Sultan Rudbari

Sultan Rudbari hi friends follow my page sultan Ruthbari
and also subscribe my YouTube channel
sultan Ruthbari.

01/05/2026

پاکستان کے لیے اعزاز کی بات!
کرکٹ کے میدان سے بڑی خبر آ گئی ہے!
ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ Brian Lara کا 400* رنز کا ریکارڈ اب خطرے میں ہے… 😄
کیونکہ پاکستان کا اپنا “اوپنر”
⛽ پیٹرول شریف اس وقت زبردست فارم میں ہے!
🏏 اسکور بورڈ کچھ یوں ہے:
Brian Lara: 400* (unbeaten)
Petrol Sharif: 399.86 (still batting… inflation attacking hard!)*
🔥 تجزیہ کاروں کا کہنا ہے: اگر یہی رفتار رہی تو جلد ہی “500 کا تاریخی ریکارڈ” بھی ممکن ہے

جس نے Imran Khan کو ہٹایا تھا، اس کا یہی مطلب اور یہی مقصد تھا کہ پارٹی میں گروپ بندی ہو جائے، ایک دوسرے کو شک کی نگاہ س...
30/04/2026

جس نے Imran Khan کو ہٹایا تھا، اس کا یہی مطلب اور یہی مقصد تھا کہ پارٹی میں گروپ بندی ہو جائے، ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھیں، ایک دوسرے پر اعتماد نہ کریں، اور پارٹی کے اندر افتراق پیدا ہو جائے۔ عمران خان کے جو پرسنل بندے ہیں، جو پارٹی کے وفادار ہیں، انہیں غدار ثابت کیا جائے اور پارٹی سے نکالا جائے، جبکہ جو اصل غدار ہیں وہ پارٹی میں رہیں اور ہمارے لیے کام کریں۔
اس کا مقصد عمران خان کو کمزور کرنا تھا، اور وہی سب کچھ آج کل ہو رہا ہے۔ یہ سب اسی پلان کا حصہ لگتا ہے جس نے عمران خان کو ہٹایا تھا۔ اسی وجہ سے آج پارٹی اور عمران خان کمزور ہو گئے ہیں۔
عوام آج بھی عمران خان کے ساتھ ہے، پاکستان آج بھی عمران خان کے ساتھ ہے، لیکن بدقسمتی سے جو نمائندے ہیں، عمران خان کے جو ایم این اے، ایم پی اے ہیں، وہ آپس میں بے اتفاق ہیں۔ ہر بندہ لالچ کر رہا ہے، ہر بندہ وزیر بننے، وزیر اعلیٰ بننے، سینیٹر بننے یا ایم پی اے بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ کسی کو عمران خان کا احساس نہیں کہ اسے رہا کیا جائے۔ سب چاہتے ہیں کہ عمران خان اندر ہو اور ہم باہر مزے کریں۔

30/04/2026

علمائے کرام اور مفتیانِ عظام کی خدمت میں ایک مؤدبانہ گزارش ہے کہ دینِ اسلام کو صرف ڈگریوں اور اسناد تک محدود نہ کیا جائے۔ اسلام نے سب سے پہلے علم کی اہمیت بیان کی ہے، نہ کہ صرف کاغذی ڈگری کی۔
Prophet Muhammad نے فرمایا:
طلب العلم فريضة على كل مسلم
“علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔”
(سنن Sunan Ibn Majah، حدیث 224)
اس حدیثِ مبارکہ میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ “ڈگری حاصل کرنا فرض ہے”، بلکہ فرمایا گیا کہ علم حاصل کرنا فرض ہے۔ علم اگر اخلاص، محنت، مطالعہ، تحقیق اور صحیح رہنمائی سے حاصل ہو تو وہ قابلِ قدر ہے۔
یقیناً باقاعدہ مدارس، جامعات اور اساتذہ کی رہنمائی کی بڑی اہمیت ہے، لیکن کسی شخص کو صرف اس وجہ سے رد کر دینا کہ اس کے پاس رسمی سند نہیں، یہ مناسب طرزِ عمل نہیں۔ اصل معیار علم، کردار، تقویٰ، سچائی اور امت کی رہنمائی ہونا چاہیے۔
دین کو آسان بنایا جائے، کیونکہ Prophet Muhammad نے فرمایا:
يسروا ولا تعسروا
“آسانی کرو، سختی نہ کرو۔”
(صحیح Sahih al-Bukhari)
لہٰذا دین کو ذاتی مفادات، گروہ بندی یا تعصب کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ اسلام سب کے لیے ہے، اور علم جہاں بھی ہو، حکمت اور انصاف کے ساتھ اس کی قدر کرنی چاہیے۔

امریکہ کے عوام اور ملٹری بھی ایران کے ساتھ جنگ کے خلاف ہےجنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ انسانیت کا نقصان ہے۔عام لوگ ہمیش...
23/04/2026

