائندے اور متعلقہ حکام اس معاملے پر صرف یقین دہانی نہ کرائیں بلکہ عملی پیش رفت عوام کے سامنے رکھیں۔
پانچ سال بہت طویل عرصہ ہے۔
خپلو کی خواتین کسی خاص رعایت کا مطالبہ نہیں کر رہیں۔
وہ صرف وہ سہولت چاہتی ہیں جو ایک بنیادی انسانی ضرورت اور حق ہے۔
اب ہمیں عارضی انتظامات نہیں،
ایک مستقل، باقاعدہ اور قابلِ عمل حل چاہیے۔
اور سب سے بڑھ کر، عوام کو جواب چاہیے۔
یہ کسی کے خلاف آواز نہیں۔
یہ اپنی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور آنے والی نسلوں کے حق میں آواز ہے۔
اگر آپ بھی سمجھتے ہیں کہ یہ مسئلہ فوری توجہ کا مستحق ہے تو اس آواز کو آگے پہنچائیں۔
شاید آپ کا ایک شیئر کسی ذمہ دار شخص تک یہ آواز پہنچا دے۔
شکریہ