Binte Mohsin بنتِ محسن

Binte Mohsin بنتِ محسن Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Binte Mohsin بنتِ محسن, Toronto, ON.

‏سوچتی ہوں ہم کتنے معصوم تھے…  جو کتابوں میں پڑھایا جاتا تھا، اسے سچ مان لیتے تھے۔ لگتا تھا سب ویسا ہی ہے۔  اسی سوچ کے س...
04/01/2026

‏سوچتی ہوں ہم کتنے معصوم تھے…
جو کتابوں میں پڑھایا جاتا تھا، اسے سچ مان لیتے تھے۔ لگتا تھا سب ویسا ہی ہے۔

اسی سوچ کے ساتھ بڑے شوق سے ماسٹرز میں صحافت کی ڈگری حاصل کی، وہ بھی فرسٹ گریڈ کے ساتھ۔
کیا خوشی تھی، کیا خواب تھے آنکھوں میں…
پھر جب وہ وقت آیا کہ عملی صحافت شروع کرسکوں ۔۔۔۔
مگر قسمت ایسی تھی کہ اسی دوران پاکستان کی تاریخ کا ایک بدترین ریجیم چینج بھی شروع ہو گیا جس نے سب کچھ ہی بدل کر رکھ دیا،
اور اصل صحافت کرنے والے صحافیوں کے برے دن شروع ہو گئے تھے ۔

بلکہ جس صحافی ارشد شریف کو میں ہیرو مانتی تھی، اسے بے دردی سے قتل کر دیا گیا طاقتور حلقوں کو آئینہ دکھانے کے جرم میں ۔۔۔۔۔

یہاں صحافت بس صرف غلاظت اور پروپیگنڈا کی حد تک رہ گئی ۔
کوئی ایک بھی میڈیا چینل نظر نہیں آیا جو واقعی آزاد ہو اور صحیح معنوں میں صحافت کر رہا ہو۔

پھر جب یہ تلخ حقیقت دیکھی تو بے حد افسوس ہوا، پچھتاوا بھی ہوا۔

اس ملک میں انسان کوئی بھی ڈگری کر لے،
لیکن صحافت کی ڈگری نہ کرے تو بہتر ہے،
کیونکہ اس کی حیثیت ایک کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ کچھ نہیں رہ جاتی۔

ہاں، اگر آپ کو حرام کھانے کی عادت ہو، غلاظت بکنے اور جھوٹ بولنے کی عادت ہو،
تو پھر آپ کی موج ہی موج ہے،
پھر آپ کو یہاں صحافی کے طور پر قبول بھی کیا جائے گا اور پروموٹ بھی کیا جائے گا۔

اور اگر آپ نے سچے معنوں میں صحافی بننے کی کوشش کی،
تو آپ کا انجام بھی انہی سچ بولنے والے صحافیوں جیسا ہو گا۔

صحافت جیسے مقدس پیشے کو یہاں بطور کیریئر لے کر نہیں چل سکتے،
اور جب مجھے یہ بات سمجھ آئی… تب بہت دیر ہو چکی تھی۔۔۔۔

تجربات عمروں کے محتاج نہیں ہوتے کوئی بڑھاپے تک نہیں سمجھ پاتا کوئی جوانی میں دنیا پرکھ لیتا ہے
04/01/2026

تجربات عمروں کے محتاج نہیں ہوتے کوئی بڑھاپے تک نہیں سمجھ پاتا کوئی جوانی میں دنیا پرکھ لیتا ہے

ڈکیتی یا ٹارگٹ کلنگ؟اسلام آباد کے معروف کاروباری شخصیت عامر اعوان کو ان کے نجی فارم ہاؤس میں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب و...
04/01/2026

