17/02/2025
کیا اسلام آباد میں گلگت بلتستان کے خلاف کوئی سازش تیار کی جا رہی ہے؟
گزشتہ روز گلگت بلتستان ہاؤس اسلام آباد میں وزیر اعلیٰ حاجی گلبر خان اور ان کی کابینہ کے وزراء نے پی ٹی وی کی ٹیم کے ذریعے ایک پریس کانفرنس ریکارڈ کروائی، جسے بعد میں تمام بڑے میڈیا چینلز پر نشر کیا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس سے قبل جب گلگت بلتستان کے عوام بنیادی انسانی حقوق، ریاستی جبر اور عوامی زمینوں پر قبضے کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کر رہے تھے، تو کسی بھی مرکزی میڈیا چینل نے ان کے حق میں ایک خبر تک نشر نہیں کی۔ لیکن اچانک وزیر اعلیٰ کی پریس کانفرنس کا بڑے پیمانے پر نشر ہونا، عوام کے لیے کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
*اس پریس کانفرنس کے پس پردہ جو مقاصد کارفرما ہیں، ان میں سے ایک نہایت اہم نکتہ لینڈ ریفارمز ایکٹ کا ذکر ہے، جس پر وزیر اعلیٰ نے زور دیا۔ گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے، جس کا انتظامی کنٹرول پاکستان کے پاس ہے۔ تاہم، اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان یہاں کی ڈیموگرافی (آبادیاتی تناسب) کو تبدیل کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے اسرائیل نے فلسطین میں کیا۔ اس مقصد کے تحت، لینڈ ریفارمز ایکٹ کو گلگت بلتستان اسمبلی سے منظور کروا کر عوامی زمینوں کو ریاستی کنٹرول میں لینے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔*
اگر یہ ایکٹ منظور ہو جاتا ہے تو اس کے تحت ریاست پاکستان گلگت بلتستان کے 20 فیصد حصے پر مکمل قبضہ کر کے یہاں کے معدنی وسائل، جنگلات، سیاحتی مقامات اور دیگر قدرتی ذخائر کو غیر مقامی سرمایہ داروں کے حوالے کر سکتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ گلگت بلتستان کے مقامی باشندے اپنی ہی زمینوں سے محروم ہو جائیں گے اور خطے میں ان کی آبادی کا تناسب کم ہو جائے گا۔
یہی وہ منصوبہ ہے جس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے حاجی گلبر خان کو وزیر اعلیٰ منتخب کیا گیا اور اب اس کے حق میں ماحول بنانے کے لیے میڈیا کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب عوامی حقوق کی بات ہو تو میڈیا خاموش رہتا ہے، لیکن جب ریاستی بیانیے کو آگے بڑھانا ہو تو تمام چینلز متحرک ہو جاتے ہیں۔
یہ سوال اب گلگت بلتستان کے عوام پر چھوڑا جاتا ہے کہ کیا وہ اس منصوبے کو قبول کریں گے، یا اپنی زمین، شناخت اور حقوق کے دفاع کے لیے منظم جدوجہد کریں گے؟