29/12/2020
دیوانہ تشنگی سرد صحرا پیاس سے بڑھ کر ٹھہرا ... دریا کے اس پار یہ سراب ایک حقیقت تھا میرے سامنے, رگوں میں لال جنون جما دینے والی سردی, میں اپنی مچان اٹھائےایک بلند ریشمی سفید ٹیلے کے قدموں میں سراٹھائے کھڑا تھا اسطرف کچھ نیلا سااندھیرا تھاٹیلے كے سر پرچھوٹے چھوٹے برف کے تارےٹوٹتےاور گم ہو جاتے تھے. میں نے ٹیلے کے سینے میں اپنے قدم گاڑنا شروع کیے.... نیلا سرد صحرا ... میری خوشی کی کوئی تھا نہ تھی... میرے بے رحم قدم برف کی سفید چادر کو پھاڑ کر صحرا کے پیلے گرم جسم کو چھو رہے تھے, جتنے چہرے کل تک اس ویران, اداس شہر کے یاد تھے اور مجھ پر حیرت کی نظر رکھتے تھے. اور ہاں شاید اس شہر میں اکیلا ہی خوش تھاجبر کی اس سردی سے, پھولی سانسوں کی آواز نےاس یاد کے کانوں پر خوشی کے نرم ہاتھ رکھ دیے...اب میں اس خاموشی میں اپنی جاں کا شور سنتا اس سرد ٹیلے کے سر پر جا پہنچا... میرا سامنا تیز تیکھے سورج سے ہوا میں نے اپنے سرد ہاتھ سے دھوپ کو روکا, دور تک سفید بل کھاتی ریشمی سرد برف کی چادریں نظر آئیں نیلی برف اور پیلی ریت میرے لیے جیسے آگ اور پانی زمیں اورآسماں ,جبر اور صبر نفرت کو محبت کیے ہوئے تھے... یہ منظر عجیب تماشہ تھا اور میں نے یہاں پرتیزی سے ڈھیر ہوا اور اپنی مچان گاڑ ڈالی ,اس منظر جاناں پر سورج حاوی تھا ....میں نےاس کو ہنر کی مات دی جاڑےکے اس سورج کو پھول کہا, اس ریشمی بل کھاتے ٹھیلوں اور سرد موسم کے پہرے دار پہاڑ سمیت, مچان پر لگے قید خانے میں ڈال دیئے....جہاں میں خود بھی قیدی ہوں سزا...` قید با مشقت ` میں ہر ٹیلے کی دوسری طرف اترا سرد سراب تکتے تھک گیا... ہاں صحرا میں پیاس بہت ہوتی ہے. یہ سرد صحرا درجہ ۲۲ منفی رکھتا تھا...میں نے پھر بھی صحرا کی رسم بھری اور ایک موٹھی بھری نیلی سفیدبرف کی... اور نگل گیا...میں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور ایک گہری سانس بھری ....ساتھ ہی سب کچھ تھم گیا ...اندر کی خاموشی کی سیٹی گونج رہی تھی .....اور میرے اندر آسمانی بجلی کی کڑک سے وہ بارشیں برسیں وہ درخت كی شاخیں وہ پتےوہ پھول کھلے سب ... جن کی یہ خوشبو تھی یہ نیلی خوشبو آج بھی سرد صحرا کےنرم گالوں کو چھوتے دریا کی طرح میرے خوں میں بہہ رہی ہے .جنوں کے پہاڑوں پر ابھی یہ نیلی برف جمی ہوئی ہے. مدثرڈار