ڈکیتی یا ٹارگٹ کلنگ؟
اسلام آباد کے معروف کاروباری شخصیت عامر اعوان کو ان کے نجی فارم ہاؤس میں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے بیڈ روم میں موجود تھے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق، 5 مسلح افراد کلاشنکوفوں اور جدید اسلحے کے ساتھ فارم ہاؤس کی پچھلی دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوئے۔
حملہ آوروں نے سیدھا عامر اعوان کے بیڈ روم کا رخ کیا اور ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔
وہ شدید زخمی ہوئے اور ہسپتال منتقل کرتے ہوئے راستے میں دم توڑ گئے۔
عامر اعوان کا شمار اسلام آباد کے معتبر تاجروں میں ہوتا تھا۔
وہ Toyota Islamabad Motors کے مالک تھے اور کاروباری حلقوں میں اپنی شرافت اور محنت کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے۔
پسماندگان میں ان کی اہلیہ اور تین معصوم بچے (دو بیٹے اور ایک بیٹی) شامل ہیں۔
واقعے کے وقت ان کی اہلیہ اور بچے گھر میں ہی موجود تھے، جو اس خوفناک منظر کے چشم دید گواہ ہیں، تاہم وہ محفوظ رہے۔
اہم سوالات جو اس واقعے کو مشکوک بناتے ہیں:
▪️ فارم ہاؤس پر سیکیورٹی گارڈز موجود تھے، پھر بھی حملہ آور اندر کیسے داخل ہوئے؟
▪️ ملزمان کا سیدھا بیڈ روم تک پہنچنا ظاہر کرتا ہے کہ انہیں گھر کا مکمل نقشہ معلوم تھا۔
▪️ گھر کے دیگر افراد یا حصوں کو نظر انداز کر کے صرف ایک شخص کو نشانہ بنانا۔
▪️ کسی بڑی چوری یا مالی نقصان کا ثبوت نہ ملنا۔
ابتدائی طور پر اسے ڈکیتی قرار دیا گیا، لیکن شواہد واضح طور پر اسے ٹارگٹ کلنگ کی طرف لے جاتے ہیں۔
جس انداز میں ریکی کی گئی اور کلاشنکوف کا استعمال ہوا، یہ کسی پیشہ ور گروہ کی کارروائی معلوم ہوتی ہے۔
مقتول کی اہلیہ کی مدعیت میں تھانہ شہزاد ٹاؤن میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس کی سی آئی اے اور انویسٹیگیشن ٹیمیں سی سی ٹی وی فوٹیج اور جیو فینسنگ کی مدد سے ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
گارڈز اور فارم ہاؤس کے ملازمین سے بھی سخت پوچھ گچھ جاری ہے۔
اسلام آباد کی تاجر برادری نے شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے فوری گرفتاری اور امن و امان کی بہتری کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ واقعہ صرف ایک جرم نہیں…
بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش معلوم ہوتا ہے۔
عامر اعوان کا قتل ایک ہنستے بستے گھر کو اجاڑ گیا
اور دارالحکومت کی سیکیورٹی پر کئی سوالیہ نشان چھوڑ گیا۔
اب سب کی نظریں پولیس کی حتمی رپورٹ پر ہیں…

آپنے شاید اس جوڑی کو ٹک ٹاک پہ دیکھا ہوگا بہت اچھی سٹوری بناتے ہیں..ان صاحب کا نام ثاقب ہے اور انہوں نے دو دن پہلے ایک ب...
04/01/2026

آپنے شاید اس جوڑی کو ٹک ٹاک پہ دیکھا ہوگا بہت اچھی سٹوری بناتے ہیں..
ان صاحب کا نام ثاقب ہے اور انہوں نے دو دن پہلے ایک برہمن ہندو لڑکی کانیکا شرما سے شادی کی ہے۔
جناب ثاقب صاحب نے پہلے اسلامی طریقے سے شادی کی اور پھر مندر میں سات پھیرے بھی لیے۔
انکے گھر میں مسجد بھی ہے اور ایک کونے میں بت بھی رکھے ہوئے ہیں۔
ثاقب صاحب دیوالی بھی مناتے ہیں اور انکی بیوی روزے بھی رکھتی ہے۔
آپ اس شادی کے بارے میں کیا کہتے ہیں??