امریکہ کے عوام اور ملٹری بھی ایران کے ساتھ جنگ کے خلاف ہے
جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ انسانیت کا نقصان ہے۔
عام لوگ ہمیشہ امن چاہتے ہیں، نہ کہ تباہی اور خونریزی۔
دعا ہے کہ دنیا میں امن قائم ہو،
اور تمام ممالک بات چیت کے ذریعے مسائل حل کریں 🤲
پاکستان بھی اسی دنیا کا حصہ ہے،
اور یہاں بھی امن اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہیں اور۔
اج کل جو امن کےسفیر بنیےہوئی ہے انہیں سب سے پہلے اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دینے چاہیے
برائے مہربانی پہلے اپنے گھر کو بہتر بنائیں، تب ہی دنیا بہتر ہو سکتی ہے 🤍

دا سخاکوٹ بازار۔ ماشاءاللہ 🤣
22/04/2026

دا سخاکوٹ بازار۔ ماشاءاللہ 🤣

18/04/2026

پاکستان کے عوام کب تک خاموش رہیں گے؟
یہ پاکستان ہے… یا مسائل کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ؟ یہاں ہر ادارہ، ہر کمپنی اور ہر نظام جیسے عوام کو نچوڑنے میں لگا ہوا ہے۔ عوام بجلی، گیس، پولیس اور حکومتی نظام سے پہلے ہی تنگ آ چکی ہے، لیکن مسائل ختم ہونے کے بجائے روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔
اب ایک اور اہم مسئلہ، جس نے ہر گھر کو متاثر کیا ہے، وہ ہے ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کی من مانی۔ Zong، Jazz، Ufone اور Telenor Pakistan — سب کی سب اپنی مرضی کے بادشاہ بن چکی ہیں۔ نہ کوئی پوچھنے والا ہے، نہ کوئی روکنے والا۔
ایک عام آدمی کے لیے انٹرنیٹ اب کوئی عیاشی نہیں بلکہ بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ بچوں کی تعلیم، کاروبار، روزگار—سب کچھ اسی پر چل رہا ہے۔ لیکن ان کمپنیوں نے اس ضرورت کو کمائی کا ذریعہ بنا کر عوام پر بوجھ ڈال دیا ہے۔
مثال کے طور پر Zong کا "My5" پیکج، جو ایک سال پہلے تقریباً 2200 روپے میں دستیاب تھا، آج اس کی قیمت 5800 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ یہ صرف ایک پیکج کی بات نہیں، بلکہ ہر کمپنی یہی کھیل کھیل رہی ہے۔ قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں، مگر سروس کا معیار وہی کا وہی ہے، بلکہ کئی جگہوں پر اس سے بھی خراب۔
سوال یہ ہے کہ کیا عوام صرف برداشت کرنے کے لیے رہ گئی ہے؟ ہمارے منتخب نمائندے، MNA، MPA اور وزراء کہاں ہیں؟ کیا ان کا کام صرف اقتدار میں رہنا ہے یا عوام کے مسائل حل کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہے؟ اگر ہر چھوٹی بڑی بات کے لیے انہیں یاد دہانی کرانی پڑے، تو پھر اس نظام کا فائدہ کیا ہے؟
ہم Suhail Afridi اور دیگر ذمہ دار افراد سے اپیل کرتے ہیں کہ اس مسئلے کا فوری نوٹس لیا جائے۔ ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے واضح قوانین بنائے جائیں، قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے اور عوام کو ریلیف دیا جائے۔
یہ وقت ہے کہ عوام کی آواز سنی جائے، ورنہ یہ خاموشی کبھی بھی ایک بڑے ردعمل میں بدل سکتی ہے۔

08/04/2026
سارا پاکستان پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے، احتجاج کر رہا ہے، ویڈیوز بنا کر حقیقت سامنے لا رہا ہے...
05/04/2026

سارا پاکستان پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے، احتجاج کر رہا ہے، ویڈیوز بنا کر حقیقت سامنے لا رہا ہے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے اپنے نمائندے — ایم این اے، ایم پی اے اور میئر — ابھی تک مکمل خاموش ہیں۔
نہ کوئی بیان، نہ کوئی پریس کانفرنس، نہ عوام کے حق میں ایک لفظ کہ یہ مہنگائی غریب پر کتنا بوجھ ڈال رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے انہیں عوام کی تکلیف کا احساس ہی نہیں، کیونکہ انہیں خود ہر سہولت میسر ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب تک یہ نمائندے خود مشکلات محسوس نہیں کریں گے، انہیں عوام کی چیخیں سنائی نہیں دیں گی۔ آج پورا ملک مہنگائی سے پریشان ہے، مگر اقتدار میں بیٹھے لوگ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
یہ خاموشی اب سوال بن چکی ہے — کیا یہ نمائندے واقعی عوام کے لیے ہیں یا صرف اپنے مفادات کے لیے؟

کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ دجال سے پہلے شہباز شریف بھی ائے گا
03/04/2026

کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ دجال سے پہلے شہباز شریف بھی ائے گا

