Qutubshahi Awan swabi

Qutubshahi Awan swabi welcome swabi awanzy qutubshaahi

16/01/2023
😔😔😔
01/01/2023

😔😔😔

01/01/2023

hamara naya Saal MUHARRAM UL HARAAM k maheenay se shuro hota he,,so plz Don't sent me new year msgs becaus I am A proud MUSLIM 🙏

31/12/2022

پڑھتے جائیں ، اور سر دھنتے جائیں "

لندن میں ایک پاکستانی دوست ، کئی سالوں سے وہاں رہتا تھا ، ایک بار اس نے بتایا کہ میں وہاں ایک مقامی جوڑے کے ساتھ رہتا تھا ، ان کی نئی نئی شادی ہوئی تھی ایک ہی مکان میں ایک پورشن میں وہ رہتے تھے اور دوسرا پورشن انہوں نے مجھے کرائے پر دے رکھا تھا ، اسی دوران ان کو ایک بیٹا پیدا ہوا ، ہمارے درمیان کبھی بدمزگی پیدا نہیں ہوئی ، ہر ماہ کی آخر میں انہیں کرایہ ادا کر دیتا تھا ، ہمارے درمیان بارہ سالوں کی رفاقت رہی ، نہ کبھی انہوں نے مجھے کبھی کوئی تکلیف و رنج دیا اور نہ میری طرف سے ان کو شکایت کا موقع ملا ، ایک بار انہوں مجھ سے کہا کہ کل آپ کی کیا مصروفیات ہیں ؟ میں نے کہا کل میری چھٹی ہے اور میں گھر پر ہی رہوں گا کوئی دوسری مصروفیت نہیں ہے ، تو انہوں نے بہت ہی خوشی کا اظہار کیا اور کہنے لگے مسٹر ظفر ! ہم آپ کے پاس ایک چھوٹی سی درخواست لیکر آئے ہیں
میں نے کہا جی پلیز فرمائیے
تو دونوں نے بتایا کہ ہمیں ایک انتہائی ضروری کام کے سلسلے میں شہر سے بار جانا ہے اگر آپ کی چھٹی ہے اور آپ گھر پر ہی ہیں تو ہم ڈگلس (ان کا بیٹا) کو اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتے ، کیا اس دوران آپ ڈگلس کا خیال رکھ سکتے ہیں ؟
میں نے کہا میرے لئے یہ ایک اعزاز ہے کہ میں آپ کے کسی کام آ سکوں
طے یہ ہوا کہ وہ صبح کو چلے جائیں گے اور میں ان کے پورشن میں چلا جاؤں گا ۔
صبح انہوں نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے ہاتھ ہلا کر گڈ مارننگ کیا اور میں بھی سیدھا ان کے پورشن میں چلا گیا ، ڈگلس تقریباً 9 سال کا تھا ، وہ صوفے پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر کچھ کر رہا تھا ، میں نے اسے گڈ مارننگ کہا اس نے بھی مسکرا کر جواب دیا
میں نے پوچھا ناشتہ کر لیا تو اس نے نفی میں سر ہلایا ، میں سیدھا کچن میں گیا جہاں اس کا ناشتہ تیار رکھا ہوا تھا ، میں نے وہ ٹرے اٹھائی اور اسے دی ، اس نے لیپ ٹاپ ایک طرف رکھا اور ناشتہ کرنے لگا ، ناشتے کے بعد ٹرے میں رکھا دودھ کا گلاس اٹھایا جو اس کے ہاتھ سے نیچے گر کر ٹوٹ گیا ، وہ مجھے شرمندگی سے دیکھنے لگا میں نے اسے حوصلہ دیا کہ کوئی بات نہیں ، میں صاف کر لیتا ہوں ، میں گلاس کے ٹکڑے سمیٹے اسے ایک شاپر میں رکھ دیئے اور فرش صاف کر لیا ، ٹوٹے گلاس کا کچرا باہر پھینک کر واپس اپنے پورشن میں آیا اور ویسا ہی ایک گلاس میرے پاس موجود تھا لیکر آیا اور کچن میں رکھ دیا
ڈگلس اب تک شرمندہ تھا تو میں نے اسے کہا ، فکر مت کرو ، میں نے ویسا گلاس لاکر رکھ دیا ہے ، کسی کو کچھ بتانے کی ضرورت نہیں ، پھر ہم سارا دن آپس میں کھیلتے رہے ، شام کو اس کے والدین واپس آ گئے میرا شکریہ ادا کیا اور کہنے لگے آج آپ ڈنر ہمارے ساتھ کر کے پھر جائیے گا ۔
ڈنر کے دوران وہ بار بار میرے لئے عمدہ کلمات پیش کرتے رہے ، پھر میں انہیں الوداع کہہ کر اپنے پورشن میں واپس آ گیا ۔
صبح کو چھ بجے میرے دروازے پر ڈگلس کے والدین کھڑے تھے میں حیران ہو ہی رہا تھا کہ انہوں نے مجھ سے کہا مسٹر ظفر ! آپ بہت اچھے انسان ہیں ، ہمیں آپ سے کبھی کوئی پریشانی نہیں ہوئی مگر اب آپ اپنے لئے کوئی اور گھر ڈھونڈ لیں اور ہمارا گھر جلد از جلد خالی کر دیں ، میں نے کہا مگر اتنا جلدی کیوں ؟ مجھ سے کیا غلطی ہو گئی ؟
دیکھئیے مسٹر ظفر ! آپ بہت ہی نیک انسان ہیں مگر کل آپ نے میرے بیٹے کو جھوٹ بولنے کی ترغیب دی اس لئے ہم آپ کو خود سے جدا کرنے پر مجبور ہیں
میں نے کہا بھئی کیسا جھوٹ ؟
انہوں کہا کہ گلاس ٹوٹنے کیلئے ہوتا ہے ، ٹوٹ گیا کوئی بات نہیں مگر آپ نے ہمارے بیٹے کو کہا کہ کسی سے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں
مگر ہم نے بیٹے کو ہمیشہ سچ سکھایا ہے ، اس لئے اس نے پوری بات ہمیں بتا دی ، یہ بات آپ بھی ہمیں بتا سکتے تھے ۔
ہمیں اب ڈر ہے کہ کہیں آپ کے ساتھ رہتے ہوئے ہمارے بچے پر جھوٹ کی پرچھائیاں نہ پڑیں ، سو پلیز ، آپ اپنا بندو بست کہیں اور کریں ، تھینک یو ۔۔۔!!!!