‏بیشتر شوہر شادی کے بعد بھی بیگم میں وہی کنوارے پن کی خوبصورتی , اسٹائل فگر مانگتے ہیںاور کم و بیش اکثر بیگمات اپنے شوہر...
04/01/2026

‏بیشتر شوہر شادی کے بعد بھی بیگم میں وہی کنوارے پن کی خوبصورتی , اسٹائل فگر مانگتے ہیں
اور کم و بیش اکثر بیگمات اپنے شوہروں میں کنوارے پن کا دکھایا گیا لاڈ نخرے اٹھانے والا رویہ مانگتی ہیں
دونوں کی اک دوسرے سے ڈیمانڈ مناسب ہی ہے
مگر دونوں یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمیں اپنی ڈیمانڈ پوری کروانے کیلئے پہلے اپنا رویہ بھی اسی طرح کا بنانا پڑے گا
شوہر اگر بیوی سے شادی کے شروع دنوں والے رنگ دیکھنے کی ڈیمانڈ میں ہوتے ہیں تو وہ صرف ڈیمانڈنگ ہوتے ہیں
خود لاڈ پیار دکھانا پرواہ کرنا جیسے شادی کے شروع دنوں میں کرتے تھے یا شادی سے پہلے کرتے تھے
وہ سب چھوڑ دیتے ہیں صرف اپنی مرضی مانگتے ہیں
اسی طرح بیگمات بھی خود کو سجانے سنوارنے والے کام چھوڑ دیتی ہیں
اپنے لائف پارٹنر پہ جب بھی موقع ملے
رومانس کے تیروں سے لائن ماریں
تاکہ وہ کسی دوسرے کو لائن نہ مار سکے
اسے اتنی فرصت ہی نہ دیں

04/01/2026

ہنستے ہنستے بڑھاپے کا احوال 😂😂😂

خدا شاہد ہے کہ جب سے اس سوشل میڈیا نامی فتنے نے ہمارے گھروں میں نقب لگائی ہے، شرافت نے اپنا بوریا بستر گول کر کے کسی دور...
04/01/2026

خدا شاہد ہے کہ جب سے اس سوشل میڈیا نامی فتنے نے ہمارے گھروں میں نقب لگائی ہے، شرافت نے اپنا بوریا بستر گول کر کے کسی دور افتادہ غار میں پناہ لے لی ہے۔
ان محترمہ کا حال دیکھئے! لباس ایسا پہنا کہ جس میں ستر اور عریانی کے درمیان کی سرحد اتنی ہی باریک رہ گئی ہے جتنی کہ کسی سیاسی لیڈر کے وعدے اور عمل کے درمیان ہوتی ہے۔ محترمہ نے تہیہ کر لیا ہے کہ اب ولاگنگ صرف سالن روٹی دکھانے کا نام نہیں، بلکہ یہ تو وہ فن ہے جسے اب نئی بلندیوں تک پہنچانا مقصود ہے۔ اس نئی بلندی کا زینہ انہوں نے ڈانس اور جسمانی نمائشِ کو بنایا ہے۔ لباس کی چستی اور باریکی اور اس کے اوپر پانی گرانے کا یہ تماشہ ایک سوچی سمجھی اشتعال انگیزی ہے تاکہ جسم کا انگ انگ نظر آئے جنہیں دیکھ کر اچھے بھلے شریف آدمی کا وضو ٹوٹ جائے۔
ان کے شوہرِ نامدار بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ وہ بڑے فخر سے اپنی اہلیہ کے اس تجدیدی رقص اور جسمانی نمائش کی فلم بندی کر رہے ہیں، گویا وہ کوئی مقدس فریضہ سرانجام دے رہے ہوں۔

اس غلاظت کو فیملی ولاگنگ کا نام دینا ایسا ہی ہے جیسے زہر کی بوتل پر آبِ زم زم کا لیبل لگا دیا جائے۔ بچوں کو اس گندگی میں شامل کرنا تو گویا ان کی اخلاقی خودکشی کے مترادف ہے۔ ہم کس سمت جا رہے ہیں؟ کیا ہماری تہذیب اب صرف ان چست لباسوں اور گیلے بدنوں کے رحم و کرم پر ہے؟