14/02/2026

سخاکوٹ کے پہاڑوں سے شنگل کی ترسیل — ایک حقیقت پسندانہ مؤقف
سخاکوٹ کے پہاڑوں سے ٹریکٹر ٹرالیوں کے ذریعے شنگل لانا آج کل ایک بڑا مسئلہ بنا دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر دوسرا شخص اس کے خلاف پوسٹ کرتا نظر آتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک قانونی، لیگل اور جائز کام ہے، اور اس سے وابستہ لوگ حلال روزی کماتے ہیں۔
اگر کسی کو اس کام سے واقعی کوئی مسئلہ ہے تو صرف ایک نکتہ ایسا ہے جس سے اتفاق کیا جا سکتا ہے:
درست نکتہ
صبح 7 بجے سے 9 بجے تک شنگل کی ترسیل نہ کی جائے
اس وقت سڑکوں پر رش ہوتا ہے
اسکول کے بچے اور بچیاں اسکول جا رہے ہوتے ہیں
کسی بھی حادثے کا خدشہ ہو سکتا ہے
یہ نکتہ بالکل درست، منطقی اور قابلِ عمل ہے۔
غلط اور غیر منصفانہ اعتراضات
اس کے علاوہ جو اعتراضات کیے جا رہے ہیں، مثلاً:
ٹریکٹر کی آواز سے نیند خراب ہوتی ہے
شور شرابہ ہوتا ہے
سکون متاثر ہوتا ہے
تو ذرا انصاف سے سوچیے:
سڑک پر چلنے والی گاڑیوں کی آواز سے بھی لوگ متاثر ہوتے ہیں
جن کے گھروں کے پاس لوہار ہیں، انہیں بھی شور ہوتا ہے
جن کے گھروں کے قریب کارخانے ہیں، انہیں بھی تکلیف ہوتی ہے
لیکن ان کے خلاف نہ کوئی پوسٹ ہوتی ہے، نہ کوئی آواز اٹھاتا ہے — کیونکہ وہ لوگ طاقتور یا مالدار ہوتے ہیں۔
اصل مسئلہ
اصل مسئلہ شور یا نیند نہیں،
اصل مسئلہ یہ ہے کہ:
پاکستان میں غریب ہونا ایک جرم سمجھ لیا گیا ہے۔
یہاں:
ہر قانون
ہر اصول
ہر پابندی
صرف غریب کے لیے بنائی جاتی ہے۔
جو طاقتور ہے، جو امیر ہے، اس کے لیے سب کچھ جائز ہو جاتا ہے۔
شنگل لانے والا بھی:
اپنے بچوں کے لیے روزی کماتا ہے
حلال محنت کرتا ہے
کسی کا حق نہیں مارتا
لہٰذا مسئلہ حل کرنا ہے تو:
ٹائم مینجمنٹ کریں
حادثات سے بچاؤ پر بات کریں
غریب کی روزی بند کرنے کی بات نہ کریں
کیونکہ:
محنت جرم نہیں، غربت گناہ نہیں۔

06/02/2026

اہم عوامی گزارش — پتنگ اُڑانے کے حوالے سے احتیاط

آج کل پتنگ اُڑانے کا موسم ہے، جو خوشی اور تفریح کا باعث بنتا ہے، لیکن اس کے ساتھ احتیاط نہ برتی جائے تو یہ خوشی کسی بڑے نقصان میں بھی بدل سکتی ہے۔ اس لیے تمام شہریوں سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ درج ذیل باتوں کا خاص خیال رکھیں:
ہجوم اور بچوں والی جگہیں
جہاں لوگوں کا زیادہ ہجوم ہو، خاص طور پر جہاں بچے کھیل رہے ہوں، وہاں پتنگ اُڑانے سے گریز کریں۔ دھاگہ یا ڈور کسی کے گلے، ہاتھ یا آنکھ کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
سڑکوں اور گزرگاہوں کا خیال
سڑکوں، چوراہوں اور عام راستوں کے قریب پتنگ اُڑانا خطرناک ہو سکتا ہے۔ موٹر سائیکل سوار، سائیکل چلانے والے اور پیدل چلنے والے اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
درختوں اور بجلی کی لائنوں کے قریب احتیاط
درختوں اور بجلی کی تاروں کے نزدیک پتنگ اُڑانا نہ صرف اپنی جان کے لیے خطرہ ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
راہگیروں اور پڑوسیوں کا احترام
پتنگ اُڑاتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ کسی راہگیر، پڑوسی یا راہ چلتے بھائی کو کسی قسم کی تکلیف یا نقصان نہ پہنچے۔
ذمہ داری کا مظاہرہ کریں
تفریح ضرور کریں، مگر ذمہ داری کے ساتھ۔ تھوڑی سی لاپرواہی کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے، جس کا ازالہ ممکن نہیں ہوتا۔
آئیے، ہم سب مل کر احتیاط کریں تاکہ خوشی کا یہ ماحول کسی کے لیے تکلیف یا حادثے میں نہ بدلے۔
آپ کا ایک محتاط قدم کسی کی جان بچا سکتا ہے۔

Address

Sakhakot

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sultan Rudbari posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Sultan Rudbari:

Share