04/06/2026
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
آج کی پوسٹ راجہ حفیظ بابر صاحب کی نظر آپ سب لوگ اس نام کو بہت اچھے سے جانتے ہیں راجہ حفیظ کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع کوٹلی کی تحصیل سہنسہ کے گاؤں اینٹی راجگان سے ہے آپ فن شعرخوانی میں حاجی غلام رسول عباسی کے شاگرد خاص ہیں اور آپ کشمیر پوٹھوار کے مشہور بڑے اور اچھے شعرخوان ہیں آپ کو پوٹھوار کشمیر کا بچہ بچہ جانتا ہے آپ نے فن سے عوام کے دل پہ راج کیا ہے اور آپ نے نہ صرف کشمیر پوٹھوار بلکہ عرب یورپ میں بھی اپنے فن کا بہترین مظارہ کیا اور آپ کے لاکھوں چاہنے والے پردیس یعنی عرب یورپ اور دنیا کے ہر کونے میں بستے ہیں اللہ کریم نے آپ کو بہت عزت سے نوازہ ہےاورآپ کو 2005 میں شہزادہ کشمیر کا لقب دیا گیا جس کو آپ نے اپنے عمل سے واضح کر دکھایا کے آپ ہی شہزادہ کشمیر ہیں آپ ایک اچھے شعرخوان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انقلابی شخص بھی ہیں جب بھی کشمیری قوم کے حق کی بات ہوئ آپ کو پہلی صف میں پایا گیا اور اس سفر میں آپ کو بہت ہی مشکلات کا سامنا رہا لیکن آپ حق بات پہ ڈٹ کے کھڑے رہے اور سامنا کرتے رہے بےشک حق کا راستہ بہت مشکل ہے اور آپ نے سب برداشت کرتے اور آگے بڑھ جاتے شعرخوانی کی دنیا میں حفیظ بابر کو کچھ حق سچ کی بات کرنے کی وجہ سے نشانے پہ رکھ لیا لیکن آپ نے ہمیشہ محبت کا پیغام دیا اور آدب کے دائرے میں رہتے ہوئے خاموشی اختیار کی لوگ ان کی شہرت اور عوام میں مقبولیت سے خوفزہ ہو کر سٹیج پہ بھی بہت کچھ کہتے رہے لیکن آپ لوگوں نے یہ تو سنا ہو گا"باادب، بامراد"توپھر حفیظ صاحب نے صبر سے کام لیتے ہوئے آدب کا دامن نہ چوڑا اس طرف مشکلات کے باوجود آپ حق پہ کھڑے رہے اور آج کشمیر اور پوٹھوار کے ہر درد دل رکھنے والے کے دل میں آپ کی محبت پائی جاتی ہے اور اس سب کے بعد کشمیری قوم آپ کو ایک قومی ہیرو مانتی ہے
💘 اللہ پاک ہمیشہ شاد و آباد رکھے 💘