جس طرح الیکٹرانک میڈیا (ٹی وی چینلز) کی نگرانی کے لیے PEMRA جیسا ادارہ موجود ہے، اب وقت آگیا ہے کہ حکومتِ پاکستان سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام پر سنجیدگی سے غور کرے۔ ایک ایسا ادارہ جو ڈیجیٹل مواد کو اخلاقی اور تہذیبی معیارات پر پرکھے اور فحش یا اشتعال انگیز مواد پر فی الفور پابندی لگائے۔ ایسے افراد جو ڈالرز کی خاطر سماجی اقدار پامال کر رہے ہیں، ان کے اکاؤنٹس بلاک کیے جائیں اور بھاری جرمانے عائد کیے جائیں۔ ایسے پلیٹ فارمز پر بچوں کی شمولیت اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے سخت پالیسی وضع کرے۔

اگر ریاست نے آج اس بے لگام گھوڑے کی لگام نہ کھینچی، تو وہ دن دور نہیں جب ہماری گھر کی دیواریں تو سلامت رہیں گی، مگر ان کے اندر رہنے والی تہذیب دم توڑ چکی ہوگی۔



Government of Pakistan Report PEMRA

😭😭😭خدارا کوئی بھی جرم کرنے سے پہلے اپنے بچوں اور گھر والوں کے بارے میں سوچ لیا کرو کہ ان کا بعد میں کیا حال ہوتا ہے اپ ت...
04/01/2026

😭😭😭خدارا کوئی بھی جرم کرنے سے پہلے اپنے بچوں اور گھر والوں کے بارے میں سوچ لیا کرو کہ ان کا بعد میں کیا حال ہوتا ہے
اپ تو جرم کر کے اندر چلے جاتے ہیں بچے اور گھر والے رل جاتے ہیں..
ضروری نہیں کہ ہر بار قیدی قصور وار ہی ہوں، اب تو بیگناہوں کو بھی غربت کی وجہ سے دھر لیا جاتا ہے...
اللہ تعالی ان بچوں پر رحم فرمائے اور ان کے باپ کو جلدی رہائی نصیب فرمائے 😭🤲😭😭

‏ان صاحب کی تنخواہ میں صرف 600 فیصد اضافہ، بنیادی تنخواہ 5 لاکھ 19 ہزار، بجٹ میں مزید اضافی مراعات و الاؤنسز ، رہائشی سہ...
03/31/2026

‏ان صاحب کی تنخواہ میں صرف 600 فیصد اضافہ، بنیادی تنخواہ 5 لاکھ 19 ہزار، بجٹ میں مزید اضافی مراعات و الاؤنسز ، رہائشی سہولت، پارلیمنٹ لاجز میں فلیٹ یا کرایہ کی مد میں ڈیڑھ لاکھ ماہانہ ہاؤسنگ الاؤنس، بجلی، گیس، پانی، پٹرول فری۔ سفری الاؤنس، ہوائی جہاز کے مفت ٹکٹس، سالانہ 25 سے زائد ریٹرن ٹرپ، ملک بھر میں فری ریل اور ایئر ٹریول، ہر اجلاس میں شرکت پر 6,000 یومیہ الاؤنس، اپنا اور فیملی کا ملک اور بیرون ملک مفت علاج، دفتر کے لیے مفت ٹیلیفون اور انٹرنیٹ کنکشن وغیرہ شامل ہیں۔
کل ملا کر قریب 13 لاکھ ماہانہ میں ایک رکن قومی اسمبلی پڑتا ہے۔ پھر جا کر یہ بیچارے اتنی محنت سے عوام کے لیے کسی بہت ضروری کام سے سوتے ہیں۔ 😂😂😂

🔹وہ عورت جسے سارا دن فارغ رہنے کے تانے ملتے ہیں۔میں نے اس سے چار ماہ کا بیٹا چهین لیا اور اسے میکے چهوڑ آیا. دراصل میں گ...
03/31/2026

