02/01/2023
پریس ریلیز
انجمن امامیہ بلتستان کی جانب سے انجمن تاجران کی جانب سے کیے جانے والے احتجاج کی مکمل حمایت کی جاتی ہے۔ اور جن مطالبات کو حکومت سے حل کرنے کو کہا گیا ہے وہ عوامی اور قومی ایشوز ہیں ۔بجلی کے بحران کی وجہ سے لوگوں کے کاروبار معطل ہیں اور زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے۔
اور نا اہل حمکرانوں کی وجہ سے آٹے کا بحران پیدا کر کے غریب کے منہ سے نوالہ چھیننے کی کوشش کی گئی ہے۔لہذا اس مسلئے کو جی بی کے وزیر اعلی اور گورنر کو فوری حل کرنے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔
تیسرا اہم ایشو ناجائز ٹیکسسز کا نفاز ہے ۔
کسی بہی متنازعہ علاقے میں ٹیکسیسز کا نفاز ایک غیر قانونی عمل ہے لہذا جب تک جی بی کو آئنی حقوق نہ دیے جائے کسی بہی قسم کے ٹیکس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ہمیں وزراء کے بیان پر افسوس ہوتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ عوام پر کسی قسم کا ٹیکس نہیں لگیا گیابلکہ یہ ٹیکس فقط سیاح حضرات اور بڑے ہوٹل مالکان پر لگایا گیا ہے ۔ ۔تو ہم ان وزراء سے کہنا چاہتے ہیں کہ آپ ریونیو اتھارٹی بل کو اسمبلی میں لا کر ترمیم کریں اور اس بل میں اس بات کا اضافہ کریں کہ ان ٹیکسسز سے مقامی افراد کو چھوٹ ہیں۔
یہاں ایک بات کہنا ضروری سمجہتا ہوں کہ ہم پاکستانی تہے۔ ہیں اور رہینگے۔ ہم محب وطن ہیں اور وفاقی حکومت اور جی بی حکومت کو فوری ان مطالبات کے حل کے لیں کوششیں تیز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دشمن کا میڈیا اس احتجاج کو منفی انداز سےپیش نہ کرسکے۔ ہمیں پاکستان کے آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے حقوق لینے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے ۔احتجاج کے ساتھ مذاکرات کا عمل بہی جاری رہنا چاہیئے۔
صدر انجمن امامیہ بلتستان
باقر الحسینی