07/11/2025
ایک نظر وادی تھلے کی تاریخ ،تہزیب ،ثقافت، محل وقوع اور یورپی مورخین کی تحقیقی مقالاجات پر تفصیلی جائزہ
تحریر :دانش میرزا تھلوی
تکمیل: ۳۰ـ اکتوبرـ ۲⁰۲۵
۲ـنومبر-۲⁰۲۵۔
وادی تھلے کو بلتستان کے ایک خوبصورت ترین اور اہم سیاحتی مقامات میں شمار کیا جاتا ہے یہ وادی بلتستان ضلع گنگچھے میں واقع ہے جو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر خپلو سے ³⁰ کلو میٹر اور سکردو شہر سے ¹¹⁰ کلو میٹر کے فصلے پر دریا شوک کے کنارے پھیلی ہوئی ہے وادی تھلے خپلو شہر کے مشرق و جنوب مشرق (south east) میں واقع ہے وادی کے شمال میں سیاچن کے پہاڑی سلسلے جنوب میں ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے پائے جاتے ہیں مشرق میں ہوشے مغرب کی طرف خپلو شہر اور دریا اتا ہے۔ وادی تھلے سطح سمندر سے ²⁸⁰⁰ سے ²۹⁰⁰ میٹر ⁸⁸⁰⁰ سے ۹²⁰⁰ فٹ سے شروع ہوتی ہے اور بالائی حصے "تھلے لا" جو کہ تقریباً ⁴⁵⁷⁶ میٹر ¹⁵⁰⁰⁷ فٹ بلندی پر واقع ہے ۔
وادی تھلے کو تھلے کیوں کہا جاتا ہے اس کی وجہ تسمیہ بیان کرتے ہوئے جناب " آخوند محمد حسین کاشف " صاحب اپنی کتاب"معلومات گلگت بلتستان سوالاً جواباً "میں یوں لکھتے ہیں "تھلے کا معنی زائد ہیں یا فاصل ہے یہ وادی ماضی میں زرعی اجناس وغیرہ میں خود کفیل تھا ۔اپنی ضرورت سے زائد اجناس برآمد کرتے تھے اس لیے "تھلے" نام پڑھ گیا ."
جناب "عیسیٰ گونگماوی" نے اپنی تحریر "وادی تھلے پر ایک نظر"
میں تھلے کی وجہ تسمیہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں "بلتی" زبان میں تھلے کا مطلب زیادہ کثرت ،وافر مقدار اور بلندی کے ہیں بعض حضرات اسے "زیرہ" بلتی نام تھلے سے بھی منصوب کرتے ہیں ۔
میرے نزدیک میں جناب آخوند محمد حسین کاشف صاحب کی بات سے مطافق ہوں کیونکہ بزرگوں کی زبانی بھی ہم نے یہی سنا ہے جناب عیسیٰ گونگماوی کے مطابق بھی درست ہوسکتا ہے ہر کسی کا اپنا الگ نظریہ ہے اس حوالے سے کوئی تاریخی شواھد موجود نہیں ہے ۔
وادی تھلے میں کم و پیش چودہ چھوٹے بڑھے گاؤں موجود ہیں اور ہر گاؤں اپنی منفرد ناموں سے جانے جاتے ہیں جن میں سب سے پہلا گاؤں تھلے برداس، اس کے یک بعد دیگر گاؤں پڑنگوس، ہڑنگوس، تسو، چنڈو، گھاوڑیگ، یارکھور، ہلتغاری، برقپا، لوداس، گمبہ بلترو، گونگمہ بلترو ، دالتر، اور آخری گاؤں تھلے کھسومیگ قرار پاتا ہے۔
ان میں سے اکثر گاؤں اپنے اندار ایک منفرد مقام رکھتا ہے جن میں سرے فہرست تھلے یرکھور کو حاصل ہے یرکھور کو ہمیشہ سے تھلے کا مرکز مانا جاتا ہے مرکزی سنٹر ہونے کے ساتھ ساتھ یہاں پر خانقاہ معلیٰ تھلے، گونگوفیوق مسجد، جس کی بنیاد حضرتِ امیر کبیر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ نے رکھی تھی اس کے علاوہ تھلے کا پہلا سرکاری سکول ،پہلا مدرسہ مظہر العلوم ،دفتر LSO یونین حال، اور تھلے ڈاک خانہ، بھی یہی موجود ہے ۔