🔹وہ عورت جسے سارا دن فارغ رہنے کے تانے ملتے ہیں۔

میں نے اس سے چار ماہ کا بیٹا چهین لیا اور اسے میکے چهوڑ آیا. دراصل میں گهر والوں کے روز روز کے طعنوں سے تنگ آچکا تها۔
"تمہاری بیوی کوئی کام نہیں کرتی"
مجهے بهی ایسا ہی لگنے لگا تها. آخر تم کیا کرتی ہو سارا دن؟ برتن، کپڑے، گهر کی صفائی تو کام والی کر جاتی ہے. لیٹی هی رهتی هو..
اس کے جانے کے بعد آج میری پہلی رات کا آغاز تها. میرے پہلو میں کوئی مجهے اپنی شرارتوں سے ہنسانے والا نہیں تها.
ہاں میرا بیٹا ضرور تها. جسے میں نے ابهی ابهی فیڈر دے کر سلایا تها.
آپ سمجهے نہیں....!
دودهہ پلانے سے لے کر بچے کو سلانے تک مجهے کیا کیا کرنا پڑا. میں تفصیل میں جانا چاہتا ہوں. میں اٹها اور کچن میں گیا، فیڈر کو صابن سے دهو کر میں نے چولہے پر پانی چڑهایا، فیڈر کو ابالا.
پهر دودھ بنانے کیلئے پانی نیم گرم کیا اور اس میں پاوڈر ڈالا. تب کہیں جا کر ایک فیڈر تیار ہوا ۔
دودھ پلانے کے بعد میں اسے کندهے سے لگا کر تهپکتا رہا. تاکہ دودھ ہضم ہوسکے. پهر اسکا پیمپر تبدیل کرنے کیلئے اسے لٹایا تو معلوم ہوا کہ بچے نے پاخانہ کیا ہوا ہے. اسے باتھ روم لے جا کر صاف کر کے واپس آیا تو اس نے دودھ کی الٹی کر دی. میں جلدی سے رومال کی اٹهانے کو لپکا..
خیر اسکو پیمپر دوبارہ لگایا اور بازوؤں میں جهولا کر سلانے لگا. دودھ ابال کر اسے ٹهنڈا کیا اور فریج میں رکھ دیا. وہ ہوتی تو ملک شیک بنا کر میرے ہاتھ میں تهما دیتی.لیکن اب اتنے جهمیلوں میں کون پڑے. ابهی اپنی روٹی پکا کر کها لوں گا۔
لیکن آٹا ؟؟؟
ابهی تو وہ گوندهنا پڑے گا، شکر ہے سالن تو پکا پڑا ہے. بس کٹوری میں ڈال کر اوون کا بٹن ہی دبانا ہے، میں ذرا بیڈ سے بکهیرا اٹها لوں. پیمپر .. وائپس...کهلونے... فیڈر ... شیٹس کو انکی مخصوص جگہوں پر رکها اور
روٹی. نہیں. صبح آفس جانے کیلئے کپڑے بهی تو استری کرنے ہیں.
میں لگا کپڑے استری کرنے.
ابهی شرٹ پریس کی تهی کہ بیٹا رونے لگا. اب کی بار میں نے اسکو جهولے میں ڈالا اور جهولا جهلانے لگا. بهوک سے میرا برا حال تها. اللہ اللہ کر کے بچے کو سلایا اور ایک ریسٹورنٹ پر کال کر کے کهانے ڈلیور کرنے کا آرڈر کیا. آدهے گهنٹے بعد کهانا میرے سامنے تها.
میں نے بڑے بڑے نوالوں میں کهانا ختم کر دیا کیونکہ میں جانتا تها کہ اگر بیٹا دوبارہ جاگ اٹها تو کهانا پڑا رہ جائیگا، پهر دوبارہ گرم کرنے کیلئے بهی ٹائم چاہیئے اور "مشقت" بهی. مجهے اکتاہٹ ہونے لگی. گهڑی گیارہ بجا رہی تهی، میں بستر پر ڈھے سا گیا.
سائرہ وہ چادر ہی الماری سے نکال دو. میں اوڑھ کر سونا چاہ رہا ہوں
لیکن نہیں...اب خود ہی اٹھ کر لینی پڑے گی۔
ابهی میں یہ سوچ ہی رہا تها کہ یو.پی.ایس. بهی جواب دے گیا، پنکها بند ہوگیا، اس سے پہلے کہ گرمی کے سبب میرا بیٹا جاگ جاتا اور چلانے لگتا .. میں نے بیڈ سے چهلانگ لگائ اور جهٹ سے دستی پنکها الماری سے نکال لایا. میں اسکو پنکها جهلنے لگا اور ساتھ ساتھ نیند کی شدت سے خود بهی جهولنے لگا. بارہ بجے بجلی آئی اور میں فوراً ہی سوگیا۔
دو بجے بیٹے کے رونے کی آواز سے میری آنکهہ کهل گئی. اچانک گہری نیند سے جاگنے پر میرے سر میں درد ہونے لگا. اسے بهوک لگی ہوئی تهی. میں سستی سے اٹها اور اسے ڈبے کا دودهہ بنا کر پلایا. اڑهائی بجے کے قریب بیٹا سو گیا اور میں بهی
اسکے بعد بیٹا کب جاگا اور کب تک روتا رہا مجهے نہیں معلوم. البتہ جب صبح آٹھ بجے آنکھ کهلی تو وہ رو ہی رہا تها. اور اسکے پیمپر سے مواد نکل کر بیڈ شیٹ میں جذب ہو رہا تها، جلدی سے اٹها. پیمپر تبدیل کیا.دودهہ پلایا
بیڈ شیٹ کو دهویا اور ایک دهلی ہوئ بیڈ شیٹ بچهائی. سوا نو ہو چکے تهے. ناشتے میں جو میں دہی کهاتا تها وہ سائرہ گهر میں بنا لیتی تهی. پتہ نہیں کس پہر بناتی تهی.
میں نے چائے بنانے کی غرض سے ساس پین میں دودھ انڈیلا اور سوچنے لگا
کونسا وقت تها جب سائرہ مصروف نہیں ہوتی تهی. میری خدمت میں بهی کوئی کمی نہیں آنے دی. گهر میں صرف وہی تین کام تو نہ تهے جن کیلئے میں نے نوکرانی رکهہ دی تهی، ایک بچے کو سنبهالنا ہی کافی تها اسکو تهکن سے چور کرنے کیلئے. لیکن وہ مجهے وقت پر کهانا دیتی
میں تهک جاتا تو مجهے دباتی.میں اداس ہوتا تو مجهے هنساتی.اور میری دلجوئ کرتی. میں کاروباری معاملات میں کشمکش میں پڑ جاتا تو وہ میرا حوصلہ بندهاتی. میں سوچوں میں گم تها. دودهہ ابل کر شیلف پر آچکا تها. میں آہستہ آہستہ شیلف پر کپڑا لگانے لگا
تم کرتی کیا ہو سارا دن
واہ تمہارا جسم کیوں درد کرنے لگا
کونسا پہاڑ ڈهایا ہے تم نے
اور وہ پہلو بدل لیتی
شاید میرے طنزیہ جملوں پر آنسو بہاتی ہوگی
پر میں ظالم انسان نے پرواہ نہیں کی کبهی
کچهہ دیر بعد خود ہی سائیڈ بدل کر میرے چہرے پر جهک جاتی.

