04/01/2026
سوچتی ہوں ہم کتنے معصوم تھے…
جو کتابوں میں پڑھایا جاتا تھا، اسے سچ مان لیتے تھے۔ لگتا تھا سب ویسا ہی ہے۔
اسی سوچ کے ساتھ بڑے شوق سے ماسٹرز میں صحافت کی ڈگری حاصل کی، وہ بھی فرسٹ گریڈ کے ساتھ۔
کیا خوشی تھی، کیا خواب تھے آنکھوں میں…
پھر جب وہ وقت آیا کہ عملی صحافت شروع کرسکوں ۔۔۔۔
مگر قسمت ایسی تھی کہ اسی دوران پاکستان کی تاریخ کا ایک بدترین ریجیم چینج بھی شروع ہو گیا جس نے سب کچھ ہی بدل کر رکھ دیا،
اور اصل صحافت کرنے والے صحافیوں کے برے دن شروع ہو گئے تھے ۔
بلکہ جس صحافی ارشد شریف کو میں ہیرو مانتی تھی، اسے بے دردی سے قتل کر دیا گیا طاقتور حلقوں کو آئینہ دکھانے کے جرم میں ۔۔۔۔۔
یہاں صحافت بس صرف غلاظت اور پروپیگنڈا کی حد تک رہ گئی ۔
کوئی ایک بھی میڈیا چینل نظر نہیں آیا جو واقعی آزاد ہو اور صحیح معنوں میں صحافت کر رہا ہو۔
پھر جب یہ تلخ حقیقت دیکھی تو بے حد افسوس ہوا، پچھتاوا بھی ہوا۔
اس ملک میں انسان کوئی بھی ڈگری کر لے،
لیکن صحافت کی ڈگری نہ کرے تو بہتر ہے،
کیونکہ اس کی حیثیت ایک کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ کچھ نہیں رہ جاتی۔
ہاں، اگر آپ کو حرام کھانے کی عادت ہو، غلاظت بکنے اور جھوٹ بولنے کی عادت ہو،
تو پھر آپ کی موج ہی موج ہے،
پھر آپ کو یہاں صحافی کے طور پر قبول بھی کیا جائے گا اور پروموٹ بھی کیا جائے گا۔
اور اگر آپ نے سچے معنوں میں صحافی بننے کی کوشش کی،
تو آپ کا انجام بھی انہی سچ بولنے والے صحافیوں جیسا ہو گا۔
صحافت جیسے مقدس پیشے کو یہاں بطور کیریئر لے کر نہیں چل سکتے،
اور جب مجھے یہ بات سمجھ آئی… تب بہت دیر ہو چکی تھی۔۔۔۔