وادی تھلے نہ صرف سیاحتی حوالے سے مشہور ہے بلکہ زرعی پیداوار کے لحاظ سے بھی اپنی مثال نہیں تھلے میں کاشت کاری کا سیزن مارچ کے اخر سے شروع ہوتے ہیں اور ستمبر کے آواخر تک اپنی اختتام کو پہنچتے ہیں جن میں جو، مکئی، گندم، اور خاص کر آلو قابل ذکر ہیں ۔پھلوں کے حوالے سے خوبانی،اور اخروٹ ،بہت مشہور ہیں ۔
سال ²⁰²⁴ کے ایک سروے کے مطابق وادی تھلے سے تقریباً ²⁰ سے ²⁴ کروڑ روپے کی آلو برآمد کیے گئے ہیں اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں وادی تھلے پیدواری لحاظ سے کتنا خود کفیل ہے ۔
سیاحتی حوالے سے دیکھا جائے تو وادی کی مشہور مقام تھلے بروق ہے جو زمین پر ایک جنت نما ٹکڑا ہے بلند و بالا پہاڑ جو اپنی دامن میں بڑے بڑے گلیشیرز کو پالتے نظر آتے ہیں نظارہ ایسا کہ دیکھتے ہی رہوں، ہوائیں اس قدر میٹھی جیسی جننت کی خوشبو مہکی ہوئی ہو اسمان اس قدر نیلا جیسے خواب دیکھ رہا ہو رات کے وقت ستاروں کی جھرمٹ ایسی جیسے ستارے رقس کررہا ہو پانی اس قدر شفاف کہ آئینے میں عکس نظر اتا ہو شب کی اندھرا ایسا جیسے اصحاب کہف پر نیند طاری ہوئی ہو کیا ہی میں بیان کروں جو اس رب نے اس وادی کو اس قدر دل فریب منظر سے بخشا ہے دیکھنے والوں پے سکوت طاری ہو۔
تھلے بروق پورے بلتستان میں سیاحتی مقامات کے حوالے سے بہت اہمیت کے حامل ہیں نہ صرف سیاح وادی کے حسن و جمال دیکھ کے لطوف اندوز ہوتے ہیں بلکہ یہاں کے مشہور مقام Thallay Laa تھلے لا جو کہ مہم جوئی حضرات کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ۔اکثر اوقات بیرونی ممالک سے مہم جوئی اس وادی کا رخ کرتے ہیں خاص کر گورے جو پہاڑوں سے اس قدر عشق رکھتے ہیں بسا اوقات اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔
کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں شاہرہ قراقرم جو کہ 1985ء میں بنے تھے اس سے پہلے تھلے لا کے راستے مقامی تجارت ہوا کرتا تھا اسی راستے کارگل ،لداخ ،تبت، شگر ،سکردو تک تجارتی راہیں موجود تھی جو شاہرہ قراقرم کے بعد مکمل طور پر بند ہوا اور اب نہ ہونے کے برابر ہے۔
بلتستان میں اسلام کی آمد کے بعد حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ تبلیغ کے عرض سے گنگچھے تشریف لائے تو اپ اور اپ کے رفقا اسی رستے تشریف فرمائے تھے اور یہاں کئی مسجد کی بنیاد رکھی تھی جن میں لوداس مسجد، یرکھور مسجد، تھلے خانقاہ قابل ذکر ہیں۔
جناب عیسیٰ گونگماوی ، نے اپنی تحریر "وادی تھلے پر ایک نظر" میں تھلے کا زکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ تھلے کے اطراف میں سات کراسنگ پوائنٹس ہیں ۔
¹ـ ژھمبور سے کریس
²ـ نغموغورا سے غورو
³ـ غبارچوں سے نرو
⁴ـ تھلے لا سے شگر
⁵ـ شینگ کھنگ سے شگر برالدو مل
⁶ـ بقمہ لونگمہ سے ہوشے بمقام علینگ
⁷ـ ہڑںگوس لونگما سے کاندے
وہ لکھتے ہیں کہ Nature lover group کے دو اہم ممبر عیسیٰ گونگماوی اور شفاعت علی نے ان سات میں سے چھ کو عبور کرنے میں کامیاب ہوئے ان میں سے آسان ژھمبور اور مشکل نغموغورا سے غورو کو پایا۔