" آئ لو یو"
تو میں جوابا مسکرا دیتا. اور وہ اصرار کرنے لگتی .. نہیں آپ آئ لو یو تو بولیں مجهے اسکی شرارتیں یاد آنے لگیں.
صبح کے دس بج رہے تهے. اور کام پر نیند نہ پوری هونے کی وجہ سے چھٹی ماری ،
اور وہ سب اپنے اپنے کمروں میں مشغول تهے.جو ابهی کل ہی مجهے کہہ رہے تهے کہ تمہاری بیوی کوئ کام نہیں کرتی.
کسی نے مجهے چائے کا ایک کپ بهی بنا کر دینے کی زحمت نہیں کی.
میں نے بچے کو گاڑی میں ڈالا اور گاڑی ان راستوں پر دوڑا دی جو راستے مجهے ہمیشہ کیلئے سائرہ کے ساتهہ جوڑنے والے تهے.
وهاں پهنچ کر میں نے دونوں هاتھ جوڑ کر معافی مانگی اور وه همیشه کی طرح بڑا دل کر کے چلی آئ میرے ساتھ
قارئین شادی شده حضرات سے میری ریکویسٹ هے که ٹھیک هے سب کا حق آپ پر هے سب آپ کو مشوره دے سکتے هیں لیکن سب سے زیاده حق آپ پر آپ کی بیوی کا هے اسکو ٹائم دیں اس سے پوچھیں اسکی دلجوئ کریں سارا دن بیغیر مزدوری کے بنا لالچ آپکی آپکے بچوں کی آپ کے خاندان کی وه خدمت کرتی رهتی اور بدلے میں اسے کیا ملتا هے یه سب آپ جانتے هی ہیں ..
خدا را اپنی سوچ بدلیے کیونکہ یہی کچھ کل اپکی بیٹی یا بہن کے ساتھ بهی ہونا ہے.