19/10/2022

😛😅🤑

نواب آف کالا باغ بیمار پڑ گئے اُن کے ذاتی معالج نے پراسٹیٹ کینسر کا خدشہ ظاھر کیا اور کہا اُن کا علاج صرف لندن میں ہی ممکن ھے , نواب صاحب لندن جانے پر راضی ھو گئے تو اُن کے معالج نے لندن کے ایک مشہور ماہر سرطان (ڈاکٹر) جو اُن کے استاد بھی تھے سے اپوائنٹمینٹ لی اور نواب صاحب کو لے کر لندن چلے گئے ۔۔
مقررہ دن اور وقت پر گورا ڈاکٹر , نواب صاحب کو چیکنگ رُوم میں لے گیا , آدھے گھینٹے کی چیکنگ کے بعد باھر نکلا تو کافی پُرسکون اور مطمئن تھا ۔۔
اُس نے بتایا کہ پراسٹیٹ کینسر نہیں ھے میں نے دوا تجویز کر دی ھے , ھدایت کے مطابق ایک ماہ تک استعمال کرتے رہیں آرام آجائے گا , اور مذید مشورے کی ضرورت پڑے تو فون پہ بات کر لینا ۔۔

رخصتی سے پہلے گورے ڈاکٹر نے نواب صاحب کے ذاتی معالج یعنی اپنے شاگرد کو بازُو سے پکڑا اور ایک طرف لے جا کر اُس سے شکوہ کیا “ مجھے تو تم پر فخر تھا تم میرے بہت قابل شاگرد ھو مگر تم نے تو آج مجھے بہت مایوس کیا , جب صرف ایک اُنگلی مریض کی Re**um میں ڈال کر پتہ چل سکتا تھا اُسے پراسٹیٹ کینسر ھے یا نہیں تو تم اُسے اتنے پیسے خرچ کر کے اتنی دُور میرے پاس لندن کیوں لے کر آئے ؟

نواب صاحب کے معالج نے جواب دیا

سر جس جگہ آپ نےاُنگلی دی میں اگر پاکستان میں نواب صاحب کو اُس جگہ اُنگلی دیتا اُنہوں نے میرا پورا خاندان مروا دینا تھا سو مجھے مجبوراً اُنہیں اُنگلی دلوانے آپ کے پاس لانا پڑا ۔۔

نتیجہ
کچھ بیماریوں کی تشخیص اور علاج پاکستان میں بھی میسر ہیں پر جو سکون اطمینان اور شفا گورے ڈاکٹر کی اُنگلی میں ھے وہ پاکستانی ڈاکٹر کی اُنگلی میں کہاں ؟ ؟ ؟

( ایک غیر سیاسی پوسٹ..جو پاکستانی سیاست دان لندن علاج کرانے جاتے ھیں ان کا اس تحریر سے دور و نزدیک کا کوئی تلعق نہیں ھے)

13/10/2022

چٹہ گاؤں اور اوچھالی جھیل کا خوبصورت منظر،،،

Address

Maini
Sawabi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qutubshahi Awan swabi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category