پہاڑوں کا زکر ہو اور جناب حشمت کمال الہامی ، کا یہ مصرا نہ پڑھے تو نا انصافی ہوگی کہتے ہیں کہ
پہاڑی سلسلے چاروں طرف اور بیج میں ہم ہے
مثال گوہرِ نایاب ہم پتھر میں رہتے ہیں
وادی تھلے تاریخی حوالے سے بھی اہمیت کے حامل رہے ہیں خاص کر جب تھلے لا سے تجارتی گزرگاہ ہوا کرتا تھا تب اس علاقے کی اہمیت بہت زیادہ تھی لیکن اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کرے تو کوفت کے ساتھ کہنا پڑھتا ہے کہ اس وادی کے بارے میں کسی بھی قسم کی تاریخی حوالہ جات موجود نہیں جس سے اس وادی کی آبادکاری ،تہزیب، ثقافت ، اور موجودہ رسم رواج کا حوالہ ملنا بہت کٹھن ہے۔لیکن تاریخ بلتستان کے ناموار تاریخ دان "جناب یوسف حسین آبادی" نے اپنی کتاب تاریخ بلتستان میں تھلے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں جس میں انہوں نے مولوی "حشمت اللہ خاں" جو کہ تاریخ جموں کشمیر کا مصنف ہے ان سے اقتباس کیا ہے ۔لکھتے ہیں کہ خپلو کی ابتدائی آبادکاری وسط ایشیاء کے لوگوں نے یارقند کی طرف سے سلتورو کم کے راستے گلگت کی طرف ہنزہ ورسکم کے راستے یا لہاسہ اور لداخ کے راستے خانہ بدوشوں کی صورت میں بھیڑ بکریوں کو چراتے ہوئے اکر اس علاقے کو آباد کیا کچھ لوگ کشمیر کی طرف سے اکر یہاں آباد ہوئے ،ہنزہ کی طرف سے آنے والے تھلے میں آباد ہوئے اور چیر خان نے محلہ یرکھور کی مشرقی پہاڑی کے اوپر چنگ کھر، ماچیر خان نے محلہ ٹھرونگوس کی شمالی پہاڑی کے اوپر چھوغو کھر اور شاہ سلطان نے مرچونگ لونگما کے جنوب مشرقی کنارے پر مرچونگ کھر (قعلہ) تعمیر کیا ۔
اس بات سے ہم اخذ کرسکتے ہیں کہ وادی تھلے میں بھی تین بڑھے کھر (قعلے) تعمیر ہوئے تھے لیکن بد قسمتی سے اج ان میں سے کسی ایک کھر(قعلہ) کا بھی کوئی شواہد موجود نہیں جس سے یہ معلوم ہو کہ یہ کھر (قعلے) کس جگہ پر تعمیر کیا گیا تھا ۔
تاریخی حوالے سے بھی ان کھروں (قعلے) کی تعمیری سن درج نہیں لیکن تاریخ بلتستان اور تاریخ جموں و کشمیر کا بغور مطالعہ کرے تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ان کھروں (قعلے) کی سن تعمیر کیا ہو سکتا ہے۔تاریخ جموں کشمیر میں "مولوی حشمت اللہ خاں" خپلو حکمرانوں کا شجرہ نسب میں لکھتے ہیں جس کا آغاز سلطان سکندر یعنی سکندر اعظم سے ہوتا ہے جس کے جانشین ابراہیم اور اسحاق تھے مولوی حشمت اللہ کے مطابق خپلو میں یبگو خاندان کے بانی کا زمانہ 850ء کے لگ بھگ قرار دیا ہے جس سے اہم اخذ کرسکتے ہیں کہ تھلے میں جو کھر (قعلے) تعمیر ہوئے تھے ان کی سن تعمیر اسی کے لگ بھگ ہوسکتے ہیں کیونکہ اس سے پہلے اس علاقے کی آبادکاری نہیں ہوئی تھی یبگو خاندان کے ابتدائی راجاؤں نے دوسرے علاقوں سے لوگوں کو لائے تھے جن میں خاص کے کشمیر کے لوگ جو بعد میں ان علاقوں میں اباد ہوئے اور پھیلتے گئے ۔