پچھلے ہفتے سے ایک تصویر وائرل ہے جس میں ایک انڈین مزدور نے عید کے دن روتے ہوئے پوسٹ ڈالی۔ کہ کبھی غلطی سے بھی بھیڑ بکریا...
03/31/2026

پچھلے ہفتے سے ایک تصویر وائرل ہے جس میں ایک انڈین مزدور نے عید کے دن روتے ہوئے پوسٹ ڈالی۔ کہ کبھی غلطی سے بھی بھیڑ بکریاں پالنے والے ویزے پہ عرب ممالک نہ آنا۔
اس کے الفاظ یہ تھے “کبھی بھی کسی ایجنٹ کی باتوں میں آ کر، انٹوں یا بھیڑ بکریوں کا ایگریمنٹ، ویزا نہ لیں، وہاں جا کر آپ کو آٹھ یا نو سو ریال تنخواہ ملے گی، اور جانور سے بھی برا سلوک ہو گا، ایک انڈین نے روتے ہوئے کہا کہ مجھے ادھے گھنٹے کے لیے مالک لے گیا عید والے دن اور صرف ایک سادہ پارسل چاول لے کر دیا اور دوبارہ انٹھوں میں پھینک دیا،،، ویرانی پہاڑی علاقوں میں کتا بھی نہیں جاتا لیکن مجبور انسان زندگی گزار رہے ہیں”
اب بظاہر سُننے میں شاید آپ کو لگتا ہو کہ یہ مبالغہ آرائی سے کام لے رہا ہے۔لیکن یہ حرف بہ حرف سچ ہے۔میں نے جاننے والے سے پوچھا کہ لوگ آزاد ویزے پہ کیسے زیادہ پیسے بناتے ہیں؟تو وہ شخص جو سعودیہ میں آزاد ویزے پہ تھا اس نے بتایا تھا وہاں مثال کے طور پہ شیخوں کے اگر اونٹ کہیں دور نکل جائیں تو پانچ ریال دے کر بولتے ہیں جاؤ اونٹ گھیر کر لاؤ۔صحرا میں گرمی کی شدت اور اتنا مشکل کام۔یہ سچ میں کرتے ہیں لوگ یہاں۔ایکسٹرا پیسے بنانے کے لیے۔دو سال پہلے ایک انڈین فلم بھی بنی ہے اس بارے “The Goat Life”. اگر وہ دیکھیں تو بہتر سمجھ آئے گا کہ وہاں کیسی مشکل زندگی ہے۔

‏پاکستان میں ہفتہ وار اسمارٹ لاک ڈاؤن کا اعلان خلیجی تیل کے بحران کے باعث وزیراعظم کے ہدایت پر حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ...
03/31/2026

‏پاکستان میں ہفتہ وار اسمارٹ لاک ڈاؤن کا اعلان
خلیجی تیل کے بحران کے باعث وزیراعظم کے ہدایت پر حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 4 اپریل 2026 سے ہر ہفتے ہفتہ اور اتوار کو مکمل لاک ڈاؤن ہوگا
لاک ڈاؤن کا وقت: ہر ہفتہ رات 12:01 بجے (شروع) سے اتوار رات 11:59 بجے تک
تمام کاروبار، مارکیٹیں، صنعتیں اور سروس سیکٹر بند، شادیاں یا کوئی تقریبات منع
تمام انٹر سٹی موٹرویز، ہائی ویز اور سڑکیں بند (سوائے پبلک ٹرانسپورٹ بسوں کے)
ہسپتال، فارمیسیاں، ہوائی اڈے، بندرگاہیں، ریلوے سٹیشن اور ضروری سروسز کھلی رہیں گی

Address

Toronto, ON

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Binte Mohsin بنتِ محسن posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share