ایک شواہد یہ بھی ہے کہ جب 1381ء میں امیر کبیر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ تبلیغ کے عرض سے وادی تھلے میں وارد ہوئے تو اس وقت علاقے میں کافی ابادی موجود تھی اور آپ نے کئی مسجد کی بنیاد بھی رکھی تھی۔اس وقت وادی تھلے خپلو حکومت کی تسلط میں تھی اور اس پورے خطے پے خپلو کے راجہ حکومت کرتے تھے خپلو کے راجاؤں میں پہلا مسلمان راجا جن کا نام مقیم خان ہے جنہوں نے امیر کبیر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ پے بیعد کہ تھی۔
وادی تھلے کے بارے میں نہ صرف مقامی تاریخ دانوں نے کتابوں میں اتارنے کی کوشش کہ ہے بلکہ میں سمجھتا ہوں ان سے کہیں زیادہ یورپی مورخین نے اس علاقے کی اہمیت کو نہ صرف جانا ہے بلکہ وادی تھلے کے اوپر اپنی(PHD) تھیسس مکمل کی ہے جن میں سرے فہرست جن کا نام اتا ہے وہ ہے (Ole Jenson) جنہوں نے وادی تھلے پر اپنی (PHD) تھیسس لیکھا ہے (Ole Jenson) ڈنمارک کے ایک یونیورسٹی Roskilde University ( institute Of geography and international development studies)
کے طالب علم تھے جنہوں نے اپنی تھیسس کے لیے وادی تھلے کا انتخاب کیا وہ اس حوالے سے 1995ء میں کچھ مدت کے لیے اس وادی کا رخ کرتے ہیں اسی دوران وادی کے مختلف حصوں میں سروے کرنے کے بعد واپس روانہ ہوتے ہیں ۔1995ء سے لے کر 2007ء تک اپنی (PHD) ریسرچ کے حوالے سے وہ تھلے میں کم و پیش اتے رہتے تھے اور تھلے میں موجود تمام گاؤں کے گھر گھر جاکر مختلف سوالات کے ذریعے ان کی موقف کو جانتے تھے۔Ole Jenson نے اس وادی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے جس میں انہوں نے اپنی خاص اور قریبی ساتھی جناب استاد محترم مسٹر مراد اور ان کے بھائی یوسف کا نام لیا ہے وہ کہتا ہے ان میں جناب یوسف ان کے ٹرانسلیٹر کی طور پر کام کرتے تھے اور جناب مسٹر مراد کے ہاں وہ تقریباً دو سے تین سال ان کے گھر پر قیام کیا۔
Ole Jenson نے تھلے میں جن افراد کی انٹرویوز لئیے تھے ان تمام کے نام بھی ریسرچ پیپر میں درج کیا ہے۔وادی تھلے کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے وہ کراچی کا بھی سفر کرتے ہیں وہ لکھتے ہیں وادی میں غربت، معیاری تعلیم کی کمی، اور دیگر مشکلات کی وجہ سے یہ لوگ شہروں کی طرف رخ کرتے نظر آئے جن میں زیادہ تر کراچی میں مقیم تھے اس لیے ان لوگوں کے موقف بھی جانا ضروری تھا کراچی میں وہ ان تمام لوگوں سے انٹرویوز کے ذریعے مختلف سوالات پوچھتے ہیں جس کی تفصیلات اور ان کے نام ریسرچ پیپر میں درج ہے۔
Ole Jenson نے اپنی تھیسس میں وادی کی رہین سہین ، ابادی ، لوگوں کے موقف ،کھیتی باڑی اور دوسرے امور پر تفصیلی بحث کہ ہے۔
Ole Jenson کی ریسرچ پیپر سال 2007ء میں شائع ہوا تھا
جس کا نام : Beyound mountains: (The impact of pakistani territorialisation of balti livelihoods and migration practices) ۔
بلتستان اور لداخ کے مشہور مورخین میں سے ایک Profs.Dr Dieter Schuch جو Germany کے مشہور Tabetologist کے پروفیسر ہیں جنہوں نے بلتستان اور لداخ پر کئی تحقیقی مقالات شائع کئیے ہیں.
Profs.Dr Dieter Schuch نے 1981ء میں اپنی ایک کتاب "Baltistan (LittleTibet)" کے نام سے شائع کیا تھا وہ اس کتاب کی تحقیق کے حوالے سے 1974ء سے 1980ء تک بلتستان کے مختلف علاقوں میں گئے جن میں خاص طور پر وادی تھلے بھی شامل ہیں وہ اس کتاب میں Thallay Laa کے بارے ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔جب 1950ء یا اس سے پہلے خپلو ویلی میں داخل ہونے کے لیے کوئی موثر راستہ موجود نہیں تھا تو شگر سے تھلے لا کے راستے ہوکر خپلو تک پہنچتے تھے اور شگر سے اس مقام تک پہنچنے میں تین سے چار دن لگتے تھے ۔(Vigne) وہ پہلا یورپی سیاح تھا جس نے خپلو تک جانے کے لیے یہی راستہ اختیار کیا ۔
وادی تھلے پر اور بھی بہت سے یورپی مورخین نے اس وادی کی جغرافیائی ،سماجی ،اور معاشی حالات پر بحثیں کہ ہیں حال ہی اٹلی کے ایک ریسرچر (Guia Maria Tagliapietra) بلتستان کے مختلف علاقوں میں ایک (PHD) تھیسس کے حوالے سے ریسرچ کررہا ہے جن میں خاص کر وادی تھلے بھی شامل ہیں۔ جس کا عنون: (K2 70 Women Expedition) ہے اور یہ تحقیقی مقالہ (journal of high altitude medicine and biology) میں شائع ہونے والا ہے ۔
2016 میں یورپی ریسرچر کی ایک ٹیم (EV-K2-CNR Pkaistan) جو وادی تھلے کی ماحولیاتی تحفظ، پائدار ترقی اور حیاتیاتی تنوع پر مرکوز ہے ۔اس تحقیقی مقالے کا نام : (conservation and sustainable development plan 2016_2026 for thallay valley central Karakorum national park) اس ریسرچ کا مقصد وادی میں مختلف قسم کے ترقیاتی فنڈز کے ذریعے ان کی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
ایسے بے شمار یورپی مورخین ہیں جنہوں نے نہ صرف اس وادی کی جغرافیائی حیثیت ،ثقافت، تہزیب ،رہین سہین اور دوسرے ادوار کو جانے کی کوشش کی ہے بلکہ اس وادی کی اہمیت کو دنیا میں بھی اجاگر کیا ہے ہم بحثیت تھلوی ہماری اپر بھی اس وادی کی کچھ ذمداریاں ہیں ہمیں چائیے کہ اس وادی کی خوبصورتی ،تاریخ ،تہزیب کو دنیا میں اجاگر کرنے کی پوری کوشش کی جائے تاکہ تاریخ میں ہماری داستان اور اس وادی کی اہمیت برقرار رہے نہیں تو دنیا میں ایسی بے شمار قومیں گزری ہے جن کی آج تاریخ میں نام و نشان تک نہیں یہ صرف اس وجہ سے کہ انہوں نے اپنی تاریخ ،تہزیب اور ثقافت کو بول بیٹھے ۔
میری کوشش رہی ہے جتنا ممکن ہوسکے اس وادی کی تاریخ مختلف ذریعے سے اپ لوگوں تک پہنچانے کہ ہے لیکن بحیثیت طلب علم میں خود سیکھنے کے مراحل میں ہوں اس وجہ سے غلطی کی پوری گنجائش ہے اگر تحریر میں کسی بھی حوالے سے کمی پیشی یا تاریخی حوالے سے کوئی غلط حوالہ دیا ہو تو گزارش ہے مجھے اگاہ کیجیے گا تکہ دوبارہ تظحی ہوسکے اپ تمام کا مشکور ہوں ۔
وسلام !
دانش میرزا تھلوی